Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 13

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ حَمْزَةَ اَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ خَادِمِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِاَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ.‘‘(رَوَاہُ الْبُخَارِی وَمُسْلِم)

عن ابي حمزة انس بن مالك رضي الله عنه خادم رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ’’لا يؤمن احدكم حتى يحب لاخيه ما يحب لنفسه.‘‘(رواہ البخاری ومسلم)

حدیث ترجمہ

خادِمِ رسول ابو حمزہ حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک (کامل) ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے (مسلمان)بھائی کے لئے بھی وہی چیز پسند نہ کرے جووہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔(بخاری، كتاب الايمان، باب من الايمان ان یحب لاخیہ...الخ، ۱/ ۱۶، حدیث:۱۳ ۔ مسلم، کتاب الایمان، باب الدلیل علی ان من خصال الایمان...الخ، ص۴۷، حدیث: ۱۷۰)

شرح حدیث

مذکورہ حدیث پاک کی اہمیت:یہ حدیْثِ پاک بھی اُن اَحادیْثِ کریمہ میں سے ایک ہے جنہیں اِسلام کا مَدار اور اُمُّ الاحادیث وجوامِعُ الکلِم قرار دیا گیا ہے۔ (نزہۃ القاری، 1/ 315، ملخصاً) چنانچہ حضرت سیِّدُنا امام ابو داود رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنے دین کے لئے چار حدیثیں کافی ہیں۔ پھر آپ نے وہ چاروں حدیثیں بیان فرمائیں۔ مذکورہ حدیث شریف بھی ان میں سے ایک ہے۔
(ارشاد الساری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی، ۱/ ۹۵، تحت الحدیث:۱۔ تاریخ بغداد، ۹/ ۵۸، رقم:۴۶۳۸)
کمالِ ایمان کی نفی:حضرت سیِّدُنا حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اِس حدیث پاک میں کمالِ ایمان کی نفی ہے یعنی کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ کسی چیز کے نام کی نفی سے اس کے کامل ہونے کی نفی(بھی) ہوتی ہے ۔جیسا کہ اہْلِ عرب کا مقولہ ہے: ’’فُلَانٌ لَّیْسَ بِاِنْسَانٍیعنی فلاں شخص اِنسان نہیں ہے۔‘‘ مراد یہ ہے کہ وہ کامل انسان نہیں، نہ یہ کہ وہ انسان ہی نہیں ہے۔ (فتح الباری، کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحب لاخیہ... الخ، ۲ / ۵۵، تحت الحدیث : ۱۳)پسندیدہ چیز سے مراد:حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: پسندیدہ چیز سے مرادیہ ہے کہ خیر اور نیکی کی جو چیز بھی اپنے لئے پسند کرے وہ اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرے۔ خیر ایک جامع لفظ ہے جس میں تمام نیکیاں، دینی اور دنیاوی تمام مباح یعنی جائز کام شامل ہیں اِس سے ممنوعہ یعنی ناجائز کام نکل گئے۔(فتح الباری، کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحب لاخیہ... الخ، ۲ / ۵۵، تحت الحدیث : ۱۳)مذکورہ حدیث پاک کا ایک مفہوم:حضرت سیِّدُنا علامہ ابو الحسن ابن بطّال رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ بعض علمائے کرام رحمۃُ اللہ علیہم نے فرمایا: اِس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں سے تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیزوں کو دُور کرےجیسا کہ حضرت سیدنا اَحْنَف بِن قَیْس رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر مجھے کسی کی کوئی بھی بات یا کام ناپسند ہوتو میں بھی کسی اور کے ساتھ وہ بات یا کام نہیں کرتا۔
(شرح بخاری لابن بطال، کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحب لاخیہ... الخ، ۱ / ۶۵)
چند لفظوں میں دونوں جہاں کی خوبیاں جمع:مشہور شارحِ حدیث، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں: یہ فرمانِ عالی حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے جامع کلمات سے ہے ،اِن چند لفظوں میں دونوں جہاں کی خوبیاں جمع ہیں۔ کوئی شخص مؤمِن کامل اُس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنےمسلمان بھائی کے لئے دینی و دُنیاوی وہ چیز نہ پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ خیال رہے کہ یہاں خیر یعنی اچھائی وبھلائی مراد ہے یعنی ہر مسلمان کے لئے دنیا و آخرت کی خیر پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔اپنے مسلمان بھائی کے لئے اچھائی وبھلائی کی پسند کا ظہور مختلف طریقوں سے ہوسکتا ہے۔