- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 35
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى هٰهُنَا.‘‘ وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ وَعِرْضُهٗ.‘‘(رَوَاهُ مُسْلِم)
عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ’’لاتحاسدوا ولاتناجشوا ولاتباغضوا ولاتدابروا ولايبع بعضكم على بيع بعض وكونوا عباد الله اخوانا، المسلم اخو المسلـم، لايظلمه ولايخذله ولايكذبه ولايحقره، التقوى ههنا.‘‘ ويشير الى صدره ثلاث مرات. ’’بحسب امرئ من الشر ان يحقر اخاه المسلم، كل المسلـم على المسلـم حرام دمه وماله وعرضه.‘‘(رواه مسلم)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔
(مسلم، كتاب البر والصلة والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره...الخ، ص۱۰۶۴، حدیث:۶۵۴۱)
شرح حدیث
مذکورہ حدیث پاک میں بعض ظاہری وباطنی بیماریوں سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ چنانچہ سب سے پہلے ایک مہلک مرض حسد سے بچنے کا حکم ارشاد ہوا کہ ’’ایک دوسرے سے حسد نہ کرو‘‘ آئیے حسد کے بارے میں کچھ پڑھتے سنتے ہیں۔حسد کی تعریف:کسی کی دینی یا دنیاوی نعمت کے زوال (یعنی چھن جانے) کی تمنا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے، اس کا نام حسد ہے۔ (حدیقة ندیة، الخلق الخامس عشر من الاخلاق ا لستین المذمومة...الخ، ۱/ ۶۰۰)قرآن وحدیث میں حسد کی مذمت:قرآن وحدیث میں حسد کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ-فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا(۵۴)(پ۵، النسآء:۵۴)
ترجمہ کنزالایمان: یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا۔
سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’حسد سے بچو کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ ‘‘(ابوداود، کتاب الادب، باب فی الحسد، ۴ / ۳۶۰ ، حدیث: ۴۹۰۳)
حضرت سیِّدُنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’حسد ایما ن کو اس طرح خراب کردیتاہے جس طرح ایلوا (یعنی ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رَس) شہد کو خراب کر دیتا ہے۔‘‘ (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، ۲/ ۱۸۶، حدیث:۷۴۳۷)حسد کا حکم:اگر اپنے اختیار وارادے سے بندے کے دل میں حسد کا خیال آئے اور یہ اس پر عمل بھی کرتا ہے یا بعض اَعضاء سے اس کااظہار کرتا ہے تو یہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔(حدیقة ندیة، الخلق الخامس عشر من الاخلاق ا لستین المذمومة...الخ، ۱/ ۶۰۱)خلاصہ:واضح رہے کہ حسد ایک موذی بیماری ہے ، اس کے نقصانات شمار سے باہر ہیں ، جب یہ بیماری کسی کو لگ جائے تو وہ کہیں کا نہیں رہتا ، اس کا نامہ اعمال نیکیوں سے بالکل خالی ہوجاتا ہے ، مسلمانوں کے درمیان نفرت کا ایک بہت بڑا سبب حسد ہے، حسد بہت سے گناہوں کا باعث ہے، حسد بندے کو بدگمانی میں مبتلا کردیتا ہے، حسد صلہ رحمی کو ختم کردیتا ہے ، حسد سے رزق میں برکت ختم ہوجاتی ہے۔ الغرض! حسد میں کوئی بھلائی اور اچھائی نہیں ہے ، حسد میں نقصان ہی نقصان ہے۔ بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو حسد کی بیماری سے پاک وصاف ہیں بلکہ رشک اور شکر جیسی دولت سے مالا مال ہیں ، کسی کے پاس نعمت دیکھ کر حسد مت کیجئے بلکہ اس کے حق میں دعا کردیجئے، اِنْ شَآءَ اللہآپ کو بھی وہ نعمت نصیب ہوجائے گی۔
