- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 4
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ: ’’اِنَّ اَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهٗ فِيْ بَطْنِ اُمِّهٖ اَرْبَعِيْنَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُوْنُ عَلَقَةً مِّثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ يَكُوْنُ مُضْغَةً مِّثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيْهِ الرُّوْحَ وَيُؤْمَرُ بِاَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِهٖ وَاَجَلِهٖ وَعَمَلِهٖ وَشَقِيٌّ اَوْ سَعِيْدٌ. فَوَالَّذِيْ لَا اِلٰهَ غَيْرُهٗ اِنَّ اَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ الْجَنَّةِ حَتّٰى مَا يَكُوْنُ بَيْنَهٗ وَبَيْنَهَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا وَاِنَّ اَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ النَّارِ حَتّٰى مَا يَكُونُ بَيْنَهٗ وَبَيْنَهَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا.‘‘ (رَوَاهُ الْبُخَارِی وَمُسْلِمٌ)
عن ابي عبدالرحمن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق: ’’ان احدكم يجمع خلقه في بطن امه اربعين يوما ثم يكون علقة مثل ذلك ثم يكون مضغة مثل ذلك ثم يرسل الملك فينفخ فيه الروح ويؤمر باربع كلمات: بكتب رزقه واجله وعمله وشقي او سعيد. فوالذي لا اله غيره ان احدكم ليعمل بعمل اهل الجنة حتى ما يكون بينه وبينها الا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل اهل النار فيدخلها وان احدكم ليعمل بعمل اهل النار حتى ما يكون بينه وبينها الا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل اهل الجنة فيدخلها.‘‘ (رواه البخاری ومسلم)
حدیث ترجمہ
ترجمہ:حضرت سیِّدُنا ابو عبدالرحمٰن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صادق ومصدوق(یعنی سچے اور تصدیق کئے ہوئے) نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہم سے بیان فرمایا: ’’تمہاری پیدائش (کے مادہ یعنی نطفہ) کو ماں کے پیٹ میں 40 دن تک جمع کیا جاتا ہے، پھر 40 دن جما ہوا خون، پھر40 دن تک مُضْغَہ (گوشت کے لوتھڑے) کی صورت میں رہتا ہے، پھر اللہ پاک اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے، وہ اس میں روح پھونکتا ہےاور اسے چارچیزیں لکھنے کا حکم دیتا ہے:اس کا عمل، اس کی موت کا وقت، اس کا رزق اور وہ نیک ہے یا بدبخت۔ پس اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! بےشک تم میں سے کوئی جنتیوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت اور اس کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پس تقدیراس پر غالب آ جاتی ہے تو وہ جہنمیوں جیسے عمل کر کے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور بےشک تم میں کوئی جہنمیوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پس تقدیر اس پرغالب آ جاتی ہے اور وہ جنتیوں جیسے عمل کرکے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔‘‘
(بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکة، ۲/ ۳۸، حدیث:۳۲۰۸، بتغیر قلیل۔مسلم، كتاب القدر، باب کیفیة الخلق الادمی، ص ۱۰۹۰، حدیث:۶۷۲۳)
شرح حدیث
