Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 26

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’كُلُّ سَلَامٰى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيْهِ الشَّمْسُ یَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَّیُعِيْنُ الرَّجُلَ فِيْ دَابَّتِهٖ فَیَحْمِلُهٗ عَلَيْهَا اَوْ یَرْفَعُ لَهٗ عَلَيْهَا مَتَاعَهٗ صَدَقَةٌ وَّالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَّبِكُلِّ خُطْوَةٍ یَّمْشِيْهَا اِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَّیُمِيْطُ الْاَذٰى عَنِ الطَّرِيْقِ صَدَقَةٌ.‘‘(رَوَاهُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ)

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ’’كل سلامى من الناس عليه صدقة كل يوم تطلع فيه الشمس یعدل بين اثنين صدقة ویعين الرجل في دابته فیحمله عليها او یرفع له عليها متاعه صدقة والكلمة الطيبة صدقة وبكل خطوة یمشيها الى الصلاة صدقة ویميط الاذى عن الطريق صدقة.‘‘(رواه البخاری ومسلم)

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسُوْلُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ہر وہ دن جس میں سورج طلوع ہو(یعنی روزانہ) انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے،دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرانے یا اس کا سامان رکھوانے پر مدد کرنا صدقہ ہے، اچھی گفتگو صدقہ ہے، نماز کی طرف اٹھنےوالا ہر قدم صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا صدقہ ہے۔‘‘
(مسلم، كتاب الزکاة، باب بیان ان اسم الصدقة یقع...الخ، ص۳۹۱، حدیث:۲۳۳۵۔ بخاری، کتاب الجھاد، باب فضل من حمل متاع صاحبہ فی السفر، ۲/ ۲۷۹، حدیث:۲۸۹۱، بتغیر قلیل)