حدیث شریف میں حسد کے بعد ’’نجش‘‘ سے بچنے کا حکم دیا گیا۔ چنانچہ ارشاد ہوا
(صرف قیمت بڑھانے کے لئے بولی نہ لگاؤ)نجش کی تعریف اور مفہوم:چیز بیچنے کے لئے بازار میں بولی لگائی جا رہی ہو اور کوئی شخص دوسروں کو دھوکا دینے کے لئے قیمت میں اضافہ کرے حالانکہ وہ خریدنا نہیں چاہتا تو یہ نجش ہے اور نجش حرام ہے۔ چنانچہ صدرُالشریعہ، بدرُالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نجش مکروہ ہے حضور اَقدس صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اِس سے منع فرمایا۔نجش یہ ہے کہ مبیع (یعنی فروخت کی جانے والی شے)کی قیمت بڑھائے اورخود خریدنے کااِرادہ نہ رکھتا ہو۔ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ دوسرے گاہک کو رغبت پیدا ہواور قیمت سے زیادہ دے کر خریدلے اور یہ حقیقۃً خریدار کو دھوکا دینا ہے جیسا کہ بعض دُکانداروں کے یہاں اس قسم کے آدمی لگے رہتے ہیں، گاہک کو دیکھ کر چیز کے خریدار بن کر دام بڑھا دیا کرتے ہیں اور اُن کی اِس حرکت سے گاہک دھوکا کھا جاتے ہیں۔ گاہک کے سامنے مبیع کی تعریف کرنا اور اُس کے ایسے اَوصاف بیان کرنا جونہ ہوں تاکہ خریدار دھوکا کھاجائے یہ بھی نجش ہے۔ (بہار شریعت ، حصہ11، 2/ 723)
پھر ارشاد ہوا( آپس میں بغض نہ رکھو)بغض کی تعریف اور اُس کی مذمت:بغض یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ،نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی معنی الحقد...الخ، ۳/ ۲۲۳)
قرآن وحدیث میں بغض کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)(پ۷، المآئدة:۹۱)
ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔
امُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث شریف میں ہےکہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایان شان) تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرما دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے، جبکہ بغض و کینہ رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلة...الخ،۳/۳۸۳، حدیث:۳۸۳۵ )
حضرت سیِّدُنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دِین کو مُونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کردیتا) ہے۔‘‘( موسوعة ابن ابی الدنیا، کتاب مدارة الناس، ۷/ ۵۴۵، حدیث:۱۴۹)بغض وکینہ کا حکم:کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ ‘‘
(حدیقة ندیة، السادس العاشر من الاخلاق الستین المذمومة، ۱/ ۶۲۹)خلاصہ:بلا وجہ شرعی مسلمانوں سے بغض وکینہ رکھنے والوں کی کل بروزِقیامت بہت سخت پکڑ ہوگی، بلکہ بسا اوقات تو دنیا میں ہی لوگوں کو مسلمانوں سےبغض وکینہ رکھنے والوں کا عبرت ناک انجام دکھادیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں کچھ لوگ گھبرائے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم حج کی سعادت پانے کے لئے نکلےتھے،ہمارے ساتھ ایک آدمی تھا،جب ہم ذَا الصِّفَاحْ کے مقام پر پہنچے تو اُس کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے اُس کے غسل و کفن کا انتظام کیاپھر اُس کے لئےقبر کھودی اور اُسے دفن کرنے لگے تو دیکھا کہ اچانک اس کی قبر کالے سانپوں سے بھر گئی ہے۔ہم نے وہ جگہ چھوڑکر دوسری قبر کھودی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی کالے سانپوں سے بھر گئی، بالآخر ہم اسے وہیں چھوڑ کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے ہیں۔یہ واقعہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:یہ اس کاکینہ ہے جووہ اپنے دل میں مسلمانوں کے متعلق رکھا کرتا تھا۔جاؤ!اور اسے وہیں دفن کردو۔(موسوعة ابن ابی الدنیا،کتاب القبور،۶/۸۳، رقم: ۱۲۸)