صادِق و مَصدُوق کسے کہتے ہیں؟مذکورہ حدیث شریف میں حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے دو اوصاف ’’صادق و مصدوق‘‘ بیان فرمائے، ان کی وضاحت کرتے ہوئے مشہور شارح حدیث، حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’صادق وہ جس کے سارے اقوال سچے ہوں ، مصدوق وہ جس کے سارے اعمال سچے ہوں۔ یا صادق وہ جوہوش سنبھال کر سچ بولے اور مصدوق وہ جو پہلے ہی سے سچا ہو۔ یا صادق وہ جو واقع کے مطابق خبردے اور مصدوق وہ کہ جو وہ اپنی زبان مبارک سے کہہ دے واقعہ اُس کے مطابق ہوجائے۔ حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) میں یہ سارے اوصاف جمع ہیں۔(مراۃ المناجیح، 1/ 93)مختلف مراحل میں انسانی تخلیق کی حکمتیں :حدیث پاک کے شروع میں انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل بیان کئے گئے ہیں جیسے: ’’ ماں کے پیٹ میں 40 دن تک نطفہ کی صورت میں، پھر 40 دن جما ہوا خون، پھر40 دن گوشت کا لوتھڑاوغیرہ اور پھر اس میں روح پھونکنے کا مرحلہ‘‘اتنے مراحل کیوں رکھے گئے ؟ حالانکہ اللہ پاک اس بات پر قادر ہے کہ آن کی آن میں انسان کو پیدا فرمادے۔ انسان کی اس مرحلہ وار تخلیق میں بےشمار حکمتیں ہیں۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا علامہ بدر الدین عینی رحمۃُ اللہ علیہ انسانی تخلیق کے ان مراحل کی حکمتیں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ (1)… اگر اللہ پاک انسان کو یک دم پیدا کر دیتا تو اس میں اس کی ماں کے لئے بہت دشواری ہوتی کیونکہ وہ اس چیز کی عادی نہیں اور بسااوقات تو ماں کے ہلاک ہونے کا بھی اندیشہ ہوجاتا۔ اس لیے پہلے نطفہ بنایا، جب اسے اس کی عادت ہوگئی تو اسے جما ہوا خون کردیا ، پھر اس طرح مراحل طے کر کے بچہ مکمل کردیا۔ (2)… انسان کو مرحلہ وار پیدا کرنے میں اللہ پاک کی قدرت اور نعمت کا اظہار ہے تاکہ بندے اللہ پاک کی عبادت کریں اور اس کا شکر بجالائیں کہ اس نے کیسے کیسے مراحل سے گزار کر کتنی اچھی صورت میں پیدا فرما کر عقل ، فہم اور ذہانت و فطانت سے نوازا۔ (3)… اس میں لوگوں کو اس بات پر تنبیہ ہے کہ اللہ پاک کو حشر و نشر پرکمال قدرت حاصل ہے کہ جس طرح وہ انسان کو ایک بے قدرپانی سے پیدا کرنے پر قادر ہے اسی طرح وہ مر کر مٹی بن جانے والے انسان کو دوبارہ اُٹھانے اور حشر میں اس سے حساب و کتاب لینے پر بھی قادر ہے ۔‘‘ (عمدة القاری، کتاب بدء الخلق ، باب ذکر الملائکة، ۱۰ / ۵۷۱ ، تحت الحدیث: ۳۲۰۸)
40میں انقلاب ہے:صوفیائے کرام فرماتے ہیں:چونکہ آدم علیہِ السّلام کا خمیر چالیس سال اورموسیٰ علیہِ السّلام کا قیام طور پر چالیس دن رہا، اس لیئے نطفہ پر ہرچلہ (40 دن)کے بعد انقلاب آتا ہے،پھر بعد پیدائش نِفاس کی مدت چالیس دن ہے،کمالِ عقل چالیس سال میں ہوتا ہے۔(مراۃ المناجیح، 1/ 93)کاتِبِ تقدیر فرشتے کا علم:حدیث پاک میں ہے کہ ’’پھر اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجا جاتا ہے اور اسے چار چیزیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے: اس کا عمل، اس کی موت کا وقت، اس کا رزق اور وہ نیک ہے یا بدبخت‘‘یعنی کاتبِ تقدیر فرشتہ جو رحموں پرمتعین ہے ایک ہی فرشتہ جو سارے عالَم کی حاملہ عورتوں کا نگران ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ حاضروناظرہے۔