Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ الْمُؤمِنِيْنَ اُمِّ عَبْدِ اللهِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ: ’’مَنْ اَحْدَثَ فِيْ اَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ. ‘‘ (رَوَاهُ الْبُخَارِی وَمُسْلِمٌ) وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: ’’مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ اَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.‘‘

عن ام المؤمنين ام عبد الله عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله: ’’من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد. ‘‘ (رواه البخاری ومسلم) وفي رواية لمسلم: ’’من عمل عملا ليس عليه امرنا فهو رد.‘‘

حدیث ترجمہ

اُمِّ عبداللہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اِرشاد فرمایا: ’’ جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجادکی جو ہمارے دین سے نہیں تو وہ مردود ہے۔ ‘‘
(بخاری، کتاب الصلح، باب اذا اصطلحوا علی صلح جور...الخ، ۲/ ۲۱۱، حدیث:۲۶۹۷،
’’∞منہ‘‘∞ بدلہ’’∞فیہ‘‘∞ ۔ مسلم، كتاب الاقضية، باب نقض الاحكام الباطلة...الخ،ص۷۳۱، حدیث:۴۴۹۲)
مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے: ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا جوہمارے دین سے نہیں تو اس کا وہ عمل مردود ہے۔‘‘
(مسلم، كتاب الاقضية، باب نقض الاحكام الباطلة...الخ،ص ۷۳۱، حدیث: ۴۴۹۳)