پھر ارشاد ہوا( قطع تعلقی نہ کرو)قطع تعلقی سے بچنے اور صلہ رحمی کرنے کی فضیلت:حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جسے یہ پسند ہو کہ اس کی عمر میں اضافہ اور رزق میں کشادگی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے تعلق جوڑے۔‘‘
(مسلم ،کتاب البر والصلة، با ب صلة الرحم وتحریم قطیعتھا، ص۱۰۶۲، حدیث:۶۵۲۴)
مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشادفرمایا: ’’جو اپنی عمرمیں اضافہ، رزق میں کشادگی اور بری موت سے تحفّظ چاہتا ہے وہ اللہ پاك سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔‘‘ (مسند احمد، ۱/ ۳۰۲، حدیث:۱۲۱۲)
پھر حدیث پاک میں ارشاد ہوا( تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے )
اس سے مراد یہ ے کہ جب دو لوگ آپس میں کوئی سودا طے کر چکے ہوں تو کسی تیسرے کو بلاوجہ شرعی ان کے سودے کو ختم کروانے کی اجازت نہیں، حدیث شریف میں اسی سے منع فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ایک شخص کے د ام چکالینے کے بعد دوسرے کو دام چکا نا ممنوع ہے اس کی صورت یہ ہے کہ بائع ومشتری(یعنی خریدنے اور بیچنے والا) ایک ثَمن (قیمت) پر راضی ہوگئے صرف اِیجاب وقبول ہی یامَبِیع (یعنی بِکنے والی چیز) کو اُٹھاکر دام (قیمت) دیدینا ہی باقی رہ گیا ہے دوسرا شخص دام بڑھاکر لیناچاہتا ہے یا دام اُتنا ہی دیگا مگر دُکاندار سے اسکامَیْل (تعلق) ہے یا یہ ذِی وَجاہت (مقام ومرتبے والا)شخص ہے دُکانداراسے چھوڑ کر پہلے شخص کو نہیں دے گا (تو ان تمام صورتوں میں دوسرا سودا کرنا منع ہے) اور اگر اب تک دام طے نہیں ہوا ، ایک ثمن (قیمت)پر دونوں کی رضامندی نہیں ہوئی ہے تو دوسرے کو دام چُکا نا (یعنی قیمت طے کرنا)منع نہیں۔ (یاد رکھیئے!) جس طرح بیع میں اس کی ممانعت ہے اِجارہ (ملازمت)میں بھی ممنوع ہے مثلاً کسی مزدور سے مزدوری طے ہونے کے بعد یا ملازِم سے تنخواہ طے ہونے کے بعد دوسرے شخص کا مزدوری یا تنخواہ بڑھا کر یا اُتنی ہی دیکر مقرر کرنا (یہ بھی منع ہے)۔ جس طرح خریدار کے لئے یہ صورت ممنوع ہے بائع (بیچنے والے)کے لیے بھی ممانعت ہے مثلاً ایک دُکاندار سے دام طے ہوگئے دوسرا کہتا ہے میں اس سے کم میں دونگا یا وہ اس کا ملاقاتی ہے کہتا ہے: میرے یہاں سے لومیں بھی اتنے ہی میں دونگا، یا اجارہ میں ایک مزدور سے اُجرت طے ہونے کے بعد دوسرا کہتا ہے: میں کم مزدوری لوں گا یا میں بھی اتنی ہی لونگا، یہ سب ممنوع ہیں۔ (بہار شریعت، حصہ11، 2/723)اللہ کے بندو! بھائی بھائی ہوجاؤ:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ ‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی بدگمانی، حسد بغض وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن سے محبت ٹوٹتی ہے اور اسلامی بھائی چارہ محبت چاہتا ہے لہٰذا یہ عیوب چھوڑو تاکہ بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/608) مراد یہ ہے کہ ایسی چیزیں اختیار کرو جن کے ذریعے بھائی چارہ قائم ہو جیساکہ حسن معاشرت، دلوں کو قریب کرنے اور دوریاں مٹانے والے کام کرو۔(الجواھر اللؤلؤیةللدمیاطی، ص۵۰۰، تحت الحدیث:۳۵) امام قرطبی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مراد یہ ہے کہ شفقت، رحمت، محبت، غمخواری، معاونت اور نصیحت کرنے میں ا یک دوسرے کے لئے نسبی بھائی کی طرح ہو جاؤ۔