- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 18
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَةَ وَاَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ مَا عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’اِتَّقِ اللهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَاتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا وَخَالِـقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ. (رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ: حَدِیْثٌ حَسَنٌ وَفِیْ بَعْضِ النُّسَخِ: حَسَنٌ صَحِیْحٌ)
عن ابي ذر جندب بن جنادة وابي عبد الرحمن معاذ بن جبل رضي الله عنه ما عن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال: ’’اتق الله حيثما كنت واتبع السيئة الحسنة تمحها وخالـق الناس بخلق حسن. (رواہ الترمذی وقال: حدیث حسن وفی بعض النسخ: حسن صحیح)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابو ذر جُندُب بن جُنادہ اورحضرت سیِّدُنا ابو عبد الرحمٰن معاذبن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جہاں بھی ہو اللہ پاک سے ڈرتے رہو اور گناہ ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کر لیا کرو کہ نیکی گناہ کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے ملو۔‘‘
(ترمذی، كتاب البرّ والصلة، باب ما جاء فی معاشرة الناس، ۳/ ۳۹۷، حدیث:۱۹۹۴)
(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔ جبکہ بعض نسخوں میں ہے: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
شرح حدیث
تین نصیحتیں :مذکورہ حدیث پاک میں تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے: (1)…جہاں بھی رہو اللہ پاک سے ڈرتے رہو، (2)…گناہ سرزد ہو جائے تو اس کے بعد فوراً نیکی کر لو اور (3)…لوگوں کے ساتھ حسْنِ اخلاق سے پیش آؤ۔ ان تینوں نصیحتوں کی وضاحت ملاحظہ فرمائیں۔ چنانچہ
پہلی نصیحت:اللہپاک کا ڈر و خوفاللہ پاک سے ڈرنے کا مطلب:حضرت سیِّدُنا علّامہ علی بن سلطان قاری حنفی رحمۃُ اللہ علیہم ذکورہ حدیث شریف کی شرح میں فرماتے ہیں: تنہائی میں ہو یا لوگوں کے درمیان ہر جگہ ہر حال میں اللہ پاک سے ڈرتے رہو کیونکہ اللہ پاک جس طرح تمہارے ظاہر کو جانتا ہے اسی طرح تمہارے باطن سے بھی باخبر ہے، لہٰذا اللہ پاک کا حکم بجالاتے ہوئے فرائض وواجبات کی ادائیگی کرو اور بُری چیزوں سے باز رہو، اس کی رضا چاہو اور ناراضی والے کاموں سے بچو۔(مرقاةالمفاتیح، کتاب الاٰداب، باب الرفق والحیا...الخ، ۸/ ۸۱۰، تحت الحدیث:۵۰۸۳)تقوی اور متقی کی تعریف:تفسیر کبیر میں تقوی کی تعریف یہ ہے کہ تم اپنے باطن کو اللہ پاک کے لئے ویسے ہی سنوارو جیسے اپنے ظاہرکو مخلوق کے لئے سنوارتے ہو۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ متقی وہ ہے جو مصطفٰے کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے (بتائے ہوئے) راستے پرچلے، دُنیا کو پیٹھ پیچھےرکھے، اپنے نَفْس کواِخلاص کاعادی بنائےاور حرام ونافرمانی والے کاموں سے بچے۔ (تفسیر کبیر، پ۱، البقرة، تحت الاٰیة:۲، ۱/ ۲۶۸)
حُجَّۃ ُالْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی رحمۃُ اللہ علیہ تقوی کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ہر اس چیزاور کام سے بچنے کانام تقویٰ ہے جس سے دین میں نقصان پہنچنے کاخوف اوراندیشہ ہو۔‘‘ (منھاج العابدین، ص۶۰)تقویٰ کے درجات:یاد رکھئے! تقویٰ دین کی بنیاد ہے اور اسی کے ذریعے یقین کے درجوں تک پہنچا جاتا ہے۔ تقویٰ کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اللہ پاک کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ اس پاک ذات کے علاوہ ہر چیز سے توجہ ہٹا لی جائے۔ پھر ان دونوں کے درمیان مزید کچھ مراتب ہیں اور بعض بعض سے اولیٰ ہیں۔ مثلاً گناہ ترک کرنا ادنیٰ درجہ، مکروہ کو ترک کرنا اس سے اعلیٰ اور مباح کو ترک کرنا اس سے بھی اعلیٰ ہے۔ (مرقاة المفاتیح، ۸/ ۸۱۰، تحت الحدیث: ۵۰۸۳ملخصًا وملتقطًا)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: تقویٰ کے بہت درجے ہیں۔ پہلا درجہ: بدعقیدگی سے بچنا ہے۔ دوسرا درجہ: بدعملی سے بچنا ہے۔ تیسرا درجہ: مکروہ بلکہ مشتبہ چیزوں (یعنی جن چیزوں کا جائز، ناجائز ہونا یقینی طور پر معلوم نہ ہو ان) سے بچنا۔ چوتھا درجہ: بیکار چیزوں سے بچنا۔ پانچواں درجہ: جو بارے حجاب ہو اس سے بچنا (رکاوٹ کا باعث بننے والی چیزوں سے بچنا)۔ (لہٰذا) ’’تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ پاک سے ڈرو‘‘مراد یہ ہے کہ علانیہ خفیہ ہر طرح ہر جگہ خدا سے ڈرنا۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/ 644)تنہائی میں گناہ سے نہ بچنے کا وبال:حضرت سیِّدُنا داود طائی رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک قبر سے یہ آواز سنی: ’’کیا میں زکوٰۃ نہیں دیا کرتا تھا؟ کیا میں نمازی نہ تھا؟ کیا میں فلاں فلاں نیک عمل کا پابند نہ تھا؟‘‘ اس سے کہا گیا: ’’کیوں نہیں! بےشک تو یہ سب کام کرتا تھا مگر تو تنہائی میں گناہ کیا کرتا تھا۔‘‘ (مرقاة المفاتیح، ۸/ ۸۱۰، تحت الحدیث: ۵۰۸۳ملخصًا وملتقطًا)
