- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 25
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ اَيْضًا اَنَّ نَاسًا مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوْا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُوْلَ اللهِ! ذَهَبَ اَهْلُ الدُّثُـوْرِ بِالْاُجُوْرِ يُصَلُّوْنَ كَمَا نُصَلِّیْ وَيَصُوْمُوْنَ كَمَا نَصُوْمُ وَيَتَصَدَّقُوْنَ بفُضُوْلِ اَمْوَالِهِمْ. قَالَ: ’’ اَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُوْنَ؟ اِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَةً وَّكُلِّ تَكْبِيْرَةٍ صَدَقَةً وَّكُلِّ تَحْمِيْدَةٍ صَدَقَةً وَّكُلِّ تَهْلِيْلَةٍ صَدَقَةً وَّاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَةٌ وَّنَهْيٌ عَنْ مُّنْكَرٍ صَدَقَةٌ وَّفِيْ بُضْعِ اَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ.‘‘ قَالُوا: يَا رَسُوْلَ اللهِ! اَ يَاْتِيْ اَحَدُنَا شَهْوَتَهٗ وَيَكُوْنُ لَهٗ فِيْهَا اَجْرٌ؟ قَالَ: ’’ اَرَاَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِيْ حَرَامٍ اَكَانَ عَلَيْهِ وِزْرٌ؟ فَكَذٰلِكَ اِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلالِ كَانَ لَهٗ اَجْرٌ.‘‘ (رَوَاہُ مُسْلِم)
عن ابي ذر رضي الله عنه ايضا ان ناسا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا للنبي صلى الله عليه وسلم يا رسول الله! ذهب اهل الدثـور بالاجور يصلون كما نصلی ويصومون كما نصوم ويتصدقون بفضول اموالهم. قال: ’’ او ليس قد جعل الله لكم ما تصدقون؟ ان بكل تسبيحة صدقة وكل تكبيرة صدقة وكل تحميدة صدقة وكل تهليلة صدقة وامر بالمعروف صدقة ونهي عن منكر صدقة وفي بضع احدكم صدقة.‘‘ قالوا: يا رسول الله! ا ياتي احدنا شهوته ويكون له فيها اجر؟ قال: ’’ ارايتم لو وضعها في حرام اكان عليه وزر؟ فكذلك اذا وضعها في الحلال كان له اجر.‘‘ (رواہ مسلم)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ بعض صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مال دار لوگ اجر و ثواب میں بڑھ گئے، وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں، ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور اپنے زائد مال سے صدقہ دیتے ہیں (جبکہ ہمارے پاس ضرورت سے زائد مال نہیں ہے جس سے ہم صدقہ کریں)۔ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا اللہ پاک نے تمہارے لئے وہ اعمال نہیں بنائے جن کے ذریعے تم صدقہ کرو؟ بے شک ہر تسبیح (سُبْحٰنَ اللہ کہنا) صدقہ ہے، ہر تکبیر (اللہ اَکْبَر کہنا) صدقہ ہے، ہر تحمید (اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہنا) صدقہ ہے، ہر تہلیل (لَااِلٰہَ اِلَّااللہ کہنا) صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، بُرائی سے منع کرنا صدقہ ہے اور تمہاری شرم گاہ میں بھی صدقہ ہے۔‘‘ صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عرض کی: یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! ہم میں سے کوئی شخص اپنی خواہش پوری کرے تو کیا اس میں بھی اس کے لئے اجر ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’مجھے بتاؤ کہ اگر وہ حرام جگہ اپنی خواہش پوری کرتا تو اس پر گناہ نہ ملتا؟ اسی طرح جب وہ حلال جگہ خواہش پوری کرے گا تو اس کے لئے ثواب ہوگا۔‘‘( مسلم، كتاب الزكاة، باب بيان ان اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف، ص۳۹۰، حدیث:۲۳۲۹)
شرح حدیث
