- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 20
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرِو الْاَنْصَارِيِّ الْبَدْرِيِّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’اِنَّ مِمَّا اَدرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْاُوْلٰى اِذَا لَمْ تَستَحِيْ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ.‘‘ (رَوَاہُ البُخَارِی)
عن ابي مسعود عقبة بن عمرو الانصاري البدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ’’ان مما ادرك الناس من كلام النبوة الاولى اذا لم تستحي فاصنع ما شئت.‘‘ (رواہ البخاری)
حدیث ترجمہ
بدری صحابی حضرت سیِّدُنا ابومسعود عقبہ بن عَمْرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:’’بےشک گزشتہ انبیائے کرام علیہمُ السّلام کے کلام میں سے لوگوں نے یہ بھی پایا ہےکہ جب تمہیں حیا نہ ہو تو جو چاہو کرو۔‘‘ (بخاری كتاب الادب، باب اذا لم تستح فاصنع ما شئت، ۴/ ۱۳۱، حدیث:۶۱۲۰)
شرح حدیث
حیا کی اہمیت:حدیثِ پاک میں سابقہ انبیائے کرام علیہمُ السّلام کے کلام سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہمُ السّلام نے حیا کو پسند فرمایااور ہر نبی علیہ السّلام نے حیا پر ابھارا، کسی بھی شریعت میں حیا کا معنی ومفہوم نہیں بدلا، نیز سلامت عقلیں بھی اس بات پر متفق ہیں کہ حیا بہت بہترین وصف ہے۔ (ماخوذ از مرقاةالمفاتيح، ۸/ ۸۰۲، تحت الحدیث:۵۰۷۱)برائیوں سے روکنے والی چیز:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ مذکورہ حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: گزشتہ انبیائےکرام علیہمُ السّلام نے اپنی امتوں سے جو حکیمانہ کلام فرمائے ان میں سے ایک کلام یہ بھی ہے کہ جب تیرے دل میں الله رسول کی اپنے بزرگوں کی شرم و حیا نہ ہوگی تو بُرے سے بُرے کام کر گزرے گا کیونکہ برائیوں سے روکنے والی چیز تو غیرت ہے جب وہ نہ رہی تو بُرائی سے کون روکے،بہت لوگ اپنی بدنامی کے خوف سے بُرائیاں نہیں کرتے مگر جنہیں نیک نامی بدنامی کی پروا نہ ہو وہ ہر گناہ کر گزرتے ہیں ۔(مراٰۃ المناجیح، 6/ 638، ملخصاً)سب سے زیادہ حیا اللہ پاک سے کرو:حضرت سیِّدُنا علامہ ملا علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ مذکورہ حدیث شریف کی شرح میں فرماتے ہیں: بندے کو سب سے زیادہ حیاء اللہ پاک سے کرنی چاہیے اور اللہ پاک سے حیا کا مطلب ہے کہ بندہ اس کی ہیبت و جلال اور اس کا خوف دل میں بٹھائے اور ہر اس کام سے بچے جس سے اُس کی ناراضی کا اندیشہ ہو۔ حضرت سیِّدنا شہابُ الدین سُہروردی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اللہ پاک کی عظمت و جلال کی تعظیم کے لئے روح کو جُھکانا حیا ہے۔ حضرت سیِّدنا اِسرافیل علیہ السّلام کی حیا بھی اسی قسم سے ہے۔ چنانچہ ان کے متعلق روایت میں ہے کہ وہ اللہ پاک سے حیا کی وجہ سے اپنے پَروں سے خود کو چُھپائے ہوئے ہیں۔‘‘ (ماخوذ از مرقاةالمفاتيح، ۸/ ۸۰۲، تحت الحدیث:۵۰۷۱)حیا کی تعریف:کسی کام کے ارتکاب کے وقت مذمت اور ملامت کے خوف سے انسان کی حالت کا تبدیل ہو جانا حیا کہلاتا ہے۔ (عمدةالقاری، کتاب الایمان، باب امور الایمان، ۱/ ۱۹۸)ایک تعریف یہ ہے کہ’’حیا وہ وصف ہے جو برے کام کے ترک پر ابھارتا اور حق دار کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی سے روکتا ہے۔‘‘ (شرح صحیح مسلم للنووی، ۲/ ۶) ایک تعریف یہ ہے کہ’’حیا وہ عادت ہے جو ایمان کے سبب آدمی کو بُرے کاموں سے روک دے۔‘‘ (مرقاةالمفاتیح، ۱/ ۱۴۰، تحت الحدیث:۵)دینی اور دنیاوی برائیوں سے حفاظت:حیاءسے مُرادوہ وَصْف ہے جو ان چیزوں سے روک دے جواللہ پاک اور مخلوق کے نزدیک ناپسندیدہ ہوں۔ لوگوں سے شرما کر کسی ایسے کام سے رک جانا جو ان کے نزدیک اچھانہ ہو ”مخلوق سے حيا“ کہلاتا ہے۔ یہ بھی اچھی بات ہے کہ عام لوگوں سے حیا ء کرنا دنیاوی برائیوں سے بچائے گا اور عُلَماء وَ صُلَحاء (نیک لوگوں) سے حیا کرنا دینی بُرائیوں سے باز رکھے گا۔ مگر حیاء کے اچھا ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مخلوق سے شرمانے میں خالق جَلَّ جَلَالُہ کی نافرمانی نہ ہوتی ہو اور نہ کسی کے حقوق کی ادائیگی میں رکاوٹ آتی ہو۔ (باحیا نوجوان، ص7، مفہوماً)اللہ پاک سے حیا کا معنیٰ:حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مَروی ہے کہ حُضُور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے صَحابَۂ کِرام علیہمُ الرّضوان سے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک سے حیاکرو جیسا حیا کرنے کا حق ہے۔‘‘ عرض کی: ہم اللہپاک سے حیا کرتے ہیں اور سب خوبیاں اللہ پاک کے لئے ہیں۔ ارشاد فرمایا: ’’یہ نہیں، بلکہ اللہ پاک سے کما حَقُّہٗ ، حیا کرنے کے معنیٰ یہ ہيں کہ سر اور سر میں جتنے اَعضاء ہیں ان کی اور پیٹ کی اور پیٹ جن جن اَعضاء کو گھیرے ہوئے ہے اُن کی حفاظت کرو اور موت اور مرنے کے بعد گلنے سڑنے کو یاد کرو، آخِرت کو چاہنے والا دنیا کی زَیب و زِینت چھوڑ دیتا ہے تو جس نے ایسا کیا اُس نے اللہ پاک سے حیا کا حق ادا کر دیا۔‘‘ (مسند احمد، مسند عبد اللّٰہ بن مسعود، ۲/ ۳۳، حدیث:۳۶۷۱)فطری وشرعی حیا:فِطری و شَرْعی اعتبار سے بھی حَيا کی تقسیم کی گئی ہے۔ چنانچہ فِطری حیا وہ ہے جسے اللہ پاک نے ہر جان میں پیدا فرمایا ہے اور یہ پیدائشی طور پر ہر شَخْص میں ہوتی ہے اور شَرْعی حیا یہ ہے کہ بندہ اللہ پاک کی نعمتوں اور اپنی کوتاہیوں پر غور کر کے نادِم و شرمندہ ہو اور اِس شرمندگی اور اللہ پاک کے خوف کی بِنا پر آئندہ گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کی کوشِش کرے۔(باحیا نوجوان، ص10)حیا کے احکام:حیا کبھی فرض و واجِب ہوتی ہے جیسے کسی حرام و ناجائز کام سے حَیا کرنا، کبھی مُستَحب جیسے مکروہِ تنزیہی سے بچنے میں حيا اور کبھی مُباح (یعنی کرنا نہ کرنا یکساں ہو) جیسے کسی مُباحِ شَرْعی کے کرنے سے حیا۔ (نزہۃ القاری شرح، 1/ 334، مفہوماً)حیا کی فضیلت پر احادیث وروایات:حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے۔‘‘ (ابن ماجة، کتاب الزھد، باب الحیاء، ۴/ ۴۶۰، حدیث:۴۱۸۱)
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ایمان کے 70 سے زائد شعبے ہیں اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب الایمان، باب بیان عدد شعب الایمان...الخ ،ص۴۵، حدیث:۱۵۲)
حضرت سیِّدُنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حُضُور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک حیا اور ایمان دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں تو جب ایک کو اٹھا لیا جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔‘‘
(مستدرک، کتاب الایمان، باب اذا زنی العبد خرج منہ الایمان، ۱/ ۱۷۶، حدیث:۶۶)
مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جس نے حیا کی چادر اوڑھ لی لوگوں کو اس کے عیب دکھائی نہیں دیتے۔‘‘(مستطرف، باب السادس والعشرون، فی الحیاء والتواضع...الخ، الفصل الاول ،۱/ ۲۲۴)
حضرت سیِّدُناخواص رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بندوں کا عمل چار منزلوں پر ہوتا ہے: (1)… خوف، (2)… رجا (امید)، (3)… تعظیم اور (4)…حیا۔ ان میں سب سےاونچی منزل حیا ہے۔ جب بندے یہ یقین کر لیتے ہیں کہ اللہ پاک انہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہےتو کہتے ہیں: ہمارے لئے برابر ہے کہ ہم اسے دیکھیں یا وہ ہمیں دیکھے اور اللہ پاک سے حیاان کے لئے ان کے گناہوں سے آڑ بن جاتی ہے۔(مستطرف، باب السادس والعشرون، فی الحیاء والتواضع...الخ، الفصل الاول ،۱/ ۲۲۴)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’حیا انسان کا خاص جوہر ہے جتنا ایمان قوی (ہوگا) اتنی حیا(بھی) زیادہ ہوگی۔‘‘ (مراٰۃ المناجیح،8/ 73)
(نوٹ: حیا سے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے مکتبہ المدینہ کے مطبوعہ64 صفحات پر مشتمل رسالے ’’باحیا نوجوان‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 20