Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 28

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ نَجِيْحِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللهِ صلّی اللهِ علیہ وسلّم مَوْعِظَةً وَّجِلَتْ مِنهَا الْقُلُوْبُ وَذَرَفَتْ مِنهَا الْعُيُوْنُ. فَقُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللهِ علیہ وسلّم ! كَاَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَاَوْصِنَا. قَالَ: ’’اُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ وَالسَّمعِ وَالطَّاعَةِ وَاِنْ تَاَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، فَاِنَّهٗ مَنْ يَّـعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرٰى اِخْتِلَافًا كَثِيْرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيِّـيْنَ عَضُّوْا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَاِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ فَاِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ.‘‘
(رَوَاهُ اَبُوْ دَاؤُدَ وَالتِّرْمَذِیُّ وَقَالَ: حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ)

عن ابي نجيح العرباض بن سارية رضي الله عنه قال: وعظنا رسول الله صلی الله علیہ وسلم موعظة وجلت منها القلوب وذرفت منها العيون. فقلنا: يا رسول الله صلی الله علیہ وسلم ! كانها موعظة مودع فاوصنا. قال: ’’اوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة وان تامر عليكم عبد، فانه من يـعش منكم فسيرى اختلافا كثيرا، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديـين عضوا عليها بالنواجذ واياكم ومحدثات الامور فان كل بدعة ضلالة.‘‘
(رواه ابو داؤد والترمذی وقال: حديث حسن صحيح)

حدیث ترجمہ

ترجمہ:حضرت سیِّدُنا ابونجیح عِرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہمیں ایک ایسی نصیحت فرمائی جس سے دل دہل گئے اور آنسو بہنے لگے۔ ہم نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! ایسا لگ رہا ہے کہ یہ الوداعی نصیحت ہے، لہٰذا ہمیں کچھ وصیت فرمادیں۔ ارشاد فرمایا: ’’میں تمہیں اللہ پاک سے ڈرنے، حاکم کی بات سننے اور فرماں برداری کرنے کی نصیحت کرتا ہوں اگرچہ کوئی غلام ہی تم پر حاکم ہو کیونکہ تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت اختلافات دیکھے گا۔ لہٰذا تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو اور نئے کاموں سے بچو کہ ہربدعت گمراہی ہے۔‘‘(ترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء فی الاخذ فی السنة...الخ، ۴/ ۳۰۸، حدیث:۲۶۸۵، بتغیر قلیل ۔ ابوداود، كتاب السنة، باب فی لزوم السنة، ۴/ ۲۶۷، حدیث:۴۶۰۷)
(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام ابو داود سلیمان بن اشعث ازدی سجستانی اور حضرت سیِّدُنا امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہما نے (سنن ابو داود اور جامع ترمذی میں) روایت کیا ہے اور حضرت سیِّدُنا امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

شرح حدیث

دل دہل گئے اور آنکھیں بہنے لگیں:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’ایک ایسی نصیحت فرمائی جس سے دل دہل گئے اور آنسو بہنے لگے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: یوں توحضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کے تمام وعظ ہی مؤثر (اثر کرنے والے) ہوتے تھے لیکن خصوصیت سے یہ وعظ بہت پُرتاثیرتھا۔جس میں عِشقِ خدا، خوفِ ذاتِ کبریا کا دریا موجیں مار رہا تھا۔ عشق سے آنسو بہے اورخوف سے دل ڈرے۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 165)
امام شرف الدین طیبی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’آنکھیں بہنے لگیں‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: (حالانکہ آنکھیں نہیں بلکہ آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں) یہ رونے میں مبالغہ ہے کہ اس قدر روئے گویا آنکھیں بہنے لگیں۔ نیز صحابَۂ کرام علیہم الرضوان نے اسے الوداعی وعظ کہا کیونکہ وصیت کرنے والا بوقْتِ رُخصت بہت اہم اور ضروری باتیں بیان کرتا ہے۔