(اسے بھیجا جاتا ہے اور وہ لکھتا ہے)کہ یہ کیا کرے گا،کب اور کہاں مرے گا،کیا کیا کھائے گا اور کیا پیئے گا،اس کا خاتمہ کفر پر ہوگا،یا ایمان پر۔ خیال رہے کہ یہ چیزیں ان علوم خمسہ (پانچ علوم) میں سے ہیں جس کے بارے میں فرمایا گیا:’’وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ(پ ۷، الانعام:۵۹ ، ترجمہ کنزالایمان:اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی)۔ ‘‘یہ (کاتب تقدیر)فرشتہ بتعلیم الٰہی (اللہ پاک کی عطا سے)سارے انسانوں کی یہ ساری چیزیں جانتا ہے۔مرقاۃ میں ہے کہ یہ باتیں ایک تختی پرلکھ کر بچے کے گلے میں ڈال دیتا ہے ربِّ کریم ارشاد فرماتا ہے:’’ وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىٕرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖؕ-(پ ۱۵، بنی اسرائیل:۱۳ ، ترجمہ کنزالایمان:اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے سے لگا دی ہے)۔ ‘‘غور کرو جب اُس فرشتے کا اس قدر علم ہے تو ہمارے نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم جو اعلَمُ الخلق (مخلوق میں سب سے زیادہ علم والے) ہیں ان کا علم تو ہمارے خیالات سے ورا ہے اور یہ تختی پر لکھنا اور گلے میں ڈالنا اسی لئےہے کہ حقیقت میں نگاہیں اسے پڑھ سکیں۔خیال رہے کہ تحریر لوح محفوظ میں بھی ہوتی ہے اور شب قدر میں فرشتوں کے صحائف میں بھی ہے اور بچے کی پیشانی یا گلے کی تختی یا ہاتھ میں بھی ہے مگر یہ تحریر مختلف ہیں۔(مراۃ المناجیح، 1/ 93،ملخصاً)
انسانی تخلیق کے ان مراحل کو اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں بھی بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍ(12)ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّـكِیْنٍ(13) ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاۗ-ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَؕ-فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَﭤ(14) ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَﭤ(15)ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ(16)(پ ۱۸، المؤمنون: ۱۲ تا ۱۶) ترجمہ کنزالایمان: اور بےشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے بنایا پھر اُسے پانی کی بوند کیا ایک مضبوط ٹھہراؤ میں پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں پھر اُن ہڈیوں پر گوشت پہنایا پھر اسے اور صورت میں اُٹھان دی تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بنانے والا ہے پھر اُس کے بعد تم ضرور مرنے والے ہو پھر تم سب قیامت کے دن اُٹھائے جاؤ گے۔انسان کی پیدائش میں چار طریقے اختیار فرمائے گئے :مذکورہ حدیث شریف اور آیاتِ طیبہ میں انسان کی پیدائش کے مراحل کا بیان ہے۔ مزید یہ کہ خلّاقِ عالَم جَلَّ جَلَالُہ نے انسانوں کو چار طریقوں سے پیدا فرمایا ہے: (1)… مرد وعورت دونوں کے ملاپ سے، جیساکہ عام طور پر انسانوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں صاف صاف اعلان ہے :اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ﳓ(پ ۲۹، الدھر: ۲) ترجمہ کنزالایمان: بےشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا ملی ہوئی منی سے۔
