- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 38
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنَّ اللهَ تَعَالٰى قَالَ: ’’مَنْ عَادَى لِيْ وَلِيًّا فَقَدْ اٰذَنْتُهٗ بِالْحَرْبِ. وَمَا تَقَرَّبَ اِلَيَّ عَبْدِيْ بِشَيْءٍ اَحَبَّ اِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ. وَمَا يَزَالُ عَبْدِيْ يَتَقَرَّبُ اِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰى اُحِبَّهٗ، فَاِذَا اَحْبَبْتُهٗ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِيْ يَسْمَعُ بِهٖ وَبَصَرَهُ الَّذِيْ يُبْصِرُ بِهٖ وَيَدَهُ الَّتِيْ يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِيْ يَمْشِيْ بِهَا. وَاِنْ سَاَلَنِيْ اَعْطَیْتُہٗ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِيْ لَاُعِيْذَنَّهٗ.‘‘ (رَوَاهُ الْبُخَارِیُّ)
عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ان الله تعالى قال: ’’من عادى لي وليا فقد اذنته بالحرب. وما تقرب الي عبدي بشيء احب الي مما افترضت عليه. وما يزال عبدي يتقرب الي بالنوافل حتى احبه، فاذا احببته كنت سمعه الذي يسمع به وبصره الذي يبصر به ويده التي يبطش بها ورجله التي يمشي بها. وان سالني اعطیتہ ولئن استعاذني لاعيذنه.‘‘ (رواه البخاری)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک کا فرمان ہے: ’’جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو میں اس کے ساتھ جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔ میرا بندہ جن چیزوں سے میرا قُرب حاصل کرتا ہے ان میں فرائض مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور نوافل کے ذریعہ بندہ میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو جب میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو اس کے کان ہو جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، اگروہ مجھ سے مانگے تو ضرور اسے دوں گا اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں ضرور اسے پناہ دوں گا۔‘‘ ( بخاری، كتاب الرقاق، باب التواضع، ۴/ ۲۴۸، حدیث:۶۵۰۲)
شرح حدیث
ولی کی تعریف:قرآن مجید میں اللہ پاک نے اپنے اولیا کی صفات ان کلمات سے بیان فرمائی ہے:اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)(پ۱۱، یونس:۶۲، ۶۳)
ترجمہ کنزالایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔
حضرت سیِّدُنا علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ولی وہ ہے جو ممکنہ حدتک اللہ پاک اور اس کی صفات کا عارف ہو، ہمیشہ اُس کی عبادت کرتا ہواور ہرقسم کے گناہوں، لذات اورشہوات میں مشغولیت سے بچتا ہو۔
(شرح العقائد، کرامات الاولیاء حق، ص۳۱۶)
حضرت سیِّدُنا علامہ بدر الدین عینی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وَلِیُّ اللہ وہ شخص ہوتا ہے جو اللہ پاک (کی ذات و صِفات) کا عالِم ہو، ہمیشہ اللہ پاک کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اور اللہ پاک کی عبادت میں مخلص ہو۔
(عمدة القاری، کتاب الرقاق، باب التواضع ، ۱۵/ ۵۷۶، تحت الحدیث:۶۵۰۲)
