- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 24
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْمَا رَوٰی عَنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ اَنَّهٗ قَالَ: ’’يَا عِبَادِيْ اِنِّيْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰى نَفْسِيْ وَجَعَلْتُهٗ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوْا. يَا عِبَادِيْ كُلُّكُمْ ضَالٌّ اِلَّا مَنْ هَدَيْتُهٗ فَاسْتَهْدُوْنِيْ اَهْدِكُمْ. يَا عِبَادِيْ كُلُّكُمْ جَآئِعٌ اِلَّامَنْ اَطْعَمْتُهٗ فَاسْتَطْعِمُوْنِيْ اُطْعِمْكُمْ. يَا عِبَادِيْ كُلُّكُمْ عَارٍ اِلَّا مَنْ كَسَوْتُهٗ فَاسْتَكْسُوْنِيْ اَكْسُكُمْ. يَا عِبَادِيْ اِنَّكُمْ تُخْطِئُوْنَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَاَنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِيْ اَغْفِرْ لَكُمْ. يَا عِبَادِيْ اِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوْا ضُرِّيْ فَتَضُرُّوْنِيْ وَلَنْ تَبْلُغُوْا نَفْعِيْ فَتَنْفَعُوْنِيْ. يَا عِبَادِيْ لَوْ اَنَّ اَوَّلَكُمْ وَاٰخِرَكُمْ وَاِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوْا عَلٰى اَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ مِّنْكُمْ مَا زَادَ ذٰلِكَ فِيْ مُلْكِيْ شَيْئًا. يَا عِبَادِيْ لَوْ اَنَّ اَوَّلَكُمْ وَاٰخِرَكُمْ وَاِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوْا عَلٰى اَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ مِّنْكُمْ مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِنْ مُلْكِيْ شَيْئًا. يَا عِبَادِيْ لَوْ انَّ اَوَّلَكُمْ وَاٰخِرَكُمْ وَاِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوْا فِيْ صَعِيْدٍ وَّاحِدٍ فَسَاَلُوْنِيْ فَاَعْطَيْتُ كُلّ اِنْسَانٍ مَّسْاَلَتَهٗ مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِمَّا عِنْدِيْ اِلَّاكَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ اِذَا اُدْخِلَ الْبَحْرَ. يَا عِبَادِيْ اِنَّمَا هِيَ اَعْمَالُكُمْ اُحْصِيْهَا لَكُمْ ثُمَّ اُوَفِّيْكُمْ اِيَّاهَا فَمَنْ وَّجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللهَ وَمَنْ وَّجَدَ غَيْرَ ذٰلِكَ فَلَا يَلُوْمَنَّ اِلَّا نَفْسَهٗ.‘‘(رَوَاہُ مُسْلِم)
عن ابي ذر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم فيما روی عن الله عز وجل انه قال: ’’يا عبادي اني حرمت الظلم على نفسي وجعلته بينكم محرما فلا تظالموا. يا عبادي كلكم ضال الا من هديته فاستهدوني اهدكم. يا عبادي كلكم جائع الامن اطعمته فاستطعموني اطعمكم. يا عبادي كلكم عار الا من كسوته فاستكسوني اكسكم. يا عبادي انكم تخطئون بالليل والنهار وانا اغفر الذنوب جميعا فاستغفروني اغفر لكم. يا عبادي انكم لن تبلغوا ضري فتضروني ولن تبلغوا نفعي فتنفعوني. يا عبادي لو ان اولكم واخركم وانسكم وجنكم كانوا على اتقى قلب رجل واحد منكم ما زاد ذلك في ملكي شيئا. يا عبادي لو ان اولكم واخركم وانسكم وجنكم كانوا على افجر قلب رجل واحد منكم ما نقص ذلك من ملكي شيئا. يا عبادي لو ان اولكم واخركم وانسكم وجنكم قاموا في صعيد واحد فسالوني فاعطيت كل انسان مسالته ما نقص ذلك مما عندي الاكما ينقص المخيط اذا ادخل البحر. يا عبادي انما هي اعمالكم احصيها لكم ثم اوفيكم اياها فمن وجد خيرا فليحمد الله ومن وجد غير ذلك فلا يلومن الا نفسه.‘‘(رواہ مسلم)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابوذر رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے ایک حدیث قدسی روایت کرتے ہیں کہ اللہ پاک نےارشاد فرمایا:
