- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 27
حدیث مبارکہ
عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْاِثْمُ مَا حَاكَ فِيْ نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ اَنْ يَّطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ.‘‘ (رَوَاهُ مُسْلِم)
وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍرَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ’’جِئْتَ تَسْاَلُ عَنِ الْبِرِّ؟‘‘ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: ’’اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ، اَلْبِرُّ مَا اطْمَاَنَّتْ اِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَاَنَّ اِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْاِثْمُ مَا حَاكَ فِيْ النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِيْ الصَّدْرِ وَاِنْ اَفْتَاكَ النَّاسُ وَافْتَوْكَ.‘‘ (حَدِيْثٌ حَسَنٌ، رَوَيْنَاهٗ فِیْ مُسْنَدَیَ الْاِمَامَيْنِ اَحْمَدَ ابْنِ حَنْبَلٍ وَّالدَّارَمِیِّ رَحِمَھُمَا اللّٰہ تعالٰی بِاِسْنَادٍ حَسَنٍ)
عن النواس بن سمعان رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ’’البر حسن الخلق والاثم ما حاك في نفسك وكرهت ان يطلع عليه الناس.‘‘ (رواه مسلم)
وعن وابصة بن معبدرضى الله عنه قال: اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ’’جئت تسال عن البر؟‘‘ قلت: نعم. قال: ’’استفت قلبك، البر ما اطمانت اليه النفس واطمان اليه القلب والاثم ما حاك في النفس وتردد في الصدر وان افتاك الناس وافتوك.‘‘ (حديث حسن، رويناه فی مسندی الامامين احمد ابن حنبل والدارمی رحمھما اللہ تعالی باسناد حسن)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’نیکی حسن اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے اس پر لوگوں کا مطلع ہونا (اِطلاع پانا) ناپسند ہو۔‘‘
( مسلم، كتاب البر والصلة والاداب، باب تفسير البر والاثم، ص۱۰۶۱، حدیث:۶۵۱۷)حضرت سیِّدُنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:’’تم نیکی کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ ارشاد فرمایا: اپنے دل سے پوچھو، نیکی وہ ہے جس پر تمہارا نفس مطمئن ہو اور اطمینان قلبی حاصل ہو اور گناہ وہ ہے جو تمہارے نفس میں کھٹکے اور دل میں شک پیدا کرے ، اگرچہ لوگ تمہیں کچھ بھی فتویٰ دیں، اگرچہ لوگ تمہیں فتویٰ دیں ۔‘‘ (مسند احمد، مسند الشامیین، حدیث وابصة بن معبد اسدی، ۶/ ۲۹۲، حدیث:۱۸۹۲۳، بتغیر قلیل۔ دارمی، کتاب البیوع، باب دع مایریبک الی ما لا یریبک، ۲/ ۳۲۰، حدیث:۲۵۳۳)
(یہ حدیث حسن ہے۔ اسے حضرت سیِّدُنا امام حمد بن محمد بن حنبل اور حضرت سیِّدُنا حافظ ابو محمد عبد اللہ بن عبدالرحمٰن بن فضل بن بہرام دارمی رحمۃ اللہ علیہما نے اپنی اپنی مسند (مسند احمد اور سنن دارمی) میں حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔)
شرح حدیث
نیکی اور گناہ کیا ہے؟علامہ محمد بن علان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: نیکیوں کا بڑا حصہ حسْنِ اخلاق پر مشتمل ہے۔ اچھے اخلاق سے مراد خندہ پیشانی سے ملاقات، ایذا نہ دینا، سخاوت، دوسروں کے لئے وہی پسند کرنا جو اپنے لئے پسند ہو۔ بعض نے فرمایا: احکام ومعاملات میں عدل وانصاف، بحث وتکرار میں نرمی، خوشحالی میں احسان وسخاوت اور تنگدستی میں ایثار جیسی اچھی صفات کا نام حسْنِ اخلاق ہے۔ ’’گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کے بارے میں ایسی بےچینی، بےقراری اور نفرت وکراہیت ہو کہ اطمینان حاصل نہ ہو۔ اس لئے تو اس پر کسی کا اطلاع پانا ناپسند ہوتا ہے۔خیال رہے یہاں پختہ ناپسندیدگی مراد ہے عارضی نہیں جیسے کوئی پیدل چلنے والوں کے درمیان بطورِ عاجزی سوار ہونا ناپسند کرے تو ایسی ناپسندیدگی گناہ نہیں۔ (دلیل الفالحین، باب فی الورع وترک الشبھات، ۳/ ۳۲، تحت الحدیث:۵۸۹، ملخصًا)نیکی حُسْنِ اَخلاق کا نام ہے:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حضرت سیِّدُنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث پاک کے جز ’’نیکی حسن اخلاق کا نام ہے‘‘ کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اچھی عادت (حسْنِ اخلاق) عام ہے مخلوق کے ساتھ برتاوا اور خالق سے معاملات سب ہی کو شامل ہے نماز روزہ کی پابندی اچھی عادت ہے گناہوں سے بچنا اچھی عادت ہے وغیرہ ۔