Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 14

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ سُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِیٍٔ مُّسْلِـمٍ اِلَّا بِاِحْدٰی ثَلَاثٍ اَلثَّیِّبِ الزَّانِی وَالنَّفْسِ بِالنَّفْسِ وَالتَّارِکِ لِدِیْنِہِ الْمُفَارِقِ لِلْجَمَاعَۃ. ‘‘(رَوَاہُ الْبُخَارِی وَمُسْلِم)

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: قال سول الله صلى الله عليه وسلم : ’’لا یحل دم امری مسلـم الا باحدی ثلاث الثیب الزانی والنفس بالنفس والتارک لدینہ المفارق للجماعۃ. ‘‘(رواہ البخاری ومسلم)

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ پائی جائے: (1)…شادی شدہ زانی، (2)… جان کے بدلے جان (قصاص) اور (3)… اپنے دین کوچھوڑ کرجماعت سے الگ ہونے والا۔‘‘ (بخاری، كتاب الديات، باب قول اللّٰہ تعالٰى: ان النفس بالنفس...الخ، ۴/ ۳۶۱، حدیث:۶۸۷۸ ۔ مسلم، کتاب القسامة، باب ما یباح بہ دم المسلم، ص۷۱۰، حدیث:۴۳۷۵)

شرح حدیث

مسلمان کو قتل کرنے کی صورتیں:یاد رکھئے! اسلام میں انسانی جان کی بے پناہ حرمت ہے اور کسی انسان کو قتل کرنا شدید کبیرہ گناہ ہے اور اس کی محدود صورتوں کے علاوہ کسی بھی طرح اجازت نہیں۔ (صراط الجنان، 5/ 458) مسلمان کے قتل کی بعض صورتیں مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوئی ہیں۔ جیسے: شادی شدہ زانی، جان کے بدلے جان اور مرتد یعنی اسلام سے پھرنے والا۔’’اِمرءٌ‘‘ سے مراد:حدیث پاک میں ”امرءٌ“ ( یعنی شخص) سے مراد مطلق انسان ہے (چاہے) مرد ہو یا عورت،صرف مرد مراد نہیں کیونکہ یہ احکام عورت پر بھی جاری ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح ،5/213)شادی شدہ زانی سے مراد:آزاد مسلمان مرد (یا عورت) جو ایک بار حلال ہم بستری کرچکے ہوں اگر وہ زنا کر لیں توانہیں رجم یعنی سنگسار کیا جائے گا۔(ماخوذ ازمراٰۃ المناجیح ،5/214)قصاص کی کچھ تفصیل:اگر کوئی مسلمان کسی کو عمداً (جان بوجھ کر) قتل کردے تو مقتول کا ولی اسے قصاصًا قتل کراسکتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح ،5/213) قصاص میں قتل کرنا یعنی قتل کے بدلے قتل اور یہ بھی قاضی کے فیصلے کے بعد ہے ، یہ نہیں کہ بغیر قاضی کے فیصلے کے خود ہی قصاص لیتے پھریں ، اس کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں ۔ پھر قصاص میں قتل کی اجازت کے ساتھ اس کی بھی حدود و قُیود بیان فرمائی ہیں کہ قصاص میں قتل کرنے میں بھی مقتول کا وارث حد سے نہ بڑھے جیسے زمانَۂ جاہلیت میں ایک مقتول کے عِوض میں کئی کئی لوگوں کو قتل کردیا جاتا تو فرمایا گیا کہ صرف قاتل سے قصاص لیا جائے گا ، کسی اور سے نہیں۔ نیز قصاص لینے کا حق ولی کو ہے اور ولی میں وہی ترتیب ہے جو رشتے داروں کی ایک خاص قسم میں ہے اور جس کا ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے۔ پھر یہ کہ قصاص حَقُّ العبد ہے، اگر ولی چاہے تو معاف کردے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسلام میں انسانی جان کی کس قدر حرمت بیان کی گئی ہے اور آج ہمارے معاشرے کا حال یہ ہے کہ جس کا دل کرتا ہے وہ بندوق اٹھاتا ہے اور جس کو دل کرتا ہے قتل کردیتا ہے، کہیں سیاسی وجوہات سے، تو کہیں علاقائی اور صوبائی تَعَصُّب کی وجہ سے۔ ان میں سے کوئی بھی صورت جائز نہیں ہے۔ قتل کی اجازت صرف مخصوص صورتوں میں حاکِمِ اسلام کو ہے اور کسی کو نہیں۔(صراط الجنان، 5/ 458،ملخصاً)دین سے نکل جانے کی صورتیں:دین سے نکل جانے کی دو صورتیں ہیں: یا تو اسلام کو چھوڑکر یہودی،عیسائی،ہندو وغیرہ دوسری ملت میں داخل ہو جائے یا کلمہ گو تو رہے مگر کوئی کفریہ عقیدہ اختیارکرے ۔(مراٰۃ المناجیح ،5/214)قتل ناحق کی مذمت و وعید پر آیاتِ مبارکہ:اللہ پاک قرآن مجید میں قتل ناحق کی مذمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا(۹۳)(پ ۵، النسآء: ۹۳)
ترجمہ کنزالایمان: اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے تیار رکھا بڑا عذاب۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ(پ ۶، المآئدة: ۳۲)ترجمہ کنزالایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا۔قتْلِ ناحق کی مذمت و وعید پر احادیْثِ مبارکہ:احادیث مبارکہ میں بھی قتل ناحق کی مذمت بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ سب سے پہلے خونِ ناحق کے بارےمیں لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘(بخاری، کتاب الدیات، باب قول اللّٰہ تعالٰی:وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا...الخ، ۴/ ۳۵۷، حدیث:۶۸۶۴)
حضرت سیِّدُنا ابو سعید اور حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے حبیب صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر آسمان وزمین والے ایک مرد مومن کے خون میں شریک ہو جائیں تو اللہ پاک سب کو اوندھا کر کے جہنم میں ڈال دے گا۔‘‘(ترمذی، کتاب الدیات، باب الحکم فی الدمآء، ۳/ ۱۰۰، حدیث:۱۴۰۳)
دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 14