اےمیرے بندو! میں نے ظلم کو اپنےآپ پر حرام کیا ہے اور تمہارے آپس میں بھی ظلم کو حرام فرمادیا، لہٰذاایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔
اے میرے بندو! تم سب راستےسے بھٹکے ہوئے ہو، سوائے اس کے جس کو میں ہدایت دوں، لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔
اےمیرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو، سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، لہٰذا مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا۔
اےمیرے بندو! تم سب کے سب برہنہ ہو، سوائے اس کے جس کو میں لباس پہناؤں، لہٰذا مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس دوں گا۔
اےمیرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو اور میں ہی سب کے سب گناہ معاف کرتا ہوں، لہٰذا مجھ سےبخشش مانگو میں تمہیں بخش دوں گا۔
اے میرے بندو! تم میرے نقصان کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچادو اور نہ میرے نفع تک تمہاری رسائی ہے کہ مجھے نفع دو۔
اےمیرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جن تمہارے سب سےبڑے پرہیزگارشخص کے دل جیسے ہو جائیں تب بھی میری بادشاہت میں کچھ بڑھا نہیں سکتے۔
اےمیرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جن تم میں سے سب سے بڑے بدکار کے دل جیسے ہو جائیں تو بھی میری بادشاہت میں کچھ کمی نہیں کر سکتے۔
اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جن ایک میدان میں کھڑے ہوکر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کردوں تو بھی میرے خزانوں میں کچھ کمی نہ ہوگی مگر اتنا ہی جتنا سوئی کو سمندر میں ڈال کر نکالا جائے (یعنی کچھ بھی کم نہ ہو گا)۔
اے میرے بندو! تمہارے اعمال میرے شمار میں ہیں، میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا لہٰذا جوبھلائی پائے وہ اللہ پاک کا شکر ادا کرےاور جو اس کے علاوہ پائے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔
( مسلم، كتاب البر والصلة والاداب، باب تحريم الظلم، ص۱۰۶۸، حدیث:۶۵۷۲)
شرح حدیث
اَہْلِ شام کے نزدیک شرف والی حدیث:سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اہل شام کے لئے اس سے زیادہ شرف والی اور کوئی حدیث نہیں۔
(ریاض الصالحین، باب المجاھدة، ص ۴۱، تحت الحدیث:۱۱۱)
حضرت سیِّدُنا سعید بن عبدالعزيز رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’حضرت سیِّدُنا ابو ادریس خولانی رحمۃُ اللہ علیہ جب یہ حدیث پاک بیان کرتے تو گھٹنوں کے بل جھک جاتے تھے۔‘‘ ( مسلم، كتاب البر والصلة والاداب، باب تحريم الظلم، ص۱۰۶۹، تحت الحدیث:۶۵۷۲)حدیث قدسی اور حدیث نبوی کی تعریف:حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے قول، فعل اور تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔ تقریر کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے سامنے کوئی کام کیا گیا اور آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس سے منع نہیں فرمایا یا صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان میں سے کسی نے کوئی بات کہی اور حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اسے رد نہیں کیا بلکہ خاموش رہے اور عملاً اسے ثابت فرما دیا۔ (المقدمةفی اصول الحدیث، ص۱۹) جبکہ حدیث قدسی وہ حدیث جس کے راوی سرکار صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہوں اور نسبت اللہ پاک کی طرف ہو۔