(شرح الطیبی، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، ۱/ ۳۶۱، تحت الحدیث: ۱۶۵)
الوداعی نصیحت:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’ایسا لگ رہا ہے کہ یہ الوداعی نصیحت ہے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: یعنی حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کی وفات قریب ہے اور آپ ایسی باتیں فرما رہے ہیں جیسی رخصت ہوتے وقت کی جاتی ہیں گویا آپ اپنی امت کو چھوڑ کر جارہے ہیں اور آخری نصیحتیں کر رہے ہیں۔ سُبْحٰنَ اللہ!صحابَۂ کرام (علیہمُ الرّضوان) کی ذکاوت کے قربان۔ معلوم ہوتا ہے کہ واقعی حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کی وفات قریب تھی اس لیے ان کے کلام کی تردید نہ فرمائی گئی بلکہ خواہش پوری کردی گئی۔ پتا لگا کہ حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) اپنے وقْتِ وفات کو جانتے ہیں اور یہ ایسا جامع کلام ہے کہ سارے اَحکام اس میں آگئے۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 165)الوداعی نصیحت کی کیفیت:عارِف باللہ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابُلسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضورنبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے الوداع کہنے والے کی طرح نصیحت فرمائی یعنی ایسے شخص کی طرح وصیت کی جو اپنی قوم کو چھوڑ کر جارہاہواوراُنہیں ضروری باتوں کی وصیت کرے تو ایسا شخص نصیحت کرتا، خوف دلاتا، زجر وتوبیخ کرتا اوراپنی مخالفت سے ڈراتا ہے اور ایسا صرف اُن کی بھلائی کی اِنتہائی چاہت کے سبب کرتا ہے کہ کہیں وہ اِس کے بعدگمراہ نہ ہوجائیں ۔ حدیثِ مذکورمیں اس طرف اشارہ ہے کہ مبلغ بیان کرتے وقت حاضرین کونصیحت کرنے میں پوری کوشش کرے اور کوئی ایسی فائدہ مند بات ترک نہ کرے جس کے متعلق جانتاہوکہ حاضرین اس کے‏∞لئے دوسری مجلس کے محتاج ہوں گے کیونکہ دوسری مجلس تک زندہ رہنے کاکوئی بھروسا نہیں۔ نیز مبلغ کو چاہیے کہ بغیرمشقت اٹھائے حَسبِ موقع حاضرین کو ( عذاب سے) ڈرائے اور زجر وتوبیخ کرے۔ البتہ !اس کی عادت نہ بنائے جیسا کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کامبارک عمل تھاکہ کبھی ڈراتے اورکبھی نہ ڈراتے ۔(حدیقة ندیة، ۱/ ۹۵)اللہ پاک سے ڈرو:حدیث پاک میں ہے: رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نصیحت فرمائی کہ ’’میں تمہیں اللہ پاک سے ڈرنے، حاکم کی بات سننے اور فرمانبرداری کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔‘‘ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ ایسا جامع کلام ہے کہ سارے احکام اس میں آگئے۔ تَقْوَی اللہ میں سارے دینی اَحکام اور سلطان کی اطاعت میں سارے سیاسی احکام شامل ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 165)تقویٰ کا معنیٰ ومفہوم:تفسیر صراط الجنان، جلد1، صفحہ 62 پر ’’تفسیر مدارک اور تفسیر خازن‘‘ کے حوالے سے ہے کہ تقویٰ کا معنیٰ ہے: ’’نفس کو خوف کی چیز سے بچانا۔‘‘ اور شریعت کی اِصطلاح میں تقویٰ کا معنیٰ یہ ہے کہ نفس کو ہر اس کام سے بچانا جسے کرنے یا نہ کرنے سے کوئی شخص عذاب کا مستحق ہو۔ جیسے کفر و شرک، کبیرہ گناہوں، بےحیائی کے کاموں سے اپنے آپ کو بچانا، حرام چیزوں کو چھوڑدینا اور فرائض کو ادا کرنا وغیرہ اور بزرگانِ دین نے یہ بھی فرمایا ہے کہ تقویٰ یہ ہے کہ ’’تیرا خدا تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا ہے۔‘‘ (مدارک، البقرة، تحت الاٰیة:۲، ص۱۹۔ خازن، البقرة، تحت الاٰیة:۲، ۱/ ۲۲، ملتقطًا)متقی اور تقویٰ کی تعریف:حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: متقی وہ ہے جو شرک و کبائر و فواحش سے بچے۔ بعضوں نے کہا متقی وہ ہے جو اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھے۔ بعض کا قول ہے تقویٰ حرام چیزوں کا ترک اور فرائض کا ادا کرنا ہے۔ بعض کے نزدیک معصیت پر اصرار اور طاعت پر غرور کا ترک (یعنی گناہوں سے باز رہنے اور عبادت پر نازاں ہونے کو چھوڑ دینے کانام) تقویٰ ہے۔ بعض نے کہا تقویٰ یہ ہے کہ تیرا مولیٰ تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا۔ ایک قول یہ ہے کہ تقویٰ حضور علیہِ الصّلوٰۃُوالسّلام اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی پیروی کا نام ہے (خازن)۔یہ تمام معنیٰ باہم مناسبت رکھتے ہیں اور مآل (یعنی اصل) کے اعتبار سے ان میں کچھ مخالفت نہیں۔(خزائن العرفان، پ1، سورۂ بقرہ، تحت الآیہ: 2)تقویٰ کے مراتب:تقویٰ کے مراتب بہت ہیں: عوام کا تقویٰ ایمان لا کر کُفر سے بچنا، متوسطین کا (تقویٰ) اوامر و نواہی کی اطاعت(یعنی احکامات پر عمل کرنا اور ممنوعات سے بچنا)، خواص کا (تقویٰ) ہر ایسی چیز کو چھوڑنا جو اللہ تعالیٰ سے غافل کرے(جمل)۔
(خزائن العرفان، پ1، سورۂ بقرہ، تحت الآیہ: 2)
تقویٰ کے ارکان اور اعلیٰ رکن:مراٰۃ المناجیح میں ہے: تقویٰ کے دو رکن ہیں: اچھے کام کرنا،برے کاموں سے بچنا۔ مگر اس کا رکْنِ اعلیٰ بُرے کاموں سے بچنا ہے۔ عبادات آسان ہیں مگر محرمات سے پرہیز، بُرے معاملات سے بچنا بہت ہی مشکل ہے۔بعض کے نزدیک ورع اور تقویٰ ایک ہی چیز ہے،بعض کے نزدیک محرمات سے بچنا تقویٰ ہے اور شبہ کی چیز سے بچنا ورع یا فرائض پر عمل تقویٰ ہے،سنت و مستحب پر عمل ورع۔خیال رہے نیکیاں گویا روحانی دوائیں ہیں گناہوں سے بچنا گویا روحانی پرہیز، دوا بغیر پرہیز مفید نہیں ہوتی۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/ 634)تقویٰ کی عظمت:تقویٰ عظیم عبادت، تمام نیکیوں کی اصل اور بےشمار فضائل کا حامل ہے۔ چنانچہ تقویٰ: اللہ پاک کےدوستوں یعنی ولیوں کی پہچان ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)(پ ۱۱، یونس:۶۲، ۶۳)
ترجمہ کنزالایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔
متقی: کا مرتبہ اللہ پاک کی بارگاہ میں سب سے بلند ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ(پ ۲۶، الحجرات:۱۳)
ترجمہ کنزالایمان: بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
متقی: اللہ پاک کے اور اللہ پاک متقیوں کا دوست ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ(۱۹)(پ ۲۵، الجاثیة:۱۹)
ترجمہ کنزالایمان: اور ڈر والوں کا دوست اللہ۔
متقی: اللہ پاک کے محبوب ہیں۔ قرآنِ کریم میں ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷)(پ ۱۰، التوبة:۷)
ترجمہ کنزالایمان: بےشک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔
تقویٰ:سفر آخرت کے لئے بہترین زادِ راہ ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘(پ ۲، البقرة:۱۹۷)
ترجمہ کنزالایمان: کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے۔
تقویٰ:انسان کے لئے بہترین لباس ہے جو ایمان، نیک عمل، شرم وحیا اور اچھے اخلاق کے ساتھ انسان کے باطنی وروحانی وجود کی شیطان سے حفاظت کرتا اور اس کے اخلاقی وجود کو زینت بخشتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙ-ذٰلِكَ خَیْرٌؕ(پ ۸، الاعراف:۲۶)
ترجمہ کنزالایمان: اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا۔
متقی:کو ربِّ کریم حق وباطل میں فرق کرنے والا نور عطا فرماتا ہے، اس کی خطائیں معاف ہوتیں اور اسے بخشش سے نوازا جاتا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ(۲۹)(پ ۹، الانفال:۲۹)
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو اگر اللہ سے ڈرو گے تو تمہیں وہ دے گا جس سے حق کو باطل سے جدا کر لو اور تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
متقی:کے لئے اللہ پاک مشکلات میں راہِ نجات پیدا کر دیتا اور اسے وہاں سے عالی شان رزق عطا فرماتا ہے جہاں سےاس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲)وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ(پ ۲۸، الطلاق:۲، ۳)
ترجمہ کنزالایمان: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔
مندرجہ بالا آیت طیبہ کا شانِ نزول:صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃُ اللہ علیہ تفسیر خزائن العرفان میں مذکورہ بالا آیت مقدسہ کے تحت فرماتے ہیں: سیّدِ عالَم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے مروی ہے کہ جو شخص اس آیت کو پڑھے اللہ تعالیٰ اس کےلئے شبہاتِ دنیا، غمراتِ موت و شدائدِ روزِ قیامت سے خلاص کی راہ نکالے گا۔ اور اس آیت کی نسبت سیّدِ عالَم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہ بھی فرمایا کہ میرے علم میں ایک ایسی آیت ہے جسے لوگ محفوظ کرلیں توان کی ہر ضرورت و حاجت کےلئے کافی ہے ۔ شانِ نزول: عوف بن مالک کے فرزند کو مشرکین نے قید کرلیا تو عوف نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ بھی عرض کیا کہ میرا بیٹا مشرکین نے قید کرلیا ہے اور اسی کے ساتھ اپنی محتاجی و ناداری کی شکایت کی، سیّدِ عالَم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ڈر رکھو اور صبر کرو اور کثرت سےلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم پڑھتے رہو عوف نے گھرآکر اپنی بی بی سے یہ کہا اور دونوں نے پڑھنا شروع کیا وہ پڑھ ہی رہے تھے کہ بیٹے نے دروازہ کھٹکھٹایا دشمن غافل ہوگیا تھا اس نے موقع پایا قید سے نکل بھاگا اور چلتے ہوئے چار ہزار بکریاں بھی دشمن کی ساتھ لے آیا، عوف نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ یہ بکریاں ان کے لئے حلال ہیں؟ حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) نے اجازت دی اور یہ آیت نازل ہوئی ۔(خزائن العرفان،پ28، سورۂ طلاق، تحت الآیہ:2)تقویٰ کی اقسام:سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃُ اللہ علیہ سورۂ بقرہ، آیت:2 کے تحت’’تفسیر خزائن العرفان‘‘ میں نقل فرماتے ہیں: حضرت مترجم(یعنی ترجمہ قرآن کنزالایمان کے مترجم سیِّدی اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان) قُدِّسَ سِرُّہٗ نے فرمایا کہ تقویٰ سات قسم کا ہے: (1)...کُفر سے بچنا اللہ پاک کے فضل سے یہ ہر مسلمان کو حاصل ہے۔ (2)...بدمذہبی سے بچنا یہ ہر سنی کو نصیب ہے۔ (3)...ہر کبیرہ (یعنی بڑے گناہ) سے بچنا۔ (4)... صغائر (یعنی چھوٹے گناہوں) سے بھی بچنا۔ (5)... شبہات سے احتراز (یعنی جن کے حلال وجائز ہونے میں شک ہو ان سے بچنا)۔ (6)...شہوات (یعنی نفسانی خواہشات)سے بچنا اور (7)...غیر کی طرف التفات (یعنی اللہ پاک کے علاوہ کسی اور کی طرف متوجہ ہونے) سے بچنا۔ یہ اَخَصُّ الْخَواص کا منصب ہے اور قرآنِ عظیم ساتوں مرتبوں کا ہادی(یعنی راہ نما) ہے۔(ملخص از خزائن العرفان،پ1، سورۂ بقرہ، تحت الآیہ:2)مذکورہ اقسام کی تفصیل:پہلی قسم کفر سے بچنا:رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ ’’جس شخص میں تین خصلتیں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس پالے گا: (1)...اللہ پاک اور اس کا رسول اسے باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں۔ (2)...جس شخص سے بھی اس کو محبت ہو وہ محض اللہ پاک کی وجہ سے ہو اور (3)...کفر سے نجات کے بعد کفر میں جانے کو اس طرح ناپسند کرتا ہو جیسے آگ میں پھینکے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الایمان، باب حلاوة الایمان، ۱/ ۱۷، حدیث:۱۶)
دوسری قسم گمراہی وبدمذہبی سے بچنا:رَسُوْلُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ ’’آخری زمانہ میں جھوٹے دجال ہوں گے، وہ تم کو ایسی احادیث سنائیں گے جن کو نہ تم نے سنا ہوگا ، نہ تمہارے باپ دادا نے ، تو تم ان سے دور رہنا ، کہیں وہ
تمہیں گمراہ نہ کر دیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں مبتلا نہ کر دیں۔‘‘
(مسلم، مقدمة المؤلف، باب النھی فی الروایة عن الضعفاء والاحتیاط فی تحملھا، ص۱۷، حدیث:۱۶)
تیسری قسم کبیرہ گناہوں سے بچنا:حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ ’’اِتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ اَعْبَدَ النَّاس‘‘ یعنی حرام کاموں سے بچو سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے۔‘‘ (ترمذی، کتاب الزھد، باب من التقی المحارم فھو اعبد الناس ، ۴/ ۱۳۷، حدیث:۲۳۱۲) اور قرآنِ مجید میں فرمایا گیا:اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا(۳۱)(پ ۵، النسآء:۳۱)
ترجمہ کنزالایمان: اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔
چوتھی قسم صغیرہ گناہوں سے بچنا:حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ ’’اِنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَا اَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَآءٌ فِيْ قَلْبِهٖیعنی بےشک بندۂ مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے۔‘‘
(ابن ماجة، کتاب الزھد، باب ذکر الذنوب، ۴/ ۸۸، حدیث:۴۲۴۴)
پانچویں قسم ان چیزوں سے بچنا جن کے جائز وحلال ہونے میں شبہ ہو:رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ ’’حلال واضح ہے اور حرام بھی بالکل واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ شبہ والی چیزیں ہیں جن کا بہت سے لوگوں کو علم نہیں ہے ، تو جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑا تو وہ حرام ہی میں جاپڑےگا ، جیسے کوئی شخص کسی ممنوعہ چراگاہ کے آس پاس جانور چرائے تو قریب ہے کہ وہ جانور ممنوعہ چراگاہ میں بھی داخل ہو جائیں۔‘‘ (بخاری، کتاب الایمان، باب فضل فی استبرأ لدینہ، ۱/ ۳۳، حدیث:۵۲)
چھٹی قسم شہوات وخواہشاتِ نفس سے بچنا: اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ ’’تین باتیں مہلکات میں شامل ہیں: (1)...وہ طمع و لالچ جس کی پیروی کی جائے۔ (2)...وہ خواہِشِ نفس جس کے پیچھے چلا جائے اور (3)...بندے کا خودپسندی میں مبتلا ہونا۔ (معجم اوسط، ۴/ ۱۲۹، حدیث:۵۴۵۲) اور قرآنِ کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ (۴۰)فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ (۴۱)(پ ۳۰، النّٰزعٰت:۴۰، ۴۱)
ترجمہ کنزالایمان: اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بےشک جنت ہی ٹھکانہ ہے۔
ساتویں قسم غیر کی طرف التفات سے بچنا:یہ اَخَص الْخَواص مقربِینِ بارگاہِ الٰہی کا نصیب ہے کہ اپنا جینا مرنا سب اللہ پاک کے لئے کر دیتے، اپنی جان مولائے کریم کو بیچ دیتے اور اس کی یاد ومحبت میں ڈوب کر سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہوجاتے ہیں۔ غیر کو ظاہراً دیکھنے میں بھی تجلیاتِ الٰہیہ کے مشاہدہ و مطالعہ میں یا حکْمِ الٰہی کی پیروی میں ہوتے ہیں۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ ۸، الانعام:۱۶۲)
ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ بےشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہےجو رب سارے جہان کا۔
ایک مقام پر ارشاد ہوا:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِؕ(پ ۲، البقرة:۲۰۷)
ترجمہ کنزالایمان: اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے اللہ کی مرضی چاہنے میں۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوا:
وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ(۸)(پ ۲۹، المزمل:۸)
ترجمہ کنزالایمان: اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہو۔
ابدی عذاب سے نجات کا سبب:حضرت سیِّدُنا علامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’میں تقویٰ (یعنی اللہ پاک سے ڈرنے) کی نصیحت کرتا ہوں‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا یہ فرمان جوامع الکلم سے ہے کیونکہ تقویٰ نام ہے تمام احکامات بجا لانے اور ممنوعات سے اجتناب کرنے کا۔ نیز تقویٰ ہی ہے جو ابدی عذاب سے نجات دیتا، خوشی والے گھر (یعنی جنت) تک پہنچاتا اور ربِّ کریم کے درِ رحمت پر لے جاتا ہے۔(مرقاة المفاتیح، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، ۱/ ۴۰۷، تحت الحدیث:۱۶۵)حکمرانوں کی اطاعت وفرمانبرداری کا حکم:حدیث شریف کے جز ’’میں تمہیں حکمرانوں کی اطاعت وفرمانبرداری کی نصیحت کرتا ہوں اگرچہ کوئی غلام ہی ہو‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: جب تک وہ خلاف شرع حکم نہ دے اس کا حکم مانو خواہ وہ عادل ہو یا ظالم۔ ہاں!خلافِ شرع حکم دے تو نہ مانو کیونکہ اللہ پاک کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ البتہ اُس سے جنگ کرنا جائز نہیں ۔ اگرچہ وہ حاکم جسے خلیفَۂ وقت نے تم پر مقرر کیا ہے حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ، پس اس کی اطاعت کرو اور اس کے نسب کی طرف مت دیکھو بلکہ اُس کے مقام ومرتبے کی طرف نظر کرو۔