- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 30
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ جُرْثُوْمِ بْنِ نَاشِرٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’اِنَّ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوْهَا وَحَدَّ حُدُوْدًا فَلَا تَعْتَدُوْهَا وَحَرَّمَ اَشْيَآءَ فَلا تَنْتَهِكُوْهَا وَسَكَتَ عَنْ اَشْيَاءَ رَحْمَةً لَّكُمْ غَيْرَ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوْا عَنْهَا.‘‘ (حَدِيْثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِیُّ وَغَيْرُہٗ)
عن ابي ثعلبة الخشني جرثوم بن ناشر رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ’’ان الله فرض فرائض فلا تضيعوها وحد حدودا فلا تعتدوها وحرم اشياء فلا تنتهكوها وسكت عن اشياء رحمة لكم غير نسيان فلا تبحثوا عنها.‘‘ (حديث حسن رواه الدارقطنی وغيرہ)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابوثعلبہ خشنی جُرثوم بن ناشر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک اللہ پاک نےکچھ چیزیں فرض فرمائی ہیں انہیں ضائع نہ کرو، کچھ حدود مقرر کی ہیں ان سے آگے نہ بڑھو، بعض چیزوں کو حرام کیا ہے ان کی حرمت کو پامال نہ کرو اور کچھ چیزوں کے بارے میں بغیر بھولے محض تم پر رحمت کرتے ہوئےخاموشی برتی ہے، لہٰذا ان کے بارے میں بحث نہ کرو۔‘‘ (دارقطنی، كتاب الرضاع، ۴/ ۲۱۷، حدیث:۴۳۵۰)
(یہ حدیث حسن صحیح ہے اسے حضرت سیِّدُنا امام علی بن عمر دار قطنی رحمۃ اللہ علیہاور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔)
شرح حدیث
حكيم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’بےشک اللہ پاک نےکچھ چیزیں فرض فرمائی ہیں انہیں ضائع نہ کرو ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: فرض اعمال قرآن سے ثابت ہوں یا حدیث سے ان پر ضرور پابندی کرو، نیز اخلاص سے ادا کرو ۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 185)فرائض پر عمل کرنے کی فضیلت:فرائض پر عمل کرنا دنیا وآخرت میں بےشمار فضائل وکمالات کا باعث ہے۔ چنانچہ حدیْثِ قُدسی ہے کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ’’میرا بندہ فرائض کی اَدائیگی کے ذریعے جتنا میرا قرب حاصل کرتا ہے اس کی مثل کسی دوسرے عمل سے حاصل نہیں کرتااورمیرا بندہ نوافل(کی کثرت) سے میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنالیتا ہوں اورجب میں اسے محبوب بنالیتاہوں تو میں اس کےکان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے،اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے،اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے،اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے ۔ اگروہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضروردیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔‘‘
(بخاری،کتاب الرقاق،باب التواضع، ۴/ ۲۴۸، حدیث:۶۵۰۲)
ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلیم رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا: ’’فرائض کی پابندی کرو کیونکہ یہ سب سے افضل جہاد ہے۔‘‘ (معجم کبیر، ۲۵/ ۱۲۹، حدیث:۳۱۳)
مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبادت کی لذّت چار اَشیاء میں پائی: (1)... اللہ پاک کے فرائض کی ادائیگی میں۔ (2)... اللہ پاک کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنے میں۔ (3)...اللہ پاک کی رِضا کے حُصول کی غرض سے نیکی کا حکم دینے میں اور (4)... اللہ پاک کے غَضَب سے محفوظ رہنے کے لئے بُرائی سے منع کرنے میں۔ (المنبّھات، ص۳۷)
مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ سے پوچھا: اے ابوسعید! ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’صبر اور سخاوت۔‘‘ اس نے عرض کی: صبر اور سخاوت کیا ہے؟ فرمایا: ’’ اللہ پاک کی نافرمانی سے باز رہنا صبر اور پابندی کے ساتھ فرائض پر عمل پیرا ہونا سخاوت ہے۔‘‘ (المجالسة وجواھر العلم، الجزء الثامن، ۱/ ۴۴۱، حدیث:۱۱۵۵)
