- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 29
حدیث مبارکہ
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم ! اَخْبِرْنِيْ بِعَمَلٍ يُّدْخِلُنِيَ الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِيْ مِنَ النَّارِ. قَالَ: ’’لَقَدْ سَاَلْتَ عَنْ عَظِيْـمٍ وَّاِنَّهٗ لَيَسِيْرٌ عَلٰى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ؛ تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهٖ شَيْئًا وَّتُقِيْمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَـيْتَ.‘‘ ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَااَدُلُّكَ عَلٰى اَبْوَابِ الْخَيْرِ؛ اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ وَّالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيْئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَآءُ النَّارَ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ.‘‘ ثُمَّ تَلَا: ’’ تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ‘‘ حَتّٰی بَلَغَ ’’ یَعْمَلُوْنَ ‘‘. ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَا اُخْبِرُكَ بِرَاْسِ الْاَمْرِ وَعَمُوْدِهٖ وَذِرْوَةِ سَنَامِهٖ؟‘‘ قُلْتُ: بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم ! قَالَ: ’’رَاْسُ الْاَمْرِ اَلْاِسْلَامُ وَعَمُوْدُهٗ اَلصَّلَاةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهٖ اَلْجِهَادُ.‘‘ ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَا اُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذٰلِكَ كُلِّهٖ؟‘‘ قُلْتُ:بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم !. فَاَخَذَ بِلِسَانِهٖ. ثُمَّ قَالَ: ’’ كُفَّ عَلَيْكَ هٰذَا.‘‘ قُلْتُ :يَا نَبِيَّ اللهِ! وَاِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهٖ؟ فَقَالَ: ’’ثَكِلَتْكَ اُمُّكَ؛ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِيْ النَّارِ عَلٰى وُجُوهِهِمْ. اَوْ قَالَ: عَلٰى مَنَاخِرِهِمْ اِلَّا حَصَائِدُ اَلْسِنَتِهِمْ.‘‘
(رَوَاهُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ: حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ)
عن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال: قلت يا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! اخبرني بعمل يدخلني الجنة ويباعدني من النار. قال: ’’لقد سالت عن عظيـم وانه ليسير على من يسره الله تعالى عليه؛ تعبد الله لا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البـيت.‘‘ ثم قال: ’’الاادلك على ابواب الخير؛ الصوم جنة والصدقة تطفئ الخطيئة كما يطفئ الماء النار وصلاة الرجل من جوف الليل.‘‘ ثم تلا: ’’ تتجافى جنوبهم عن المضاجع ‘‘ حتی بلغ ’’ یعملون ‘‘. ثم قال: ’’الا اخبرك براس الامر وعموده وذروة سنامه؟‘‘ قلت: بلى يا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! قال: ’’راس الامر الاسلام وعموده الصلاة وذروة سنامه الجهاد.‘‘ ثم قال: ’’الا اخبرك بملاك ذلك كله؟‘‘ قلت:بلى يا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم !. فاخذ بلسانه. ثم قال: ’’ كف عليك هذا.‘‘ قلت :يا نبي الله! وانا لمؤاخذون بما نتكلم به؟ فقال: ’’ثكلتك امك؛ وهل يكب الناس في النار على وجوههم. او قال: على مناخرهم الا حصائد السنتهم.‘‘