مثلاً کسی کے لئے دولت مندی خیر ہے،کسی کےلئے فقیری خیر،کسی کےلئے خَلْوَتْ یعنی تنہائی خیر، تو کسی کےلئے جَلْوَتْ یعنی بِھیڑ خیر۔ لہٰذااگر کوئی مسلمان فقیر ہو اور اپنے لئے فقیری کو پسند کرتا ہو مگر اپنے بھائی کے لیے دولت مندی کو پسند کرے کہ اُسے دولت مندی ہی پسند ہے تو یہ اِس فرمان کے خلاف نہیں، اِسی طرح اگر کوئی خلوت نشین ہو یعنی تنہائی پسند ہو مگر وہ اپنے بھائی کے لئے جلوت پسند کرے کہ اُسے جلوت ہی پسند ہے تو یہ بھی اِس فرمان کے منافی نہیںوَعَلٰی ھٰذَا الْقِیَاس۔دراصل تمام مسلمانوں میں خیر ہی خیر ہے مگر ہرمسلمان میں اِس کی صورت مختلف ہے جیسا کہ پاور یعنی بجلی ایک ہی ہوتی ہے مگر ہیٹر میں پہنچے تو گرمی دیتی ہے اورفِرج میں پہنچے تو ٹھنڈک ۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/ 555 ،ملخصاً)دل نشین اور بلیغ ترین کلام:فقیہ اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃُ اللہ علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں: اس حدیث میں ایمان سے مراد ایمانِ کامل ہے، محبت کسی کی طرف دل کے میلان کو کہتے ہیں یہاں محبت سے مراد پسندیدگی ہے۔ مراد یہ ہے کہ کامل مومن وہی ہےجو اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہےاس کو لازم ہے کہ جوبات اپنے لئے ناگوار جانے وہ دوسروں کے لئے بھی ناپسند کرے ۔یعنی آدمی یہ چاہتا ہے کہ ہم آرام ، اعزاز کے ساتھ خوش وخرم رہیں، کوئی ہماری توہین وتذلیل نہ کرے ، کوئی ہمیں ایذاء نہ پہنچائے، کوئی ہمارا حق غصب نہ کرے، اسی طرح یہ بھی چاہیےکہ میرا بھائی اعزاز واکرام کے ساتھ خوش وخرم رہے، نہ اس کی توہین وتذلیل ہو، نہ اس کا حق غصب کیا جائے، اس سے بطورِ لزوم یہ بھی سمجھ میں آیاکہ ہر شخص اگر اس کا عادی ہوجائےتو معاشرہ صاف ستھرا رہے گااور زندگی چین واطمینان سے گذرے گی۔ظاہر ہے کہ لڑائی جھگڑا کی بنیاد یہی ہوتی ہے کہ انسان تنگ دلی سے یہ چاہنے لگتاہےکہ سب کچھ ہمیں میسر ہو دوسرے محروم رہیں۔ اس حدیث میں تواضع، مروت، امدادِ باہمی ایک دوسرے کے کام آنے اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنےکی بلیغ ترین ترغیب ہے۔ حسد، کینہ، عداوت، بغض، ایذا رسانی ، حق تلفی، تفوق، تَرفُّع، تحقیر وتذلیل سے دور رہنے کی انتہائی دلنشین پیرائے میں تلقین ہےاسی لئے علماء کرام نےاس حدیث کو بھی جوامع الکلم اور اُمّ الاحادیث سے شمار کیا ہے۔ ( نزھۃ القاری شرح صحیح البخاری، 1/314 )دنیاوی اور اخروی خیر سے مراد:حضرت سیِّدُنا شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃُ اللہ علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں: خواہ اس شے کا تعلق دُنیوی خیر (بھلائی)سے ہو یا اُخروی خیر سے۔ اُخروی خیر یہ ہے کہ دوزخ کے عذاب سے نجات اور درجاتِ جنت کا حصول، ایسا ایمان نیک اَعمال کا تقاضا کرتا ہے۔ دُنیوی خیر سے مراد اَسبابِ زندگی اور اہْل و اولاد ہیں جو آخرت میں بھلائی کا ذریعہ ہیں۔ جب اِنسان اپنے لئے اِن دونوں کی خواہش کرتا ہے تو اُسے دوسرے تمام مسلمانوں کے لئے بھی یہی خواہش کرنی چاہیے۔
(اشعۃ اللمعات ، کتاب الآداب ، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق ، 4/ 128)
خیر خواہی سے متعلق تین روایات:(1)… اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ’’میرے نزدیک بندے کی سب سے پسندیدہ عبادت لوگوں سے خیر خواہی کرناہے۔‘‘
(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الجزء: ۳، ۲/ ۱۶۶، حدیث:۷۱۹۷)
(2)… مومن اس وقت تک اپنے دین (یعنی رحمَتِ الٰہی) کی وسعت میں رہتا ہے جب تک اپنے مسلمان بھائی کی خیرخواہی چاہتا ہے اور جب اس کی خیرخواہی سے الگ ہو جاتا ہے تو اس سے توفیق کی نعمت چھین لی جاتی ہے۔
(مسند الفردوس، باب اللام الف، ۲/ ۴۲۹، حدیث:۷۷۲۲)
(3)… بروزِ قیامت جو پانچ چیزیں لے کر آئے گا اسے جنت سے نہیں روکا جائے گا: اللہ پاک، اس کے دین، اس کی کتاب، اس کے رسول اور مسلمانوں کی جماعت کی خیرخواہی۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الجزء: ۳، ۲/ ۱۶۶، حدیث:۷۱۹۹)
دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 13