- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 8
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم قَالَ: ’’اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰى يَشْهَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ وَيُقِيْمُوْا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوْا الزَّكَاةَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَآءَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ تَعَالٰى.‘‘(رَوَاہُ الْبُخَارِی وَمُسْلِم)
عن ابن عمر رضي الله عنهما ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال: ’’امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدوا ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة فاذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم و اموالهم الا بحق الاسلام وحسابهم على الله تعالى.‘‘(رواہ البخاری ومسلم)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ پاک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ محمد ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) اللہ پاک کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ پس جب انہوں نے یہ کام کرلیا تو انہوں نے مجھ سے اپنا خون اور مال بچالیا سوائے اسلام کے حق کے اور ان کا حساب اللہ پاک کے ذمَّۂ کرم پر ہے۔‘‘(بخاری، كتاب الایمان، باب فان تابوا واقاموا الصلاة، ۱/ ۲۰، حدیث:۲۵۔ مسلم، کتاب الایمان، باب الامر بقتال الناس حتی یقولوا...الخ، ص۴۰، حدیث:۱۲۹)
شرح حدیث
لوگوں سے مراد:خیال رہے! حدیث شریف میں مذکور ’’مجھے لوگوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے‘‘ میں لوگوں سے مراد کفار ومشرکین ہیں۔چنانچہ علامہ شِہاب الدین احمد بن محمد قسطلانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہاں عام لفظ بول کر خاص افراد مراد لئے گئے ہیں اور وہ اہْلِ کتاب کے علاوہ مشرکین ہیں۔ بعض روایات میں تو مشرکین کے الفاظ بھی ہیں جیسا کہ نسائی شریف کی روایت میں ہے: ” مجھے مشرکین سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔“(نسائی، کتاب تحریم الدم، باب ، ص۶۴۹، حدیث:۳۹۷۲) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں مراد اہْلِ کتا ب ہی ہوں۔(ارشاد الساری، کتاب الایمان، باب فان تابوا...الخ، ۱ / ۱۸۴، تحت الحدیث:۲۵)شہادتین، نماز اور زکوٰۃ کی خصوصیت کی وجہ :علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اسلام کے پانچ ارکان میں سے شہادت یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم اللہ پاک کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہ اعتقادی رکن ہے ، نماز کی پابندی(جسمانی) اور زکوٰۃ کی ادائیگی مالی رکن ہے۔ اسلام کی طرف بلانے میں فقط شہادت کافی ہوتی ہے تاکہ دیگر دو ارکان یعنی نماز اور زکوٰۃ اس پر متفرع ہوسکیں کیونکہ روزہ محض بدنی رکن ہے، جبکہ حج بدنی اور مالی دونوں کا جامع ہے۔ پس کلمہ اسلام (یعنی وحدانیت ورسالت کا اقرار) ہی اصل ہے اور یہی کفار پر شاق و گراں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے اس کا ذکر ہوا پھر نماز کا کیونکہ وہ تکرار(یعنی دن میں پانچ بار ہونے کی وجہ سے) کفار پر گراں ہے اور تیسرے نمبر پر زکوٰۃ کا کہ اس میں مال خرچ کرنا ہوتا ہے جو انسانی طبیعت پر گراں ہے کیونکہ عموماً انسان کو مال سے محبت ہوتی ہے۔ پس جب بندہ ان تین امور کی ادائیگی کرلے گا تو بقیہ اَحکامات پر عمل کرنا اس کے لئے زیادہ آسان ہوگا۔‘‘