(رواه الترمذی وقال: حديث حسن صحيح)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کردے اور آگ (جہنم) سے دور کردے۔ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:’’تم نے بہت بڑی بات کے بارے میں پوچھا ہے بےشک وہ اسی پر آسان ہے جس کے لئے اللہ پاک آسان فرمادے۔ (وہ یہ ہے)تم اللہ پاک کی عبادت اس طرح کرو کہ کسی کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بَیْتُ اللہ کا حج کرو۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں بھلائی کے دروازوں کی طرف تمہاری راہ نمائی نہ کروں؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو ایسے مٹادیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور بندے کا رات کے درمیانی حصہ میں نماز پڑھنا۔‘‘ پھر آپ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم نے یہ آیات مبارکہ تلاوت فرمائیں:تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘-وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۱۶)فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۷)(پ ۲۱، السجدة:۱۶، ۱۷)
ترجمہ کنزالایمان: ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپا رکھی ہے صلہ اُن کے کاموں کا۔
پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں معاملے (یعنی دین)کی اصل، اس کے ستون اور اس کی بلندی کے بارے میں نہ بتاؤں؟‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیوں نہیں (ضرور بتائیے)۔ ارشادفرمایا: ’’معاملے کی اصل اسلام، اس کا ستون نماز اور اس کی بلندی جہاد ہے۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ان سب کی اصل کے بارے میں نہ بتاؤں؟‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیوں نہیں۔ آپ نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر ارشاد فرمایا: ’’اسے قابو میں رکھو۔‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیا گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟ ارشاد فرمایا: ’’اے معاذ! تیری ماں تجھے روئے! لوگوں کو ان کے منہ کے بل یا فرمایا ان کے نتھنوں کے بل ان کی زبانوں کی کھیتی ہی جہنم میں گرائے گی۔‘‘ (ترمذی، كتاب الايمان عن رسول الله ، باب ما جاء فی حرمة الصلاة، ۴/۲۸۰، حدیث: ۲۶۲۵)
(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہنے (جامع ترمذی میں) روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
شرح حدیث
مراٰۃ المناجیح سے حدیث شریف کی شرح:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو جنت میں داخل اور جہنم سے دور کر دے‘‘یہ اسناد مجازی ہے جنت دینا، دوزخ سے بچانا رب (کریم) کا کام ہے۔چونکہ عمل اس کا ذریعہ ہے اس لیے اسے فاعل قرار دیا گیا، لہٰذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) جنت دیتے ہیں،دوزخ سے بچاتے ہیں،ہمارے اعمال سے حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کا توسل (وسیلہ) زیادہ قوی ذریعہ ہے (جنت میں داخلے کا)۔ ’’تم نے بڑی چیز کے بارے میں پوچھا ہے‘‘کیونکہ آگ (جہنم) سے بچنا جنت میں پہنچنا بڑی نعمتیں ہیں تو ان کا ذریعہ بھی بڑا ہی ہوگا۔ ’’یہ اسی پر آسان ہے جس پر اللہ پاک آسان کر دے‘‘ (یعنی) یہ ذریعہ بتانا مجھ کو آسان ہے کہ رب (کریم) نے مجھ کو ہر شے پر مطلع کیا ہے یا وہ اعمال اسی پر آسان ہوں گے جس پر اللہ (پاک) کرم کرے۔ ڈھیلا خود نیچے گرتا ہے کسی کے اٹھائے سے اوپر ہوتا ہے،ہماری پیدائش مٹی سے ہے ہمارا بھی یہی حال ہے۔ ’’ تم اللہ پاک کی عبادت کرو‘‘یعنی اسلام لاؤ جو ساری عبادتوں کی جڑ ہے کیونکہ عبادات کا ذکر تو آگے آرہا ہے۔ ’’ کسی کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بَیْتُ اللہ کا حج کرو ‘‘ اس طرح کہ نماز روزانہ پانچ وقت،روزہ ہرسال رمضان میں،زکوٰۃ ہر سال اگر مال ہو، حج عمر میں ایک مرتبہ۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں صرف فرائض مراد ہیں جن پر جنتی ہونا موقوف ہے۔ ’’ کیا میں بھلائی کے دروازوں کی طرف تمہاری راہ نمائی نہ کروں؟ ‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی وہ نیک اعمال جو بہت سی نیکیوں کا ذریعہ ہیں جیسے روزہ نفس توڑنے کا ذریعہ ہے نفس ٹوٹ جانے پر انسان بہت سی نیکیاں کرسکتا ہے۔کیونکہ روکنے والا نفس ہی ہے۔ ’’روزہ ڈھال ہے‘‘جس کی برکت سے روزہ دار تک گناہوں کا تیر نہیں پہنچتا اور شیطان کا راستہ بند ہوجاتا ہے۔ ’’ صدقہ خطاؤں کو ایسے مٹادیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ‘‘ چونکہ خیرات میں اللہ (پاک) کی عبادت بھی ہے اور بندوں کا نفع بھی،غریبوں کی حاجت روائی بھی،اس لئے کہ یہ گناہوں کو مٹانے میں اکسیر ہے،جو بندوں پر مہربان ہو رب (کریم) اس پر مہربان ہوتا ہے۔ ’’بندے کا رات کے درمیانی حصہ میں نماز پڑھنا ‘‘ یعنی نماز تہجد،نمازپنجگانہ کے بعد یہ نماز بہت اعلیٰ ہے اور نمازوں میں اطاعت غالب ہے اس نماز میں عشق،نیز یہ نماز رب (کریم) نے خاص حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کے لیے بھیجی،حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کے طفیل سے ہمیں ملی۔ (اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد)فرماتا ہے:فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ(پ۱۵، بنی اسرائیل:۷۹، ترجمہ کنز الایمان: تہجد کرو یہ خاص تمہارے لئے زیادہ ہے) ۔ ’’ ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے ‘‘یعنی عشاء کے بعد کچھ سولیتے ہیں،پھر اٹھ کر تہجد پڑھتے ہیں،تہجد کے لیے پہلے سولینا شرط ہے ورنہ بستروں کا ذکر نہ ہوتا،بعدِ تہجد بھی سونا سنت ہے،یہ بھی اسی آیت سے ثابت ہے یعنی بستر بچھے ہوتے ہیں مگر وہ مصلے پر ہوتے ہیں۔ ’’ معاملے (یعنی دین)کی اصل، اس کے ستون اور اس کی بلندی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ‘‘یہاں دین کو اونٹ سے تشبیہ دی گئی،پھر اس کے لیے سر پاؤں اور کوہان ثابت کیا گیا جیسا استعارہ بالکنایہ اور تخلیل میں ہوتا ہے۔ ’’عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیوں نہیں (ضرور بتائیے) ‘‘ یہ سوال جواب سائل کو شوق دلانے کے لئے ہیں کیونکہ انتظار کے بعد جو شے حاصل ہو خوب یاد رہتی ہے۔ ’’معاملے کی اصل اسلام، اس کا ستون نمازاور بلندی جہادہے ‘‘چیز سے مراد دین ہے۔