- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 31
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی الْعَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعْدِ السَّاعِدِیِّ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَآءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! دُلَّنِیْ عَلٰى عَمَلٍ اِذَا عَمَلْتُهٗ اَحَبَّنِیَ اللهُ وَاَحَبَّنِیَ النَّاسُ؟ فَقَالَ: ’’اِزْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبُّكَ اللهُ وَازْهَدْ فِيْمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ.‘‘ (حَدِيْثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَة وَغَيْرُهٗ بِاَسَانِيْدَ حَسَنَةً)
عن ابی العباس سهل بن سعد الساعدی رضی الله عنه قال: جاء رجل الى النبی صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! دلنی على عمل اذا عملته احبنی الله واحبنی الناس؟ فقال: ’’ازهد في الدنيا يحبك الله وازهد فيما عند الناس يحبك الناس.‘‘ (حديث حسن رواه ابن ماجة وغيره باسانيد حسنة)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابوالعباس سہل بن سعد ساعِدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں اسے کروں تو اللہ پاک مجھ سے محبت فرمائے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کرنے لگیں۔ ارشاد فرمایا: ’’دنیا سے بےرغبت ہوجاؤاللہ پاک تم سے محبت فرمائے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہےاس سے کنارہ کشی اختیار کر لو تو لوگ بھی تم سے محبت کریں گے۔‘‘
(ابن ماجہ، كتاب الزهد، باب الزهد فی الدنيا، ۴/ ۴۲۲، حدیث:۴۱۰۲)
(یہ حدیث حسن ہے اسے حضرت سیِّدُنا امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید بن ماجہ رحمۃ اللہ علیہاور دیگر محدثین نے حسن سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔)
شرح حدیث
محبَّتِ خالق کی علامت:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں اسے کروں تو اللہ پاک مجھ سے محبت فرمائے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کرنے لگیں ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: معلوم ہوا کہ اللہ (پاک) کے بندوں کی محبت جو قدرتی طور سے ہو اللہ (پاک) کی رحمت ہے، محبَّتِ خلق محبَّتِ خالق کی علامت ہے، لہٰذا لوگوں کی محبت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ممنوع نہیں ، حضرت ابراہیم علیہِ السّلام نے دعا کی تھی کہ مولیٰ:وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ(۸۴)(پ۱۹، الشعرآء: ۸۴ ) آئندہ نسلوں میں میرا ذکر خیر جاری فرما۔ لہٰذا ان صاحب کا یہ سوال بالکل برحق ہے ۔(مراٰ ۃ المناجیح، 7/ 24،ملتقطاً)دنیا سے بےرغبتی کے ارکان:اور حدیث پاک کے جز ’’دنیا سے بےرغبت ہوجاؤاللہ پاک تم سے محبت فرمائے گا‘‘ کے تحت فرماتےہیں کہ دنیا سے بے رغبتی کے رکن تین ہیں : محبَّتِ دنیا سے علیحدگی، زائد دنیا سے پرہیز، آخرت کی تیاری۔ ایسے شخص سے اللہتعالیٰ محبت اس لیے کرتا ہے کہ وہ اللہ کے دُشمن سے محبت نہیں کرتا دُشمن کا دُشمن بھی دوست ہوتا ہے۔ نیز جو دنیا سے بے رغبت ہوگا وہ گناہ کم کرے گا نیکیاں زیادہ اور ایسا بندہ ضرور اللہ تعالیٰ کو پیارا ہے۔ (مراٰ ۃ المناجیح، 7/ 24،ملتقطاً)محبَّتِ الٰہی کا سبب:حضرت سیِّدُنا امام شرف الدین حسین بن محمد طیبی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: زہد سے اللہ پاک کی محبت پیدا ہوتی ہے یہ اس بات پر دلیل ہے کہ زہد بہت اعلیٰ اور افضل عمل ہے کیونکہ اسے اللہ پاک کی محبت کا سبب بنایا گیا ہے اور دنیا کی محبت اللہ پاک کی ناراضی کا سبب ہے۔ (شرح الطیبی، کتاب الرقاق، الفصل الثانی، ۹/ ۳۵۱، تحت الحدیث:۵۱۸۷)محبَّتِ خالق کی علامت:مشہور شارح حدیث، حکیم الامتمفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’لوگوں کے پاس جو کچھ ہےاس سے کنارہ کشی اختیار کر لو تو لوگ بھی تم سے محبت کریں گے ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: دنیا کا دستور ہے کہ جو اس کی طرف دوڑتا ہے تو وہ اس سے بھاگتی ہے اور جو اس سے بے نیاز ہوتا ہے تو وہ اس کی طرف آتی ہے ۔ جو شخص لوگوں سے تمنا رکھے گا تو خواہ مخواہ ان کی خوشامد کرے گا اور لوگ اس سے نفرت کریں گے اور جو لوگوں سے بے نیاز ہوگا تو لوگ خواہ مخواہ اس کی طرف آئیں گے۔ (مراٰ ۃ المناجیح، 7/ 24)لوگوں کے ا موال سے بے رغبتی میں عزت کیوں؟حضرت سیِّدُنا علامہ محمد عبد الرءوف مُناوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبت فطری طورپر رکھی گئی ہے اور یہ محبت ان کے دلوں پر نقش ہوگئی ہے تو جو کوئی انسان سے اس کی پسندیدہ چیز میں جھگڑتا ہے تو انسان اس سے نفرت کرتا اور اسے چھوڑ دیتا ہے اور جو انسان کی پسندیدہ چیز میں اس سے نہیں جھگڑتا تو انسان اس سے محبت کرتا اور عزت دیتا ہے۔ اسی لئے مشہور تابعی بزرگ حضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’لوگ آدمی کی عزت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ ان کی دنیا کا خواہشمند ہوتا ہے تو وہ اُسے حقیر سمجھتے ہیں اور اس کی بات کو بھی ناپسند کرتے ہیں۔‘‘ منقول ہے کہ اہْلِ بصرہ میں سے کسی سے پوچھا گیا: تمہارا سردار کون ہے؟ اس نے جواب دیا: ’’حضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ ۔‘‘ پوچھنے والے نے کہا: انہیں تمہارے نزدیک یہ مقام و مرتبہ کیوں حاصل ہے؟ اس نے کہا: ’’ہم ان کے علم سے دلیل پکڑتے ہیں اور وہ ہماری دنیا سے بے نیاز ہیں۔‘‘ (فیض القدیر، حرف الھمزة، ۱/ ۶۱۵، تحت الحدیث:۹۶۰)مال سے محبت کی جائز ومحمود صورت:حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مال ودولت اور دنیا کی ایسی محبت مذموم ہے جو شہواتِ نفسانی کی تکمیل کے لئے ہو کیونکہ ایسی محبت انسان کو اللہ پاک کی یاد سے غافل کر دیتی ہے۔ بہرحال بھلائی کے کام کرنے، محتاج کی حاجت روائی کرنے، ستم رسیدہ کی مدد کرنے، تنگدست کو کھانا کھلانے کے لئے مال سے محبت کرنا عبادت ہے کہ حدیث پاک میں ہے: ’’اچھا ( یعنی حلال) مال نیک مرد کے لئے بہت ہی اچھا ہے کہ وہ اس مال کے ذریعے صلہ رحمی اور حُسْنِ سُلُوک کرتا ہے۔‘‘(دلیل الفالحین، باب فی فضل الزھد فی الدنیا...الخ، ۲/ ۴۰۲، تحت الحدیث:۴۷۱)زہد کی تعریف اور مفہوم:اپنی رغبت اور ارادے کو ایک چیز سے ہٹاکر دوسری چیز کی طرف پھیر دینا جو اس پہلی چیز سے بہتر ہو زہد کہلاتا ہے۔ ہر وہ شخص جو ایک چیز کو چھوڑ کر کسی مُعاوَضے یا سودے کے سبب دوسری چیز کواختیار کرتا ہے وہ پہلی چیز کو بے رغبتی کے سبب چھوڑتا اور دوسری چیز کو اس میں رغبت اور پسندیدگی کے سبب اختیار کرتا ہے۔جس چیز سے اس نے اعراض کیا اس کی نسبت سے اس کے حال کو زہد جبکہ جس کی طرف یہ مائل ہوا اس کی نسبت سے رغبت ومحبت کہا جاتا ہے۔زاہد کی تعریف:زہد کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں: (1)...وہ چیز جس سے بے رغبتی اختیار کی جائے اور (2)... وہ جس میں رغبت کی جائےاور وہ پہلی چیز سے بہتر ہو۔نیز جس چیز سےبے رغبتی کی جائے اس کا بھی کسی نہ کسی اعتبار سے مرغوب ومطلوب ہونا ضروری ہے۔جو شخص ایسی چیز کو ترک کرے جو کسی بھی طرح مطلوب نہ ہو اسے زاہد نہیں کہا جائے گاکیونکہ مٹی،پتھر اور اس قسم کی دیگر بے وَقْعَت اشیاء کو ترک کرنے والا زاہد نہیں کہلاتابلکہ زاہد اس شخص کو کہتے ہیں جو درہم ودینار وغیرہ کو ٹھکرائے جبکہ مٹی اورپتھر وغیرہ تو اس قابل ہی نہیں کہ ان میں رغبت کی جائے۔جس چیز میں رغبت کی جائے اس کے لئے یہ شرط ہےکہ وہ اس شخص کےنزدیک دوسری چیز سے بہتر ہو تاکہ اس چیز کی رغبت دوسری چیز کی رغبت پر غالب ہوجائے۔
(احیاء العلوم، کتاب الفقر والزھد، بیان حقیقة الزھد ،۴/ ۲۶۷، ملخصًا)زُہْد کے دَرَجات:زہد کے درج ذیل درجات ہیں: (1)...جو شخص اللہ پاک کے سوا ہر چیز سے حتّٰی کہ جنَّتُ الفردوس سے بھی بےرغبتی اختیار کرے، صرف اللہ پاک سے ہی محبت کرے وہ ’’زاہِدِ مطلق‘‘ ہے جو کہ زہد کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ (2)...جو شخص تمام دنیوی لذات سے بے رغبت ہولیکن اُخروی نعمتوں مثلاً:جنتی حوروں،مَحلات وباغات، نہروں اور پھلوں وغیرہ کی لالچ کرے وہ بھی زاہد ہے لیکن اس کا مرتبہ’’زاہدِ مطلق‘‘سے کم ہے۔ (3)...جو شخص دنیوی لذات میں سے بعض کو ترک کرے اور بعض کو نہیں مثلاً مال ودولت کو ترک کرے، مرتبے اور شہرت کو نہیں یا کھانے پینے میں وسعت کو ترک کرے زینت وآرائش کو نہیں اس کو مطلقاً زاہد نہیں کہا جاسکتا۔ زاہدین میں ایسے شخص کا وہی مرتبہ ہے جیسے توبہ کرنے والوں میں اس شخص کا جو بعض گناہوں سے توبہ کرے اور بعض سے نہ کرے،جس طرح ایسے تائب کی توبہ صحیح ہے کہ ممنوعہ چیزوں کو ترک کرنے کا نام توبہ ہے تو ایسے ہی اس زاہد کا زہد بھی صحیح ہےکہ مباح لذّتوں کا ترک کرنا زہد کہلاتا ہے اورجس طرح یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص بعض ممنوعات کو ترک کرپاتاہو اور بعض کونہیں اسی طرح جائز چیزوں میں بھی یہ ہوسکتاہے۔
(احیاء العلوم، کتاب الفقر والزھد، بیان حقیقة الزھد ،۴/ ۲۸۲)زہد کا کم سے کم درجہ:بہرحال ظاہری اور باطِنی دونوں اِعتبارات سے زہد کے درجات کی کوئی حد نہیں۔ زہد کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ ہر ممنوعہ اور مُشْتَبَہ چیز سے بے رغبتی اختیار کی جائے۔ بعض بزرگانِ دین رحمۃُ اللہ علیہم فرماتے ہیں: ’’زہد صرف حلال میں ہے، حرام اور مشتبہ چیزوں میں نہ تو زہد ہے اور نہ ہی ان سے بے رغبتی اختیار کرنا زہد کا کوئی درجہ ہے۔‘‘
