- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 32
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ سَعْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ سِنَانِ الْخُدَرِيِّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’لَاضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ.‘‘
(حَدِيْثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه، وَالدَّارُقُطْنِیُّ وَغَيْرُهُمَا مُسْنَدًا وَرَوَاهُ مَالِكٌ رَحِمَہُمُ اللّٰہ تعالٰی فِی الْمُوَطَّا عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيٰى عَنْ اَبِيْهٖ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا فَاَسْقَطَ اَبَا سَعِيْدٍ وَّلَهٗ طُرُقٌ يُّقَوِّیْ بَعْضُهَا بَعْضًا)
عن ابي سعيد سعد بن مالك بن سنان الخدري رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ’’لاضرر ولا ضرار.‘‘
(حديث حسن رواه ابن ماجه، والدارقطنی وغيرهما مسندا ورواه مالك رحمہم اللہ تعالی فی الموطا عن عمرو بن يحيى عن ابيه عن النبی صلى الله عليه وسلم مرسلا فاسقط ابا سعيد وله طرق يقوی بعضها بعضا)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابوسعید سعد بن مالک بن سنان خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ ہی (دوسروں کو) نقصان پہنچاؤ۔‘‘
(ابن ماجہ، كتاب الاحكام، باب من بنى فی حقہ ما يضر بجاره، ۳/ ۱۰۶، حدیث:۲۳۴۰ ۔ دار قطنی، کتاب الاقضیة والاحکام، ۴/ ۲۶۹، حدیث:۴۴۹۵)
(یہ حدیث حسن ہے اسے حضرت سیِّدُنا امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید بن ماجہ اور حضرت سیِّدُنا امام علی بن عمر دار قطنی رحمۃ اللہ علیہما اور دیگر محدثین نے سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ جبکہ حضرت سیِّدُنا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے موطا میں حضرت سیِّدُنا عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد حضرت سیِّدُنا یحییٰ رحمۃ اللہ علیہما کی سند سے حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم سے (آخری روای کو ذکر کئے بغیر) مرسلاً روایت کیا ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کو ذکر نہیں کیا۔ اس روایت کی اور بھی سندیں ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں۔)
شرح حدیث
’’لَاضَرَرَ وَلَاضِرَار‘‘ کا معنیٰ ومفہوم:’’لَاضَرَرَ‘‘ کا معنیٰ ہے:کوئی کسی کو نقصان نہ پہنچائے اور ’’لَاضِرار‘‘ کا معنیٰ ہے: اگر کسی سے کوئی نقصان پہنچے تو بدلے میں اسے نقصان نہ پہنچائے بلکہ عفو ودرگزر سے کام لے کہ یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اس کے اور بھی کئی معانی بیان کئے گئے ہیں۔ (الجواھراللؤلؤیة للدمیاطی، ص۴۷۰، تحت الحدیث:۳۲)
حضرت سیِّدُنا علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: تم اسے نقصان نہ پہنچاؤ جو تمہیں نقصان دے اور تم اسے گالی نہ دو جو تمہیں گالی دے، اگر کوئی تمہیں مارے تو تم اسے نہ مارو بلکہ تم بغیر گالی دیے اپنا حق حاکم کے پاس جا کر طلب کرو۔ (شرح اربعین للنووی، ص۱۱۰)بلاوجہ کسی کو نقصان پہنچانا حرام ہے:یہ حدیث پاک اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ بلاوجہ دوسروں کو تھوڑا یا زیادہ کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانا حرام ہے، لہٰذا اے میرے بھائی! تو کسی کو بھی تکلیف دینے سے بچ کہ نہ تو اسے تکلیف دے، نہ اس کے گھر والوں کو، نہ اس کے مال میں اور نہ ہی اس کی عزت کے معاملے میں اسے تکلیف پہنچا کیو نکہ یہ ظلم ہے اور اللہ پاک ظلم کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا(۱۱۱)(پ ۱۶، طٰہٰ:۱۱۱)
ترجمہ کنزالایمان: اور بےشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا۔
(الجواھراللؤلؤیة للدمیاطی، ص۴۷۱، تحت الحدیث:۳۲)
نیز احادیث مبارکہ میں بھی مسلمان کی عزت وحرمت کی حفاظت اور اسے نقصان پہنچانے اور تکلیف سے بچانے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ چنانچہبندۂ مومن کی شان وعظمت:حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کَعْبَۃُ اللہ الْمُشَرَّفَہ کا طواف کر رہے ہیں اور بَیْتُ اللہ سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرما رہے ہیں: ’’تو کتنا پاکیزہ ہے اور تیری خوشبو کس قدر مہک رہی ہے، تیری شان وعظمت کیسی ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے لیکن اس ذات کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں محمد کی جان ہے! مومن کے مال اور اس کے خون کی عزت وحرمت اللہ پاک کے نزدیک تیری عزت وحرمت سے زیادہ عظیم ہے اور ہم اس سے خیر وبھلائی کی امید ہی رکھتے ہیں۔‘‘ (ابن ماجة، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن ومالہ،۴/ ۳۱۹، حدیث:۳۹۳۲)
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ہرمسلمان کی جان، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔‘‘ (ابن ماجة، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن ومالہ،۴/ ۳۲۰، حدیث:۳۹۳۳)مسلمان کی امتیازی شان:دوسروں کو تکلیف نہ دینا تو مسلمان کی امتیازی شان اور وصف ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عَمْرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘(بخا ری،کتاب الایمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ، ۱/ ۱۵، حدیث:۱۰)
پھر زندہ تو زندہ دیْنِ اسلام تو مُردوں کو بھی ایذا وتکلیف دینے سے منع کرتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک قبر پر بیٹھا تھا کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھے دیکھ کر ارشاد فرمایا: قبر سے اتر جاؤ، قبر والے کو تکلیف نہ دو۔‘‘ (مرقاة المفاتیح، کتاب الجنائز، باب دفن المیت، الفصل الاول، ۴/ ۱۷۸، تحت الحدیث:۱۶۹۷)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 32