حضرت سیِّدُنا علّامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وَلِیُّ اللہ وہ بندہ ہے جس کا اللہ پاک والی (مدد گار ودوست) ہو گیا کہ ایک لمحے کے لئے بھی اسے اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ خود اس سے نیک کام لیتا ہے اور وہ بندہ ہے جو خود ربِّ کریم کی عبادت اور مسلسل اطاعت و فرمانبرداری کا متولّی ہوجائے گُناہوں سے محفوظ رہے۔ پہلی قسم کے ولی کا نام مجذوب یا مُراد ہے اور دوسرے کا نام سالِک یا مُرید ہے۔ (مرقاة المفاتیح، کتاب الدعوات، باب ذکر اللّٰہ والتقرب الیہ، ۵/ ۴۰، تحت الحدیث:۲۲۶۶)
فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ولی وہ مومن عارف باللہ ہے جو طاعات کو پوری پابندی کے ساتھ ادا کرتا رہے اور مُحَرَّمات سے بچتا رہے وہ بھی اللہ کی رضا کے لیے نہ کہ عزت وشہرت حاصل کرنے کے لیے اور دکھاوے کے لیے، اس لیے جو شریعت کا پابند نہیں وہ ولی نہیں ہوسکتا اگرچہ ہوا میں اڑے۔ جوگی جے پال حالَتِ کفر میں قادر تھے کہ اپنے حریف پر پتھر برسائیں ، آگ برسائیں ، خود ہوا میں اڑیں ، کیا اس وقت وہ ولی تھے؟ (ہرگز نہیں، اللہ پاک کا) ارشاد ہے: ’’اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ(پ۹، الانفال: ۳۴) اللہ کے ولی وہ لوگ ہیں جو متقی ہیں۔‘‘
( نزہۃ القاری، 5/ 669)ولی سے دشمنی رکھنا:شارح بخاری حضرت علامہ غلام رسول رضوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:)جو کوئی ولی سے عداوت (دشمنی) اس لیے کرتا ہے کہ وہ میرا ولی (دوست) ہے، میں اس سے جنگ کرتا ہوں اور اس کو ہلاک کرتا ہوں اور اس پر ایسے لوگ مسلط کرتا ہوں جو اس کو اذیت پہنچاتے رہیں ۔اُس شخص کی یہ رسوائی دنیا میں ہےآخرت کی خرابی اس کے علاوہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسی ذلت و رُسوائی سے پناہ دے۔ (تفہیم البخاری، 9/ 796)ولی سے عدا وت کا وبال:خیال رہے! دو قسم کے گناہ گاروں سے ربِّ کریم نے اعلانِ جنگ فرمایا ہے: (1)... اولیا کے دشمن سے (جیساکہ مذکورہ حدیث میں ارشاد ہوا’’مَنْ عَادَى لِيْ وَلِيًّا فَقَدْ اٰذَنْتُهٗ بِالْحَرْبِ یعنی جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو میں اس کے ساتھ جنگ کا اعلان کرتا ہوں‘ ‘)۔ (2)...سود خور سے جیساکہ قرآنِ مجید میں ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۷۸)فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ(پ۳، البقرة:۲۷۸، ۲۷۹)
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا۔
صرف انہی دو اعمال پر ایسی سخت وعید اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ دونوں عمل بہت خطرناک ہیں کیونکہ جب اللہ پاک کسی بندے سے جنگ فرمائے گا تو اس کا خاتمہ برا ہوگا کہ اللہ پاک سے جنگ کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔
(مرقاة المفاتیح،کتاب الدعوات،باب ذکر اللّٰہ والتقرب الیہ، ۵/ ۴۱، تحت الحدیث:۲۲۶۶)ولی سے دشمنی کا حکم:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وَلِیُّ اللہ سے اس لئے عداوت وعناد (دشمنی وبغض رکھنا) کہ وَلِیُّ اللہ ہے یہ تو کفر ہے، اسی کا یہاں (حدیث شریف میں) ذکر ہے اور ایک ہے کسی ولی سے اختلافِ رائے یہ نہ کفر ہے نہ فسق۔ (مراٰۃ المناجیح، 3/ 308)فرائض پر عمل:’’فرائض مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ‘‘کی شرح میں ہے: یعنی مجھ تک پہنچنے کے بہت ذریعے ہیں،مگر ان تمام ذرائع سے زیادہ محبوب ذریعہ ادائے فرائض ہے اسی لیے صوفیاء فرماتے ہیں کہ فرائض کے بغیر نوافل قبول نہیں ہوتے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے افسوس ان لوگوں پر جو فرض عبادات میں سستی کریں اور نوافل پر زور دیں اور ہزار افسوس ان پر جو بھنگ،چرس حرام گانے بجانے کو خدا رسی کا ذریعہ سمجھے نماز روزے کے قریب نہ جائیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 3/ 308)