(المفھم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم، ۶/ ۵۳۲)آپس میں محبت اور بھائی چارہ قائم کرنے کا نسخہ:سیِّدُنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک مومن نہ ہو جاؤ اور اس وقت تک( کامل) مومن نہيں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو، کیامیں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام عام کرو۔‘‘(ترمذی، کتاب صفة القیامة، ۴/ ۲۲۸، حدیث:۲۵۱۸)مسلمان مسلمان کا بھائی ہے:حدیث پاک میں ارشاد ہوا ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے‘‘شارحین نے اس کی کئی وجوہات بیان فرمائی ہیں ، چند وجوہات درج ذیل ہیں:
(1)... حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دائرہ اسلام میں آنے کی وجہ سے دونوں بھائی بھائی ہوگئے، جس طرح والدین کی اولاد یا دونوں میں سے کسی ایک میں شریک اولادباہم بھائی بھائی ہوتے ہیں۔
(دلیل الفالحین، باب فی قضاء حوائج المسلمین، ۲/ ۳۶، تحت الحدیث:۲۴۵)
(2)...حضرت سیِّدُنا علامہ بدرُ الدین عینی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مراد یہ ہے کہ دیْنِ اسلام میں ہونے کی وجہ سے وہ اس کا بھائی ہےاور ایسے دوافراد جن کے درمیان اتفاق پایا جائےان دونوں پر بھائی کا اطلاق ہوتاہے۔
(عمدةالقاری، کتاب المظالم والغضب، باب لا یظلم المسلم ولا یسلمہ، ۹/ ۱۸۸، حدیث:۲۴۴۲)
(3)...حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الرؤف مناوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسلمان مسلمان کا بھائی اس لئے ہے کہ اِن دونوں کو ایک دِین نے جمع کردیا ہے اور دینی بھائی ہونا تو حقیقی بھائی ہونے سے بھی افضل ہےکیونکہ حقیقی بھائی ہونا دُنیوی پھل جبکہ دِینی بھائی ہونا اُخروی پھل ہے۔ (التیسیر، حرف المیم، ۲/ ۴۵۶، مکتبةالامام الشافعی)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:مسلمان مسلمان کا دینی واسلامی بھائی ہے یا مسلمان مسلمان کے لئے سگے بھائی کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی اہم کہ نسبی بھائی کو ماں باپ نے بھائی بنایا اور مسلمان کو حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے بھائی بنایا۔ حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) سے رشتہ غلامی قوی ہے ، ماں باپ سے رشتہ نسبی ہے۔ اس سے معلوم ہواکہ حضور( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) مسلمانوں کے بھائی نہیں ، حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) تو مثل والد کے ہیں ، اس لئے حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں، بھاوج نہیں ۔ یہ بھی معلوم ہواکہ مومن و مسلم ہم معنیٰ ہیں کہ قرآنِ کریم نے مومنوں کو بھائی قرار دیا ’’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ(پ۲۶، الحجرات:۱۰)‘‘ اور حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) نے یہاں مسلمانوں کو ۔ خیال رہے کہ یہاں بھائی ہونا رحمت و شفقت کے لحاظ سے ہے نہ کہ اَحکام کے اعتبار سے۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/551)
علمائے کرام فرماتے ہیں: دینی بھائی چارہ نسبی بھائی چارے سے بڑھ کر ہے، کیونکہ دینی بھائی چارے کا نفع اخروی ہے جوکہ باقی رہنے والا ہے جبکہ نسبی بھائی چارے کا نفع دنیوی ہے جوکہ فانی(یعنی ختم ہونے والا) ہے۔
