- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 16
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَوْصِنِيْ. قَالَ: ’’لَاتَغْضَبْ.‘‘ فَرَدَّدَ مِرَارًا. قَالَ: ’’لَاتَغْضَبْ.‘‘
(رَوَاہُ الْبُخَارِی)
عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم : اوصني. قال: ’’لاتغضب.‘‘ فردد مرارا. قال: ’’لاتغضب.‘‘
(رواہ البخاری)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں عرض کی: مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’غصہ نہ کیا کرو۔‘‘ اس نے کئی بار یہی عرض کی تو آپ نے (وہی)ارشاد فرمایا کہ ’’غصہ نہ کیا کرو۔‘‘ (بخاری، كتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۴/ ۱۳۱، حدیث:۶۱۱۶)
شرح حدیث
غصہ کی تعریف:غضب یعنی غصہ نفس کے اس جوش کا نام ہے جو دوسرے سے بدلہ لینے یا اسے دفع (دور) کرنے پر ابھارے۔غصہ اچھا بھی ہے اور برا بھی،اللہ (پاک)کے لیے غصہ اچھا ہے جیسے مجاہد غازی کو کفار پر یا کسی واعِظ عالِم کو فُسّاق و فُجّار پر یا ماں باپ کو نافرمان اولاد پر آوے اور بُرا بھی ہوتا ہے جیسے وہ غصہ جو نفسانیت کے لیے کسی پر آوے۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/ 655)غصہ نہ کرنے سے کیا مراد ہے؟حضرت سیِّدُنا حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: حضرت سیِّدُنا امام خطابی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’لَاتَغْضَب‘‘ کا معنیٰ ہے: غصے کے اَسباب سے بچ اور غصے کی وجہ سے جو کیفیت ہوتی ہے اسے اپنے اوپرطاری مت کر، یہاں پر نَفسِ غُصّہ سے منع نہیں کیاگیا کیونکہ وہ تو طبعی چیز ہے جو کہ انسان کی فطرت میں موجود ہوتا ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ’’جو شخص بارگاہِ رسالت میں نصیحت کا طالب ہوا تھا شاید ان کا مزاج بہت تیز اورطبیعت میں غصہ زیادہ تھا اور حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی یہ عادتِ مبارکہ تھی کہ ہر ایک کو اس کی طبیعت کے مطابق حکم ارشاد فرماتے، اسی لئے آپ نے انہیں غصہ ترک کرنے کی وصیت فرمائی۔‘‘(فتح الباری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۱۱/ ۴۳۹، تحت الحدیث:۶۱۱۶)ایک جملے میں دنیا وآخرت کی بھلائی:حضرت سیِّدُنا اِبْنِ تِیْن رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اپنے اس جملے ’’لَا تَغْضَب‘‘ میں دنیا و آخرت کی بھلائی جمع فرمادی کیونکہ غُصّہ اِنسان کو قَطعِ تعلق کی طرف لے جاتا اور نرمی سے روکتا ہے اور بسا اوقات یہ انسان کو مَغْضُوْب عَلَیْہ (جس پر غُصّہ آیا ہے اس) کی ایذا رسانی پر اُبھارتا ہے اور اس سے دین میں کمی آتی ہے۔
(فتح الباری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۱۱/ ۴۴۰، تحت الحدیث:۶۱۱۶)
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارک رحمۃُ اللہ علیہ سے عرض کی گئی: ایک جملے میں بتائیے کہ اچھے اخلاق کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’غصے کو چھوڑ دینا۔‘‘ (احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، بیان ذم الغضب، ۳/ ۲۰۶)
جب انسان کو غصہ آتا ہے تو دِلی کیفیت کے ساتھ جسمانی اعضاء پر بھی غصہ کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔چنانچہاعضاء پرغصے کے اثرات:غصے کے جسم پر اثرات:رنگ متغیر ہوجانا، کندھوں پر کپکپی طاری ہونا، اپنے افعال پر قابو نہ رہنا، حرکات وسکنات میں بے چینی کا پایا جانا، نیز کلام کامضطرب ہو جانا (زبان پر قابو نہ رہنا) یہاں تک کہ باچھوں (ہونٹوں کے سِروں) سے جھاگ نکلنے لگتا، آنکھوں کی سرخی حد سے بڑھ جاتی، نتھنے پھول جاتے، بلکہ پوری صورت ہی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی غضبناک شخص اس حالت میں اپنی ہی شکل دیکھ لے تو شرم کے مارے اپنی خوبصورت شکل کو بدصورتی میں تبدیل پا کر خود بخود ہی اس کا غصہ ختم ہو جائے گا، کیونکہ کسی بھی انسان کی ظاہری حالت اس کی باطنی کیفیت کی عکاس ہوتی ہے۔ لہٰذاجب باطنی کیفیت ہی بُری ہو گی تو ظاہری حالت بھی اسی بُرائی پر پروان چڑھے گی، لہٰذا ظاہر کی تبدیلی حقیقت میں باطن کی تبدیلی کانتیجہ ہوتی ہے۔