- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 6
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:’’ اِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَّاِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَّبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَّا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اِسْتَبْرَاَ لِدِيْـنِهٖ وعِرْضِهٖ وَمَنْ وَّقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِيْ يَرْعٰى حَوْلَ الْحِمٰى يُوشِكُ اَنْ يَرْتَعَ فِيْهِ اَلَا وَاِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى. اَلَا وَاِنَّ حِمَى اللهِ مَحَارِمُهٗ اَلَا وَاِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ اَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ.‘‘ (رَوَاهُ الْبُخَارِی وَمُسْلِمٌ)
عن ابي عبد الله النعمان بن بشير رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:’’ ان الحلال بين وان الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرا لديـنه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك ان يرتع فيه الا وان لكل ملك حمى. الا وان حمى الله محارمه الا وان في الجسد مضغة اذا صلحت صلح الجسد كله واذا فسدت فسد الجسد كله الا وهي القلب.‘‘ (رواه البخاری ومسلم)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سناکہ ’’ بے شک حلال ظاہر ہے اورحرام بھی ظاہرہےاوراُن کے درمیا ن مشکوک چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ۔تو جو ان مشکوک چیزوں سے بچا اس نے اپنا دِین اور اپنی عزت محفوظ کرلی اور جوان مشکوک چیزوں میں پڑ ا وہ حرام میں پڑ گیا ۔جیسے وہ چرواہا جو ممنوعہ چراہ گا ہ کے قریب بکریاں چَراتاہو توقریب ہے کہ وہ جانورا س چراہ گاہ میں بھی چرنے لگیں۔ خبردار! ہر بادشا ہ کی ممنوعہ چراہ گاہ ہوتی ہے اور اللہ پاک کی ممنوعہ چراہ گاہ اس کی حرام کردہ اَشیاء ہیں۔خبرادر!جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑاہے جب وہ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سا را جسم خراب ہو جاتاہے۔ سنو! وہ ٹکڑا دل ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدینہ، ۱/ ۳۳، حدیث:۵۲، بتغیر قلیل ۔ مسلم، كتاب المساقاة، باب اخذ الحلال وترك الشبهات،ص ۶۶۳، حدیث:۴۰۹۴)
شرح حدیث
مذکورہ حدیث پاک کی اہمیت:یہ حدیْثِ پاک بھی اُن اَحادیْثِ کریمہ میں سے ایک ہے جنہیں اِسلام کا مَدار قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا امام ابو داود رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنے دین کے لئے چار حدیثیں کافی ہیں۔ پھر آپ نے وہ چاروں حدیثیں بیان فرمائیں۔ مذکورہ حدیث شریف بھی ان میں سے ایک ہے۔(ارشاد الساری، کتاب الوحی، باب کیف کان بدء الوحی، ۱/ ۹۵، تحت الحدیث:۱)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ حدیث اصل اصولِ دین (اصول دین کی اصل) ہے۔( مراٰۃ المناجیح،4/ 229)
حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ نے اپنے صاحبزادے حضرت حماد رحمۃُ اللہ علیہ کو 20 باتوں کی نصیحت فرمائی، انیسویں یہ تھی کہ میں نے پانچ لاکھ حدیثوں میں سے پانچ حدیثیں منتخب کی ہیں ان پر اعتماد کرنا۔ مذکورہ حدیث پاک بھی ان پانچ میں سے ایک ہے۔ (ماخوذ از بشیر القاری، ص65)مذکورہ حدیث پاک کا مطلب ومفہوم:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیث شریف کی شرح میں فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ چیزیں تین قسم کی ہیں:بالکل حلال جن کی حِلَّت منصوص (قرآن وحدیث سے ثابت)ہے۔ بالکل حرام جن کی حُرمت مَنصوص ہے، جیسے محرمات و فَوَاحِش۔ اورمُشتبہات جن میں حلت و حرمت کے دلائل مُتعارض ہیں یا حلت و حرمت کی دلیل نہیں۔ اصْلِ حلال پر عمل کرو،اصْلِ حرام سے ضروربچواورمُشتبہات سے احتیاطًا پرہیزکرو کہ شاید حرام ہوں۔ مگر جن میں حِلَّت (حلال ہونے) کی اصل موجود ہو وہ مشتبہ نہیں،انہیں حرام سمجھنا محض باطل وہم ہے۔ جوشخص مشتبہات سے پرہیز نہ کرے گا وہ آخر کار محرمات میں بھی پھنس جائے گااس لئے مشتبہات سے بچو۔ شاہی چراگاہ میں جانورچَرانا سخت جرم ہوتا ہے ۔ہوشیار چرواہے شاہی چراگاہ سے دور ہی رہتے ہیں تاکہ کوئی جانوربے قابو ہوکر اس چراگاہ میں نہ گھس جائےاور ہم مجرم ہوجائیں،مگر بے احتیاط چرواہے وہاں قریب پہنچ جاتے ہیں اورآخرکاران کا جانور وہاں گھس جاتا ہے اور یہ مجرم ہوکرپکڑ ے جاتے ہیں۔ایسے ہی مُشتبہات میں واقع ہونے والا کبھی حرام میں بھی گرفتار ہوجائے گا۔ تم چرواہے ہو،نفس بے سمجھ جانور،محرماتِ شرعیہ شاہی چراگاہ ہے، مشتبہات اس چراگاہ کے مُتَّصِل زمین (لہٰذا ان سے بچو)۔ (مراٰۃ المناجیح، 4/ 229)دل کی اصلاح ضروری ہے:مفتی صاحب مزید حدیث شریف کے جز ’’ جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑاہے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: دِل بادشاہ ہےجسم اس کی رعایاجیسے بادشاہ کے درست ہوجانے سے تمام ملک ٹھیک ہوجاتا ہے ایسے ہی دل سنبھل جانے سے تمام جسم ٹھیک ہوجاتا ہے۔ دل ارادہ کرتا ہے جسم اس پر عمل کی کوشش ۔ دل میں بُرے ارادے نہ پیدا ہوں اس لیے صوفیائے کرام ( رحمۃُ اللہ علیہم ) دل کی اصلاح پر بہت زور دیتے ہیں۔صوفیاء ( رحمۃُ اللہ علیہم ) فرماتے ہیں کہ دل کو اپنی منزلوں میں رکھو، اس کی منزل فرض، واجب، سنت، مستحب، آداب، مباح ہیں،اِن حدود میں رہا تو خیر ہے، اگلی منزلیں خطرناک ہیں اُدھر نہ جانے دو، اگلی منزلیں مکروہِ تنزیہی، مکروہِ تحریمی، حرام و کفر ہیں۔ مکروہِ تنزیہی سے بچاؤ تاکہ آگے بڑھنے کی ہمت نہ کرے۔( مراٰۃ المناجیح،4/230)راہِ نجات:حضرت سیّدناسہل بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ”نجات تین چیزوں میں ہے: (1) حلا ل کھانے میں، (2) فرائض کی ادائیگی میں اور (3) حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی سنتوں کی اتباع میں۔“( تفسیر قرطبی، پ۲، بقرة، ۱۶۸، الجزء الثانی، ۱/ ۱۵۹)حلال رزق کی تلاش فرض ہے:حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’طَلَبُ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِم یعنی رزقِ حلال حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘
(معجم اوسط، ۶/ ۲۳۱، حدیث: ۸۶۱۰۔ معجم کبیر، ۱۰/ ۷۴، حدیث: ۹۹۹۳ بتغیر قلیل)مشکل سے سمجھ میں آنے والا فرض:حضرت سیِّدُنا امام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: تمام فرائض میں سے یہ (یعنی رزقِ حلال کاحصول) ایسا فرض ہے جس کا سمجھنا عقلوں کے لئے بہت دشوار اور اس کا بجالانا اعضاء پر بہت بھاری ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کا علم حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا بالکل ختم ہو چکا ہےاوراس پر عمل کے ختم ہونے کا سبب اس کے علم کا پیچیدہ ہونا ہےکیونکہ جاہل لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ’’حلال چیز حاصل کرنا مفقود ہو گیا اور اس تک پہنچنے کے تمام راستے بند ہو گئے اور نہروں کے پانی اور بنجر وویران زمین میں اگنے والی گھاس کے علاوہ کوئی حلال چیز باقی نہیں رہی اور اس کے علاوہ جوکچھ ہے اسے ظالموں نے خراب اور بُرے معاملات نے فاسد کردیا۔پس جب زمینی پیداوار میں گھاس پر قناعت کرنا مشکل ہو گیا تو حرام کے اِرتکاب کے سوا کوئی چارہ نہ رہا (لیکن یہ جاہلوں کا گمان ہے عقلمند اس سوچ سے دور ہیں) ۔ ‘‘(احیاء علوم الدین، کتاب الحلال والحرام، ۲/ ۱۱۲)حلال وحرام سے متعلق آیات مبارکہ:اللہ پاک حلال وپاک چیزیں کھانے کے متعلق ارشاد فرماتاہے:كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-(پ ۱۸، المؤمنون: ۵۱) ترجمہ کنزالایمان: پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو۔
اس آیت طیبہ میں اللہ پاک نے اعمال بجالانے سے پہلے پاکیزہ چیزیں کھانے کا حکم دیا ہےاور کہا گیا ہے کہ یہاں
’’الطَّیِّبٰتِ‘‘ سے مراد حلال چیزیں ہیں۔
اور حرام وناحق طریقے سے مال کھانے کی مذمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ(پ ۲، البقرة: ۱۸۸) ترجمہ کنزالایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔
اور یتیم کا مال کھانے کی مذمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا(10)(پ ۴، النسآء: ۱۰) ترجمہ کنزالایمان: وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے (بھڑکتی آگ) میں جائیں گے۔ان کے علاوہ دیگر آیات میں بھی حرام مال کے وبال ونحوست کو بیان کیا گیا ہے بالخصوص سود کی حرمت ومذمت کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی حلال کی فضیلت اور حرام کی مذمت کو بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہحلال وحرام سے متعلق احادیث مبارکہ:حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:آپ بارگاہِ الٰہی میں دعا کیجئے کہ”وہ مجھے مُسْتَجَابُ الدَّعْوَات(یعنی جس کی دعائیں قبول ہوں)بنادے۔“توآپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے کھانے کو پاکیزہ بناؤتمہاری دعائیں قبول ہوں گی۔‘‘ (معجم اوسط، ۵/ ۳۴، حدیث:۶۴۹۵)
اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے دنیا پر مر مٹنے والے کا ذکر کیا تو ارشاد فرمایا: بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بکھرے بال، گرد آلود چہرے اور سفر کی مشقت برداشت کرنے والا شخص اپنے ہاتھ اٹھاتا اور دعا کرتا ہے: ’’اے میرے رب! اے میرے رب!‘‘ اس کی دعا کیسے قبول کی جائے گی؟ جبکہ اس کا کھانا حرام، لباس حرام اور غذا حرام ہے۔
(مسلم، کتاب الزکاة، باب قبول الصدقة من الکسب الطیب وتربیتها، ص۳۹۳، حدیث: ۲۳۴۶)
اللہ پاک کے پیارے رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ ہروہ گوشت(یعنی جسم) جوحرام سے پروان چڑھے آگ اس کی زیادہ حقدار ہے ۔‘‘(ترمذی، کتاب السفر، باب ما ذکر فی فضل الصلاة، ۲/ ۱۱۸، حدیث: ۶۱۴)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 6