Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 17

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ يَعْلٰى شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ رَضِیَ اللهُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’اِنَّ اللهَ كَتَبَ الْاِحْسَانَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ. فَاِذَا قَتَلْتُمْ فَاَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَاِذَا ذَبَحْتُمْ فَاَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ وَلْيُحِدَّ اَحَدُكُمْ شَفْرَتَهٗ وَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهٗ.‘‘ (رَوَاہُ مُسْلِم)

عن ابي يعلى شداد بن اوس رضی الله عنہ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ’’ان الله كتب الاحسان على كل شيء. فاذا قتلتم فاحسنوا القتلة واذا ذبحتم فاحسنوا الذبحة وليحد احدكم شفرته وليرح ذبيحته.‘‘ (رواہ مسلم)

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّدُنا ابویعلی شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک اللہ پاک نے ہر چیز کے ساتھ بھلائی کرنا فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تم اپنی چھری کو تیز کرو اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔‘‘
( مسلم، كتاب الصيد والذبائح...الخ، باب الامر باحسان الذبح والقتل وتحديد الشفرة، ص۸۳۲، حدیث:۵۰۵۵)

شرح حدیث

حدیثِ مبارکہ میں حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہر شے کے ساتھ بھلائی اور احسان کا حکم ارشاد فرمایا ہے، یہاں یہ بات یاد رہے کہ ہر شے کے ساتھ بھلائی کا انداز جُدا ہے جیسے بیمار کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ کڑوی دوا پلانامریض کے ساتھ احسان و بھلائی ہے جبکہ ایسی دوا بلا وجہ تندرست کو پلانا ظلم وزیادتی ہے۔بھلائی کا حکم ہر چیز کے ساتھ ہے:حضرت سیِّدُنا علّامہ علی بن سلطان قاری حنفی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بھلائی کرنے کا حکم عام ہے جس میں انسان، حیوان، زندہ اور مردہ سب شامل ہیں ۔ (مرقاة المفاتیح، ۷/ ۶۷۹، تحت الحدیث: ۴۰۷۳)قتل و ذبح میں بھی بھلائی کرو:مشہور شارح حدیث، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’اچھے طریقے سے قتل کرو‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی اگر تم قاتل یا کافر کو قصاص یا جنگ میں قتل کرو تو ان کے اعضاء نہ کاٹو، مُثلہ نہ کرو (یعنی ناک کان وغیرہ کاٹ کر صورت نہ بگاڑو)۔ اور حدیث شریف کے جز ’’اچھے طریقے سے ذبح کرو‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: مثلاً جانور کو ذبح سے پہلے خوب کھلا پلا لیا جائے، ایک کے سامنے دوسرے کو ذبح نہ کیا جائے، اس کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے، ماں کے سامنے بچے کو اور بچے کے سامنے ماں کو ذبح نہ کیا جائے، مذبح (یعنی قربانی کی جگہ) کی طرف گھسیٹ کر نہ لے جایا جائے اور جان نکل جانے سے پہلے اس کی کھال نہ اتاری جائے کہ یہ تمام باتیں ظلم وزیادتی ہیں۔ اور حدیث پاک کے جز ’’اپنی چھری کو تیز کرو‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: تیز چھری سے ذبح کرنے میں راحت ہے، کھنڈی چھری سے ذبح کرنے میں بہت تکلیف ہوتی ہے اس سے بچے، پوری گردن نہ کاٹ دے صرف حلقوم اور رگیں کاٹے۔ (مراٰۃ المناجیح، 5/ 645)جانور کے ساتھ بھلائی ونرمی:حضرت سیِّدُنا امام قرطبی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جانور کو ذبح کرنے میں اچھا برتاؤ یہ ہے کہ جانور پر نرمی کی جائے، سختی اور بےدردی سے زمین پر نہ گرایا جائے، ایک جگہ سے دوسری جگہ گھسیٹ کر نہ لے جایا جائے، ذبح کے آلے (چھری وغیرہ) کو تیز کر لیا جائے، قربت (نیکی) اور اِباحت (گوشت کے حلال کرنے) کی نیت حاضر کر لے، جانور کو قبلہ رو کرے، اسی طرح (بوقْتِ ذبح) اللہ پاک کا نام لینا، جلدی ذبح کرنا، ودجین اور حلقوم کا کاٹنا، ذبیحہ کو آرام پہنچانا، ٹھنڈا ہو جانے تک ذبیحہ کو چھوڑ دینا، اللہ پاک (نے یہ جانور حلال فرمایا اس) کے احسان کا اعتراف کرنا، اللہ پاک اگر چاہتا تو ضرور اس جانور کو ہم پر مسلط فرما دیتا لیکن اُس نے اِس جانور کو ہمارے بس میں کر دیا اسی طرح اگر وہ چاہتا تو ضرور اسے ہمارے لئے حرام فرما دیتا مگر اس نے ہمارے لئے اسے حلال فرمایا، لہٰذا اس نعمت پر اللہ پاک کا شکر بجا لانا (اور جانور کے ساتھ نرمی وبھلائی کا معاملہ کرنا) چاہئے۔
(المفهم لما اشكل من تلخيص كتاب مسلم، ۵/ ۲۴۱، تحت الحدیث:۱۸۵۴)
بکری ذبح کرنے والے کو نصیحت فاروقی:مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو بکری کو ذَبْح کرنے کے لئے اسے ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹ رہا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تیرے لئے خرابی ہو، اسے موت کی طرف اچّھے انداز میں لے کر جا۔ (مصنف عبدالرزاق، ۴/ ۳۷۶، حدیث:۸۶۳۶)اللہ پاک بھی تم پر رحم فرمائے گا:ایک صَحابی رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم ! مجھے بکری ذَبْح کرنے پر رَحْم آتا ہے۔ تو حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم اس پر رَحْم کرو گے تو اللہ پاک بھی تم پر رَحْم فرمائے گا۔‘‘
(مسنداحمد، ۵/ ۳۰۴، حدیث:۱۵۵۹۲)
دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 17