- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 22
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْاَنْصَارِيِّ رَضِيِ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَرَاَيْتَ اِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوْبَاتِ وَصُمْتُ رَمَضَانَ وَاَحْلَلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَلَمْ اَزِدْ عَلٰى ذٰلِكَ شَيْئًا اَاَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: ’’نَعَمْ.‘‘ (رَوَاہُ مُسْلِم)وَمَعْنٰی: حَرَّمْتُ الْحَرَام اِجْتَـنَبْتُہٗ. وَمَعْنٰی: اَحْلَلْتُ الْحَلَالَ فَعَلْتُہٗ مُعْتَقِدًا حِلَّہٗ.
عن ابي عبد الله جابر بن عبد الله الانصاري رضي الله عنهما ان رجلا سال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ارايت اذا صليت المكتوبات وصمت رمضان واحللت الحلال وحرمت الحرام ولم ازد على ذلك شيئا اادخل الجنة؟ قال: ’’نعم.‘‘ (رواہ مسلم)ومعنی: حرمت الحرام اجتـنبتہ. ومعنی: احللت الحلال فعلتہ معتقدا حلہ.
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں عرض کی: مجھے بتائیے کہ جب میں فرض نمازیں اداکروں، رمضان کے روزے رکھوں، حلال کوحلال اور حرام کو حرام جانوں اور ان کاموں پر کچھ زیادہ نہ کروں تو کیا میں جنت میں چلا جاؤں گا؟ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (مسلم، كتاب الايمان، باب الايمان الذی يدخل بہ الجنة...الخ، ص۳۷، حدیث:۱۱۰)
حضرت سیِّدُنا امام نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حرام کو حرام سمجھوں کا معنیٰ یہ ہےکہ حرام سے بچوں اور حلال کو حلال جاننے کا معنیٰ یہ ہےکہ اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھتے ہوئے اس پر عمل کروں۔
شرح حدیث
حرام کو حرام جانوں:حضرت سیِّدُنا شیخ ابو عمرو بن صلاح رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’حرام کو حرام جانوں‘‘ ظاہر یہ ہے کہ اس سے سائل نے دو چیزیں مرادلی ہیں: ایک یہ کہ حرام کا اعتقاد رکھوں اور دوسری یہ کہ حرام سے بچوں۔ جبکہ حلال کو حلال جاننے میں ایسا نہیں ہے کیونکہ اس میں فقط حلال کا اعتقاد رکھنا کافی ہے۔(شرح النووی علی صحیح مسلم، كتاب الايمان، باب الايمان الذی يدخل بہ الجنة...الخ، ۱/ ۱۷۵)کیا صرف فرض نماز ضروری ہے؟مذکورہ حدیث پاک میں فرائض کا ذکر ہے نوافل ومستحبات کا ذکر نہیں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نوافل وغیرہ کو چھوڑ دیا جائے جو ایسا کرے گا وہ بہت بڑے فائدے سے محروم رہے گا۔ نیز سنتوں کو چھوڑنے پر اس کا دین کمزور ہو جائے گا بلکہ سنت مؤکدہ کو اگر چھوڑنے کی عادت بنالی تو اس کے عادل ہونے میں بھی نقص آئے گا۔ پس اگر اس نے سنتوں کو ہلکا جانتے ہوئے اور بےرغبتی کی وجہ سے چھوڑاتو یہ فسق (گناہ)ہے اور وہ مذمت کا مستحق ٹھہرے گا۔ علما فرماتے ہیں: اگر شہر کے تمام لوگ سنتوں کے ترک پر ہمیشگی اختیار کریں تو ضرور ان سے لڑا جائے یہاں تک کہ سنتوں کی ادائیگی پر آمادہ ہو جائیں۔ کیونکہ صحابَۂ کرام اور تابعین عظام علیہمُ الرّضوان حصول ثواب کی خاطر سنتوں کی پابندی کیا کرتے تھے اور سنت وفرض کے درمیان فرق نہیں کرتے تھے۔ (شرح الاربعين النوویة لابن دقيق العيد، ص۱۵۸، تحت الحدیث:۲۲، ملخصًا)غور تو کیجئے:یاد رکھئے! سنتیں اس لئے نہیں ہوتیں کہ انہیں چھوڑا جائے بلکہ اس لئے ہوتی ہیں کہ انہیں اختیار کیا جائے صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان سنتوں کے پابند تھے کہ یہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا طریقہ ہے جبکہ ہماری حالت یہ کہ ہم یہ کہہ کر سنتیں چھوڑ دیتے کہ سنتیں ہی تو ہیں۔زکوٰۃ اور حج کا ذکر کیوں نہیں کیا؟مذکورہ حدیث شریف میں صرف نماز اور روزوں کا ذکر ہے زکوٰۃ اور حج کا ذکر نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت تک زکوٰۃ اور حج فرض نہیں تھا یا پھر صاحب نصاب نہ ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ اور استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے حج سائل پر فرض نہیں تھا یا یہ وجہ ہے کہ زکوٰۃ اور حج سائل کے اس قول میں داخل ہے کہ ’’میں حرام کو حرام جانوں‘‘ کیونکہ فرائض چھوڑنا بھی حرام ہے اگرچہ نماز وروزہ بھی اس جملے کے تحت داخل ہے لیکن ان کی اہمیت وفضیلت کی وجہ سے انہیں صرحتاً بیان کیا۔