(دلیل الفالحین، باب فی تحریم الظلم والامر برد المظالم،۱ / ۵۲۵، تحت الحدیث:۲۰۹)شہادتین کے ساتھ بقیہ ارکان کا ذکر کیوں نہیں؟علامہ بدر الدین عینی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اِس حدیث پاک میں توحید و رسالت کے ساتھ نماز و زکوٰۃ پر ایمان لانے کا حکم ہے جبکہ بقیہ ارکان و احکام کا ذکر نہیں ہے (اس کی وجہ یہ ہے کہ ) نماز وزکوٰۃ کی اہمیت کی وجہ سے خاص طور پر اِن دونوں کا ذکر فرمایا ورنہ مومن ہونے کے لئے اُن تمام باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے جو حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں۔‘‘ (عمدة القاری، کتاب الایمان، باب فان تابوا... الخ، ۱/ ۲۷۶، تحت الحدیث:۲۵، ملخصًا)تارِک نمازوزکوٰۃ کا شرعی حکم :مذکورہ حدیث شریف میں اس بات کا بیان ہے کہ جو شخص توحید ورسالت کی گواہی کے ساتھ نماز وزکوٰۃکی ادائیگی کرے گا اس کا خون اور مال محفوظ ہے۔ اس سے پتا چلا کہ جو نماز نہ پڑھے یا زکوٰۃ ادا نہ کرے تو اس پر اس سے مواخذہ ہوگا۔ چنانچہ صدرُالشریعہ ، بدرُالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ نماز کا شرعی حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ہر مکلّف یعنی عاقِل بالغ پر نما ز فرضِ عین ہے اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے اور جو قصداً چھوڑے اگرچہ ایک ہی وقت کی وہ فاسِق ہے اور جو نماز نہ پڑھتا ہو قید کیا جائے یہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے بلکہ اَئِمَّۂ ثلاثہ مالک و شافعی و احمد رضی اللہ عنہم کے نزدیک سلطانِ اسلام کو اس کے قتل کا حکم ہے۔‘‘ (بہارشریعت ، حصہ3، 1/ 443) اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے کے متعلق فرماتے ہیں: ’’زکاۃ فرض ہے، اُس کا منکر کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق اور ادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار و مردودُ الشہادۃ ہے۔‘‘ (بہارشریعت ، حصہ5، 1/ 874)حَقِّ اِسلام سے مرا د:مذکورہ حدیث پاک کے آخر میں اس بات کا بیان ہوا کہ توحید باری تعالیٰ اور رسالت کی گواہی، نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے سے خون اور مال محفوظ ہوگیامگر حَقِّ اسلام معاف نہ ہوگا۔ علمائے کرام رحمۃُ اللہ علیہم نے یہاں حَقِّ اسلام سے یہ حُقُوق مراد لئے ہیں: (1) جان بوجھ کر قتل کرنا اس کے بدلے اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا ۔ (2)محصن یعنی شادی شدہ شخص کا زنا کرنا اسے سنگسار کیا جائے گا۔ (3)مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوجانا۔ (4)مختلف اَموال میں فرض ہونے والی مختلف اَقسام کی زکاتیں بھی معاف نہ ہوں گی۔ (5) مختلف اَحکامِ شرعیہ میں جو کَفّارے لازم ہوتے ہیں وہ بھی معاف نہ ہوں گے۔ (6) نفقاتِ واجبہ یعنی جن لوگوں پر خرچ کرنا واجب ہے ان کا خرچ بھی معاف نہ ہوگا۔ (7) وہ تمام امور جن کا کرنا شرع نے اس پر واجب فرمایا ہے ان کی ادائیگی معاف نہ ہوگی۔ اسی طرح وہ تمام امور جن کو کرنے کی ممانعت ہے ان کی ممانعت بھی اس سے ختم نہ ہوگی یعنی اسے ان سے ضرور بچنا ہوگا۔ (دلیل الفالحین، کتاب الفضائل، باب فی الامر بالمحافظة علی الصلوات...الخ، ۳/ ۵۶۱، تحت الحدیث:۱۰۷۴)باطنی اُمُور کا حساب اللہ پاک کے ذِمَّۂ کرم پر ہے:حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ ’’ اور اُن کا حساب اللہ پاک کے ذِمَّۂ کرم پر ہے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’یعنی مخفی معاملات اور پوشیدہ عقائد کا حساب وکتاب اور فیصلہ ربّ کریم فرمائے گا جبکہ ظاہری معاملات کا فیصلہ مقتضائے حال کے مطابق کیا جائے گا ۔ حدیث پاک کا حاصل یہ ہے کہ باطنی اُمور کا معاملہ اللہ پاک کے سپرد کر دیا جائے کیونکہ رازوں کی پوشیدگیوں، دلوں کے باریک اور خفیہ خیالات کا ذِمَّہ اس ربِّ کریم ہی پر ہے جو (بندوں کے)ایمان، کفر اور نفاق کو جانتا ہے۔‘‘(دلیل الفالحین، باب فی اجراء احکام الناس...الخ، ۲/ ۲۷۰، تحت الحدیث:۳۹۰)ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم :علامہ بدر الدین عینی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ لوگوں پر ان کی ظاہری حالت کے مطابق فیصلہ کیا جائے جبکہ ان کے باطنی معاملات کو اللہ پاک کے سپرد کر دیا جائے۔ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم اور آپ کے بعد کے اَئِمَّہ نے بھی اسی طرح لوگوں کے درمیان فیصلہ فرمایا۔‘‘ (عمدة القاری، کتاب الایمان، باب فان تابوا...الخ، ۱/ ۲۷۵، تحت الحدیث:۲۵)
امام شرف الدین حسین بن محمد طیبی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جن باتوں کو لو گ اپنے دل میں چھپائے بیٹھے ہیں جیسے کفر گناہ وغیرہ، ان کا حساب اللہ پاک ہی لے گا، مخلص کو ثواب دے گا اور مُنافق کو عذاب یا چھپ کر فسق کرنے والے کو سزا دے گا یا معاف فرما دے گا۔ جو شخص اپنے اسلام کو ظاہر کرے اور کفر کو چھپائے تو ظاہر کے اعتبار سے اس کے اسلام کو قبول کر لیا جائے گا اکثر علماء کا یہی قول ہے۔‘‘ (شرح الطیبی، کتاب الایمان، ۱/ ۱۲۹، تحت الحدیث:۱۰)
علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’مذکورہ حدیث شریف میں حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ظاہری اَحوال پر اَحکام کا اِجرا فرمایا ہے اور باطنی احوال کا معاملہ باطنی امور کو جاننے والے ربّ کریم کے سپرد کر دیا ہے کہ باطنی احوال پر وہ خود ہی ان کا محاسبہ فرمائے ۔ ‘‘(دلیل الفالحین، کتاب الفضائل، باب فی الامر بالمحافظة علی الصلوات...الخ، ۳/ ۵۶۱، تحت الحدیث:۱۰۷۴)رسولِ پاکصلّی اللہ علیہ وسلّمکے فیصلوں سے متعلق اہم وضاحت :واضح رہے کہ مذکورہ حدیث پاک میں جو ظاہر پر فیصلہ کرنے کا حکم دیاگیا ہے وہ فقط اُمَّت کے لئے ہے جبکہ اللہ پاک کے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو اللہ پاک نے یہ خصوصی اختیار عطا فرمایا ہے کہ آپ کسی بھی شخص کے ظاہر پر بھی فیصلہ فرماسکتے ہیں اور باطن پر بھی ، بہرصورت آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فیصلہ نافذہوگا کیونکہ آپ پر اُمَّت کے تمام ظاہری وباطنی اَحوال ظاہر ہیں، اس لئے کہ اللہ پاک نے آپ کو ظاہر کا علم بھی عطا فرمایا ہے اور باطن کا بھی ۔ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فریقین میں فیصلہ کے لئے نہ تو کسی گواہ کی ضرورت ہے اور نہ ہی قسم کی۔ظاہر وباطن کے مطابق فیصلے کی چند مثالیں:واضح رہے کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اپنی حیات طیبہ میں عمومی طور پر ظاہر پر ہی فیصلہ فرمایا لیکن بسا اوقات ظاہری وباطنی دونوں، کبھی فقط باطنی پر یعنی ہرطرح کے فیصلے فرمائے۔ چنانچہ
ظاہر وباطن کے مطابق فیصلہ: اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک نوجوان لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوگیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے ، اُس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا بیٹا ہے، آپ اس کی صورت تو دیکھئے (عتبہ سے کتنی ملتی ہے)۔‘‘ حضرت عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ’’یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! یہ میرا بھائی ہے جو میرے باپ کے بستر پر اس کی باندی (غلام عورت) سے پیدا ہواہے۔