(مرقاة المفاتیح، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، ۱/ ۴۰۸، تحت الحدیث:۱۶۵)امیر کی اطاعت کرو اگرچہ حبشی غلام ہی ہو:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’اگرچہ حبشی غلام ہی ہو‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: یعنی اگر تمہارا امیر کالا حبشی غلام ہو تب بھی اس کی اطاعت کرو اس کا نسب و شکل نہ دیکھو اس کا حکم سنو۔ خیال رہے کہ خلافت قریش سے خاص ہے مگر امارت (بادشاہت) ہر مسلمان کو مل سکتی ہے، لہٰذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں ’’اَلْخِلَافَۃُ لِلْقُرَیْش‘‘ (یعنی خلافت قریش کے لئے ہے) نیز امیر کی اطاعت انہی احکام میں ہوگی جو خلافِ شرع نہ ہوں۔ نیز اس کی اطاعت امیر بن جانے کے بعد ہوگی۔ یزید امیر بنا ہی نہ تھا،حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اسے حاکم مانا ہی نہیں۔ لہٰذا آپ ( رضی اللہ عنہ )کا عمل اس حدیث کے خلاف نہیں،امیر بنانا اور ہے اور امیر بن چکنے کے بعد اطاعت کرنا کچھ اور۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 166)کیا غلام حاکم وامیر بن سکتا ہے؟حضرت سیِّدُناشیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلوی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’امیر کی اطاعت کرو اگرچہ غلام ہی کیوں نہ ہو‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کےاِس ارشاد سے امیر کی اطاعت میں مبالغہ مقصود ہے ورنہ غلام حاکم و امیر بننے کا اہل نہیں کیونکہ حاکم و امیر کے‏∞لئے آزاد ہونا شرط ہے۔ یہ کلام بالکل اُس حدیث کی طرح ہے جس میں فرمایا گیا کہ ’’جس نےمسجد بنائی اگرچہ چڑیا کے گھونسلے جتنی ہو اُس کے‏∞لئے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔“ظاہر ہے چڑیا کے گھونسلے جتنی مسجد نہیں ہو سکتی بلکہ اس سے مقصود چھوٹی مسجد کی شان بطورِ مبالغہ بیان کرنا ہے۔البتہ یہ ممکن ہے کہ حبشی غلام سلطانِ کبیر کانائب ہوتواس صورت میں سلطان کے حکم کی وجہ سےاُس غلام کی اطاعت بھی ضروری ہو گی۔
(اشعة اللمعات، کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنة، ۱/ ۱۵۰)
کیا ہر معاملے میں حکمران کی اطاعت کی جائے گی؟یاد رکھئے! حکمرانوں کی اطاعت نیکی کے کاموں میں ہے گناہوں کے معاملے میں ان کی اطاعت ہرگز جائز نہیں کہ حدیث پاک میں ہے،اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’لَاطَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃٍ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ یعنی نافرمانی وگناہ کے معاملے میں کوئی اطاعت نہیں بےشک اطاعت تو نیکی کے کام میں ہی ہے۔‘‘
(بخاری، کتاب اخبار الاحاد، باب ما جاء فی اجازة خبر الواحد...الخ، ۴/ ۴۹۳، حدیث:۷۲۵۷)
خیال رہے!اطاعت و فرنبرداری میں سب سے پہلے حق اللہ پاک کا ہے، کائنات کے تمام بادشاہ اسی کے قبضہ میں ہیں لہذا اللہ پاک کی نافرمانی میں نہ کسی کے پیچھے چلنا ہے نہ کسی کا حکم ماننا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث شریف میں ہے، رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ’’میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں، باد شاہوں کے دل میرے قبضہ میں ہیں، جب لوگ میری اطاعت کریں تو میں ان (بادشاہوں ) کے دلوں کو رحمت اور نرمی کرنے کی طرف پھیر دیتا ہوں اور جب لوگ میری نافرمانی کریں تو میں اُن (بادشاہوں) کے دلوں کو سختی اور سزا کی طرف پھیر دیتا ہوں پھر وہ لوگوں کو سخت ایذائیں دیتے ہیں تو تم اپنے آپ کو بادشاہوں کو بدعا دینے میں مشغول نہ کرو بلکہ ذکر اور عاجزی میں مصروف رہو میں تمہارے بادشاہوں کی طرف سے تمہیں کافی ہوں گا۔‘‘ (معجم اوسط، ۶/ ۳۳۵، حدیث:۸۹۶۲)