(الجواھر اللؤلؤیة فی شرح الاربعین النوویة للجردانی، ص۳۳۹، تحت الحدیث:۲۲)ایک اعتراض اور اس کا جواب:اعتراض:مذکورہ حدیث پاک سے ظاہر ہو رہا کہ نیک عمل جنت میں داخلے کا سبب ہے جب کہ ایک روایت میں ہے، حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ’’کسی کو اس کا عمل ہرگز جنت میں داخل نہیں کروا سکے گا(حاشیہ1)۔‘‘ صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! آپ کو بھی نہیں۔ ارشاد فرمایا: ’’مجھے بھی نہیں، البتہ اللہ پاک مجھے مہربانی سے اپنی رحمت میں چھپا لے۔‘‘(بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، ۴/ ۱۳، حدیث:۵۶۷۳) اس کا جواب یہ ہے کہ وہ عمل جو جنت میں داخلے کا سبب ہے وہی ہے جو مقبول ہو نہ کہ غیرمقبول عمل اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قبولیت اللہ پاک کی جانب سے رحمت ہی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جنت میں داخلہ رحمَتِ الٰہی سے ہی ہوگا۔(الجواھر اللؤلؤیة فی شرح الاربعین النوویة للجردانی، ص۳۴۰، تحت الحدیث:۲۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(حاشیہ1) حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیث شریف کے جز ’’کسی کو اس کا عمل ہرگز جنت میں داخل نہیں کروا سکے گا‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں:یعنی نیک اعمال دوزخ سے بچنے،جنت میں داخل ہونے کے اسباب تو ہیں مگر علّتِ تامہ نہیں۔ بہت سے لوگ بغیر نیک عمل جنتی ہیں جیسے مسلمانوں کے ناسمجھ بچے یا دیوانے یا وہ جو مسلمان ہوتے ہی فوت ہوجائیں اور بعض لوگ نیکیوں کے باوجود دوزخی ہیں جیسے نیکیاں کرنے والے کفار یا جن کی نیکیاں مردود ہوگئیں۔ جنت ملنے کی علّتِ تامہ اللہ پاک کا فضل ہے،محض تخم (بیج) درخت کی علَّتِ تامہ نہیں بہت بارتخم ضائع ہوجاتاہے۔ اس فرمان کا مقصد لوگوں کو نیکیوں سے روکنا نہیں ہے بلکہ نیکوں کو اپنے اعمال پر ناز کرنے سے بچانا ہے کہ اے پرہیزگارو! اپنے اعمال پرغرور نہ کرو،ربِّ کریم کا فضل مانگو، شیطان کے اعمال سے،اس کے انجام سے سبق لو۔ اور اس جز ’’یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! آپ کو بھی نہیں ‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی آپ کی نیکیاں تو قبولیت کی انتہائی منزل پر ہیں کیا یہ بھی حصولِ جنت کے لیے کافی وافی نہیں،کیا آپ کو بھی اللہ پاک کی رحمت درکار ہے۔صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان سمجھے یہ تھے کہ ایسے موقعہ پر متکلم مستثنیٰ ہوتا ہے شاید حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم یہ ہمارے لیے فرمارہے ہیں اس لیے یہ سوال کیا۔اس سوال سے معلوم ہوتا کہ صحابہ کرام علیہمُ الرّضوان عمومی احکام پرحضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو داخل نہ مانتے تھے۔ اور حدیث پا ک کے جز ’’ اللہ پاک مجھے مہربانی سے اپنی رحمت میں چھپا لے ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: یعنی میں بھی محض عمل سے بلافضل الٰہی جنت کا حقدار نہیں،ہاں ربِّ کریم کی رحمت ہر طرف سے مجھے گھیرے تو جنت میر ی ہے۔ خیال رہے کہ تمام دنیا کے لئےحضورانور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم رحمت ہیں،ربِّ کریم ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)(پ۱۷، الانبیآء:۱۰۷، ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔) اور رحمَتِ الٰہی جنت ملنے کا ذریعہ ہے تو ہماری جنت کا وسلیہ عظمی حضور انور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہیں اور حضور انور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر خود ربِّ کریم کا فضل ربانی ہے:وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳)(پ۵، النسآء:۱۱۳، ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔) لہٰذا ہم اور رحمت سےجنتی ہیں حضور انور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم دوسری رحمت سے،سورج و چاند دونوں کو نور ربِّ کریم نے دیا مگر چاند کو سورج کے ذریعہ اور سورج کو بلاواسطہ اپنی طرف سے لہٰذا اس حدیث سے حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا ہماری مثل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔(مراٰۃ المناجیح، 3/ 383، ملخصاً)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رحمت الٰہی تک پہنچانے والے اعمال:حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک کے 99 نام ہیں جو ان مبارک ناموں کو گن گن کر اخلاص کے ساتھ پڑھتا رہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘
(بخاری، کتاب الشروط، باب مایجوز من الاشتراط والثنیا فی الاقرار...الخ، ۲/ ۲۲۹، حدیث:۲۷۳۶)
حضرت سیِّدُنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:
’’جس نے ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی اسے موت کے علاوہ جنت میں داخلے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔‘‘
(معجم کبیر، ۸/ ۱۱۴، حدیث:۷۵۳۲)
حضرت سیِّدُنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو مجھے دونوں جبڑوں اور دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیز کی حفاظت کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘
(بخاری، کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان، ۴/ ۲۴۰، حدیث:۶۴۷۴)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 22