(2)… تنہا مرد سے ایک انسان پیدا ہو: اور وہ حضرت حواء رضی اللہ عنہا ہیں کہ اللہ پاک نے ان کو حضرت آدم علیہِ السّلام کی بائیں (الٹی جانب کی)پسلی سے پیدا فرمادیا۔(3)… تنہا ایک عورت سے ایک انسان پیدا ہو:اور وہ حضرت عیسیٰ علیہِ السّلام ہیں جو کہ پاک دامن کنواری بی بی مریم رحمۃُ اللہ علیہا کے شکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔(4)… بغیر مرد و عورت کے بھی ایک انسان کو خداوند ِ قدوس نے پیدا فرما دیا اور وہ انسان حضرت آدم علیہِ السّلام ہیں کہ اللہ پاک نے ان کو مٹی سے بنا دیا۔
ان واقعات سے مندرجہ ذیل اسباق کی طرف راہنمائی ہوتی ہے کہ خداوند ِ قدوس ایسا قادر و قیّوم اور خلاّق(پیدا کرنے والا) ہے کہ انسانوں کو کسی خاص ایک ہی طریقے سے پیدا فرمانے کا پابند نہیں ہے، بلکہ وہ ایسی عظیم قدرت والا ہے کہ وہ جس طرح چاہے انسانوں کو پیدا فرما دے۔ چنانچہ مذکورہ بالا چار طریقوں سے اس نے انسانوں کو پیدا فرمادیا۔ جو اس کی قدرت و حکمت اور اس کی عظیم الشان خلاّقیت کا نشانِ اعظم ہے۔سُبْحٰنَ اللہ! خداوند ِ قدوس کی شانِ خالقیت کی عظمت کا کیا کہنا؟ جس خلّاقِ عالَم نے کرسی و عرش اور لوح و قلم اور زمین و آسمان کو ’’کُن‘‘ فرما کر موجود فرما دیا اس کی قدرتِ کاملہ اور حکمَتِ بالِغَہ کے حضور خلقَتِ انسانی کی بھلا حقیقت و حیثیت ہی کیا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ تخلیْقِ انسان اس قادر مطلق کا وہ تخلیقی شاہکار ہے کہ کائناتِ عالَم میں اس کی کوئی مثال نہیں۔ کیونکہ وجودِ انسان عالَمِ خلق کی تمام مخلوقات کے نمونوں کا ایک جامع مُرقَّع ہے۔ اللہ اَکْبَر!کیا خوب ارشاد فرمایا مولائے کائنات حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ
اَتَحْسِبُ اِنَّکَ جِرْمٌ صَغِیْرٌ وَّفِیْکَ اِنْـطَوَی الْعَالَمُ الْاَکْبَرُترجمہ:اے انسان! کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے؟ حالانکہ تیری عظمت کا یہ حال ہے کہ تیرے اندر عالَمِ اکبر سمٹا ہوا ہے۔
ممکن تھا کہ کوئی مرد یہ خیال کرتا کہ اگر ہم مردوں کی جماعت نہ ہوتی تو تنہا عورتوں سے کوئی انسان پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی طرح ممکن تھا کہ عورتوں کو یہ گمان ہوتا کہ اگر ہم عورتیں نہ ہوتیں تو تنہا مردوں سے کوئی انسان پیدا نہ ہوتا۔ اسی طرح ممکن تھا کہ عورت و مرد دونوں مل کر یہ ناز کرتے کہ اگر ہم مردوں اور عورتوں کا وجود نہ ہوتا تو کوئی انسان پیدا نہیں ہوسکتا تھا تو اللہ پاک نے چاروں طریقوں سے انسانوں کو پیدا فرما کر عورتوں اور مردوں دونوں کا منہ بند کردیا کہ دیکھ لو، ہم ایسے قادر و قیّوم ہیں کہ حضرت حواء رضی اللہ عنہا کو تنہا مرد یعنی حضرت آدم علیہِ السّلام کی پسلی سے پیدا فرما دیا۔ لہٰذا اے عورتو! تم یہ گمان مت رکھو کہ اگر عورتیں نہ ہوتیں تو کوئی انسان پیدا نہ ہوتا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہِ السّلام کو تنہا عورت کے شکم سے بغیر مرد کے پیدا فرما کر مردوں کو تنبیہ فرما دی کہ اے مردو! تم یہ ناز نہ کرو کہ اگر تم نہ ہوتے تو انسانوں کی پیدائش نہیں ہو سکتی تھی۔ دیکھ لو! ہم نے حضرت عیسیٰ علیہِ السّلام کو تنہا عورت کے شکم سے بغیر مرد کے پیدا فرمادیا اور حضرت آدم علیہِ السّلام کو بغیر مرد و عورت کے مٹی سے پیدا فرما کر عورتوں اور مردوں کا منہ بند فرمادیا کہ اے عورتو اور مردو! تم کبھی بھی اپنے دل میں خیال نہ لانا کہ اگر ہم دونوں نہ ہوتے تو انسانوں کی جماعت پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ دیکھ لو!