Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 21

حدیث مبارکہ

عَنِ اَبِيْ عَمْرٍو وَقِيْلَ اَبِيْ عَمْرَةَ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَارَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! قُلْ لِيْ فِي الْاِسْلَامِ قَوْلًا لَا اَسْاَلُ عَنْهُ اَحَدًا غَيْرَكَ. قَالَ: ’’قُلْ اٰمَنْتُ باللهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ.‘‘ (رَوَاہُ مُسْلِم)

عن ابي عمرو وقيل ابي عمرة سفيان بن عبد الله الثقفي رضي الله عنه قال: قلت يارسول الله صلى الله عليه وسلم ! قل لي في الاسلام قولا لا اسال عنه احدا غيرك. قال: ’’قل امنت بالله ثم استقم.‘‘ (رواہ مسلم)

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّدُنا ابو عمرو یا ابوعمرہ سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتائیے کہ میں اس کے بارے میں آپ کے علاوہ کسی سے نہ پوچھوں۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’کہو میں اللہ پاک پر ایمان لایا پھر اس پر ثابت قدم رہو۔‘‘
(مسلم، كتاب الايمان، باب جامع اوصاف الاسلام، ص۴۸، حدیث: ۱۵۹)

شرح حدیث

اسلام مکمل ہوجائے:حضرت سیِّدُنا امام شرف الدین حسین بن محمد بن عبداللہ طیبی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’اسلام کے بارے میں مجھے کوئی ایسی بات بتائیے کہ کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کے ذریعے اسلام مکمل ہو جائے، اسلامی باتوں کی طرف راہ نمائی ہو، اس کے حقوق کی حفاظت ہو اور آپ کے بعد کسی اور سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے تو حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’قُلْ اٰمَنْتُ بِاللہ ثُمَّ اسْتَقِمْ یعنی کہو:میں اللہ پاک پر ایمان لایا اور پھر اس پر قائم رہو۔‘‘ اِسْتَقِم ایسا لفظ ہے جو تمام اَحکامات پر عمل کرنے اور تمام ممنوعہ کاموں سے رُک جانے کو شامل ہے کیونکہ بندہ حکم عدولی کی وجہ سے صراطِ مستقیم سے دُور ہوجاتا ہے جب تک دوبارہ تَعمیلِ حکم نہ کرے۔ اِسی طرح ممنوعہ کام کے اِرتکاب سے بھی صراطِ مستقیم سے دُور ہوجاتا ہے جب تک توبہ نہ کرے۔
(شرح الطیبی، کتاب الایمان، الفصل الاول، ۱/ ۱۳۴، حدیث:۱۵)
اللہ پاک پر ایمان پھر اس پر استقامت:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’الله پاک پر ايمان لاؤ پھر اس پر قائم رہو“ کے تحت فرماتے ہیں:الله (پاک) پر ایمان لانےسےمرادسارے عقائدِ اسلامیہ ماننا ہیں۔لہٰذا اس میں توحیدو رسالت، حشر ونشر، ملائکہ، جنت ودوزخ سب پر ایمان لاناداخل ہے۔ جیسےکسی کو اپنا باپ مان کر اس کے سارے اہْلِ قرابت کو اپنا عزیر ماننا پڑتاہے کہ اس کا باپ ہمارا دادا ہے، اس کی اولاد ہمارے بھائی بہن، اس کے بھائی ہمارے چچا تائے اور اسقامت سے مراد سارے اعمالِ اسلامیہ پرسختی وپابندی سے عمل کرنا ہے۔لہٰذا یہ حدیث ایمان وتقویٰ کی جامع ہے اور اس پر عامل (یعنی عمل کرنے والا) یقیناً جنتی ہے،ربّ (کریم ارشاد) فرماتا ہے:’’اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا(پ ۲۴، حم السجدة:۳۰، ترجمہ کنزالایمان: بےشک وہ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے) الخ۔‘‘یہ (حدیث مذکور کے الفاظ)کلماتِ جامع میں سے ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 35)استقامت کی اہمیت:حضرت سیِّدُنا علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رسالہ قشیریہ میں ہے: استقامت ایسا درجہ ہے جس سے امور کی تکمیل اور نیکیوں کا حصول ہوتا ہے۔ جو اِسے اختیار نہ کرے اُس کی کوشش ضائع ہو جاتی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اِستقامت کی طاقت صرف اکابر ہی رکھتے ہیں کیونکہ اِستقامت یہ ہے کہ انسان اپنے معمولات اور رَسم و رَواج کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ پاک کے احکامات کے مطابق کرلے۔ اسی لئے رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا : ’’استقامت پر رہو اور تم ہر گز اُس کا اِحاطہ نہیں کر سکتے۔‘‘ (ابن ماجة، کتاب الطھارة وسننھا، باب المحاظة علی الوضوء، ۱/ ۱۷۸، حدیث:۲۷۷) حضرت سیِّدُنا واسطی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اِستقامت ایسا وصف ہے جس کے پائے جانے سے اچھائیاں مکمل ہوتیں اور اس کے نہ ہونے کی وجہ سے خوبیاں خامیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔‘‘