‘‘ اور حدیث شریف کے جز ’’ گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے اس پر لوگوں کا مطلع ہونا (اِطلاع پانا) ناپسند ہو‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: یہ فرمان کامل مسلمانوں کے لیے ہے جیسے ہم کو مکھی ہضم نہیں ہوتی فوراً قے ہو جاتی ہے یوں ہی صالحین کو گناہ ہضم نہیں ہوتا فوراً انہیں دلی قبض روحانی تکلیف محسوس ہوتی ہے عام لوگوں کا یہ حال نہیں۔بعض تو گناہ پر خوش ہوکر اعلان کرتے ہیں حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم حکیْمِ مطلق ہیں ہر شخص کو اس کے مطابق دواء عطا فرماتے ہیں،یوں ہی ’’اَلنَّاس‘‘ سے مراد مقبول بندے ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/ 638، 639)حُسْنِ اَخلاق کی فضیلت:حضرت سیِّدُنا ابو دردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’میزانِ عمل میں حُسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں۔‘‘ (ابوداود، کتاب الادب، باب فی حسن الخلق، ۴/ ۳۳۲، حدیث:۴۷۹۹)حُسْنِ اَخلاق اور گناہ سے مراد:حسن اخلاق سے مراد ہے معاملہ میں انصاف کرنا، گفتگو میں نرمی کرنا، بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا وغیرہ اور گناہ وہ چیزہے جو دل میں نفرت پیدا کرے اور یہ وہ اصول ہے جس کے ذریعے سے نیکی اور گناہ کی پہچان ہوتی ہے۔
(شرح اربعین لابن دقیق العید، ص۶۸، ۶۹ تحت الحدیث:۲۷)حضورعلیہِ السّلامقلبی خیالات سے بھی واقف ہیں:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حضرت سیِّدُنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث شریف کے جز ’’تم نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھنے آئے ہو‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: یہ غیبی خبر ہے کہ حضرت وابصہ ( رضی اللہ عنہ )جو سوال دل میں لے کر آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کے بغیر عرض کئے ہوئے ارشا دفرمادیا (کہ تم نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھنے آئے ہو)۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دلوں کے حال پر مطلع فرمایا ہے کیوں نہ ہو انہیں تو پتھروں کے دلوں پر اطلاع ہے کہ فرماتے ہیں احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے۔ (چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اپنی انگلیاں جمع کرکے ان کے سینے پر لگائیں تین بار فرمایا: اپنے دل سے فتویٰ لیا کرو)اس کے تحت فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ و سلّم نے حضرت وابصہ( رضی اللہ عنہ )کے سینہ پر ہاتھ رکھ کر ان کے قلب (دل) کو فیض دیا جس سے ان کا نفس بجائے امارہ کے مطمئنہ ہوگیا اور دل خطرات شیطانی وسوسوں سے پاک و صاف ہوگیا ۔صوفیاء کرام جو مریدوں کے سینے پر ہاتھ مار کر یا توجہ ڈال کر انہیں فیض دیتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث بھی ہے۔نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو:اور حدیث پاک کے جز ’’نیکی وہ ہے جس پر تمہارا نفس مطمئن ہو اور اطمینانِ قلبی حاصل ہو‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: اے وابصہ! گناہ اور نیکی کی پہچان یہ ہے کہ جس پر تمہارا دل ونفس مطمئنہ جمے وہ نیکی ہوگی اور جسے تمہارا دل ونفْسِ مطمئنہ قبول نہ کرے وہ گناہ ہوگا۔ یہ حکم حضرت وابصہ کے لئے آج سے ہو گیا یہ حضور (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم) کے ہاتھ شریف کا اثر ہوا، ہم جیسے لوگوں کو یہ حکم نہیں۔ یہاں (صاحب) مرقات نے فرمایا کہ غیر مجتہد یعنی مقلد تو اپنے امام سے فتویٰ لے اور مجتہد اپنے دل سے۔گناہ وہ جو دل میں شک پیدا کرے:اور حدیث شریف کے جز ’’ گناہ وہ ہے جو تمہارے نفس میں کھٹکے اور دل میں شک پیدا کرے ، اگرچہ لوگ تمہیں فتویٰ دیں ‘‘ یعنی عام لوگوں کے فتوے کا تم اعتبار نہ کرنا کیونکہ اُن کے دلوں پر ہمارا ہاتھ نہیں پہنچا،اپنے دل و نفس کا فتویٰ قبول کرنا کہ تمہارے دل کا فتویٰ ہمارا فیصلہ ہوگا کہ ہمارا ہاتھ تمہارے دل پر ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، 4/ 235)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 27