حضرت سیِّدُنا سہل بن عبد اللہ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلنَّجَاۃُ فِیْ ثَلَاثَۃٍ اَکْلُ الْحَلَالِ وَاَدَآءُ الْفَرَآئِض وَالْاِقْتِدَآءُ بِالنَّبِیِّ یعنی نجات تین چیزوں میں ہے: حلال کھانے، فرائض کی ادائیگی اور حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی پیروی کرنے میں۔(تفسیرقرطبی، البقرة، تحت الٓایة:۱۶۸، الجز الثانی، ۱/ ۱۵۹)
یاد رہے جس طرح فرائض پر عمل کرنا دنیا وآخرت میں اجر وثواب کا باعث ہے وہیں فرائض کو ضائع کرنا دنیا وآخرت میں خسارے کا باعث ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہما سے مَروی ہے کہ جس نے اللہ پاک کے فرائض کو ضائع کیا وہ اللہ پاک کی امان سے نکل گیا۔ (قوت القلوب، الفصل السابع والثلاثون فی تفصیل الاسلام...الخ، ۲/ ۲۱۴)
حضرت یحییٰ بن معاذ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتےہیں:”∞مجھے فرض کو چھوڑ کر فضائل کے درپے ہونے والے پر حیرانگی ہے کیونکہ جس کے ذمے کوئی قرض ہو وہ قرض خواہ کو اس کے قرض کے برابر بھی تحفہ دے ڈالے تو مدت پوری ہونے پر قرض خواہ قرض کی ادئیگی کے مطالبے میں حق بجانب ہوگا۔“∞(منھاج العارفین،ص۳۹)مقرر کردہ حدوں کو نہ توڑو:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’ کچھ حدود مقرر کی ہیں ان سے آگے نہ بڑھو، بعض چیزوں کو حرام کیا ہے ان کی حرمت کو پامال نہ کرو ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: اس طرح کے حرام کے قریب بھی نہ جاؤ کرنا تو کجا۔ حلال وحرام کی حدوں کو نہ توڑو، نمازیں پانچ فرض ہیں، چار یا چھ نہ مانو۔ زکوٰۃ مال کا (۴۰) چالیسواں حصہ فرض ہے، کم وبیش پر عقیدہ مت رکھو۔ چار عورتوں تک کا نکاح جائز پانچویں کو حلال چوتھی کو حرام نہ سمجھو وغیرہ۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 185)حدود کی پاسداری کرو:حضرت سیِّدُنا علامہ ابن حجر ہیتمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اللہ پاک نے ہمارے لئے کچھ حدود مقرر کیں اور ہمیں ان سے تجاوز کرنے سے منع فرمایا تو ہم پر لازم ہے کہ ہم ان حدود کی پاسداری کریں اورانہیں اپنی رائے اور عقل کے ترازو میں نہ پرکھیں بلکہ ان کو ہر صورت میں قبول کر لیں خواہ ہماری عقل میں آئيں یا نہ آئيں کیونکہ یہی عبودیت وبندگی کا مرتبہ اور شان ہے کمزور وناتواں اور فہم و فراست سے قاصر بندے پر لازم ہے کہ اپنے مالک حقیقی کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دے کیونکہ جب بھی اس نے اپنی عقل کے مطابق فیصلہ کیا اور اپنے مالک کے حکم سے روگردانی کی تو اس نے اپنے شدید عذاب سے اس کو ہلاکت و بربادی کے عمیق گڑھے میں پھینک دیا۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:’’اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ(۱۲)(پ۳۰، البروج:۱۲)ترجمہ کنزالایمان:بے شک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے۔
(الزواجر عن اقتراف الکبائر، کتاب البیع،۱/ ۴۸۶ملخصا)افضل اعمال:مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے افضل اعمال فرائض ادا کرنا، اللہ پاک کی حرام کردہ اشیاء سے بچنا اور اللہ پاک کی بارگاہ میں نیتوں کو درست کرنا ہے۔
(اتحاف السادة المتقین، کتاب النیةوالاخلاص والصدق، ۱۳/ ۱۹)
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک غیور ہے اور مومن بھی غیرت مند ہے ، اللہ پاک کی غیرت اس بات پر ہے کہ بندۂ مومن اس کے حرام کردہ عمل میں پڑے۔‘‘ ( مسلم، کتاب التوبة، باب غیرة الله تعالٰی وتحریم الفواحش، ص۱۱۳۲، حدیث:۶۹۹۵)حرام کردہ چیزوں سے بچنے کی فضیلت:حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشادفرمایا: ’’اللہ پاک کی حرام کردہ چیزوں سے بچنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے والے نوجوان سے ربِّ کریم ارشاد فرماتا ہے: تیرے لئے 70 صدِیقوں کے برابر ثواب ہے۔