فقیہ اعظیم ہند حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃُ اللہ علیہ مذکورہ حدیث شریف کی شرح میں فرماتے ہیں: فرائض کی پابندی اور ادائیگی بہ نسبت نوافل کے افضل ہے اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ فرائض اداکرنے میں ثواب کی امید ہے اور ترک میں عذاب کا استحقاق اور نوافل کی ادائیگی میں ثواب کی امید اور ترک پر کوئی گناہ نہیں۔ نیز فرائض مَامُوْربِہٖ ہیں (یعنی ان کے کرنے کا حکم دیا گیاہے) ان کا کرنے والا تابع فرمان ہے۔ اس میں آمر (یعنی حکم دینے والے) کی عظمت ظاہر ہے، اس میں عبودیت کا تذلل بھی ہے۔ نیز فرائض اصل ہیں اور نوافل فرع۔حتّٰی کہ حدیث میں فرمایا گیا کہ جو(شخص)فرائض ترک کیے(ہوئے) ہواور نوافل ادا کرے تو اس کے سارے نوافل زمین وآسمان کے درمیان مُعَلَّق رہیں گے مقبول نہ ہوں گے۔ اسی لیے علماء نے فرمایا:جس کے فرائض قضا ہوگئے ہوں وہ بجائے نوافل کے فرائض کی قضاکرے۔ (نزہۃ القاری، 5/ 669)فرائض کے ساتھ نوافل کی کثرت:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’نوافل کے ذریعہ بندہ میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: یعنی بندۂ مسلمان فرض عبادات کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا رہتا ہے حتّٰی کہ وہ میرا پیارا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ فرائض و نوافل کا جامع ہوتا ہے۔(مرقات) اس کا مطلب یہ نہیں کہ فرائض چھوڑ کر نوافل ادا کرے محبت سے مراد کامل محبت ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، 3/ 308)فقیہ اعظیم ہند حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’نوافل کے ذریعہ بندہ میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ فرائض کی کَمَا حَقُّہُ ادائیگی کے بعد نوافل کی ادائیگی کرتا ہے۔یہ مطلب نہیں کہ فرائض چھوڑے اور نوافل ادا کرے پھر بھی محبوب ہوگا۔ اس لیے جو فرائض چھوڑے گا فاسق ہو گا وہ محبوب کیسے ہو گا؟ نوافل چونکہ بندہ اپنی طرف سے بخوشی ادا کرتا ہے اس∞لیے نوافل ادا کرنے والا محبت کا مستحق ہوا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک شخص خدمت پر نوکر ہے جس کی تنخواہ لیتا ہےاورمتعلقہ خدمت کے سوا کچھ انجام نہیں دیتا وہ مشاہرے کا ضرورمستحق ہے اور وہ ایک اچھا نوکر بھی کہلائے گا مگر دوسرا نوکرمتعلقہ خدمات کے علاوہ مزید اپنی خوشی سے دوسری خدمات بھی انجام دیتا ہے یقیناً مالک اس دوسرے نوکر سے پہلے کی بہ نسبت زیادہ محبت کرے گا۔(نزہۃ القاری، 5/ 669)جب بنده اللہ پاک کا محبوب بن جائے تو۔۔۔!امام نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب اللہ پاک اپنے بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے اپنے ذکر اور فرمانبرداری میں مشغول کرکے شیطان کے شر سے محفوظ فرمادیتا ہے، اس کے سب اعضاء کو نیکیوں میں لگا دیتا ہے ۔قرآنِ پاک کی سماعت اور ذکرِ الٰہی کو اس کا محبوب ترین مشغلہ بنا دیتا ہے۔ گانے باجے اور دیگر لَغْویَات کو اس کے نزدیک بہت نا پسندیدہ کر دیتا ہے، پھروہ جاہلوں سے اعراض اور فحش کلامی سے اجتناب کرتا اور اپنی نظروں کو حرام اشیاء سے بچاتا ہے۔ پس اس کا دیکھنا غور وفکر اور عبرت پر مبنی ہوتا ہے، وہ مخلوق کودیکھ کر خالق کی قدرت پر دلیل پکڑتا ہے۔ حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں کسی بھی چیز کو دیکھنے سے پہلے اپنے ربِّ کریم کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔‘‘ مخلوق کو دیکھ کر خالق کی قدرت کی طرف متوجہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق کو دیکھ کر ان کے خالق کی تسبیح و تقدیس بیان کرے اور اس کی عظمت کا اقرار کرے، اپنے ہاتھ، پاؤں صرف اللہ پاک کے حکم کے مطابق استعمال کرے، کسی فضول کام کی طرف نہ چلے، اپنے ہاتھوں سے کوئی بےکار کام نہ کرے، اس کی حرکات وسَکَنات اللہ پاک کے لئے ہوں۔ جب بندے کی یہ حالت ہو جائے تو اسے اس کی تمام حرکات وسَکَنَا ت اور افعال پر ثواب دیا جاتا ہے۔ (شرح الاربعین النوویة، ص۱۲۹)
حضرت سیِّدُنا امام شرفُ الدین حسین بن محمد طیبی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک کا بندے سے محبت کرنا یہ ہے کہ بندہ ہمیشہ مختلف عبادات کے ذریعےاس کاقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے اور مختلف مجاہدات کے ذریعے ایک درجے سے دوسرے درجے کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ پاک اس سے محبت کرنے لگتا ہے، پھروہ اللہ پاک کے جلوؤں میں اس طرح گُم ہوجاتاہے کہ جس طرف دیکھتا ہے اسے اللہ پاک کا ہی جلوہ نظر آتا ہے۔ یہ سالکین کا آخری اور واصلین کا پہلادرجہ ہے۔(شرح الطیبی، کتاب الدعوات، باب ذکر اللّٰہ والتقرب الیہ، ۴/ ۳۹۶، تحت الحدیث:۲۲۶۶)کان، آنکھ، ہاتھ اور پاؤں بن جانے سے مراد:حدیث پاک میں ارشاد ہوا کہ ’’اس کے کان ہو جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے‘‘ علمائے کرام اور شارحین نے اس کے کئی معنیٰ بیان فرمائے ہیں۔ چنانچہ
حضرت سیِّدُنا علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کے دو معنیٰ ہیں: (1)...میں اس کے کان، آنکھ،ہاتھ اور پاؤں کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھتا ہوں ۔ (2)...جب وہ اپنے ہاتھ، کان یا پاؤں سے کوئی عمل کرتا ہے تو میری یاد اس کے دل میں بسی ہوتی ہے جب وہ میری طرف متوجہ ہوتا ہے تو غیر کے لئے کوئی کام نہیں کرتا (مراد یہ ہے کہ اس کے سب کام میری رضا کے لئے ہوتے ہیں)۔ (شرح الاربعین النوویة، ص۱۳۰)
فقیہ اعظیم ہند حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام فخر الدِّین رَازی رحمۃُ اللہ علیہ نے سورۂ کہف کی تفسیر میں تحریر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کی قوتِ سماعت اتنی قوی کردیتا ہے کہ وہ بلند و پست، نزدیک و دور کی آواز یں سنتا ہےاور اس کی آنکھ میں اتنی نورانیت پیدا فرمادیتا ہے کہ قریب و بعید کی سب چیزیں دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ میں اتنی قوت پیدا فرمادیتا ہے کہ نرم اور سخت، ہمواراور پہاڑ اور دُور و نزدیک میں تصرف کرتا ہے۔
(نزہۃ القاری، 5/ 670)