(نوٹ: تقوی کے فضائل وفوائد کے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ 125 صفحات پر مشتمل کتاب ’’اَچّھے بُرے عمل‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔)
دوسری نصیحت:گناہ سرز ہو تو فوراً نیکی کرلو
نیکی گناہ کو مٹاد دیتی ہے:سیِّدُنا امام شرف الدین حسین بن محمد بن عبد اللہ طیبی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’گناہ سرزد ہوجائے تو فوراً نیکی کرلو‘‘کے تحت فرماتے ہیں: گناہ اپنی ضد (الٹ) یعنی نیکی سے مٹتے ہیں۔ لہٰذا گانے باجے سننے کا کفارہ (توبہ کرنے کے بعد) قرآن پاک کی تلاوت سننا اور ذکر کی محفل میں بیٹھنا ہے۔ شراب پینے کا کفارہ (توبہ کے بعد) حلال مشروب صدقہ کرنا ہے کہ ہر مرض کا علاج اس کی ضد کے ذریعے ہوتا ہے، کیونکہ متضاد چیزیں آپس میں مناسبت رکھتی ہیں، لہٰذا بُرائی کو اس کی ہم جنس نیکی سے مٹایا جائے جیساکہ سفیدی سیاہی کو ختم کرتی ہے اور دنیا کی محبت نیکی کی محبت کے اثر سے زائل ہوتی ہے۔ نیز یہ بات بھی یقینی ہے کہ مسلمان کو غم یا دکھ وغیرہ کے سبب جو بھی تکلیف پہنچے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔
(شرح الطیبی، کتاب الادب، باب الرفق والحیاء وحسن الخلق، ۹/ ۲۷۷، تحت الحدیث:۵۰۸۳)
اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ(پ ۱۲، ھود: ۱۱۴)
ترجمہ کنزالایمان: بےشک نیکیاں بُرائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔مذکورہ آیت طیبہ کی تفسیر اور شان نزول:صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃُ اللہ علیہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: آیت سے معلوم ہوا کہ نیکیاں صغیرہ گناہوں کے لئے کفارہ ہوتی ہیں خواہ وہ نیکیاں نماز ہوں یا صدقہ یا ذکر واستغفار یا اور کچھ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ ’’پانچوں نمازیں اور جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک روایت میں ہے کہ رمضان دوسرے رمضان تک یہ سب کفارہ ہیں ان گناہوں کے لئے جو ان کے درمیان واقع ہوں جب کہ آدمی کبیرہ گناہوں سے بچے۔‘‘ (مسلم، کتاب الطھارة، باب الصلوات الخمس والجمعة الی الجمعة... الخ، ص۱۱۸، حدیث:۵۵۲) شانِ نزول: ایک شخص نے کسی عورت کو دیکھا اور اس سے کوئی خفیف سی حرکت بے حجابی کی سرزد ہوئی اس پر وہ نادِم ہوا اور رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا حال عرض کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی، اس شخص نے عرض کیا: کیا صغیرہ گناہوں کے لئے نیکیوں کا کفارہ ہونا خاص میرے لئے ہے ؟فرمایا: نہیں سب کے لئے۔ (خزائن العرفا ن، پ12، ہود، تحت الآیۃ:114)
تیسری نصیحت:لوگوں کے ساتھ اچھے اَخلاق سے پیش آؤحدیث شریف میں تیسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ ’’لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ‘‘ پہلی دونوں باتیں خالِقِ حقیقی سے متعلق تھیں جبکہ تیسری بات مخلوق سے متعلق ہے، یعنی جب بھی لوگوں سے مِلو تو خندہ پیشانی سے ملو ، اچھے انداز میں ان سے ہم کلام ہو ،ہمیشہ سچ بولو جھوٹ سے بچو۔حسن اخلاق کی تعریف:حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مبارک رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’خندہ پیشانی سے ملاقات کرنے، خوب بھلائی کرنے اور کسی کو تکلیف نہ دینے کا نام حُسنِ اَخلاق ہے۔‘‘ ( ترمذی، کتاب البر والصلة، باب ما جاء فی حسن الخلق، ۳/ ۴۰۴، حدیث:۲۰۱۲)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ‘‘ اس طرح کہ لوگوں کی تکالیف برداشت کرو، ان پر اپنا مال خرچ کرو، ان سے خندہ پیشانی سے ملو، ان کی مصیبتوں میں کام آؤ۔(مراٰۃ المناجیح، 6/ 645)حسن اَخلاق کی فضیلت پر احادیث مبارکہ:سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل مسلمان وہ ہے جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق والا ہے۔‘‘ (ابو داود، کتاب السنة، باب الدلیل علی زیادة الایمان، ۴/ ۲۹۰، حدیث:۴۶۸۲)
سیِّدُنا ابودَرْداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن مومن کے میزان میں حُسنِ اَخلاق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہیں ہو گی۔‘‘ ( ترمذی،کتاب البر والصلة، باب ما جاء فی حسن الخلق، ۳/ ۴۰۳، حدیث:۲۰۰۹)
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور میری مجلس میں زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو تم میں اچھے اخلاق والے، نرمی کرنے والے، وہ لوگوں سے اور لوگ ان سے محبت کرتے ہوں۔‘‘ (معجم اوسط، ۵/ ۳۸۶، حدیث:۷۶۹۷)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 18