(الجواھر اللؤلؤیةللدمیاطی، ص۵۰۰، تحت الحدیث:۳۵)
حدیث پاک میں ارشاد ہوا’’ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے‘‘ یعنی مسلمان میں یہ عیب نہیں ہوتے کہ یہ چیزیں دنیا و آخرت میں خسارے کا باعث ہیں۔ چنانچہمسلمان مسلمان پر ظلم نہیں کرتا:حضرت سیِّدُنا محمد بن عبد اللہ دمیاطی شافعی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’مسلمان مسلمان پر ظلم نہیں کرتا‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: مراد یہ ہے کہ مسلمان مسلمان کا نقصان نہیں چاہتا، نہ اس کی ذات میں، نہ اس کے دین میں، نہ اس کی عزت میں اور نہ ہی اس کے مال میں کیونکہ یہ اسلامی بھائی چارے کے منافی ہے۔نیز کہا گیا ہے کہ ظلم برکت کو ختم کردیتا ہے۔(الجواھر اللؤلؤیةللدمیاطی، ص۵۰۰، ۵۰۱، تحت الحدیث:۳۵)ظلم کی مذمت:حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ظلم سے بچو بلاشبہ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوگا۔‘‘ (بخاری، کتاب المظالم والغضب، باب الظلم ظلمات یوم القیامة، ۲/ ۱۲۷، حدیث:۲۴۴۷)
حضرت سیِّدُنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ ظلم وزیادتی اور قطع رحمی کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں جس کے مرتکب کو اللہ پاک آخرت میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا دینے میں جلدی فرماتا ہو ۔‘‘ (ترمذی، کتاب صفة القیامة، باب ۵۷، ۴/ ۲۲۹، حدیث:۲۵۱۹)مسلمان مسلمان کو رسوا نہیں کرتا:سیِّدُنا محمد بن عبد اللہ دمیاطی شافعی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’مسلمان مسلمان کو رسوا نہیں کرتا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: مراد یہ ہے کہ اس کی مدد کرنا اور اسے نصیحت کرنا نہیں چھوڑتا۔(الجواھر اللؤلؤیةللدمیاطی، ص۵۰۲، تحت الحدیث:۳۵)
نیز حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث شریف میں ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔‘‘ عرض کی گئی: ظالم ہوتے ہوئے اس کی مدد کیسے کی جائے؟ ارشاد فرمایا: ’’اسے(ظلم سے) روکو کہ یہ بھی اس کی مدد ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الاکراہ، باب یمین الرجل لصاحبہ...الخ، ۴/ ۳۸۹، حدیث:۶۹۵۲)مسلمان مسلمان سے جھوٹ نہیں بولتا:حضرت سیِّدُنا محمد بن عبد اللہ دمیاطی شافعی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’مسلمان مسلمان سے جھوٹ نہیں بولتا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: مراد یہ ہے کہ اسے کسی خلاف واقع بات کے بارے میں نہیں بتاتا کیونکہ یہ دھوکا اور خیانت ہے۔ (الجواھر اللؤلؤیةللدمیاطی، ص۵۰۳، تحت الحدیث:۳۵)
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی روایت میں ہے کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بندہ جب جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو سے فرشتہ اس سے ایک میل دور ہو جاتا ہے۔‘‘
(ترمذی، کتاب البر والصلة، باب ماجآء فی الصدق والکذب، ۳/ ۳۹۲، حدیث:۱۹۷۹)مسلمان کو حقیر نہ جانو:حضرت سیِّدُنا محمد بن عبد اللہ دمیاطی شافعی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’مسلمان مسلمان کو حقیر نہیں جانتا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: مراد یہ ہے کہ نہ تو اس کی شان اور مرتبے کو کمتر سمجھے اور نہ ہی اس کی طرف حقارت کی نظر سے دیکھے کیونکہ ہوسکتا ہے اللہ پاک کی بارگاہ میں وہ بہتر وافضل مقام ومرتبے میں ہو۔ نیز مشائخ فرماتے ہیں کہ ’’جو اپنے بھائی کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اس کا انجام ذلت ورسوائی ہوتا ہے۔‘‘ (الجواھر اللؤلؤیةللدمیاطی، ص۵۰۵، تحت الحدیث:۳۵)
حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ مذکورہ جز کے تحت فرماتے ہیں: حقیر نہ جاننے سے مراد یہ ہے کہ اسے چھوٹا نہ سمجھے اور اس کی قدر ومنزلت کو نہ گھٹائے کیونکہ جب ربّ کریم نے اسے پیدا فرمایا تَو اس کی تحقیر نہ فرمائی بلکہ اسے رِفعت وبلندی عطا فرمائی، اس سے خطاب فرمایا اور اسے اَحکامِ شرعیہ کا مکلف بنایا، لہٰذا اب جو بھی اُس کی تحقیر کرے گا گویا وہ ربِّ کریم کی حد بندی سے تجاوز کرے گا اور اللہ پاک کی حَد سے تجاوز کرناایک بہت بڑا گناہ اور بُرائی ہے۔ اسی وجہ سے یہ فرمایا گیا کہ’’کسی شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔‘‘
(دلیل الفالحین، باب فی تعظیم حرمات المسلمین...الخ، ۲/ ۲۴، تحت الحدیث:۲۳۶)
حضرت سیِّدُنا علامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ مذکورہ جز کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کسی بھی مسلمان کو حقیر نہ جاننے سے مراد یہ ہے کہ اُس کے عیبوں کا ذکر نہ کرے، اُس کے بُرے بُرے نام نہ رکھے، اُس کے ساتھ مذاق نہ کرے، جب اُسے مفلوکُ الحال دیکھے یا کسی بیماری میں مبتلا دیکھے یا اُسے بات کرنا نہ آتی ہو تو اُس پر طنز کے طور پر نہ ہنسے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اُس کا ضمیر زیادہ مخلص ہو اور وہ قلبی طور پر زیادہ متقی ہوایسے شخص سے جس میں اِس کے برعکس صفات پائی جاتی ہوں، لہٰذاجسے اللہ پاک نے تقویٰ دے کر عزت بخشی ہے اُس کی تحقیر کرکے بندہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرے گا۔
(مرقاةالمفاتیح، کتاب الاٰداب، باب الرحمة والشفقة علی الخلق، ۸/ ۶۹۰، تحت الحدیث:۴۹۵۹)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی مسلمان کو نہ تو دل میں حقیر جانو نہ اسے حقارت کے الفاظ سے پکارو یا بُرے لقب سے یاد کرو نہ اس کا مذاق بناؤ آج ہم میں یہ عیب بہت ہے۔پیشوں،نسبوں،یا غربت و افلاس کی وجہ سے مسلمان بھائی کو حقیر جانتے ہیں حتی کہ صوبہ جاتی تعصب ہم میں بہت ہوگیا کہ وہ پنجابی ہے،وہ بنگالی، وہ سندھی،وہ سرحدی،اسلام نے یہ سارے فرق مٹادیئے۔شہد کی مکھی مختلف پھولوں کے رس چوس لیتی ہے تو ان کا نام شہد ہوجاتا ہے، مختلف لکڑیوں کو آگ جلادے تو اس کا نام راکھ ہوجاتا ہے،آم،جامن،ببول کا فرق مٹ جاتا ہے یوں ہی جب حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے حبشی ہو یا رومی۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/552)تقویٰ وپرہیزگاری کا مرکز:’’ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا:تقوی یہاں ہے ‘‘: یعنی اسلام میں عزت تقویٰ و پرہیزگاری سے ہے اور تقویٰ کا اصلی ٹھکانہ دل ہے۔تمہیں کیا خبر کہ جس مسکین مسلمان کو تم حقیر سمجھتے ہو اس کا دل تقویٰ کی شمع سے روشن ہو اور وہ اللہ (پاک) کا پیارا ہو تم سے اچھا ہو۔ صوفیاء کرام اِس جملہ کے معنیٰ یہ کرتے ہیں کہ حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) نے اپنے سینے کی طرف اِشارہ کرکے فرمایا کہ تقویٰ و پرہیزگاری یہاں ہے یعنی تقویٰ کی کان اور پرہیزگاری کا مرکز میرا سینہ ہے۔ میرے سینے سے تمام اولیاء و علماءکے دلوں کی طرف تقویٰ کے دریا بہتے ہیں۔ پھر اُن کے سینوں سے عوام کے سینوں کی طرف تقویٰ کی نہریں نکلیں۔ حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کا سینہ کشف غیوب (یعنی پوشیدہ باتوں کے ظاہر ہونے) کا آئینہ ہے ، کونین یعنی سارے عالَم میں حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کی عطائیں بہتی ہیں۔