(شرح مسلم للنووی، کتاب الایمان، باب جامع اوصاف الاسلام، الجزءالثانی، ۲/ ۹)
یہاں اِستقامت کا معنیٰ ہے:ایمان، اَعمالِ صالِحہ اور گناہوں سےبچنے پر ڈٹے رہنا۔یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ استقامت یہ ہے کہ ایمان ضائع نہ ہو، نیک اَعمال، مثلاً: نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ترک نہ ہوں۔ تلاوت، ذِکر، دُرود، تسبیحات و اذکار، صَدَقات و خیرات، دوسروں کی خیر خواہی وغیرہا پر ہمیشگی ہو۔ تمام گناہوں سے بچنے کی عادت پختہ رہے۔ یہ تمام چیزیں اِستِقامت میں داخل ہیں۔ البتہ ہر استقامت کا حکم جُدا ہے، جیسے: صحیح عقائد پر جمے رہنا سب سے بڑا فرض ہے۔ فرائض پر ہمیشگی بھی فرض ہے۔ گناہوں سے بچتے رہنا بھی لازم ہے اور مستحبات کی پابندی بھی اعلیٰ درجے کا مستحب ہے۔ چنانچہ
اِستِقامت کی اقسام اور مختصر تفصیل:(1)… ایمان پر اِستِقامت:ایمان پر اِستِقامت کی عظمت کے متعلّق حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا بڑا خوب صورت فرمان ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’تین چیزیں جس میں ہوں وہ ایمان کی مٹھاس پائے گا: (1)…جسےاللہ پاک اور رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ (2)…جو کسی سے خاص اللہ پاک ہی کےلئے محبّت رکھتا ہو۔ (3)… جو اسلام لانے کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔‘‘
(بخاری، کتاب الایمان، باب حلاوة الایمان ، ۱/ ۱۷، حدیث:۱۶)
(2)…فرائض پر اِستِقامت:یہ ہے کہ کبھی ترک نہ ہوں، جیسے: نماز کے متعلّق قرآن مجید میں ارشاد ہوا: ’’
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ(۹)(پ۱۸، المؤمنون:۹) ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔‘‘ ایک مقام پر ارشاد ہوا: ’’الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآىٕمُوْنَﭪ(۲۳)(پ۲۹، المعارج:۲۳) ترجمہ کنز الایمان: جو اپنی نماز کے پابند ہیں۔‘‘
(3)… مستحبات پر اِستِقامت: یعنی ان پر ہمیشگی ہو۔ جیسے: تلاوت، ذکر، دُرود، صدقہ، حُسنِ اَخلاق، عَفْو وکرم اور تہجد وغیرہا پر استقامت۔ یہ استقامت بھی اللہ پاک کو بہت محبوب ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عُمَر رضی اللہ عنہما کا تذکرہ کیا توآپ نے اِرشاد فرمایا: ’’عبداللہ ایک اچھا شخص ہے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ تہجد بھی ادا کرتا۔‘‘ (مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل عبد اللّٰہ بن عمر، ص۱۰۳۴، حدیث:۶۳۷۰) ایک موقع پر حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو رضی اللہ عنہ کو اِرشاد فرمایا: ’’اے عبداللہ! تم فلاں کی طرح نہ ہونا جو رات میں نماز پڑھتا تھا پھر اس نے رات میں نماز (یعنی تہجد وغیرہ) كاقِیام کرنا چھوڑ دیا۔‘‘
(مسلم، کتاب الصیام، باب النھی عن صوم الدھر...الخ، ص۴۵۲، حدیث:۲۷۳۳)
اللہ پاک کے نزدیک پسندیدہ عمل:اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی: اللہ پاک کے نزدیک پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ تو رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’وہ عمل جواستقامت کے ساتھ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔‘‘ (بخاری، کتاب الرقاق، باب القصد والمداومة علی العمل، ۴/ ۲۳۷، حدیث:۶۴۶۵)
ہمارے بزرگانِ دین رحمۃُ اللہ علیہم نے اعمالِ صالحہ پر کیسی استقامت اختیار کی، اس کااندازہ اس حکایت سے لگائیے۔ چنانچہ
حکایت:ایک رات میں خَتْمِ قرآنکروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا، حضرت سیِّدُنا نعمان بن ثابت المعروف امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ نے 30سال تک روزانہ ہر رات ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کیا۔ 40 سال تک عشا کے وضو سے فجر کی نماز ادا کی۔ آپ رات کو خوفِ خدا کے باعث اِس قدر روتے کہ ہمسائے آپ پر رحم کرتے اور جس جگہ آپ رحمۃُ اللہ علیہ کا وصال ہوا وہاں آپ نے سات ہزار مرتبہ قرآن شریف ختم فرمایا تھا۔ (الخیرات الحسان، الفصل الرابع عشر، ص۵۰)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 21