شرح حدیث

کیا ہر انسان پرصدقہ کرنا واجب ہے؟حضرت سیِّدُنا علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ علمائے کرام رحمۃُ اللہ علیہم فرماتے ہیں: انسان پر صدقہ کرنا واجب یا لازم نہیں بلکہ مستحب ہے اور یہ فرمانِ عالی ترغیب کے لئے ہے۔
(شرح مسلم للنووی، کتاب الزکٰوة، باب بیان ان اسم الصدقة یقع...الخ، الجزء السابع، ۴/ ۹۵)
انسان کے بدن میں360جوڑ ہیں:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’ہر وہ دن جس میں سورج طلوع ہو(یعنی روزانہ) انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے ‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: انسان کے بدن میں 360 جوڑ ہیں۔ اگرچہ ہمارا ہر رونگٹا اللہ پاک کی نعمت ہے لیکن ہر جوڑ اس کی بے شمار نعمتوں کا مظہر ہے اس لیے خصوصیت سے اس کا شکریہ ضروری ہوا۔صدقہ سے مراد نیک عمل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص پر اخلاقًا دیانۃً لازم ہے کہ روزانہ ہر جوڑ کے عوض (بدلے) کم از کم ایک نفل نیکی کیا کرے اس حساب سے روزانہ 360 نیکیاں کرنی چاہئیں تاکہ ا س دن جوڑوں کا شکریہ ادا ہو، سورج چمکنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ سورج تو ہرشخص پر چمکتا ہے تو شکریہ بھی ہرشخص پر ہے۔ (مراٰۃ المناجیح،3/97، ملخصاً)انسان کی قید کیوں لگائی؟مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: انسان کی اس لیے قید لگائی تاکہ اس سے فرشتے اور جنات نکل جائیں کہ نہ ان کے جسموں میں اتنے جوڑ ہیں نہ ان کے یہ احکام۔ ہمارے یہ جوڑ، انگلی کے پوروں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک ہیں اگر ان میں سے ایک جوڑ خراب ہوجائے تو زندگی دشوار ہوجائے۔ قدرت نے ہڈی کو ہڈی میں اس طرح پیوست کیا ہے کہ کواڑ کی چول کی طرح ہڈی گھومتی، ہلتی ہے اس کے باوجود نہ گھستی ہے نہ خراب ہوتی ہے۔(مراٰۃ المناجیح،3/97)ہر ہر نعمت کا شکر ادا کرو:علامہ بدر الدین عینی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ انسان کے جوڑ اس کے وجود کی اصل ہیں اور ان سے منافع حاصل ہوتے ہیں کیونکہ انہیں کے ذریعے انسان حرکت کرتا ہے ۔ یہ انسان پر اللہ پاک کی عظیم نعمتیں ہیں، لہٰذا جسے نعمت ملے اس پر لازم ہے کہ ہر ہر نعمت کا شکرادا کرےاور صدقہ دے۔ اللہ پاک نے اپنے بندوں پر لطف و کرم فرمایا کہ لوگوں کے درمیان عدل کرنے کو صدقہ قرار دیا۔
(عمدة القاری، کتاب الصلح، باب فضل الاصلاح بین الناس والعدل بینھم، ۹/ ۶۰۲، تحت الحدیث:۲۷۰۷)
اللہ پاک کی نصیحت:لوگوں کے درمیان عدل وانصاف کرنے کا حکم قرآن مجید میں بھی دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ(پ ۵، النسآء:۵۸)
ترجمہ کنزالایمان: اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بےشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے۔
عدل وانصاف کرنے کا انعام:لوگوں کے درمیان عدل وانصاف کرنے سے تقویٰ کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ چنانچہ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ٘-وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْاؕ-اِعْدِلُوْا- هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى٘(پ ۶، المآئدة:۸)
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو اللہ کے حکم پر خوب قائم ہو جاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے اور تم کو کسی قوم کی عداوت (دشمنی) اس پر نہ ابھارے کہ انصاف نہ کرو انصاف کرو وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے۔
ہر ہر کام رضائے الٰہی کے لئے ہو:مشہور شارح حدیث، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرانے یا اس کا سامان رکھوانے پر مدد کرنا صدقہ ہے ‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: تہذیْبِ اَخلاق، تدبیرِ منزل، سیاسَتِ مدنی، لوگوں سے اچھے برتاؤ (کرنا)صدقہ ہیں بشرطیکہ رضائے الٰہی کے‏∞لیے ہوں ۔ہر معمولی سے معمولی کام جب ادائے سنت کی نیت سے کیا جائے گا تو وہ بڑا ہوجائے گا، کیونکہ منسوب اگرچہ چھوٹا ہے مگر منسوب الیہ جن کی طرف نسبت ہے (یعنی حضور نبی کریم) صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم وہ تو بڑے ہیں۔
(مراٰۃ المناجیح،3/97)
اچھی گفتگو صدقہ ہے:حافظ ابن بطّال رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’اچھی گفتگو صدقہ ہے‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: اچھی گفتگو نیکی کے عظیم کاموں میں سے ہے۔ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اچھی گفتگو کو مالی صدقہ کی مثل قرار دیا ہے۔ کیونکہ جس طرح مالی صدقہ کرنے سے جس پرصدقہ کیا گیا ہو اس کادل خوش ہوتا ہے اسی طرح اچھی گفتگو کرنے سے بھی مومن کا دل خوش ہوتا ہے۔(شرح بخاری لابن بطال، کتاب ، باب ، ۹/ ۲۲۵)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ ایک حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: صدقہ صرف مال ہی سے نہیں ہوتا بلکہ ہر معمولی نیکی اگر اخلاص سے کی جائے تو اس پر صدقہ کا ثواب ملتا ہے حتّٰی کہ مسلمان بھائی سے میٹھی اور نرم باتیں کرنا بھی صدقہ ہے۔اب کوئی فقیر بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں صدقہ پر قادر نہیں۔(مراٰۃ المناجیح،3/95)