دینداری اسلام کے بغیر نہیں قائم رہ سکتی،جیسے سر کے بغیر زندگی اور نماز سے دین کو قوت و بلندی ہے،جیسے ستون سے چھت کی۔ جہاد چونکہ دشوار ہے اور جہاد ہی سے دین کی زینت و رونق ہے،جیسے کوہان سے اونٹ کی زینت اور کوہان تک پہنچنا کچھ مشکل بھی ہوتا ہے۔جہاد بمعنی مشقت ہے یہ لِسان، سنان، اقلام (یعنی زبان، تلوار، قلم) سبھی سے ہوتا ہے،کافروں پر جہا د سہل (یعنی کافروں سے لڑنا آسان)ہے مگر اپنے نفس پر مشکل یہ کلمہ سب جہادوں کو شامل ہے۔ ’’کیا میں تمہیں ان سب کی اصل کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ‘‘ملاک (اصل) وہ ہے جس سے کسی چیز کا نظام اور قوام قائم ہو،یعنی اصْلِ اصول۔ ’’ اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا:اسے قابو میں رکھو ‘‘ کہ پہلے تو لو بعد میں بولو،زبان کو لگام دو،رب (کریم) نے چھونے کے لیے دو ہاتھ،چلنے کے لیے دو پاؤں،دیکھنے کے لیے دو آنکھیں،سننے کے لیے دو کان دیئے،مگر بولنے کے لیے زبان صرف ایک ہی دی کہ کلام کم کرو کام زیادہ۔ ’’ کیا گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟ ‘‘یعنی بات تو معمولی چیز ہے۔اس پر کیا پکڑ چوری،زنا،قتل وغیرہ جرم قابل گرفت ہیں مگر وہ زبان سے نہیں ہوتے۔ ’’ اے معاذ! تیری ماں تجھے روئے! ‘‘عرب میں یہ لفظ(ماں روئے)محبت و پیار میں بھی کہا جاتا ہے۔جیسے بچوں سے مائیں پیار میں کہتی ہیں:اے رُڑجانئیں،اڈپڈ جانئیں اردو میں مارے ہتیارے،ارے مٹ گئے وغیرہ یعنی توگم جائے یا مرجائے اور ماں تجھے رو رو کر ڈھونڈ ے یا یاد کرے۔ ’’ لوگوں کو ان کے منہ کے بل یا فرمایا ان کے نتھنوں کے بل ان کی زبانوں کی کھیتی ہی جہنم میں گرائے گی ‘‘کیونکہ ہاتھ پاؤں سے اکثر گناہ ہی ہوتے ہیں۔مگر زبان سے کفر، شرک، غیبت، چغلی، بہتان سب کچھ ہوتے ہیں جو دوزخ میں ذلت و خواری کے ساتھ پھینکے جانے کا ذریعہ ہیں۔ حصائد وہ جگہ ہے جہاں کھیت کا ٹ کر رکھا جاتا ہے یعنی کھلیان یا کٹوتی انسان کا ہر لفظ نامَۂ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔وہ دفتر گویا اس کا کھلیان ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/51 تا 53)خیال رہے! مذکورہ حدیث شریف کے بعض اجزا (جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ) کی تفصیلاً شرح ما قبل میں مختلف احادیث کی شرح میں گزر چکی ہے۔ جبکہ بعض اجزا (جیسےشرک، جہاد اور صلاۃ اللیل یعنی نفل نماز وغیرہ)کی شرح نہیں ہوئی، لہٰذا ان کی کچھ تفصیل ووضاحت یہاں کی جاتی ہے۔ چنانچہ
حدیث پاک میں جنت میں داخلے اور جہنم سے بچنے کا سبب یہ بیان ہوا کہ ’’اللہ پاک کی عبادت اس طرح کرو کہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ‘‘ یعنی شرک سے بچو۔شرک کی تعریف ووضاحت:شرک کی تعریف یہ ہے کہ اللہ پاک کے سوا کسی غیر کو واجِبُ الْوُجُود (یعنی ایسی ذات سمجھنا جو خود سے ہو کسی دوسرے نے اس کو بنایا نہ ہو ، اور اس کی وجہ سے باقی سب ہوں، ) یا اللہ پاک کے کے سوا کسی دوسرے کو لائِقِ عبادت سمجھا جائے۔ حضرت سیِّدُنا علامہ سعْدُ الدین تفتازانی رحمۃُ اللہ علیہ نے شرک کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے: ’’اَلْاِشْترَاکُ ھُوَاِثْبَاتُ الشَّرِیْکِ فِی الْاُلُوْہِیَّۃِ بِمَعْنٰی وُجُوْبِ الْوُجُوْدِکَمَا لِلْمَجُوْسِ اَوْ بِمَعْنَی اِسْتِحْقَاقِ الْعِبَادَۃِ کَمَا لِعَبَدَۃِ الْاَصْنَامِیعنی شرک یہ ہے کہ خدا کی اُلُوہیت (یعنی معبود ہونے) میں کسی کو شریک کرنا اس طرح کہ کسی کو واجِبُ الوجود مان لینا جیسا کہ مجوسیوں کا عقیدہ ہے یا خدا کے سوا کسی کو عبادت کا حق دار مان لینا جیسا کہ بت پرستوں کا خیا ل ہے۔‘‘( شرح عقائد نسفیہ، اللّٰہ تعالٰی خالق لافعال العباد، ص ۲۰۳)سیِّدِی اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’آدمی حقیقۃً کسی بات سے مشرک نہیں ہوتا جب تک غیْرِخدا کو معبود یا مستقل بالذّات و واجِبُ الْوُجُود نہ جانے ۔‘‘ (فتاوی رضویہ، 21/ 131)کفر کی سب سے بدترین قسم:بہارِ شریعت میں ہے کہ شرک کا معنیٰ ہے: اللہ پاک کے سوا کسی کو واجِبُ الْوُجُود یا مستحق عبادت (کسی کو عبادت کے لائق )جاننا یعنی اُلُوْہِیَّت میں دوسرے کو شریک کرنا اور یہ کفر کی سب سے بدترین قسم ہے۔ اس کے سوا کوئی بات کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃً شرک نہیں۔ (بہار شریعت، حصہ1، 1/ 183، ملخصاً)شرک کیا ہے؟شرک اَکْبَرُ الکبائر یعنی تمام بڑے بڑے گناہوں میں سب سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ اِس کے بارے میں اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا(۴۸)(پ ۵، النسآء:۴۸)
ترجمہ کنزالایمان: بےشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑے گناہ کا طوفان باندھا۔
اسی طرح دوسری آیت میں ارشاد فرمایا :اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(۱۱۶)(پ ۵، النسآء:۱۱۶)
ترجمہ کنزالایمان: اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں پڑا ۔
شرک (وکفر)کے بارے میں ا للہ پاک کا اعلان ہے کہ وہ اِس گناہ کو کبھی بھی نہ بخشے گا۔ باقی شرک وکفر کے سوا دوسرے تمام گناہوں کو جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا اور مشرک ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ضرور جہنم میں جائے گا۔ مشرک کی کوئی عبادت مقبول نہیں۔ بلکہ عمر بھر کی عبادت شرک کرنے سے غارت و برباد ہو جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:لَىٕنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ(پ ۲۴، الزمر:۶۵)
ترجمہ کنزالایمان: کہ اے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اکارت جائے گا۔سب سے بڑا گناہ:سیِّدُنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: کون سا گناہ اللہ پاک کے نزدیک سب سے زیادہ بڑا ہے؟ تو حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا : ’’یہ کہ تم اللہ پاک کے لئے کوئی شریک ٹھہراؤ حالانکہ ا ُسی نے تم کو پیدا کیا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللّٰہ :یاایھاالرسول...الخ، ۴/ ۵۸۸، حدیث:۷۵۳۲)
اِن کے علاوہ دو سری بہت سی آیات اور حدیثیں بھی شرک کی ممانعت میں وارد ہوئی ہیں، لہٰذا جہنم کے عذا ب سے بچنے کے لئے شرک سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔شرک کی دو ہی صورتیں ہیں:حضرت سیِّدُنا علامہ سعْدُ الدین تفتازانی رحمۃُ اللہ علیہ نے شرک کی جو تعریف بیان فرمائی ہے اس میں فیصلہ کر دیا کہ شرک کی دوہی صورتیں ہیں: ایک یہ کہ اللہ پاک کے سوا کسی کو واجِبُ الْوُجُود مانا جائے۔ دوسری یہ کہ اللہ پاک کے سوا کسی کو عبادت کے لائق مان لیا جائے۔