‘‘ تو آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے عبد بن زمعہ! یہ تیرا بھائی ہے، اس لئے کہ بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے ہاں وہ پیدا ہوا ہو اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔‘‘ اور عتبہ کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا: ’’اے سودہ ! اس سے پردہ کرو۔ ‘‘ پس حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اسے پھر کبھی نہ دیکھا۔ (بخاری، کتاب الفرائض، باب الولدللفراش...الخ، ۴/ ۳۲۱،حدیث:۶۷۴۹)
اس میں ظاہر کا فیصلہ تو حضرت زمعہ رضی اللہ عنہ کا بھائی قرار دے کر فرمایا لیکن باطنی فیصلے میں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو پردے کا حکم دیا حالانکہ ظاہری فیصلے کے اعتبار سے وہ آپ کا بھائی بنتا تھا ۔
فقط ظاہر کے مطابق فیصلہ: حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مسجد میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر زنا کا اعتراف کیا، آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اپنا رُخِ اَنور دوسری طرف کر لیا، اس نے دوسری جانب سے آکر اعتراف کیا تو آپ نے پھر چہرہ مبارکہ پھیر لیا حتّٰی کہ چار بار اس نے زنا کا اعتراف کیا۔ آپ نے اس سے ارشاد فرمایا: ’’کیا تمہارا ذہنی توازن تو خراب نہیں؟‘‘ اس نے عرض کی: نہیں۔ ارشاد فرمایا: ’’کیا تم شادی شدہ ہو؟‘‘ عرض کی: جی ہاں۔ اس پر آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اسے رجم (سنگسار) کرنے کا حکم دے دیا۔ (مسلم، کتاب الحدود، باب من اعتراف علی نفسہ بالزنی، ص۹۲۹، حدیث:۴۴۲۰)
رَجم کا مفہوم: زانی مرد یا زانیہ عورت (جس کے متعلق رجم کا حکم ہے اس) کومیدان میں لے جا کر اس قدر پتھر مارنا کہ مرجائے۔ (ماخوذ از بہارشریعت، حصہ9، 2/ 374)
فقط باطن کے مطابق فیصلہ: حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بارگاہِ رسالت میں ایک چور کو لایا گیا تو حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اسے قتل کردو۔‘‘ عرض کی گئی: ’’یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! اس نے تو صرف چوری کی ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔‘‘ اسے دوبارہ چوری کے جرم میں لایا گیا تو آپ نے قتل کا حکم دیا۔ پھر چوری کا عرض کیا گیا تو ارشاد فرمایا: ’’اس کا پاؤں کاٹ دو۔‘‘ تیسری مرتبہ پھرچوری کے جرم میں اسے لایا گیا تو قتل کا حکم فرمایا۔ پھر چوری کا عرض کیا گیا تو ارشاد فرمایا: ’’اس کا دوسرا ہاتھ بھی کاٹ دو۔‘‘ چوتھی بار بھی اسے چوری کے جرم میں لایا گیا تو قتل کا حکم فرمایا۔ پھر چوری کا عرض کیا گیا تو ارشاد فرمایا: ’’اس کا دوسرا پاؤں بھی کاٹ دو۔‘‘ پانچویں مرتبہ پھر اسے چوری کے جرم میں لایا گیا تو ارشاد فرمایا: ’’اسے قتل کردو۔‘‘ چنانچہ اسے قتل کردیا گیا۔
(نسائی، کتاب قطع السارق، باب قطع الرجل من السارق بعد الید، ص۷۹۵، حدیث:۴۹۸۷، بتغیر)
اس حدیث پاک میں اولاً آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے چور کو جو قتل کرنے کا حکم دیا وہ باطن کے مطابق فیصلہ تھا کیونکہ بالآخر اس نے قتل ہی ہونا تھا۔
(نوٹ: حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ظاہر وباطن کے مطابق فیصلہ فرمانے کے متعلق تفصیل جاننے کے لئے حضرت سیِّدُنا امام جلال الدین سیوطی رحمۃُ اللہ علیہ کی مایہ ناز تصنیف ’’اَلْبَاہِر فِیْ حُکْمِ النَّبِیِّ بِالْبَاطِنِ وَالظَّاہِر‘‘ ترجمہ بنام ’’مدنی آقا کے روشن فیصلے‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔ )دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 8