جو زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’تم میں جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت اختلافات دیکھے گا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: سیاسی اختلاف بھی اور مذہبی بھی۔ چنانچہ خلافَتِ عثمانیہ کے آخر میں لوگوں میں سیاسی اختلاف پیدا ہوگیا اور خلافَتِ حیدری میں سیاسی اختلاف کے ساتھ مذہبی اختلاف بھی رونما ہوگیا کہ جبریہ،قدریہ،رافضی،خارجی پیدا ہوگئے۔خیال رہے کہ خدا کے فضل سے صحابہ (کرام علیہمُ الرّضوان) میں دینی اختلاف نہ ہوا،سارے صحابہ (علیہمُ الرّضوان) حق پر رہے،حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کا یہ کلمہ بہت جامع ہے اور آپ کی یہ پیشن گوئی ہو بہو صحیح ہوئی۔ (مراۃ المناجیح، 1/166)رسولِ کریمصلّی اللہ علیہ وسلّمکا علْمِ غیب:حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت اختلافات دیکھے گا‘‘کی شرح میں فرماتے ہیں: یہ فرمانِ عالیٰ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہے کہ آپ کے بعد جو کثیراختلافات واقع ہوں گےپہلے ہی سے ان کی خبر دے دی ۔ بےشک! آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم (مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے) واقعات کو اِجمالی و تفصیلی طور پر جانتے ہیں کیونکہ یہ بات اَحادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آپ کو جنتیوں اور جہنمیوں کے ٹھکانے دکھا دیئے گئے لیکن آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم عموما ًہر کسی کو اس بارے میں بتانے سے احتیاط فرماتے ، کسی کسی کو بتاتےجیسا کہ حضرت سیِّدُنَا حذیفہ اور حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما وغیرہ۔ پھر فرمایا: جب تم کثیر اختلاف دیکھو توتم پر لازم ہے کہ اس وقت میری سنت وسیرت اوراَحکامِ اعتقادیہ، عملیہ، واجبہ، مستحبہ پر عمل کرنا اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرنااور وہ ابو بکرصدیق، عمر فاروق، عثمان غنی، علی المرتضیٰ اور حسن بن علی رضی اللہ عنہم ہیں۔ (دلیل الفالحین، باب فی الامر بالمحافظةعلی السنة، ۱/ ۴۱۷، تحت الحدیث:۱۵۸)وِصال ظاہری کے بعداختلافات:عارف باللہ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابُلُسی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ کثیر اختلافات دیکھے گا‘‘ کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے وصالِ ظاہری کے بعد وقوع پذیر ہونے والے اُمور کے بارے میں غیبی خبر ہے۔ چنانچہ سب سے پہلا اِختلاف خِلافت کے معاملے میں حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ اور حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین ہوا اور اس معاملے میں حضرات صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان کی اِجتہادی آراء بھی مختلف تھیں اوربےشک وہ اپنے اجتہاد میں ثواب کے حق دار ہیں۔ اگرچہ بعض(جیسے وہ صحابَۂ کرام علیہم الرضوان جو سیِّدُنا علی رضی اللہ عنہ کے مقابل ان) سے اجتہادی خطا بھی ہوئی مگر اُن کا اِختلاف محض اپنی ذات کے لئے نہ تھا بلکہ دین کے لئے تھا۔ نیز یہ غیبی خبر اُن جنگوں اور کثیر اِختلافات کو بھی شامل ہے جو مسلمان بادشاہوں اور اُمَرا کے درمیان ہوئے اور اُس وقت سے آج تک جاری ہیں۔ نیز اُمورِ دین میں بھی علمائے کرام رحمۃُ اللہ علیہم کے مابین اختلافات ہوئے اور اُن سے منقول اَقوال، اَعمال اور اِعتقادات مختلف ہوگئے اور وہ اُصول وفُروع میں بہت سے مذاہب میں تقسیم ہوئے۔ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی مذکورہ غیبی خبرمیں اِن تمام اِختلافات کی طرف اِشارہ موجود ہے۔
(حدیقة ندیة، الباب الاول من الابواب الثلاثة، والدلیل علی الاعتصام بالسنة...الخ، ۱/ ۹۷)
ہر سنت لائق اتباع ہے:مشہور شارحِ حدیث، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ہر سنت لائق اتباع ہے مگر ہر حدیث لائق اتباع نہیں۔ حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کے خصوصیات، منسوخ اَحکام و اَعمال حدیث ہیں مگر سنت نہیں، اسی‏∞لیے یہاں حدیث کو پکڑنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ سنت کو (پکڑنے کا حکم دیا گیا ہے)۔ اَلحَمْدُلِلّٰہ! ہم اہل سنت ہیں، دنیا میں اہْل حدیث (یعنی ہر حدیث پر عمل کرنے والا) کوئی نہیں ہو سکتا۔ صحابَۂ کرام (علیہمُ الرّضوان)کے اَعمال و اَفعال بھی لغوی معنیٰ سے سنت ہیں یعنی دین کا اچھا طریقہ اگرچہ اُن کی اِیجادات بدعت حسنہ ہیں۔ (حضرت سیِّدُنا) عمر فاروق ( رضی اللہ عنہ ) نے جماعت کی باقاعدہ تراویح کو جو آپ نے جاری کی تھی بدعت فرمایا کہ کہا: ’’نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ‘‘ (یعنی یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے) ۔ خیال رہے کہ تمام صحابہ ( رضی اللہ عنہم ) ہدایت کے تارے ہیں، خصوصا ً خلفائے راشدین۔ لہٰذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ ’’اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ‘‘ (یعنی میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں)۔ تمام صحابہ ( رضی اللہ عنہم )کی پیروی باعِثِ نجات ہے۔
(مراٰۃ المناجیح، 1/ 166، ملتقطاً)
ہر سنت حدیث ہے لیکن ہرحدیث سنت نہیں:سنت سے مراد حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے سارے فرمان اور وہ افعال اور اَحوال ہیں جو مسلمانوں کے لیے قابل عمل ہیں۔ حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کے یہ افعال شریعت کہلاتے ہیں اور احوال شریف طریقت۔صوفیاء کے نزدیک حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کے جسم شریف کے حالات شریعت ہیں،قلب کے حالات طریقت،روح کے احوال حقیقت، اور سر کے حالات معرفت،سنت ان سب کو شامل ہے۔ خیال رہے کہ حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کی خصوصیات سنت نہیں، لہٰذا نو بیویاں نکاح میں رکھنا، اُونٹ پر طواف کرنا، منبر پر نماز پڑھانا وغیرہ اگرچہ حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کے افعالِ کریمہ ہیں،لیکن ہمارے واسطے ناقابل عمل۔ ہر سنت حدیث ہے ہر حدیث سنت نہیں (اسی لئے حدیث شریف میں سنت پر عمل کرنے اور اسے لازم پکڑنے کا فرمایا گیا)، اور نبی (کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) نے ’’عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ‘‘ فرمایا ’’عَلَیْکُمْ بِحَدِیْثیْ‘‘ نہ فرمایا۔ ہمارا نام بحمدہٖ تعالیٰ اہْلِ سنت ہے یعنی ساری سنتوں پر عامل، اہْلِ حدیث نہیں، کیونکہ ساری حدیثوں پر کوئی عمل نہیں کرسکتا کہ خود کو اہْل حدیث (ہر حدیث پر عمل کرنے والا) کہہ سکے۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 145، ملخصاً)سنت کی اہمیت وفضیلت:قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ(پ ۲۸، الحشر:۷)
ترجمہ کنزالایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔
نیز حدیث مبارک میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے میری سنت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔‘‘ (ابن عساکر، ۹/ ۳۴۳)
ہدایت یافتہ خلفائے راشدین سے مراد:حدیث پاک کے جز ’’ہدایت یافتہ خلفائے راشدین‘‘ سے مراد حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق، حضرت سیِّدُنا عمرفاروق اعظم، حضرت سیِّدُنا عثمان غنی اور حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم ہیں۔ (شرح اربعین للنووی،ص۱۰۳)نئے کاموں سے بچو کہ ہربدعت گمراہی ہے:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’نئے کاموں سے بچو کہ ہر بدعت (نیا کام) گمراہی ہے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: یہاں نئی چیز سے مرادنئے عقیدے ہیں جو اسلام میں حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کے بعد ایجاد کیے جائیں، اس‏∞لیے کہ یہاں اسے گمراہی کہا گیا۔ گمراہی عقیدہ میں ہوتی ہے نہ کہ اعمال میں، لہٰذایہ حدیث اپنے عموم پر ہے۔ چنانچہ قادیانی، چکڑالوی، رفض وخروج یہ تمام بدعات اور گمراہی ہیں اوراگر اس سے نئے اعمال مراد‏∞لیے جائیں تو یہ حدیث عام مَخصُوص مِنہُ الْبَعْض ہے یعنی ہر بُری بدعت گمراہی ہے۔ بدعَتِ حسنہ کبھی مباح کبھی مستحب کبھی واجب اور کبھی فرض بھی ہوتی ہے۔ حدیث کی کتب اور قرآن کے پارے بدعت ہیں مگر اچھے ہیں۔(مراٰۃ المناجیح، 1/ 166)
(نوٹ: بدعت کے متعلق تفصیلی کلام ’’حدیث نمبر05 ‘‘کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔ )
دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 28