(نصاب اصول حدیث مع الافادات الرضویہ، ص32)قرآنِ کریم اور حدیث قدسی میں فرق:قرآنِ مجید اور حدیث قدسی میں فرق یہ ہے کہ قرآنِ کریم کے الفاظ ومعانی دونوں اللہ پاک کی طرف سے ہوتے ہیں جبکہ حدیث قدسی کے معانی اللہ پاک کی جانب سے اور الفاظ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی طرف سے ہوتے ہیں اور احادیث قدسیہ کی تعداد 100 سے زائد ہے۔ (دلیل الفالحین، باب فی الصبر، الجزء الاول، ۱/ ۱۷۲، تحت الحدیث:۳۲، ملخصًا)ظلم کی تعریف:ظلم کا لغوی معنیٰ ’’کسی چیز کو اس کے غیر محل میں استعمال کرنا‘‘ جبکہ شرعی معنیٰ ’’کسی اور کے حق میں ناحق تصرف کرنا اور حد سے تجاوز کرنا‘‘ ظلم کہلاتا ہے۔(دلیل الفالحین، باب فی المجاھدة، الجزء الثانی، ۱/ ۳۳۱، تحت الحدیث:۱۱۱)
حضرت سیِّدُنا علامہ سیِّد میر شریف جُرجانی رحمۃُ اللہ علیہ ظلم کی لغوی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کسی چیز کو غیر محل میں رکھنا ظلم کہلاتا ہے۔ (التعریفات للجرجانی، ص۱۰۲)اللہ پاک کی ذات ظلم سے پاک ہے:مذکورہ حدیث شریف کے شروع میں ارشاد ہوا کہ ’’میں نے ظلم کو اپنے آپ پر حرام کیا ہے‘‘ اس کی شرح کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہاں حرمت سے مراد شرعی حرمت نہیں کیونکہ حق تعالیٰ پر نہ کوئی حاکم ہے اور نہ اس پر شرعی احکام جاری ہیں بلکہ اس سے مراد ہے برتر ہونا، منزہ ہونا،پاک ہونارب تعالیٰ کے لیے کوئی شے ظلم ہوسکتی ہی نہیں کیونکہ ظلم کے معنیٰ ہیں دوسرے کی مِلک میں زیادتی کرنا یا کسی چیز کو بے محل استعمال کرنا ان دونوں سے پروردگار پاک ہے کیونکہ ہر چیز اس کی ملک ہے اور(وہ) جس کے استعمال کے لیے جو جگہ مقرر فرمادے وہی اس کا صحیح مصرف ہے اس کے افعال یا عدل ہیں یا فضل۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ میں ظلم سے منزہ اور پاک ہوں میرا کوئی کام ظلم نہیں ہو سکتا۔(مراٰۃ المناجیح، 3/ 354)
حضرت سیِّدُنا علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے مذکورہ جز کی شرح میں بیان کرتے ہیں کہ علمائے کرام رحمۃُ اللہ علیہم فرماتے ہیں: اس کا معنیٰ ہے کہ میں ظلم سے پاک اور برتر ہوں۔ ظلم کا لفظ اللہ پاک کے حق میں استعمال کرنا محال ہے۔ ربِّ کریم کی ذات اس سے پاک ہے کیونکہ ظلم کا معنیٰ ہے حد سے تجاوز کرنا اور اللہ پاک حد سے تجاوز کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اس پر کوئی حاکم نہیں جو اس کے لئے حدود قائم کرے وہ سب کا حاکم ہےاور ظلم کا معنیٰ ہے کسی اور کی مِلک میں تصرف کرنا اور اللہ پاک کسی کی مِلک میں تصرف کیسے کرسکتا ہے کیونکہ ہر چیز اسی کی ملکیت میں ہے وہ سارے جہان کا مالک ہے۔ (شرح مسلم للنووی ، کتاب البر و الصلة...الخ ، باب تحریم الظلم، الجزء السادس عشر، ۱۶∞/ ۱۳۲، ماخوذًا)ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو :حدیث شریف کے جز ’’میں نے تمہارے آپس میں بھی ظلم کو حرام کیا ہے، لہٰذا ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ‘‘ کی شرح کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی تم کسی پر جانی مالی یا آبرو ریزی کا ظلم نہ کرو یہ تمام جرموں سے بڑا جرم ہے کہ یہ حَقُّ العباد ہے توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتا(جب تک صاحب حق سے معاف نہ کروا لیا جائے)۔
(مراٰۃ المناجیح، 3/ 354)ظالم سے مظلوم کا بدلہ اللہ پاک لےگا:لوگوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے منع کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک خود ظالم سے مظلوم کا بدلہ لے گا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا علامہ ملّا علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو یعنی کوئی کسی پر ظلم نہ کرے ۔ کیونکہ میں مظلوم کے ظلم کا اُس ظالم سے خود بدلہ لوں گا۔ جیسا کہ ایک حدیثِ قدسی میں ہے: ’’میں مظلوم کی مدد ضرور کرتا ہوں اگر چہ کچھ وقت کے بعد (یعنی وہ انہیں چھوڑنے والا نہیں بلکہ انہیں ڈھیل دیتا ہے)۔‘‘ چنانچہ قرآنِ مجید میں ہے:وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ(۴۲)(پ ۱۳، ابراھیم:۴۲)