‘‘ (الترغیب فی فضائل الاعمال،باب فضل عبادة الشاب... الخ،ص۲۴۲ ،مختصراً)جن سے خاموشی برتی ان کے متعلق بحث نہ کرو:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’کچھ چیزوں کے بارے میں بغیر بھولے محض تم پر رحم کرتے ہوئےخاموشی برتی ہے، لہٰذا ان کے بارے میں بحث نہ کرو ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: یعنی بعض چیزوں کی حلت وحرمت صراحتاً قرآن یا حدیث میں مذکور نہیں ان کی بحث میں نہ پڑو وہ مباح ہیں عمل کئے جاؤ ان کے بارے میں رب فرماتا ہے: ’’عَفَا اللّٰهُ عَنْهَاؕ‘‘(پ۷، المآئدة:۱۰۱،ترجمہ کنزالایمان: اللہ انہیں معاف فرما چکا ہے۔) حضور (نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) فرماتے ہیں: جس سے خاموشی ہو وہ معاف ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 185)جن سے خاموشی فرمائی وہ معاف ہیں:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اسی کی مثل مروی ایک حدیث شریف کے جز ’’اور جن سے خاموشی فرمائی وہ معاف ہیں‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: خلاصہ یہ ہے کہ چیزیں تین قسم کی ہیں: وہ جن کا حلال ہونا قرآن یا حدیث میں صراحۃً مذکور ہے، وہ جن کا حرام ہونا قرآن یا حدیث میں صراحۃً مذکور ہے، وہ جن کا ذکر نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں،پہلی قسم حلالِ قطعی ہے، دوسری قسم حرام قطعی، تیسری قسم معاف یعنی وہ بھی حلال ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام چیزوں میں اصل اباحت ہے کہ جن سے سکوت یعنی خاموشی ہے وہ مباح ہے،(یہ) ا سلام کا کلیہ قانون ہے جس سے لاکھوں چیزوں کے حال معلوم ہوسکتے ہیں۔آم مالٹا وغیرہ کیوں حلال ہیں اس لیے کہ شریعت میں ان کی ممانعت نہیں آئی۔ خیال رہے کہ انسانی نباتات بھی کھانا ہے جیسے سبزیاں،دانے،کبھی جمادات بھی جیسے موتی عنبر،مشک وغیرہ حیوانات بھی۔نباتات و حیوانات کے لیے قاعدہ یہ ہے کہ جو سبزیاں یا دانہ صحت کو مضر ہو وہ حرام، جو مضر نہ ہو وہ حلال حتی کہ سنکھیا بھی مارکر کھایا جائے تو حلال۔حیوانات بعض حرام ہیں،بعض حلال،قرآن کریم نے حرام بعینہ صرف ایک جانور کا ذکر کیا یعنی سؤر کا وہ بھی اس کے گوشت کا ذکر فرمایا،باقی حرام لغیرہ میں آٹھ جانوروں کا ذکر فرمایا میتۃ منخنقۃ وغیرہ،باقی تمام حرام جانوروں کو حدیث پاک نے بیان فرمایا،کتا،بلی،ریچھ،ہاتھی،گدھا وغیرہ حضور انور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) نے ہی حرام کیے،سؤر کا صرف گوشت قرآن پاک نے حرام کیا،باقی اس کے کلیجی گردے،چربی حدیث نے حرام کی،پھر ان حرام جانوروں کی حرمت بعد ِ ہجرت قرآن پاک میں آئی۔مدنی سورتوں میں ہی حرام عورتوں،حرام غذاؤں کا ذکر ہے مگر حضور انور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) نے قبل ہجرت ہی ان سب سے مسلمانوں کو منع فرمادیا تھا،مسلمانوں کو کبھی ماں بہن سے نکاح اور سؤر کتا بلی کھانے کی اجازت نہ دی۔معلوم ہوا کہ حرام و حلال فرمانے والے حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 5/ 681)ہرچیز میں اصل اباحت ہے:ہر چیز مباح اور جائز ہے جب تک اس کے عدم جواز یا تحریم پر کوئی دوسرا حکم نہ ہو۔ حدیث شریف میں ہے:”∞اَلْحَلَالُ مَا اَحَلَّ اللہ فِیْ کِتَابِہٖ وَالْحَرَامُ مَاحَرَّمَ اللہ فِیْ کِتَابِہٖ وَمَاسَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ مِمَّا عَفَا عَنْہُ“ ∞(ترمذی، کتاب اللباس، باب ماجاء فی لبس الفراء، ۳/ ۲۸۰، حدیث:۱۷۳۲)یعنی حلال وہ ہے جو اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حلال فرمادیا اور حرام وہ ہے جو اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حرام فرمادیا اور جن چیزوں سے سکوت اختیار فرمایا وہ معاف ہیں اور مباح۔ لہٰذا ہر وہ چیز جس سے اللہ پاک نے سکوت اختیار فرمایا وہ جائز و مباح ہے۔قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ( پ۷، المآئدة:۱۰۱)’’اے ایمان والو! تم ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جن کا حکم نازل نہیں کیا گیاکہ اگر ان کا حکم ظاہر کردیا جائے تو تمہیں تکلیف پہنچے۔‘‘ اسی لئے حضور علیہِ الصّلوٰۃُوالسّلام نے شرعی احکام میں کثرتِ سوال سے منع فرمایا کہ اس سے شریعت کے احکام کے سخت ہونے کا اندیشہ ہے،لہٰذا جن چیزوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا وہ عفو میں داخل ہیں۔ (بہار شریعت، حصہ19، 3/ 1071، ملخصاً)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 30