(احیاء العلوم، کتاب الفقر والزھد، بیان درجات الزھد ،۴/ ۲۸۲)دولت کی موجودگی میں زہد:مَرْوِی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سُفیان بن عُیَیْنہ اور حضرت سیِّدُنا سُفْیَان ثَوری رحمۃُ اللہ علیہم ا سے عَرْض کی گئی: جس کے پاس مال ودولت ہو کیا وہ زاہد ہو سکتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں! مگر شَرْط یہ ہے کہ جب اس پر کوئی آزمائش آئے تو صبر کرے اور جب کسی اِنعام سے نوازا جائے تو شکر کرے۔ حضرت سیِّدُنا ابن ابی حَواری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سُفْیَان بن عُیَینہ رحمۃُ اللہ علیہ سے عَرْض کی: اے ابو محمد! جس نے اِنْعَام پر شکر ادا کیا، مصیبت پر صَبْر کیا اور نِعْمَت کو روکے رکھا وہ کیسے زاہِد ہو سکتا ہے؟ یہ سن کر آپ نے اپنے ہاتھ سے مجھے ٹھوکتے ہوئے فرمایا: خاموش رہو! جس کو نعمتیں شکر سے اور مصیبتیں صبر سے نہ روکیں تو وہ زاہِد ہی ہے۔ (قوت القلوب، الفصل الثانی والثلاثون: شرح مقامات الیقین...الخ، ۱/ ۴۴۸)زہد کی فضیلت پر تین آیات مبارکہ:(1)...مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ(۲۰)(پ ۲۵، الشورٰی:۲۰)
ترجمہ کنزالایمان: جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے ليے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اُس کا کچھ حصّہ نہیں۔
(2)...بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ(۱۶)وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ(۱۷)(پ ۳۰، الاعلٰی:۱۶، ۱۷)
ترجمہ کنزالایمان: بلکہ تم جیتی دنیا کو ترجیح دیتے ہو اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی۔
(3)...قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌۚ-وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى(پ ۵، النسآء:۷۷)
ترجمہ کنزالایمان: تم فرما دو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے اور ڈر والوں کے لیے آخرت اچھی۔زہد کی فضیلت پر تین احادیْثِ مبارکہ:حضرت سیِّدُنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَم نے ارشاد فرمایا: ’’دنیا سے بے رغبتی مال کو ضائع کردینے اور حلال کو حرام کردینے کا نام نہیں،بلکہ دنیاسے کنارہ کشی تویہ ہے کہ جوکچھ تیرے ہاتھ میں ہے وہ اس سے زیادہ قابِل اعتماد نہ ہو جو کچھ اللہ پاک کے پاس ہے۔‘‘(ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجآء فی الزھادة فی الدنیا، ۴/ ۱۵۲، حدیث:۲۳۴۷)
حضرت سیِّدُنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر اللہ پاک کے نزدیک دنیا کی حیثیت مچھرکے پَر کے برابر بھی ہوتی تووہ اس دنیاسے کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی پینے کونہ دیتا۔‘‘ (ترمذی ، کتاب الزھد، باب ماجاء فی ھوان الدنیاعلی اللّٰہ، ۴/ ۱۴۳، حدیث:۲۳۲۷)
حضرت سیِّدُنا صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص دنیا سے بےرغبتی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اس کے دل میں حکمت ڈال کر اس کی زبان پر جاری فرمادیتا، اسے دنیا کی بیماری اور اس کے علاج کی پہچان عطا فرمادیتا اور اسے دنیا سے صحیح سلامت نکال کر سلامتی والے گھر (یعنی جنت کی طرف) لے جاتا ہے۔‘‘ (شعب الایمان، باب فی الزھد وقصر الامل، ۷/ ۳۴۶، حدیث:۱۰۵۳۱)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 31