باقی رہنے والی اچھی باتیں:حضرت سیِّدُنا قاسم بن ولید رحمۃُ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا قتادہ بن دعامہ رحمۃُ اللہ علیہ نے اس فرمان باری تعالیٰ:وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ(پ۱۵، الکھف:۴۶)ترجمہ کنزالایمان: اور باقی رہنے والی اچھی باتیں۔ کی تفسیر میں فرمایا: ’’ہر وہ نیک عمل جس کے ذریعے رضائے الٰہی کا اراد کیا جائے وہ باقی رہنے والی اچھی باتوں میں سے ہے۔‘‘(در منثور، پ۱۵، الکھف، تحت الایة:۴۶، ۵/ ۳۹۹)بہترین بندہ کون؟مروی ہے کہ کسی نے حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے پوچھا کہ بہترین بندہ کون ہے ؟ تو آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک سے ڈرنے والا، صِلَہ رِحمی (یعنی رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک) کرنے والا، اچھی باتیں بتانے والا اور برائیوں سے روکنے والا۔‘‘(الزھد الکبیر للبیھقی، ص۳۲۷، حدیث:۸۷۷)نیکی کے لئے اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’نماز کی طرف اٹھنےوالا ہر قدم صدقہ ہے ‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: نماز کا ذکر مثالاً ہے ورنہ طواف، بیمار پُرسی، جنازہ میں شرکت، علم دین کی طلب غرضکہ ہر نیکی کے‏∞لیے قدم ڈالنا صدقہ ہے۔(مراٰۃ المناجیح،3/97)ہر ہر قدم پر نیکی:حدیث میں ہے کہ ’’جو شخص اچھی طرح طہارت (وضو) کرے پھر مسجد کو جائے تو جو قدم چلتا ہے، ہر قدم کے بدلے اللہ پاک نیکی لکھتا، درجہ بلند کرتا اور گناہ مٹا دیتا ہے۔‘‘
(مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب صلاة الجماعة من سنن الھدی، ص۲۵۷، حدیث:۱۴۸۸)
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’جس نے گِن کر طواف کے سات پھیرے کئے اور پھر دو رکعتیں ادا کیں یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے اور طواف کرتے ہوئے آدمی کے ہر قدم کے بدلے اس کے لئے 10نیکیاں لکھی جاتیں، 10 گناہ مٹا دیئے جاتے اور 10درجات بلند کر دیئے جاتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد، ۲/ ۲۰۲، حدیث:۴۴۶۲)ایک روایت میں ہے: ’’جو جمعہ کے دن نہائے، جلدی آئے، شروع خطبہ میں شریک ہو اور پیدل آئے، امام سے قریب ہو اور کان لگا کر خطبہ سنے، کوئی لغو کام نہ کرے تو اس کے لئے ہر قدم کے بدلے سال بھر کے عمل اور ایک سال کے دنوں کے روزوں اور راتوں کے قیام کا اجر ہے۔‘‘ (مسند احمد، حدیث اوس بن ابی اوس الثقفی، ۵/ ۴۶۵، حدیث:۱۶۱۷۳)
حضرت سیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے گھر مسجد سے دور تھے، ہم نے اپنے گھروں کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا تاکہ مسجد کے قریب ہوجائیں تو رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہمیں منع فرما دیا اور ارشاد فرمایا: ’’تمہارے لئے ہرقدم کے بدلے ایک درجہ ہے۔‘‘(مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة ، باب فضل کثرة الخطا الی المساجد، ص۲۶۲، حدیث:۱۵۱۸)
لوگوں کو تکلیف دہ چیز سے بچانا بھی صدقہ ہے:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا بھی صدقہ ہے‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: راستہ سے کانٹا، ہڈی، اینٹ، پتھر، گندگی غرض جس سے کسی مسلمان راہ گیر کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو ہٹا دینا بھی نیکی ہے جس پر صدقہ کا ثواب اور جوڑ کا شکریہ ہے۔ (مراٰۃ المناجیح،3/97)راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنے کا اجر:حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو کسی مریض کی عیادت کرے، اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے یا راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز دور کرے تو اسے 10 گنا اجر ملے گا۔‘‘(مصنف ابن ابی شیبة، کتاب الادب، باب فی تنحیة الاذی عن الطریق، ۱۳/ ۴۲۸، حدیث:۲۶۸۷۲)
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے جنت میں ایک شخص کو ٹہلتے دیکھا جس نے دنیا میں مسلمانوں کے راستے سے اس درخت کو کاٹ دیا تھا جو ان کی تکلیف کا باعث تھا۔‘‘(مسلم، کتاب البر والصلة، باب فضل ازالة الاذی عن الطریق، ص۱۰۸۱، حدیث:۶۶۷۱)
حضرت سیِّدُنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس سے میں نفع اٹھاؤں۔ تو آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دو۔‘‘ (مسلم، کتاب البر والصلة، باب فضل ازالة الاذی عن الطریق، ص۱۰۸۲، حدیث:۶۶۷۳)
حضرت سیِّدُنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو مسلمانوں کے راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز دور کرتا ہے تو اللہ پاک اس کے بدلے میں اس شخص کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور جس کے لئے اللہ پاک ایک نیکی لکھ دے تو اس کے لئے اس نیکی کی وجہ سے جنت واجب فرما دیتا ہے۔‘‘
(مسند احمد، حدیث ابی الدرداء، ۱۰/ ۴۱۵، حدیث:۲۷۵۴۹)
دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 26