ترجمہ کنزالایمان: اور ہرگز اللہ کو بےخبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انھیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
(مرقاة المفاتیح، کتاب الدعوات، باب الاستغفار والتوبة، ۵/ ۱۵۵، تحت الحدیث:۲۳۲۶، ملتقطًا)ظلم کی حرمت پر تمام مذاہب کا اجماع ہے:حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ظلم کی حرمت پر تمام مذاہب کا اجماع ہے کیوں کہ جانوں کی حفاظت پر سب کا اتفاق ہے۔ ظلم کبھی نسب میں ہوتا ہے تو کبھی آبرو میں، کبھی مال میں تو کبھی عقل میں، کبھی ان سب میں اور کبھی ان میں سے بعض میں۔ (دلیل الفالحین، باب فی المجاھدة، الجزء الثانی، ۱/ ۳۳۲، تحت الحدیث:۱۱۱)سب سے بڑا ظلم کیا ہے؟یاد رکھئے! سب سے بڑا ظلم شرک ہے۔ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(۱۳)(پ ۲۱، لقمٰن:۱۳)
ترجمہ کنزالایمان: بےشک شرک بڑا ظلم ہے۔
اکثر آیات میں ظلم سے یہی معنیٰ یعنی شرک ہی مراد ہے البتہ بعض آیات میں گناہوں کی مختلف انواع کو بھی ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (دلیل الفالحین، باب فی المجاھدة، الجزء الثانی، ۱/ ۳۳۲، تحت الحدیث:۱۱۱)ظلم کی ممانعت پر مشتمل احادیث مبارکہ:حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ظلم قیامت کے دن تاریکیاں ہیں۔‘‘ (بخاری، کتاب المظالم والغضب، باب الظلم ظلمات یوم القیامة، ۲/ ۱۲۷، حدیث:۲۴۴۷)
سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’مظلوم کی بددعا سے بچو کہ اس کے اور اللہ پاک مابین کوئی پردہ نہیں۔‘‘ (بخاری، کتاب المظالم والغضب، باب الاتقاء والحذر من دعوة المظلوم، ۲/ ۱۲۸، حدیث:۲۴۴۸)گمراہیت وہدایت:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ مذکورہ حدیث شریف کے جز ’’ تم سب گمراہ ہو سوائے اُس کے جسے میں ہدایت دوں‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری پیدائش تاریکی میں ہوئی پھر ہم پر نور کا چھینٹا دیا گیا اگر ہم کو ہمارے نفسوں پر چھوڑ دیا جائے تو ہم عقیدتًا عملًا بدی ہی کریں گے،اگر وہ اپنا فضل کرے تو ہم نیکی کریں ،ہم ببول کا درخت ہیں ، ہمارے پاس سوائے گناہوں کے کانٹوں کے اور کیا ہے، ہماری صفت ہے:اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ(۷۲)(پ ۲۲، احزاب:۷۲، ترجمہ کنز الایمان:بےشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے)۔ لہٰذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ بچہ فطرت یعنی توحید پر پیدا ہوتا ہے کہ وہاں دنیا میں آنے کا ذکر ہے اور یہاں ہماری اصل پیدائش کا۔خیال رہے کہ حضرات انبیاءواولیاءبھی رب تعالیٰ ہی کی ہدایت سے ہدایت یافتہ ہیں مگر وہ ہمارے لیے ہدایت کا مرکز ہیں کہ ہم ان سے ہی ہدایت لے سکتے ہیں جیسے سورج کو نور رب تعالیٰ نے دیا ہے مگر چاند تارے اور زمین اس سے ہی نور لیتے ہیں۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ(۵۲)(پ۲۵، الشورٰی:۵۲، ترجمہ کنز الایمان:بےشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو)۔(مراٰۃ المناجیح، 3/ 354)