شرح حدیث

مذکورہ حدیث پاک کی اہمیت:حضرت علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث قواعدِ اسلامیہ میں سے ایک بہت بڑا قاعدہ اور جوامِعُ الکلم میں سے ہے۔ نیز اس میں تمام اختراعات و بدعاتِ سیئہ کا واضح رد ہے۔‘‘ مزید فرماتے ہیں: ’’اس حدیث کو یاد رکھنا، منکرات (ممنوعاتِ شرعِیَّہ) کے بُطلان میں اسے استعمال کرنا اور اس کی خوب تشہیر کرنی چاہئے۔‘‘
(شرح مسلم للنووی،کتاب الاقضیة، باب نقض الاحکام الباطلة...الخ، الجزء الثانی عشر، ۶
‏∞ / ۱۶)
حافظ اِبْنِ حجر عسقلانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث کو اصولِ دین میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ قَوَاعِد (اِسلامِیَّہ) میں سے ایک قاعدہ ہے۔‘‘ علامہ طوفی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اس حدیث کو اَدِلَّۂ شَرْعِیَّہ کا نصف کہنا بالکل درست ہے۔‘‘
(دلیل الفالحین، باب فی النھی عن البدع ومحدثات الامور، ۱/ ۴۴۰، تحت الحدیث:۱۷۰)
باطل عقائد اور اعمال:مشہور شارح حدیث، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی شرح فرماتے ہیں: وہ ایجاد کرنے والا مردود ہے یا اس کی یہ ایجاد مردود ہے۔خیال رہے کہ (حدیث شریف میں موجود لفظ) اَمر سے مراد دیْنِ اسلام ہے اور مَا سے مراد عقائد،یعنی جو شخص اسلام میں خلافِ اسلام عقیدے ایجاد کرے وہ شخص بھی مردود اور وہ عقائد بھی باطل۔ لہٰذا روافض، قادیانی وغیرہ بہتّر(72) فرقے جن کے عقائد خلافِ اسلام ہیں باطل ہیں۔یا (لفظ) اَمر سے مراد دین ہے اور مَا سے مراد اعمال ہیں اور لَیْسَ مِنْہُ سے مراد قرآن و حدیث کے مخالف،یعنی جو کوئی دین میں ایسے عمل ایجاد کرے جودین،یعنی کتاب و سنت کے مخالف ہوں جس سے سنّت اٹھ جاتی ہو وہ ایجاد کرنے والا بھی مردود، ایسے عمل بھی باطل جیسے اردو میں خطبہ و نماز پڑھنا،فارسی میں اذان دینا وغیرہ۔اس کی تفسیر وہ حدیث ہے جو آگےآرہی ہے کہ جو کوئی بدعَت ایجاد کرے تو اللہ پاک سنت کو اٹھالیتا ہے۔ اس تفسیر کی بنا پر یہ حدیث اپنے عموم پر ہے اس میں کوئی قید لگانے کی ضرورت نہیں۔ (صاحب)مرقاۃ نے فرمایا: لَیْسَ مِنْہُ سے معلوم ہوا کہ دین میں ایسے کام کی ایجاد جو کتاب و سنّت کے خلاف نہ ہو بُری نہیں۔(مراٰۃ المناجیح، 1/ 138)بدعت کی تعریف، اقسام اور ان کی مثالیں:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بدعت کے لغوی معنیٰ ہیں: نئی چیز۔ قرآنِ کریم (میں اللہ پاک ارشاد)فرماتاہے:قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ(پ ۲۶، الاحقاف:۹ ) فرمادو کہ میں نیا رسول نہیں ہوں۔ ‘‘ نیز فرماتا ہے:بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-(پ ۱، البقرة:۱۱۷ ) آسمانوں اور زمین کا ایجاد کرنے والا۔ ‘‘ نیز فرماتا ہے: وَرَهْبَانِیَّةَ-ﰳابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ(پ ۲۷، الحدید:۲۷ ) (اور راہب بننا تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی)۔ ‘‘ان آیات میں بدعت لغوی معنیٰ میں استعمال ہوا ہے یعنی ایجاد کرنا، نیا بنانا وغیرہ۔اور بدعت کے شرعی معنیٰ ہیں: ’’وہ اِعتقاد یا وہ اعمال جو کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی ظاہری حیات کے زمانہ میں نہ ہوں بعد میں اِیجاد ہوئے ہوں۔ ‘‘
صاحب مرقات فرماتے ہیں: بدعت وہ کام ہے جو بغیر گزری مثال کے کیا جائے (یعنی حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم اور صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان کے زمانہ میں اس کی مثال موجود نہ ہو)۔ اب بدعت تین معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے:پہلا معنیٰ:نیا کام جو حضور انور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے بعد ایجاد ہوا۔دوسرا معنیٰ:خلاف سنت کام جو دافع سنت ہو (یعنی جس سے کوئی سنت مٹ جائے)۔ تیسرا معنیٰ:برے عقائد جو بعد میں پیدا ہوئے۔ پہلے معنیٰ سے بدعت کی دو قسمیں ہیں: (1)…بدعَتِ حسنہ (یعنی اچھی بدعت)۔ (2)…بدعَتِ سیئہ (یعنی بری بدعت)۔دوسرے معنیٰ کے اعتبار سے ہر بدعت سیئہ (بری) ہی ہے جن بزرگوں نے فرمایا کہ ہر بدعت سیئہ ہوتی ہے وہاں دوسرے معنیٰ مراد ہیں وہ جو حدیث میں ہے کہ ’’ہربدعت گمراہی ہے۔‘‘ وہاں تیسرے معنیٰ مراد ہیں، لہٰذا احادیث واقوالِ علما میں تعارض نہیں۔
