Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 39

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ مَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: ’’اِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِيْ عَنْ اُمَّتِيْ اَلْخَطَاَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوْا عَلَيْهِ.‘‘ (حَدِيْثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه والْبَيْهَقِیُّ وَغَيْرُهُمَا)

عن ابن عباس رضي الله عنه ما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ’’ان الله تجاوز لي عن امتي الخطا والنسيان وما استكرهوا عليه.‘‘ (حديث حسن رواه ابن ماجه والبيهقی وغيرهما)

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک نے میری وجہ سے میری امت کی غلطی، بھول اور جس پر وہ مجبور کئے جائیں ان گناہوں کو معاف فرمادیا ہے۔‘‘(ابن ماجہ، كتاب الطلاق، باب طلاق المكره والناسی، ۲/ ۵۱۳، حدیث:۲۰۴۵۔ سنن الکبری للبیھقی، کتاب الخلع والطلاق، باب ماجاء فی طلاق المکرہ...الخ، ۷/ ۵۸۴، حدیث:۱۵۰۹۶،’’∞ان اللّٰہ تجاوز لی‘‘∞ بدلہ’’∞وضع اللّٰہ‘‘∞)
(یہ حدیث حسن ہے اسے حضرت سیِّدُنا امام ابن ماجہ، حضرت سیِّدُنا امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہما اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔)

شرح حدیث

خطا اور نسیان کا معنیٰ ومفہوم:خطا یعنی غلطی کا مطلب ہے کہ انسان کام کا ارادہ نہیں کرتا مگر اس سے ہو جاتا ہےجیسے روزہ دار کلی کرے اور اسے معلوم ہے کہ میں روزے سے ہوں مگر پانی حلق سے اتر جائے تو یہ خطا ہے۔ نسیان یعنی بھول،اس میں بندہ کام تو ارادے سے کرتا ہے مگر یہ بھول جاتا ہے کہ ابھی یہ کام کرنا جائز نہ تھا جیسے روزہ دار کو اپنا روزہ دار ہونا یاد نہ ہو اور وہ کھا پی لے تو یہ بھول ہے۔اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ الله تعالیٰ نے میری امت پر یہ کرم فرمایا کہ ان کی بھول چوک معاف فرما دی، اس میں ان پر نہ گناہ ہوگا نہ پکڑ، ہاں بعض صورتوں میں شریعت کے احکام ضرور لاگو ہوں گے جیسے نماز میں بھول کر بات کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے یا قتل خطاء میں کفارہ یا دیت لازم ہوجاتے ہیں،نماز کا واجب بھول جانے سے سجدہ سہو واجب ہوجاتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 8/ 596، ملخصاً)مجبوری میں کئے گئے گناہ:یعنی مسلمان جو برا کام مجبورًا کرلے تو وہ گنہگار نہ ہوگا لہذا مجبورًا منہ سے کفریہ بات بول دینے والا کافر نہ ہوگا، مجبورًا شراب پلائے جانے والا گنہگار نہ ہوگا۔یہاں بھی مذکورہ بالا معاملہ ہے کہ مجبوری کی صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہو گا البتہ شریعت کے احکام جاری ہوں گے لہذا مجبور کی طلاق واقع ہوجاتی ہے یہی احناف کا مذہب ہے۔خیال رہے کہ ہر جرم کی مجبوری علیحدہ ہے کفر بکنے یا شراب پینے پر جان جانے کا خطرہ ہو تو یہ مجبوری ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، 8/ 596، ملخصاً)اکراہِ شرعی کی تعریف:اکراہِ شرعی (یعنی شرعی مجبوری یا جسے مجبور کیا گیاوہ) یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کوصحیح دھمکی دے کہ اگر توفلاں کام نہ کرے گا تومیں تجھے مار ڈالوں گا یا ہاتھ پاؤں توڑدوں گایاناک ،کان وغیرہ کوئی عضوکاٹ ڈالوں گایاسخت مارماروں گااوروہ یہ سمجھتاہوکہ یہ کہنے والاجوکچھ کہتاہے کرگزرے گا،تویہ اکراہِ شرعی ہے۔ (ماخوذازبہارشریعت، حصہ15، 3/ 189)امت محمدیہ پر خصوصی کرم:حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن عبد اللہ دمیاطی شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس حدیث شریف سے یہ ظاہر ہوا کہ خطا اور نسیان (یعنی غلطی اور بھول) کی صورت میں گناہ کی معافی اس امت کے ساتھ خاص ہے، حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے شرف کی وجہ سے (اس امت کو یہ خصوصیت حاصل ہوئی)۔ اسی لئے ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم کثرت سے یہ دعا مانگا کریں:رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ(پ۳، البقرة:۲۸۶)
ترجمہ کنزالایمان: اے رب ہمارے ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوکیں۔
اس طلب کے ساتھ کہ یہ عظیم نعمت ہمیشہ حاصل رہے۔
نیز مروی ہے کہ ’’بنی اسرائیل کو جس چیز کا حکم دیا جاتا اگر وہ اسے بھول جاتے یا غلطی کرتے تو جلد انہیں سزا دے دی جاتی کہ اس گناہ کی وجہ سے کھانے پینے کی بعض حلال چیزیں بھی ان پر حرام کر دی جاتیں۔‘‘
(الجواھر اللؤلؤیة للدمیاطی ، ص۵۴۳، تحت الحدیث:۳۹)
بھولی ہوئی چیز یاد آجائے:سیِّدُنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ (نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:) ’’اِذَا نَسِیْتُمْ شَیْئًا فَصَلُّوْا عَلَیَّ تَذْکُرُوْہُ اِنْ شَآءَ اللہ تَعَالٰی یعنی جب تم کسی چیز کو بھول جاؤ تو مجھ پر درودِ پاک پڑھو اللہ پاک نے چاہا تو وہ چیز تمہیں یاد آ جائے گی۔‘‘
(الجواھر اللؤلؤیة للدمیاطی، ص۵۴۴، تحت الحدیث:۳۹)
دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 39