آئیے شرک کی مذکورہ تعریف کو پیش نظر رکھ کر مندرجہ ذیل چیزوں اور کاموں کو دیکھتے ہیں جنہیں بعض لوگ شرک کا نام دیتے ہیں حالانکہ یہ کسی بھی طرح شرک نہیں ہیں۔ چنانچہکون کون سی چیزیں شرک نہیں:(1)...انبیائے کرام علیہمُ السّلام اور اولیائے عظام رحمۃُ اللہ علیہم کو محبت سے پکارنا یعنی یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ، یا غوث رحمۃُ اللہ علیہ کہنا۔(2)... بزرگوں سے مدد طلب کرنا ۔(3)... بزرگوں کے مزاروں پر چادر اور پھول وغیرہ ڈالنا۔ (4)... فاتحہ پڑھنا اور ایصال ثواب کرنا۔(5)...بزرگوں کو اللہ پاک کی بارگاہ میں وسیلہ بنا نا۔ (6)... بزرگوں کے مزاروں کے سامنے مراقبہ کرنا۔(7)... بزرگوں کے مزاروں کا ادب کرنا۔(8)... بزرگوں کی فاتحہ کے کھانوں اور مٹھائیوں کو تبرک سمجھ کر کھانا،جو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں سُنّی مسلمانوں کا دستور و طریقہ ہے۔
یہ ہرگز ہر گز شرک نہیں کیوں کہ کوئی مسلمان بھی انبیائے کرام علیہمُ السّلام، اولیائے عظام رحمۃُ اللہ علیہم اور دوسرے بزرگوں کو واجِبُ الْوُجُود یا لائق عبادت نہیں مانتا ہے،بلکہ تمام مسلمان اِن بزرگوں کو اللہ پاک کا بندہ مان کر اِن کی تعظیم کرتے ہیں تا کہ اللہ پاک اپنے محبوبوں کی تعظیم سے خوش ہو جائے، لہٰذا سنیوں کے یہ اعمال ہر گز ہر گز شرک نہیں ہو سکتے۔ البتہ! جو جاہل لوگ قبروں کو سجدہ کرتے ہیں اگر وہ لوگ اِن بزرگوں کو قابلِ عبادت سمجھ کر سجدہ کریں تو یہ کھلا شرک ہو گا اور اگر اِن بزرگوں کی تعظیم کے لئے سجدہ کریں تویہ اگرچہ شرک نہیں ہوگا مگر ناجائز و حرام اور بہت سخت گناہ ہوگا، لہٰذا مسلمان کو قبروں کے سجدہ سے خود بھی بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی روکنا چاہیے۔خاص کر خانقاہوں کے سجادہ نشین اور مزاروں کے مجاورین حضرات کا فرض ہے کہ وہ قبروں پر سجدہ کرنے والے جاہل زائرین کو قبروں کو سجدہ کرنے سے روکیں اور خلافِ شرع حرکت کرنے والے زائرین جو باز نہیں آتے ان کو خانقاہوں اور مزاروں سے باہر کر دیں۔ ورنہ استطاعت ہونے کے باوجود نہ روکنے پر وہ بھی گنہگار ہوں گے اور قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہو کر عذاب نار کے حق دار ٹھہریں گے ۔(جہنم کے خطرات، ص22 تا25، ملخصاً)صلاۃُ اللیل(رات کی نماز)کے فضائل:وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا(۶۴)(پ ۱۹، الفرقان:۶۴)
ترجمہ کنزالایمان: اور وہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام میں۔
حضرت سیِّدُنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک جنت میں کچھ ایسے محلات ہیں جن میں آرپار (اندر کا منظر باہر سے اور باہر کا اندر سے) نظر آتاہے، اللہ پاک نے وہ محلات ان لوگوں کے لئے تیار کئے ہیں جو (محتاجوں کو) کھانا کھلاتے، سلام کو عام کرتے اور رات کو جب لوگ سورہے ہوں تو نماز پڑھتے ہیں۔‘‘ (ابن حبا ن، کتا ب البر والاحسان، ۱/ ۳۶۳، حدیث:۵۰۹)
سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: مجھے کوئی ایسا کام ارشاد فرمائیے جسے میں اختیار کرو ں تو جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ آپ نےارشاد فرمایا: ’’سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو، رات میں نماز پڑھو جب لوگ سوتے ہوں توسلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘
( مستدرک، کتاب الاطعمة، فضیلة اطعام الطعام، ۵ / ۱۷۹، حدیث: ۷۲۵۶)
حضرت سیِّدَتُنا اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن تمام لوگ ایک ہی جگہ اکٹھے ہوں گے پھر ایک منادی ندا کرے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جن کے پہلوبستروں سے جد ا رہتے تھے؟ پھر وہ لوگ کھڑے ہوں گے اوروہ تعداد میں بہت کم ہوں گے اور بغیر حساب جنت میں داخل ہوجائیں گے، پھرتمام لوگوں سے حساب شروع ہوگا۔‘‘ (الترغیب والترھیب، کتاب النوافل، باب الترغیب فی قیام اللیل، ۱/ ۲۴۰، حدیث:۹)نماز ِتہجد کے چند شرعی مسائل:تفسیر صراط الجنان، جلد5، صفحہ498 پرہے: (1) صَلَاۃُ اللَّیْل کی ایک قسم تہجد ہے کہ عشا کی نماز کے بعد رات میں سو کر اُٹھیں اور نوافل پڑھیں ، سونے سے قبل جو کچھ پڑھیں وہ تہجد نہیں ۔ (2) تہجد نفل کا نام ہے اگر کوئی عشا کے بعد سو گیا پھر اٹھ کر قضا نماز پڑھی تو اُس کو تہجد نہ کہیں گے۔ (3) کم سے کم تہجد کی دو رکعتیں ہیں اور حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے(عموماً) آٹھ تک ثابت ہیں۔ (4) جو شخص تہجد کا عادی ہو بلا عذر اُسے تہجد چھوڑنا مکروہ ہے کہ بخاری شریف کی حدیث میں ہے، حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حضرت عبداللّٰہ بن عَمْرو رضی اللہ عنہما سے ارشاد فرمایا: ’’اے عبداللّٰہ! تو فلاں کی طرح نہ ہونا کہ رات میں اُٹھا کرتا تھا پھر چھوڑ دیا۔‘‘ ( بخاری، کتاب التھجد، باب ما یکرہ من ترک قیام اللیل لمن کان یقومہ، ۱/ ۳۹۰، حدیث:۱۱۵۲)جہاد کی تعریف اور مفہوم:جہاد کے لغوی معنیٰ: مشقت اٹھانے کے ہیں۔ اور شرعی معنیٰ : اعلاء کلمۃ اللہ (یعنی دین کی سربلندی) کےلئے کفار کے ساتھ قتال (جنگ)کی مشقت اٹھانے کے ہیں۔ نیز کبھی کبھی جہاد کے معنی ٰیہ بھی آتے ہیں کہ آدمی اللہ پاک کی رضا کے لئے اعمالِ شاقہ (مشکل اعمال) کرے اور نفس کو اس کی مرضی کے خلاف اعمالِ خیر (بھلائی کے کاموں) میں لگائے اور اسے ذلیل کرے۔
(نزہۃ القاری،کتاب الجھاد، 4/41 )جہاد کا حکم،شرائط اور اقسام:جہاد فرض ہے، بلاوجہ جہاد نہ کرنے والا ایسا ہی گنہگار ہوگا جیسے نماز چھوڑنے والا بلکہ کئی صورتوں میں اِس سے بھی بڑھ کر ہے۔ البتہ یہ خیا ل رہے کہ جہاد کی فرضیت کی کچھ شرائط ہیں جن میں ایک اہم شرط اِستِطاعت یعنی جنگ کی طاقت ہونا بھی ہے۔ جہاد یہ نہیں ہے کہ طاقت ہو نہیں اور چند مسلمانوں کو لڑائی میں جھونک کر مروا دیا جائے۔ جہاد کبھی فرضِ عین ہوتا ہے اور کبھی فرضِ کِفایہ۔ (صراط الجنان، 2/ 251)اعلیٰ قسم کا جہاد:جہاد کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں سے اعلیٰ قسم کا جہاد یہ ہے کہ مجاہد اپنی جان و مال سب کچھ راہ خدا میں خرچ کر کے جہاد کرے کیونکہ یہ جہاد نفس پر بہت گراں ہے۔خیال رہے کہ یہ افضلیت اضافی ہے۔ یعنی ایک اعتبار سے یہ جہاد افضل ہے اور ایک اعتبار سے خصوصی حالات میں ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہہ دینی افضل ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 5/ 440، ملخصاً)جہاد کی صورتیں:جہاد کی تین صورتیں ہیں: (1)...