حدیث پاک کے جز ’’تم سب گمراہ ہو سوائے اُس کے جسے میں ہدایت دوں‘‘ کی شرح کرتے ہوئے امام یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام مازری رحمۃُ اللہ علیہ کا قول ہے: اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تمام لوگ گمراہی پر پیدا ہوئے ہیں سوائے اس کے جسے اللہ پاک ہدایت دےجبکہ مشہور حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت یعنی دیْنِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے (تو اس کا کیا جواب ہے؟)۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی حدیث میں لوگوں کو اس گمراہی سے مُتَّصِفْ کیا گیا ہے جس پر رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو بھیجنے سے پہلے وہ لوگ تھے، اگر اللہ پاک اُنہیں اُن کے حال پر چھوڑ دیتا اور وہ لوگ اُسی شہوت پرستی، راحت اور توحید میں غور وخوض سے غفلت میں رہتے تو گمراہ ہوجاتے۔
(شرح مسلم للنووی، کتاب البر و الصلة...الخ، باب تحریم الظلم، الجزء السادس عشر، ۱۶/ ۱۳۲)گمراہ ہونے کے دو معنیٰ اور ان کی وضاحت:حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ نے گمراہ ہونے کے دو معنیٰ بیان فرمائے ہیں: (1)…تم رسولوں کی بعثت سے پہلے شریعت سے غافل تھے۔ (2)…اگر اللہ پاک تمہیں تمہارے حال پہ چھوڑ دیتا تو تم حق سے بھٹک جاتے۔ اب پہلے معنیٰ کا اعتبار کریں تو مطلب یہ ہوگا کہ ’’تم سب رسولوں کی بعثت سے پہلے شریعت سے غافل تھے سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ پاک نےاُس پر ایمان لانے کی توفیق دےدی جو کچھ رسول لے کر آئے۔‘‘ دوسرے معنیٰ کا اعتبار کریں تو مطلب یہ ہوگا کہ ’’ اگر اللہ پاک تمہیں تمہارے حال پہ چھوڑ دیتا تو تم سب حق سے بھٹک جاتے سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ پاک اپنی معرفت تک لے جانے والے امور میں غورو فکر اور جو احکامات اس کے پاس سے آئےاس پر عمل کی توفیق دےدے۔‘‘ دونوں صورتوں میں یہ حدیث اس مشہور حدیث کے منافی نہیں جس میں فرمایا گیا کہ ’’ہر بچہ فطرت (یعنی دیْنِ اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس گمراہی سے مراد وہ گمراہی ہے جو بعد میں اس فطرت پر حاوی ہوجاتی ہے۔جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث شریف سے بھی پتا چلتا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشادفرمایا: ’’اللہ پاک نے مخلوق کو اپنی معرفت (یعنی فطرتِ اسلام) پر پیدا کیا، پھر شیطان نے انہیں بہکا دیا۔‘‘
(دلیل الفالحین، باب فی المجاھدة، الجزء الثانی، ۱/ ۳۳۲، تحت الحدیث:۱۱۱)ہدایت طلب کرنے کی حکمت:اللہ پاک سے ہدایت طلب کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس بات کا اِظہار ہو کہ بندہ اللہ پاک کا محتاج ہے اور اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے اس کا اعلان کرے کیونکہ اگر اللہ پاک بندے کو بغیر طلب کئے ہدایت عطا فرمادے تو بسا اوقات بندہ کہہ دیتا ہے: ’’یہ ہدایت تو مجھے میرے پاس موجود علم کی بدولت ملی ہے۔‘‘ اور پھر وہ اسی وجہ سے گمراہ ہوجاتا ہے۔ لہٰذا جب اُس نے اللہ پاک سے ہدایت کا سوال کرلیا تو گویا اس نے اپنی عَبُودِیَّت یعنی اللہ پاک کا بندہ ہونےاور اللہ پاک کی رَبُوبِیَّت یعنی اس کے ربّ ہونے کا اعتراف کرلیا۔ یہ وہ عزت والا مقام ہے جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کو توفیق ملتی ہے۔
(دلیل الفالحین، باب فی المجاھدة، الجزء الثانی، ۱/ ۳۳۳، تحت الحدیث:۱۱۱)دنیاوی نعمتیں بھی ربِّ کریم سے مانگو :مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ مذکورہ حدیث پاک کے جز ’’مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا، مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس دوں گا‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی تم روحانی و جسمانی غذاؤں میں میرے محتاج ہو اسی طرح قلب قالب،روح کے لباس میں میرے حاجت مند ہو، غذا کا ہر حیوان حاجت مند ہے اور لباس کا صرف انسان۔