مال دار لوگ اجر و ثواب میں بڑھ گئے:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کےجز ’’مال دار لوگ اجر وثواب میں بڑھ گئے‘‘ یعنی ہمارے مقابل درجات میں بڑھ گئے اور جنت کی اعلیٰ نعمتوں کے مستحق ہوگئے، اس میں نہ تو ربِّ (کریم) کی شکایت ہے اور نہ مالداروں پر حسد بلکہ ان پر رَشک ہے، دینی چیزوں میں رشک جائز ہے یعنی دوسروں کی سی نعمت اپنے لیے بھی چاہنا، حسد حرام ہے یعنی دوسروں کی نعمت کے زوال کی خواہش۔ (مراٰۃ المناجیح، 2/ 119)ذکر واذکار کو صدقے کا نام دینے کی وجہ:حضرت سیِّدُنا علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ان تمام امور (اذکار) کو صدقے کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں ایک صورت تو یہ ہے کہ اِن اُمور میں حقیقتاً صدقہ کرنے کا ثواب ہے اور بطورِ مقابلہ انہیں صدقے کانام دیا گیا ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ امور نفس پر صدقہ ہیں۔(شرح مسلم للنووی، کتاب الزکٰوة، باب بیان ان اسم الصدقة یقع...الخ، الجزء السابع، ۴/ ۹۱)اذکار کا اجر وثواب:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف میں مذکور اذکار کی شرح میں فرماتے ہیں: اس فرمانِ عالی شان سے معلوم ہوا کہ جو کوئی سُبْحٰنَ اللہ یا اللہ اَکْبَر یا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ یا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہکسی طرح بھی کہے صدقہ نفلی کا ثواب پائے گا خواہ ذِکْرُ اللہ کی نیت سے کہے یا کسی حاجت کے لیے بطور وظیفہ یہ الفاظ پڑھے یا عجیب بات سن کر سُبْحٰنَ اللہ وغیرہ کہے یا خوشخبری پا کر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ پڑھے۔بہرحال ثواب ملے گا کیونکہ اللہ (پاک) کا نام لینا بہرحال عبادت ہے۔ اگر کوئی شخص ٹھنڈک کے لیے اَعضائے وضو دھوئے تب بھی وضو ہوجائے گا کہ اس سے نمازجائز ہوگی۔اللہ(پاک)کانام زبان کاوضو ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 3/98)
نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کا ثواب:
حضرت امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ مذکورہ حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: نیکی کاحکم دینا اور برائی سے منع کرنا بھی صدقہ ہے۔ اسی طرح سُبْحٰنَ اللہ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ،اللہ اَکْبَرُاورلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنا بھی صدقہ ہے۔ اَذکارِمذکورہ کے مقابلے میں’’اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَرْیعنی نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سےمنع کرنے‘‘ کا ثواب زیادہ ہےکیونکہ یہ فرضِ کفایہ ہے۔ جبکہ تسبیح ،تحمیداور تہلیل کا شمار نوافل میں ہوتا ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ فرض کاثواب نفل سے زیادہ ہے۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی ہےکہ ”میرا بندہ کسی چیزکےذریعےبھی میرا اتنا قرب حاصل نہیں کرتا جتنا فرائض کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔“ اسی طرح حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مَروی ہےکہ ’’فرض کا ثواب نوافل سے70گنازیادہ ہے۔‘‘ (شرح مسلم للنووی، کتاب الزکٰوة، باب بیان ان اسم الصدقة یقع...الخ، الجزء السابع، ۴/ ۹۲)نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ہر تبلیغ میں خیرات کا ثواب ہے۔ بلکہ اس کا ثواب پہلے ثوابوں سے زیادہ کہ اس میں ذِکْرُ اللہبھی ہے اور لوگوں کو فیض پہنچانا بھی۔قلمی تبلیغ صدقَۂ جاریہ ہے کہ جب تک لوگ اس کی کتاب سے دینی فائدہ اٹھائیں گے، تب تک اسے ثواب ملتا رہے گا۔ یہ ایک کلمہ بہت جامع ہے۔ (مراٰۃ المناجیح،3/98)فی نفسہٖ قضائے شہوت پر اَجر نہیں:حضرت علامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’تمہاری شرم گاہ میں بھی صدقہ ہے‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: فی نفسہ قضائے شہوت (یعنی محض شہوت پوری کرنے)پر اَجر نہیں بلکہ اجر اسی وقت ہے جب جائز طریقے سےہو۔ جیساکہ عید کے دن جلدی کھانا اورسحری کا کھانا۔ اسی طرح دیگر خواہشات جو اُمورِشرعیَّہ کے موافق ہوں۔اسی∞لئے کہا گیا ہے کہ جب خواہش ہدایت کے موافق ہو جائے تو اس طرح ہے جیسے مکھن شہد کے ساتھ مل جائے اور اس کی طرف اس فرمان باری تعالیٰ سے بھی اشارہ ملتا ہے:وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِؕ(پ۲۰، القصص:۵۰، ترجمہ کنز الایمان: اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جواپنی خواہش کی پیروی کرے اللہ کی ہدایت سے جدا)۔(مرقاة المفاتیح، کتاب الزکاة، باب فضل الصدقة، ۴/ ۴۰۰، تحت الحدیث:۱۸۹۸)
مباح عمل اچھی نیت سے عبادت بن جاتا ہے:
امام نووی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’تمہاری شرم گاہ میں بھی صدقہ ہے‘‘کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی اپنی زوجہ سےصحبت کرنا بھی صدقہ ہے۔اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ مباح اعمال بھی اچھی نیت سے عبادت بن جاتی ہیں۔ لہٰذا حَقِّ زوجیت کی ادا ئیگی،اچھےسلو ک،نیک اولادکی طلب،خوداپنی یا زوجہ کی پاک دامنی ،حرام اشیاء کی طرف نظر اوران میں غور وفکر سے بچنےیا اور کسی نیک کام کی نیت سےاپنی زوجہ سے صحبت کرنا بھی ثواب ہے۔
(شرح مسلم للنووی، کتاب الزکٰوة، باب بیان ان اسم الصدقة یقع...الخ، الجزء السابع، ۴/ ۹۲)عبادات پر مشتمل عمل:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’تمہاری شرم گاہ میں بھی صدقہ ہے‘‘کی شرح میں فرماتے ہیں: یہاں مراد صحبت حلال ہے۔ یہاں ’’ فِی‘‘ ارشاد فرما کر اس جانب اشارہ فرمایا گیا کہ صحبت بذاتِ خود ثواب نہیں بلکہ چونکہ اس کے ضمن میں زوجین کی عفت (پاک دامنی)، حَقِّ زوجیت کی ادا، نیک اولاد کی طلب ہے اور یہ ساری چیزیں عبادت ہیں اس لیے صحبت عبادات پر شامل ہے۔ اس سیِّدُ الفصحاء صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی فصاحت دیکھو کہ پہلی چیزوں میں ’’ب‘‘ ارشاد ہوا تھا اور یہاں ’’فِی‘‘ تاکہ پتہ لگے کہ وہ چیزیں بذات خود عبادت تھیں اور یہ صحبت عبادات پر مشتمل ہے۔(لمعات)، صاحب مرقات نے یہاں فرمایا ظاہر حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال صحبت مطلقاً صدقہ ہے خواہ ان چیزوں کی نیت سے ہو یا نہ ہو۔ (مزید فرماتے ہیں:) بذات خود صحبت ثواب نہیں بلکہ شہوت کو حلال میں خرچ کرنا ثواب ہے۔ جیسے عید کے دن یا رمضان کی سحریوں میں کھانا پینا بذات خود ثواب نہیں بلکہ ان وقتوں میں کھانا عبادت ہے۔ صوفیائے کرام ( رحمۃُ اللہ علیہم ) فرماتے ہیں کہ جب ’’ہَوا ہُدٰی‘‘ سے مل جائےتو زہد بن جاتی ہے اسی جانب قرآن کریم اشارہ فرما رہا ہے:’’وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِؕ(پ۲۰، القصص:۵۰، ترجمہ کنز الایمان: اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اپنی خواہش کی پیروی کرے اللہ کی ہدایت سے جدا) ۔ سُبْحٰنَ اللہ! ’’ہَوا ہُدٰی‘‘ سے مل کر ایسی ہوتی ہے جیسے مکھن شہد سے مل کر۔ (از مرقات) لہٰذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ بغیر نیت ثواب کیسا کہ نیت کی شرط عبادت محضہ میں ہے۔(مراٰۃ المناجیح،3/98)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 25