تفصیل:بدعَتِ شرعی دو طرح کی ہوئی: (1)…بدعَتِ اعتقادی اور (2)…بدعَتِ عملی۔بدعت اعتقادی: ان برے عقائد کو کہتے ہیں جو حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے بعد اسلام میں ایجاد ہوئے۔جیسے: جبریہ، قَدَرِیَّہ، مُرجِیَہ، چکڑالوی، غیر مُقَلّد وغیرہ بدمذہب گروہوں کے بعض عقائد بدعَتِ اِعتقادیہ ہیں۔ کیونکہ یہ سب بعد کو بنے اور یہ لوگ ان کو اسلامی عقائد سمجھتے ہیں۔ مثلاً: ان میں سے کسی کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا جُھوٹ پر قادر ہے، حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم مطلقًا غیب نہیں جانتے، حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا خیال نماز میں بیل گدھے کے خیال سے بدتر ہے مَعَاذ اللہ۔یہ تمام ناپاک عقیدے بارہویں صدی کی پیداوار ہیں، حضور پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے زمانے میں بالکل نہ تھے۔ اسی طرح بدعت عملی: ہر وہ کام ہے جو حضور پرنور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے زمانہ پاک کے بعد ایجاد ہوا خواہ وہ دنیاوی ہو یا دینی، خواہ صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان کے زمانہ میں ہو یا اس کے بھی بعد۔ البتہ عُرفِ عام میں صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان کی اِیجادات کو سنت صحابہ کہتے ہیں بدعت نہیں بولتے یہ عُرف ہے۔ ‘‘ پھر بدعَتِ عملی کی دوقسمیں ہیں: (1)…بدعَتِ حسنہ اور (2)…بدعَتِ سیئہ۔ بدعَتِ حسنہ: وہ نیا کام جو کسی سنت کے خلاف نہ ہو۔جیسے دینی مدارس اور نئے نئے عمدہ کھانے اور پریس میں قرآن ودینی کتب کا چھپوانا وغیرہ۔ بدعَتِ سیئہ: وہ کہ جو کسی سنت کے خلاف ہو یا سنت کو مٹانے والی ہو۔ جیسے کہ غیر عربی میں جمعہ وعیدین کا خطبہ پڑھنا ۔ بدعَتِ حسنہ جائز بلکہ بعض وقت مستحب اور واجب بھی ہے اور بدعَتِ سیئہ مکروہ تنزیہی یا مکروہ تحریمی یا حرام ہوتی ہے۔خلاصَۂ کلام:بدعَتِ حسنہ کی تین قسمیں ہیں: جائز، مُسْتَحَب، واجب اور بدعَتِ سیئہ کی دو قسمیں ہیں: مکروہ اور حرام۔ بدعت کی یہ کل پانچ اقسام ہوئیں: (1)…جائز، (2)…مستحب، (3)… واجب، (4)…مکروہ اور (5)…حرام۔
جائز: ہر وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور بغیر کسی نیت خیر کے کیا جائے۔ جیسے انواع اقسام کے کھانے کھانا وغیرہ۔ ان کاموں پر نہ ثواب نہ عذاب۔
مستحب: وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور اس کو عام مسلمان کارِ ثواب جانتے ہوں یا کوئی شخص اس کو نیَتِ خیر سے کرے۔ جیسے محفل میلاد شریف اور فاتحہ بزرگانِ دین کہ عام مسلمان اس کو کارِ ثواب جانتے ہیں۔ اس کو کرنے والا ثواب پائے گا اور نہ کرنے والا گناہ گار نہیں ہوگا۔
واجب: وہ نیا کام جو شرعاً منع نہ ہو اور اس کے چھوڑنے سے دین میں حرج واقع ہو۔ جیسے کہ قرآن کے اعراب اور دینی مدارس اور علْمِ نحو وغیرہ پڑھنا۔
مکروہ: وہ نیا کام جس سے کوئی سنت چھوٹ جائے۔ اگر سنت غیر مؤکّدہ چھوٹی تو یہ بدعت مکروہ تنزیہی ہے اور اگر سنت مؤکّدہ چھوٹی تو یہ بدعت مکروہ تحریمی۔
حرام: وہ نیا کام جس سے کوئی واجب چھوٹ جائے یعنی (وہ بدعت)واجب کو مٹانے والی ہو۔ (جاء الحق، ص177 تا 183 ، ملخصاً)
اعتراض اور اس کا جواب:کسی کے ذہن میں یہ اعتراض آسکتا ہے کہ حدیث پاک میں تو اس طرح کی کوئی تفصیل بیان نہیں کہ بدعت کی اتنی قسمیں ہیں اور بدعت اچھی بھی ہوتی ہے اور بُری بھی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک دوسری حدیث شریف میں اچھی اور بری بدعت کی تقسیم بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ
مروی ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’مَنْ سَنَّ فِي الْاِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهٗ اَجْرُهَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهٗ مِنْ غَيْر اَنْ يَّنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِهِمْ شَيْءٌ وَّمَنْ سَنَّ فِي الْاِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهٖ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَّنْقُصَ مِنْ اَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ یعنی جس نے اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کے لئے اس کا اجر تو ہے ہی لیکن بعد میں جو اس اچھے طریقے پر عمل کرے اس کا ثواب بھی اسے ملے گا اور ان کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا تو اس پر اس کا گناہ تو ہے لیکن بعد میں جوبھی اس برے طریقے پر عمل کرے گا اس کا گناہ بھی ایجاد کرنے والے کو ملے گا اور ان کے گناہوں میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی۔‘‘
(مسلم،کتاب العلم، باب الحث علی الصدقة ولوبشق تمرة...الخ، ص۳۹۴، حدیث:۲۳۵۱)
(نوٹ: بدعت کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے مایہ ناز تصنیف ’’جاء الحق‘‘ سے ’’بدعت کی بحث، معنیٰ، اقسام اور احکام‘‘
اور ’’فیضان ریاض الصالحین (جلد:02)‘‘ صفحہ 577 تا 588‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔ )
دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 5