خیال رہے کہ تمام انبیاء،اولیاء اور بادشاہ رب تعالیٰ کے حاجت مند ہیں،رب تعالیٰ فرماتا ہے:اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُۚ(پ۲۶، محمد:۳۸، ترجمہ کنز الایمان:اللہ بےنیاز ہے اور تم سب محتاج)۔ مگر اس کے محبوب بندے مخلوق کے حاجت روا ہیں باذن پروردگار،ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖۚ(پ۱۰، التوبة:۷۴، ترجمہ کنز الایمان:اللہ ورسول نے انھیں اپنے فضل سے غنی کر دیا)۔ بادل بھی ربّ کا محتاج اور زمین بھی مگر بادل زمین کا محتاج الیہ ہے کہ ہر وقت زمین کو بادل کی ضرورت ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 3/ 354)ایک اعتراض اور اس کا جواب:مذکورہ حدیث شریف میں اللہ پاک نے اوّلاً ایک اُخْرَوی نعمت یعنی ہدایت کا ذکر فرمایا، اس کے بعد دو اہم ترین دُنیوی نعمتوں یعنی کھانے اور لباس کا ذکر فرمایا، پینے اور رہائش کا ذکر نہ فرمایاجبکہ کھانے کے ساتھ پانی اور لباس کے ساتھ رہائش بھی ضروری ہے ان کا ذکر نہیں فرمایا کیوں؟ سیِّدُنا علامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ پاک نے بھوک کا ذکر کیا اور پیاس کا ذکر چھوڑ دیا کیونکہ عموماً کھانے کے ساتھ پینا بھی ہوتا ہے اس∞لیے فقط بھوک کا ذکر فرمایا پیاس کا ذکر نہ فرمایا۔ اسی طرح پہننے کا ذکر کیا اور رہائش کا ذکر چھوڑ دیا کیونکہ عموماً لباس کے ساتھ گھر بھی شامل ہوتا ہے کہ لباس سِتر چھپانے کے لئے ہوتا ہے اور گھر بھی اپنے آپ کو چھپانے کے لئے ہوتا ہے اس لئے فقط لباس کا ذکر فرمایا گھر یعنی رہائش کا ذکر نہ فرمایا۔(مرقاة المفاتیح، کتاب الدعوات، باب الاستغفار والتوبة، الفصل الاول، ۵/ ۱۵۵، تحت الحدیث:۲۳۲۶، ماخوذًا)خطا کا معنیٰ ومفہوم:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ مذکورہ حدیث پاک کے جز ’’تم دن رات گناہ (خطا) کرتے ہو ‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: خطا کے معنیٰ ہیں غلط راستہ پر چلنا بھول کر ہو یا جان بوجھ کر لہٰذا اس میں خطائیں،بھول چوک،عمدًا گناہ سب داخل ہیں۔حافظ ابن حجر ( رحمۃُ اللہ علیہ ) نے فرمایا کہ یہاں روئےسخن(یعنی خطاب) عام بندوں سے ہے معصومین حضرات جیسے فرشتے،انبیاء اس حکم سے خارج ہیں۔(مراٰۃ المناجیح، 3/ 355)کیا کوئی ربِّ کریم کو نفع ونقصان پہنچا سکتا ہے؟مذکورہ حدیث شریف میں ہے کہ ’’ اے میرے بندو! تم میرے نقصان کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچادو اور نہ میرے نفع تک تمہاری رسائی ہے کہ مجھے نفع دو۔ ‘‘ اللہ پاک کو کوئی نفع ونقصان کیسے پہنچا سکتا ہے؟ یہ توممکن ہی نہیں۔ پھر اس سے کیا مردا ہے؟ چنانچہ علامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:مراد یہ ہے کہ تم میرے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہو، لہٰذا اگر تم سب سے جس قدر ممکن ہوسکے میری عبادت کروتو میری سلطنت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتے اور اگر تم سب سے جس قدر ممکن ہوسکے میری نافرمانی کرو تو مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ بلکہ اگر تم نیکی کروگے تواپنا ہی بھلا کروگے اوراگر بُرائی کرو گے تو اپنے لیے ہی بُرا کروگے۔ (مرقاة المفاتیح، کتاب الدعوات، باب الاستغفار والتوبة، الفصل الاول، ۵/ ۱۵۶، تحت الحدیث:۲۳۲۶، ملخصًا)عبادت کا نفع اور گناہ کا نقصان کس کے لئے؟مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’ اگر سب لوگ متقی بن جائیں تو اللہ پاک کو کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے اور اگر سب نافرمان ہو جائیں تو اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ‘‘کی شرح میں فرماتے ہیں: تمہاری عبادتوں سے میرا نفع نہیں اور تمہارے گناہوں سے میرا نقصان نہیں بلکہ ان میں نفع نقصان خودتمہارا ہے۔ دنیا کے کسی بڑے پرہیز گار کو لے لو پھر سوچو کہ اگر تمام جہان کا دل اس پرہیزگار کا سا ہوجائے اور ساری دنیا اس نیک و صالح کی طرح نیکیاں ہمیشہ کیا کرے۔ (تو اس میں ربِّ کریم کا کیا فائدہ؟ فائدہ تو ان تمام لوگوں کا ہے جو یہ نیکیاں کریں ۔) اس ترجمے سے یہ جملہ بالکل واضح ہوگیا، اس پر کوئی اعتراض نہ رہا۔لہٰذا کوئی شخص یہ سمجھ کر عبادت نہ کرے کہ میری عبادت سے ربّ تعالیٰ کے خزانے بڑھ جائیں گے بلکہ اس کا احسان مانے کہ اس نے اپنے آستانے پر بلالیا۔ (سب کے نافرمان ہونے سے ربّ کریم کا کوئی نقصان نہیں ۔) اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو پہلے جملے میں عرض کیا گیا کہ دنیا کے بادشاہوں کا رعایا کے بگڑ جانے سے نقصان ہوتا ہے، آمدنی میں کمی ہو جاتی ہے، خزانہ خالی رہ جاتا ہے۔ مگر ربّ تعالیٰ وہ بےنیاز ہے کہ ساری خلق کی بدکاری سے اس کا کوئی نقصان نہیں ۔ خیال رہے کہ یہ مضمون (یعنی تمام لوگوں کا نافرمان ہوجانا) ایسا ہی ہے جیسے ربّ تعالیٰ (حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا قول نقل کرتے ہوئے ارشاد) فرماتا ہے : ’’اگر ربّ تعالیٰ کے اولاد ہوتی تو پہلے میں ہی اُسے پوجتا۔‘‘ نہ ربّ تعالیٰ کے اولاد ممکن ہے، نہ حضور انو ر صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا اسے پوجنا ممکن ۔ایسے ہی تمام بندوں کا گنہگارہوجانا غیر ممکن ہے، فرشتے، انبیاء معصومین (کہ ان سے گناہ ہوہی نہیں سکتا) اور اولیاء محفوظین بِفَضْلِہٖ تَعَالٰی (یعنی اولیائے کرام ربِّ کریم کے فضل وکرم سے محفوظ ہیں کہ) گناہ کرتے ہی نہیں۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ(پ۱۴، الحجر:۴۲، ترجمہ کنز الایمان: بےشک میرے بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں)۔غرضیکہ اس جملے سے عصمت انبیاء کے خلاف دلیل نہیں پکڑی جاسکتی (یعنی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انبیائے کرام بھی گناہ کرسکتےہیں)۔ (مراٰۃ المناجیح، 3/ 355)کیا ربِّ کریم کے خزانوں میں کمی ممکن ہے؟حدیث پاک میں ہے ’’ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جن ایک میدان میں کھڑے ہوکر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کردوں تو بھی میرے خزانوں میں کچھ کمی نہ ہوگی مگر اتنا ہی جتنا سوئی کو سمندر میں ڈال کر نکالا جائے (یعنی کچھ بھی کم نہ ہو گا)‘‘ اس سے کیا مراد ہے؟ کیا اللہ پاک کے خزانے میں کمی ہو سکتی ہے؟ چنانچہ حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں: دریا وسمندر میں جب سوئی داخل کر کے نکالی جائے تو بظاہر دیکھنے میں اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی، اسی طرح اللہ پاک کے خزانے میں سے ساری دنیا کو دینے سے بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی کیوں کہ یہ اس کی رحمت اور کرم ہے اور یہ دونوں قدیم صفات ہیں اور ان کی کوئی حد نہیں اور جو غیر متناہی ہوتا ہے اس میں کمی ہونا محال ہے برخلاف اُس شے کے جو متناہی ہو ، کیونکہ اس میں کمی واقع ہوسکتی ہے جیسے سمندرکہ یہ زمین کی چیزوں میں سے سب سے بڑی شے ہے۔ بسا اوقات متناہی شے کا کثیر حصہ لے لینے سے بھی اس میں کمی واقع نہیں ہوتی جیسے آگ اور علم۔ ان کو لینے سے کمی نہیں آتی بلکہ علم تو دینے سے اور بڑھتا ہے، لہٰذا یہ واضح ہوگیا کہ سوئی کی مثال کیوں دی گئی اس کا مطلب یہ نہیں کہ حقیقت میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ یہ مخلوق کو سمجھانے کے لئے بطورِ مثال کہا گیا ہے تاکہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ اس قدر دینے سے بھی اللہ پاک کے خزانے میں اتنی سی بھی کمی نہیں آتی۔