حضرت آدم علیہِ السّلام کے نہ باپ ہیں نہ ماں، بلکہ ہم نے ان کو مٹی سے پیدا فرمادیا۔سُبْحٰن اللہ!سچ فرمایا اللہ جَلَّ جَلَالُہ نے کہاللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ(16)(پ ۱۳، الرعد: ۱۶) ترجمہ کنزالایمان: اللہ ہر چیز کا بنانے والا ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے۔
وہ جس کو چاہے اور جیسے چاہے اور جب چاہے پیدا فرما دیتا ہے۔ اس کے افعال اور اس کی قدرت کسی اسباب و علل، اور کسی خاص طور طریقوں کی بندشوں کے محتاج نہیں ہیں۔(عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص243،ملخصاً)تقدیرِ اِلٰہی سے متعلق اہم وضاحت :مذکورہ حدیث پاک میں تقدیر کے متعلق بیان ہوا کہ ’’بندہ جنتیوں جیسے اعمال کرتا ہے لیکن اس کا خاتمہ جہنمیوں والے اعمال پر ہوتا ہے اور اسی طرح کوئی بندہ جہنمیوں جیسے اعمال کرتا ہے لیکن اس کا خاتمہ جنتیوں جیسے اعمال پر ہوتا ہے‘‘اس سے ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ جب اللہ پاک نے سب کی تقدیر پہلے ہی سے لکھ دی ہے کہ کون خوش بخت ہے اور کون بدبخت، کون جنتی ہے اور کون جہنمی تو پھر یہ سزا و جزا کا معاملہ کیوں رکھاگیا؟اس کا جواب یہ ہے کہ تقدیر کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ جو اللہ پاک نے لکھ دیا ہے وہی ہمیں کرنا پڑتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ، بلکہ اس دنیا میں آکر جس نے جو کرنا تھا اللہ پاک نے اپنے عِلمِ اَزَلی سے جان لیا اور وہی لکھ دیا ۔ چنانچہ صدرُالشریعہ، بدرُالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ہر بھلائی ، بُرائی اُس (یعنی اللہ پاک)نے اپنے عِلمِ اَزَلی کے موافق مقدّر فرما دی ہے ، جیسا ہونے والا تھا اورجو جیسا کرنے والا تھا ، اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اُس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے ، بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ، ویسا اُس نے لکھ دیا ۔ زید کے ذِمّہ بُرائی لکھی اس لیے کہ زید برائی کرنے والا تھا ، اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا وہ اُس کے لیے بھلائی لکھتا تو اُس کے علم یا اُس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کر دیا۔‘‘ (بہار شریعت، حصہ1، 1/ 11)خوف اور امید کے درمیان رہو:حدیث شریف کے آخر میں ’’انسان کے اچھے اور برے خاتمے کا بیان ہے‘‘لہٰذا مؤمن کو ہر وقت اپنے خاتمہ کے لیے ڈرتے رہنا چاہئے، نیز جو نیک اعمال کرے اسے فخر نہیں کرناچاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ساری زندگی نیک اعمال کرے اور آخری ایام میں نیکیوں کو چھوڑ کر گناہوں بھرے کام کر کے جہنم میں داخل ہوجائے ۔ چنانچہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’( کوئی) ایمان لاکر متقی بن کے مرتا ہے، لہٰذا کوئی بدکار ربِّ کریم سے مایوس نہ ہو اور کوئی نیک کار اپنے تقویٰ پرفخر نہ کرے۔ اللہ پاک اچھا خاتمہ نصیب فرمائے(آمین)۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 93،ملخصاً)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 4