فقط جان سے جہاد کرنا۔ جیسے مَساکین کرتے تھے۔ (2)...فقط مال سے جہاد کرنا۔ جیسا کہ معذور مالدار مومن کا عمل کہ غازی کو گھوڑا وغیرہ دے دیتے تھے۔ (3)...جان و مال دونوں سے جہاد کرنا۔ جیساکہ غنی قادر مسلمان جو کہ دوسرے مسکین غازیوں کو سامان بھی دیتے اور خود بھی میدا ن میں جاتے تھے اور ان کے اپنے جانے پر بھی خرچہ ہوتا تھا۔ (صراط الجنان، 4/ 82)جن پر جہاد فرض نہیں:صراط الجنان، جلد4، صفحہ 205 پر موجود کلام کا خلاصہ ہے:جن پر سے جہاد کی فرضیت ساقط ہے، ان کے چند طبقے ہیں:پہلا طبقہ: ضعیف جیسے کہ بوڑھے،بچے، عورتیں اور وہ شخص بھی انہیں میں داخل ہے جو پیدائشی کمزور ضعیف ونحیف ہو۔دوسرا طبقہ: بیمار، اس میں اندھے ،لنگڑے، اپاہج بھی داخل ہیں۔ تیسرا طبقہ: وہ لوگ جنہیں خرچ کرنے کی قدرت نہ ہو اور سامانِ جہاد نہ کرسکیں یہ لوگ رہ جائیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ (تفسیرکبیر، التوبة، تحت الآیة: ۹۱، ۶/ ۱۲۱)افضل کون؟حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی: کون شخص افضل ہے؟ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’وہ مومن جو اللہ پاک کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرے۔‘‘
(بخاری، کتاب الجھاد، باب افضل الناس مؤمن یجاھد...الخ ، ۲/ ۲۴۹، حدیث:۲۷۸۶)حقیقی مجاہد کون؟مجاہد وہ ہے جس نے اطاعَتِ خداوندی کے معاملے میں اپنے نفس کے ساتھ جہاد کیا۔‘‘(مستدرک، کتاب الایمان، تعریف اکمل المؤمنین، ۱/ ۱۵۸، حدیث:۲۴) اور حضرت سیِّدُنا فضالہ بن عُبَیْد رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’مجاہد وہ ہے جو اللہ پاک کی فرمانبرداری میں اپنے نفس سے لڑتا ہے۔‘‘ ( مسند احمد، مسند فضالة بن عبید الانصاری، ۹ / ۲۴۹، حدیث: ۲۴۰۱۳)نیز حدیث پاک میں اسی کو سب سے بڑا جہاد کہا گیا ہے۔ چنانچہافضل اور بڑا جہاد:حضرت سیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ جہاد سے واپسی پر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’تم آگئے، خوش آمدید! اور تم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف آئے ہو۔‘‘انہوں نے عرض کی:بڑا جہاد کیا ہے؟ارشاد فرمایا: ’’بندے کا اپنی خواہشوں سے جہاد کرنا۔‘‘
(الزھد الکبیر للبیھقی، فصل فی ترک الدنیا ومخالفة النفس والھوی، ص۱۶۵، حدیث: ۳۷۳)
حضرت سیِّدَتُنا اُمّ انس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشادفرمایا: ’’گناہوں کو چھوڑدو کہ یہ سب سے افضل ہجر ت ہے اور فرائض کی پابندی کیا کرو کہ یہ سب سے افضل جہاد ہے۔‘‘ (معجم کبیر، ۲۵/ ۱۲۹، حدیث:۳۱۳)
نیز صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان جب جہاد سے واپس آتے تو کہتے: ہم جہادِ اَصغر سے جہادِ اَکبر (یعنی چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد) کی طرف لوٹ آئے ہیں۔ صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے نفس، شیطان اور خواہشات سے جہاد کو کفارکے ساتھ جہاد کرنے سے بڑا اور عظیم جہاد اس لئے کہا کہ نفس سے جہاد ہمیشہ جاری رہتا ہے جبکہ کفارکے ساتھ کبھی کبھی ہوتا ہے۔
(مکاشفۃ القلوب، ص20)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 29