سیِّدُنا علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ حدیث شریف اپنے مجازی معنیٰ پر محمول ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ پاک اپنے نیک بندے کی اس طرح حفاظت فرماتا ہے جیسے بندہ اپنے اعضاء کی خودحفاظت کرتا اور انہیں ہلاکت سے بچاتا ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام خطّابی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اِس حدیث پاک میں سمجھانے کے لئے اِس طرح مثال دی گئی ہے اور معنیٰ یہ ہیں کہ اللہ پاک اپنے نیک بندے کو اِن چار اعضاء ( یعنی ہاتھ، زبان، کان اور پاؤں ) سے ہونے والے نیک اُمور کی پہچان کرا دیتا ہے۔پھر اِن نیک اَعمال کی محبت اِس کے دل میں ڈال کر اِنہیں اِس پرآسان کر دیتا ہے اوراِن اعضاءکو اپنی ناراضی والے کاموں مثلاً بُری باتیں سننا، ممنوع اشیاء کی طرف نظر کرنا ، حرام اشیاء کو پکڑنا، ناجائز اُمور کی طرف چلنا وغیرہ سے محفوظ کر دیتا ہے۔ یا پھر اِس پراِس طرح آسانی فرماتا ہے کہ اِس کی دعائیں اور حاجتیں جلدپوری فرماتا ہے۔
(عمدة القاری، کتاب الرقاق ، باب التواضع، ۱۵/ ۵۷۷، تحت الحدیث:۶۵۰۲)شانِ باری تعالیٰ:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس عبارت کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ ولی میں حلول کرجاتا ہے جیسے کوئلہ میں آگ یا پھول میں رنگ و بو کہ خدا تعالیٰ حلول سے پاک ہے اور یہ عقیدہ کُفْر ہے بلکہ اس کے چند مطلب ہیں: ایک یہ کہ وَلِیُّ اللہ کے یہ اعضاء گناہ کے لائق نہیں رہتے ہمیشہ ان سے نیک کام ہی سرزد ہوتے ہیں اس پر عبادات آسان ہوتی ہیں گویا ساری عبادتیں اس سے میں کرارہا ہوں یا یہ کہ پھر وہ بندہ ان اعضاء کو دنیا کے لئے استعمال نہیں کرتا، صرف میرے لئے استعمال کرتا ہے ہر چیز میں مجھے دیکھتا ہے ہر آواز میں میری آواز سنتا ہے، یا یہ کہ وہ بندہ فَنَا فِی اللہ ہوجاتا ہے جس سے خُدائی طاقتیں اس کے اعضاء میں کام کرتی ہیں اور وہ ایسے کام کرلیتا ہے جو عقل سے وراء ہیں حضرت یعقوب علیہِ السّلام نے کنعان میں بیٹھے ہوئے مِصْر سے چلی ہوئی قمیْصِ یوسفی کی خوشبو سونگھ لی، حضرت سلیمان علیہِ السّلام نے تین میل کے فاصلہ سے چیونٹی کی آواز سن لی حضرت آصف برخیانے پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے تختِ بلقیس لاکر شام میں حاضِر کردیا۔ حضرت عمر نے مدینَۂ منوّرہ سے خطبہ پڑھتے ہوئے نہاوند تک اپنی آواز پہنچادی۔ حضورِ انور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے قِیامت تک کے واقعات بچشم ملاحظہ فرمالئے۔ یہ سب اسی طاقت کے کرشمے ہیں۔ آج نار کی طاقت سے ریڈیو تار، وائرلیس، ٹیلی ویژن عجیب کرشمے دکھا رہے ہیں تو نور کی طاقت کا کیا پوچھنا۔ اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو طاقتِ اولیا کے منکر ہیں۔(مراٰۃ المناجیح، 3/ 308)مقبولیت کے درجے پر فائز:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’اگروہ مجھ سے مانگے تو ضرور اسے دوں گا اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں ضرور اسے پناہ دوں گا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: یعنی (فرائض کی پابندی اور نوافل کی کثرت کرکے) وہ بندہ مقبول الدعاء بن جاتا ہے کہ مجھ سے خیر مانگے یا شر سے پناہ میں اس کی ضرور سنتا ہوں۔ معلوم ہوا کہ اولیاء ربّ تعالیٰ کی پناہ میں رہتے ہیں تو جو شخص ان سے دعا کرائے اس کی قبول ہوگی اور جو ان کی پناہ میں آئے وہ ربّ (کریم) کی پناہ میں آجائے گا۔
(مراٰۃ المناجیح، 3/ 309)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 38