(مراٰۃ المناجیح، 6/552 تا 553، ملتقطاً)تقویٰ کی جگہ دل کیوں ہے؟حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے تقویٰ کی جگہ دل بتائی کیونکہ تقویٰ خوف سے حاصل ہوتا ہے اور خوف دل میں ہی ہوتا ہے۔ نیز آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک اللہ پاک تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کی طرف نہیں بلکہ وہ تو تمہارے دِلوں کی طرف دیکھتا ہے۔‘‘
(دلیل الفالحین، باب فی تعظیم حرمات المسلمین، ۲/ ۲۴، تحت الحدیث:۲۳۶)متقی وپرہیزگارشخص کسی کی تحقیر نہیں کرتا:مرقاۃ المفاتیح میں ہے: جو مسلمان اپنے آپ کو شرک اور گناہ سے بچائے تو اس کی تحقیر کرنا جائز نہیں اور تقویٰ کا محل دل ہے اور جس چیز کا محل دل ہو ، وہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہوتی ہے تو جب تقویٰ نظروں سے پوشیدہ ہے تواب کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان میں تقویٰ نہ ہونے کا حکم لگائے اور اس کی تحقیر کرے۔ اس جملے کا ایک معنیٰ یہ بھی بیان کیا گیاہے کہ جس کے دل میں تقویٰ ہوتو وہ کسی مسلمان کی تحقیر نہیں کرسکتا کیونکہ متقی شخص کبھی کسی مسلمان کی تحقیر نہیں کر تا۔(مرقاةالمفاتیح، کتاب الاٰداب، باب الرحمة والشفقة علی الخلق، ۸/ ۶۹۰، تحت الحدیث:۴۹۵۹)تقویٰ کیا ہے؟تقویٰ کیا ہے؟ اس کے بارے میں علمائے کرام رحمۃُ اللہ علیہم نے مختلف اَقوال بیان فرمائے ہیں۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک نے جن کاموں کو کرنے کا حکم دیا ہے اُن کو کرکے اور جن سے منع فرمایا ہے اُن کو نہ کرکے اپنے آپ کو اس کے عذاب سے بچانے کا نام تقویٰ ہے۔‘‘
(دلیل الفالحین، باب فی تعظیم حرمات المسلمین...الخ، ۲/ ۲۴، تحت الحدیث:۲۳۶)
حضرت سیِّدُنا علامہ ابو القاسم عبد الکریم بن ہوازن قشیری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’تقویٰ تمام نیکیوں کا مجموعہ ہے، تقویٰ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اللہ پاک کی اطاعت کے ساتھ اس کے عذاب سے بچے۔ تقویٰ کی اصل شرک سے بچنا ، پھر گناہوں اور بُرائیوں سے بچنا ، اس کے بعد شبہات سے بچنا اور پھر فضول باتوں کو ترک کرنا ہے۔ حضرت سیِّدُنا ابو علی دقاق رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: تقویٰ کی ہر قسم کا الگ باب ہے اور قرآن پاک میں جو یہ فرمایا گیا کہ ’’اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے‘‘ اس کی تفسیر میں یہ بھی آیا ہے کہ اللہ پاک کی اطاعت کی جائے ، اُس کی نافرمانی نہ کی جائے ، اُسے یاد رکھا جائے، بھلایا نہ جائے ، اُس کا شکر ادا کیا جائے، ناشکری نہ کی جائے۔ (الرسالةالقشیریة، باب التقوی، ص۱۴۲)انسان کے برا ہونے کی علامت:’’کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے‘‘یعنی کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے،کسی کی آبروریزی نہ کرے،کسی مسلمان کو ناحق اور ظلمًا قتل نہ کرے کہ یہ سب سخت جرم ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/ 553)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 35