Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 11

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مُحَمَّدِنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ سِبْطِ رَسُوْلِ اللہ وَرَیْحَانَتِہٖ رَضيَ اللهُ عَنْهُ مَا قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَّسُوْلِ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’دَعْ مَا یَرِیْبُکَ اِلٰی مَا لَا یَرِیْبُکَ.‘‘(رَوَاهُ التِّرْمِذِیُّ وَالنِّسَائِیُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ)

عن ابي محمدن الحسن بن علی بن ابی طالب سبط رسول اللہ وریحانتہ رضي الله عنه ما قال: حفظت من رسول اللہ صلى الله عليه وسلم : ’’دع ما یریبک الی ما لا یریبک.‘‘(رواه الترمذی والنسائی. وقال الترمذی حديث حسن صحیح)

حدیث ترجمہ

خوشبوئے مصطفٰے، جگر گوشَۂ رسول حضرت سیِّدُنا ابو محمد حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے (سن کر)یہ بات یاد کی کہ ’’جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کر جو تجھے شک میں نہ ڈالے۔‘‘
(ترمذی، كتاب صفة القیامة والرقائق والورع، ۴/ ۲۳۲، حدیث:۲۵۲۶ ۔ نسائی، کتاب الاشربة، باب الحث علی ترک الشبھات، ص۹۰۰، حدیث:۵۷۲۲)
(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی اور حضرت سیِّدُنا امام ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب بن علی خراسانی نسائی رحمۃ اللہ علیہما نے (ترمذی ونسائی میں) روایت کیا ہے اور حضرت سیِّدُنا امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: (اصولِ حدیث کی رو سے) یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

شرح حدیث

بچوں کا حدیث پاک روایت کرنا:مشہور شارحِ حدیث، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں لکھتے ہیں: ’’ظاہر یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ نے بِلاواسطہ حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے یہ سنا اور یاد کیا، کیونکہ حضور ِاَنور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی زندگی شریف میں حضرت سیِّدُنا امام حَسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ قدرے سمجھدار تھے اور بچوں کا حدیث سننا معتبر ہے جب کہ کچھ سمجھدار ہوں اور ہوسکتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے سنا ہو، چونکہ یہ قولِ رسول تھا، اس لئے اسے حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی طرف نسبت فرمادیا، جیسے ہم کہہ دیتے ہیں کہ حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہ فرمایا ،یا ہمیں حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا یہ فرمان یاد ہے۔‘‘(مراٰۃ المناجیح، 4/234 ،ملخصاً)مذکورہ حدیث شریف کا معنیٰ:حضرت سیِّدُنا ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اس حدیث شریف کا معنیٰ یہ ہے کہ جس کے حلال ہونے میں تجھے شک ہے اسے چھوڑدے اور جس کے حلال ہونے میں شک نہیں اسے اختیار کر۔‘‘
(ریاض الصالحین، باب الورع وترک الشبھات، ص ۱۸۴، تحت الحدیث:۵۹۳)
مومن کا دل صحیح کام پر ہی مطمئن ہوتا ہے:حضرت سیِّدُنا امام شرف الدین حسین بن محمد بن عبد اللہ طیبی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی چیز میں تمہیں شک ہو جائے تو اسے چھوڑ کر وہ کام کرو جس میں کوئی شک نہ ہو یعنی جب تمہارا نفس کسی کام کے بارے میں شک میں پڑ جائے تو اسے چھوڑ دو کیونکہ مومن کا نفس سچی بات پر مطمئن ہوتا ہے اور کسی کام پر نفس کا مطمئن نہ ہونا اُس کام کے باطل ہونے کی دلیل ہے، لہٰذا اس کام کو کرنے سے بچو اور کسی کام پر نفس کا مطمئن ہوجانا اس کام کے صحیح ہونے کی دلیل ہے، لہٰذا اس کام کو کرلو۔ لیکن یہ بات ان نفوسِ قدسیہ کے ساتھ خاص ہے جن کے دل گناہوں کی گندگی اور برائیوں کے میل سے پاک ہیں (یعنی یہ حکم ہر ایک کے لیے نہیں عام لوگوں کو حکم یہی ہے کہ وہ اپنے معاملات کی رہنمائی علمائے دین سے لیں)۔(شرح الطیبی، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال، ۶/ ۲۰، تحت الحدیث:۲۷۷۳)مشکوک چیزوں سے بچنے کا حکم:حدیث پاک میں ہے:’’جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ دے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الرؤوف مناوی رحمۃُ اللہ علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں: تجھے کسی چیز کے اچھا یا بُرا ہونے، اسی طرح حلال یا حرام ہونے میں شک ہو تو اسے چھوڑ دے اور اس کو اختیار کر جس کے اچھا اور حلال ہونے میں تجھے یقین ہو کہ مشکوک چیز کو چھوڑ کر واضح حلال کی طرف پھر جانا چاہئے کیونکہ جو شبہات سے بچتا ہے وہ اپنا دین اور عزت بچا لیتا ہے۔ (تیسیر شرح جامع صغیر، ۲/ ۷، ملخصًا)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے اس جز ’’شک میں ڈالنے والی چیزوں کو چھوڑ دے“ کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی جو کام یا کلام تمہارے دل میں کھٹکے کہ نہ معلوم حرام ہے یا حلال، اسے چھوڑ دو اور جس پر دل گواہی دے کہ یہ ٹھیک ہے اسے اختیار کرو، مگر یہ ان حضرات کے لئے ہے جو امام حَسَن ( رضی اللہ عنہ ) جیسی قوتِ قُدْسِیَہ و عِلمِ لَدُنّی والے ہوں جن کا فیصلَۂ قلب کتاب و سنت کے مطابق ہو عام لوگ یا جو نفسانی و شیطانی وَہمیات میں پھنسے ہوں ان کے لئے یہ قاعدہ نہیں، بعض لاپروا لوگ قطعی حراموں میں کوئی تَرَدُّد (شک) نہیں کرتے اور بعض وَہم پرست جائز چیزوں کو بلاوجہ حرام و مشکوک سمجھ لیتے ہیں ان کے لئے یہ قاعدہ نہیں ہے ۔(مراٰۃ المناجیح، 4/234)
ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’متقی کو چاہئے کہ شبہے والے مال سے اس طرح بچے جیسے حرام سے بچتا ہے اور ایسا کھانا کھائے جس پر اس کا دل اور نفس مطمئن ہو۔‘‘ (شرح الاربعین النوویہ، الحدیث الحادی عشر، ص۶۲، ملخصًا)
حکایت: اپنا دینار بھی چھوڑ دیامنقول ہے کہ ایک بزرگ رحمۃُ اللہ علیہ کا ایک دینار گر گیا، وہ اسے ڈھونڈنے لگے ، انہیں ایک ساتھ دو دینار ملے لیکن انہیں یہ پتا نہ چلا کہ اُن کا دینار کون سا ہے تو انہوں نے (مشکوک ہو جانے کی وجہ سے) دونوں دینار چھوڑ دیئے۔
(قوت القلوب، الفصل الثامن والاربعون، ۲/ ۴۷۸)
دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 11