زبان پر غصے کے اثرات: اس سے بُری باتیں نکلتی ہیں۔ مثلاً ایسی فحش اور گندی گالیاں وغیرہ کہ جن سے ہر صاحِبِ عقل انسان کو حیا آتی ہے، ایسی گفتگو کرنے والے شخص کو غصے کے وقت اپنی باتوں پر قابو نہیں رہتا بلکہ اس کے الفاظ بھی بےربط اورخلط ملط ہو جاتے ہیں۔ پھرنوبت مار پیٹ بلکہ قتل وغارت گری تک جا پہنچتی ہے، اگر کوئی شخص بدلہ نہ لے سکتا ہو تو اپنا غصہ خود پر ہی نکالنے لگتا ہے، یوں کہ اپنے کپڑے پھاڑتا، خود کو اور دوسروں کو یہاں تک کہ جانوروں اور دوسری اشیاء تک کو مارنے یا توڑنے لگتا ہے، بلاوجہ پاگلوں کی طرح بھاگنے لگتا ہے اور بعض اوقات زمین پر گر جاتا اور حرکت تک نہیں کر سکتا بلکہ غضب کی زیادتی کی وجہ سے اس پر غشی کی حالت طاری ہو جاتی ہے۔ دل پر غصے کے اثرات: جس پر غصہ ہو اس کے خلاف دل میں کینہ اور حسد پیدا ہو جاتا ہے، اس کی مصیبت پر خوشی کا اورخوشی پر غم کااظہار کرتا ہے، اس کا راز فاش کرنے، دامَن عزت چاک کرنے اور مذاق اُڑانے کا پختہ ارادہ کرلیتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی برائیاں ایسی ہیں جن کا سبب غصہ بنتا ہے۔(الزواجر عن اقتراف الکبائر، ۱/ ۱۱۸، ۱۱۹)زیادہ غصے کا نقصان:حضرت سیِّدُنا سلیمان بن داؤد علیہما السّلام نے ارشاد فرمایا: ’’زیادہ غصہ کرنے سے بچو کیونکہ غصے کی کثرت بُردبار شخص کے دل کو راہِ حق سے ہٹا دیتی ہے۔‘‘ (احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، بیان ذم الغضب، ۳/ ۲۰۴)
حضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اے انسان! جب تو غصے میں آتا ہے تو اچھلتا ہے خیال کر کہیں ایسا نہ ہو کہ تو جہنم میں چھلانگ لگا بیٹھے۔‘‘ (احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، بیان ذم الغضب، ۳/ ۲۰۵)کیا ہر غصہ حرام ہے؟عوام میں یہ غلط مشہور ہے کہ ’’غصہ حرام ہے‘‘ غصہ ایک غیر اختیاری امر ہے، انسان کو آ ہی جاتا ہے اس میں اس کا قصور نہیں، ہاں غصے کا بےجا (یعنی غلط)استعمال بُرا ہے۔ بعض صورتوں میں غصہ ضروری بھی ہے۔ مثلاً: جہاد کے وقت اگر غصہ نہیں آئے گا تو اللہ پاک کےدشمنوں سے کس طرح لڑیں گے! بہر حال غصے کا ’’اِزالہ‘‘ (یعنی اس کا نہ آنا) ممکن نہیں ’’اِمالہ‘‘ ہونا چاہئے یعنی غصہ کا رُخ دوسری طرف پھر جانا چاہئے۔ یہ آخرت کے لئے انتہائی مفید ہے۔ (بیانات عطاریہ، حصہ دوم، ص173)غصہ کس کی طرف سے ہے؟ اور اس کا علاج:حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ پانی سے بجھتی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کر لیا کرے۔‘‘
(ابو داود، کتاب الادب، باب ما یقال عند الغضب، ۴/ ۳۲۷، حدیث:۴۷۸۴)
رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشادفرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے اس کا غصہ دور ہو جائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے۔‘‘ (ابو داود، کتاب الادب، باب ما یقال عند الغضب، ۴/ ۳۲۷، حدیث:۴۷۸۲)غصے پر قابو پانے کی فضیلت:حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہم سے استفسار فرمایا: ’’ تم پہلوان کسے سمجھتے ہو؟ ہم نے عرض کی: جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’پہلوان وہ نہیں بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔‘‘ (مسلم، کتاب البر والصلة، باب قبح الکذب...الخ، ص۱۰۷۸، حدیث:۶۶۴۱)
ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: کون سی چیز سب سے زیادہ سخت ہے؟ تو رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک کا غضب۔‘‘ اس نے عرض کی: مجھے غضب الٰہی سے کیا چیز بچا سکتی ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’غصہ نہ کیا کرو۔‘‘
(مساوی الاخلاق للخرائطی، باب ما جاء فی فضل الحلم، ص۱۶۲، حدیث:۳۴۲)
اللہ پاک کے پیارے حبیب صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اپنے غصے کو روکتا ہے اللہ پاک اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔‘‘ (معجم کبیر، عمرو بن دینار عن ابن عمر، ۱۲/ ۳۴۷، حدیث:۱۳۶۴۶)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 16