Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 40

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ مَا قَالَ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمنْكَبيَّ. فَقَالَ: ’’ كُنْ فِي الدُّنْيَا كَاَنَّكَ غَرِيْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِيْلٍ.‘‘ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ مَا يَقُوْلُ: اِذَا اَمْسَيْتَ فَلَاتَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ وَاِذَا اَصْبَحْتَ فَلَاتَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ. وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ. (رَوَاهُ الْبُخَارِیُّ)

عن ابن عمر رضي الله عنه ما قال: اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنكبي. فقال: ’’ كن في الدنيا كانك غريب او عابر سبيل.‘‘ وكان ابن عمر رضي الله عنه ما يقول: اذا امسيت فلاتنتظر الصباح واذا اصبحت فلاتنتظر المساء. وخذ من صحتك لمرضك ومن حياتك لموتك. (رواه البخاری)

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عُمَر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے میرے دونوں کاندھوں کو ہاتھوں میں لے کر ارشاد فرمایا: ’’دنیا میں پر دیسی یا راہ گزر (یعنی آبائی وطن سے دور رہنے والے یامسافر)کی طرح رہو۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عُمَر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرو اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار مت کرو، اپنی تندرستی میں بیماری کا حصہ لے لو اور اپنی زندگی میں موت کی تیاری کر لو۔
( بخاری، كتاب الرقاق، باب قول النبی: كن فی الدنيا كانك غريب...الخ، ۴/ ۲۲۳، حدیث:۶۴۱۶)

شرح حدیث

مذکورہ حدیث شریف کا معنیٰ ومفہوم:سیِّدُنا علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ محدثین کرام رحمۃُ اللہ علیہم مذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ دنیا کی طرف مائل نہ ہو، دنیا کو وطن نہ بناؤ، نفس کو لمبی زندگی کی امید نہ دلاؤ اور دنیا کی طرف متوجہ نہ ہو، دنیا سے صرف اتنا تعلق رکھو جتنا گھر کی طرف لوٹنے والا مسافر دوسرے وطن سے رکھتا ہے۔
(ریاض الصالحین، باب فضل الزھدفی الدنیا والحث...الخ، ص۱۴۹، تحت الحدیث:۴۷۱)
کاندھا کیوں پکڑا؟مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’میرا کاندھا پکڑ کر فرمایا‘‘ کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کندھا پکڑنا قلبی فیض دینے کے لیے تھا قلبی فیض کے بغیر نصیحت اثر نہیں کرتی۔ (مرقات)زبان سے قال دیاجاتا ہے نگاہ سے حال عطا کیا جاتا ہے صرف قال بغیر حال مفید نہیں۔(مراٰۃ المناجیح، 7/ 90)مسافر و راہ گیر کا معنیٰ ومفہوم:مفتی صاحب حدیث پاک کے جز ’’دنیا میں مسافر یا راہ گیر کی طرح رہو‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: غریب کہتے ہیں غریب الوطن مسافر کو (یعنی جو اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر دوسری جگہ ٹھہرے) اگرچہ وہ کسی جگہ چند دن ٹھہر جائے۔ مگر راہ گیر وہ ہے جو کسی جگہ دوپہری گزارنے کے لیے بیٹھ جائے۔ یہ دونوں سفر اور جنگل میں دل نہیں لگاتے تم بھی دنیا میں دل نہ لگاؤ، مسافروں کی طرح اگلی منزل کے لیے تیار رہو، دنیا منزل ہے آخرت وطن ، منزل پر کچھ دیر آرام کرلو مگر غافل ہو کر سو نہ جاؤ سفر کا سامان باندھے تیار رہو ، جب موت کی ریل آئے تمہیں تیار پائے ہر وقت اس کے منتظر رہو۔ (مراٰۃ المناجیح، 7/ 90، ملخصاً)مومن کا اصلی اور روحانی وطن:مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں: جیسے مسافر منزل اور وہاں کی زیب و زینت سے دل نہیں لگاتاکیونکہ اسے آگے جانا ہوتاہے ایسے ہی تم یہاں کے انسان اور سامان سے دل نہ لگاؤ ، ورنہ مرتے وقت ان کے چھوٹنے سے بہت تکلیف ہوگی۔ صوفیاء جو فرماتے ہیں کہ ’’حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْاِیْمَان یعنی وطن کی محبت ایمان کا رکن ہے۔‘‘ وہاں وطن سے مراد جنت ہے یعنی اصلی وطن یا مدینہ منورہ کہ وہ مومن کا روحانی وطن ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، 2/ 438)مسافر کی زندگی:حضرت سیِّدُنا علامہ بدر الدین عینی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حدیث شریف میں مسافر کی طرح زندگی گزارنے کا حکم دیا گیا ہے مسافر کی چونکہ لوگوں سے جان پہچان بہت کم ہوتی ہے اسی وجہ سے اس میں حسد، عداوت، کینہ، نفاق اور مخالفت کم ہوتی ہے اور یہ تمام رذائل لوگوں سے میل جول رکھنے کی بنا پر ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح مسافر کے پاس وہ چیزیں بھی کم ہوتیں جو اسے اللہ پاک کی یاد سے غافل کریں جیسے مال، مکانات، باغات، کھیتی اور اہل و عیال وغیرہ ۔ اسی وجہ سے حدیث پاک میں مسافر کی طرح زندگی گزارنے کا کہا گیا ہے کہ نہ وہ خود بُری صفات کا حامل ہوتا ہے اور نہ اس کے پاس وہ چیزیں ہوتی ہیں جو اسےاللہ پاک کی یاد سے غافل کریں ۔
(عمدة القاری،
کتاب الرقاق،باب قول النبی: کن فی الدنیاکانک...الخ، ۱۵/ ۵۰۰، تحت الحدیث:۶۴۱۶، ملخصًا)شام کو صبح اور صبح کو شام کا انتظار مت کرو:حضرت ابن عمر ( رضی اللہ عنہما ) یہ اپنے نفس سے خطاب کرتے تھے کہ زندگی کی لمبی امیدیں نہ باندھو ہرنماز آخری نمازسمجھ کر پڑھو،تندرستی اور زندگی کو غنیمت جانو جس قدر ہوسکے اس میں نیکیاں کمالو،ورنہ بیماری میں اورموت کے بعد کچھ بن نہ پڑے گا۔ (کسی نے کیا خوب کہا ہے)شعر:
کر جوانی میں عبادت کاہلی اچھی نہیں جب بڑھاپا آگیا پھربات بن پڑتی نہیں
ہے بڑھاپابھی غنیمت جب جوانی ہوچکی یہ بڑھاپابھی نہ ہوگا موت جس دم آگئی
(مراٰۃ المناجیح، 2/ 438)
پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو:حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عُمَر رضی اللہ عنہما نے جو اپنے نفس سے خطاب فرمایا کہ ’’ جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرو اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار مت کرو، اپنی تندرستی میں بیماری کا حصہ لے لو اور اپنی زندگی میں موت کی تیاری کر لو‘‘ یہی مفہوم ایک حدیث شریف میں بھی مذکور ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عمرو بن میمون اودی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: بڑھاپے سے پہلے جوانی کو، بیماری سے پہلے تندرستی کو، فقیری سے پہلے غنا کو، مصروفیت سے پہلے فرصت کو اور موت سے پہلے زندگی کو۔‘‘ (مشکاة المصابیح، کتاب الرقاق، الفصل الثانی، ۲/ ۲۴۵، حدیث:۵۱۷۴)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 40