(دلیل الفالحین، باب فی المجاھدة، الجزء الثانی، ۱/ ۳۳۶، تحت الحدیث:۱۱۱، ملخصًا)خزانَۂ الٰہی میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’ سوئی کی تری جب دریا میں ڈبوئی جائے‘‘کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میری یہ عطاء میرے خزانوں میں سوئی کی تری کی بقدر کم کردیں گے وہاں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،سورج ہزار ہا سال سے دنیا کو روشنی دے رہا ہے مگر اس کی روشنی میں مطلقًا کمی نہ ہوئی،جب ربّ تعالیٰ کی تجلیوں کا یہ حال ہے تو اس کے خزانو ں کا کیا حال ہوگا اور یہ نسبت بھی فقط سمجھانے کے لیے ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 3/ 356)عدل فضل کے خلاف نہیں:حدیث پاک کے جز ’’میں تمہیں اعمال کا پورا پورا بدلہ دوں گا‘‘ کی شرح کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس طرح کہ نیک کار کی جزاء میں کمی نہ کروں گا اور بدکار کی سزا میں زیادتی نہ کروں گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیک کار کو زیادہ نہ دوں اور گنہگار کو معاف نہ کروں۔یہاں عدل کا ذکر ہے عدل، فضل کے خلاف نہیں۔(مراٰۃ المناجیح، 3/ 356)خیر اور شر سے مراد:حدیث شریف کے آخر میں ہے’’جوبھلائی پائے وہ اللہ پاک کا شکر ادا کرےاور جو اس کے علاوہ پائے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے‘‘ علامہ ابن علان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں: جو خیر کو پائے یعنی ثواب اور نعمتیں یا خوش باش حیاتِ طیبہ تو اُسے چاہئے کہ اللہ پاک کی حمد بجالائے اِس بات پر کہ ربِّ کریم نے اسے نیکیاں کرنے کی توفیق بخشی جن پر یہ ثواب مرتب ہوا اور یہ اس کا فضل اور رحمت ہے اور جو اس کے علاوہ کوئی چیز پائے یعنی شر، اللہ پاک نے اس لفظ کو ذکر نہیں فرمایا، ہمیں یہ بات سکھانے کے لئے کہ ادب کا تقاضا یہ ہے بُرے الفاظ زبان سے نہ نکالے جائیں، اسی طرح جو الفاظ اس کے مشابہ ہوں جنہیں بُرا سمجھا جاتا ہو یا بولنے سے حیا کی جاتی ہو انہیں بھی زبان سے نہ نکالا جائے۔ نیز اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس لفظ کو اللہ پاک بولنے سے اجتناب فرمارہا ہے اس میں پڑنا اللہ پاک کو کتنا ناپسند ہوگا۔ نیز اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اللہ پاک حَیّ یعنی زندہ ہے، کریم یعنی کرم فرمانے والا ہے، وہ پردہ پوشی کو پسند فرماتا اور گناہوں کو بخشتا ہے، وہ کسی کی گرفت کرنے میں جلدی نہیں فرماتا اور نہ ہی کسی کا پردہ فاش فرماتا ہے۔پس ارشاد ہوا ’’جو بھلائی کے علاوہ کچھ اور پائے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے‘‘ کیوں کہ اس نے رضائے الٰہی پر اپنی خواہشات اور لذات کو توجیح دی توعدل کے تقاضے کے مطابق وہ اسی چیز کا مستحق ہےکہ اللہ پاک کے فضل وکرم سے محروم رہے۔ (دلیل الفالحین، باب فی المجاھدة، الجزء الثانی، ۱/ ۳۳۷، تحت الحدیث:۱۱۱، ملتقطًا)نیکیاں توفیق الٰہی اور گناہ شامت نفس سے ہے:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ مذکورہ جز کی شرح میں فرماتے ہیں: خلاصہ یہ ہے کہ بندہ نیکیوں کو ربّ تعالیٰ کی توفیق سے سمجھے اور گناہوں کو اپنی شامت نفس سے جانے بلکہ ہرنقص کو اپنی طرف منسوب کرے اور کمال کو ربّ تعالیٰ کی طرف،(حضرت سیِّدُنا)ابراہیم علیہ السّلام نے فرمایاتھا:وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِﭪ(۸۰)(پ۱۹، الشعرآء:۸۰، ترجمہ کنز الایمان: اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شِفا دیتا ہے)۔ ورنہ ہر خیر وشر کا خالق ومالک ربّ تعالیٰ ہی ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، 3/ 356)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 24