Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 33

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضیَ اللهُ عَنْہُمَا مَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعٰى رِجَالٌ اَمْوَالَ قَومٍ وَدِمَآءَهُمْ لٰكِنِ الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِيْ وَالْيَمِيْنُ عَلٰى مَنْ اَنكَرَ.‘‘ (حَدِيْثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ الْبَيْهَقِیُّ وَغَيْرُهٗ هٰكَذَا وَبَعْضُهٗ فِی الصَّحِيْحَيْن)

عن ابن عباس رضی الله عنہما ما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ’’لو يعطى الناس بدعواهم لادعى رجال اموال قوم ودماءهم لكن البينة على المدعي واليمين على من انكر.‘‘ (حديث حسن رواه البيهقی وغيره هكذا وبعضه فی الصحيحين)

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر لوگوں کو ان کے دعوے کے مطابق دے دیا جائے تو لوگ دوسروں کی جان و مال کا دعویٰ کرنے لگیں گے، لیکن دعویٰ کرنے والے کے ذمہ گواہ ہے اور قسم انکار کرنے والے پر ہے۔‘‘
(سنن الکبری للبيهقی، كتاب الدعوى والبينات، باب البينة على المدعی...الخ، ۱۰/۴۲۷، حدیث: ۲۱۲۰۱ ۔ ابن ماجة، کتاب الاحکام، باب البینة علی المدعی...الخ، ۳/ ۹۶، حدیث:۲۳۲۱ ۔ بخاری، تفسیر سورة ال عمران، باب قولہ تعالی: ان الذین یشترون بعھداللّٰہ، ۴/ ۱۹۰، حدیث: ۴۵۵۲ ۔ مسلم، کتاب الاقضیة، باب الیمین علی مدعی علیہ، ص۹۴۱، حدیث:۱۷۱۱)
(یہ حدیث حسن ہے اسے حضرت سیِّدُنا امام ابو بکر احمد بن حسین بن علی بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین نے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اس کا کچھ حصہ بخاری ومسلم میں بھی ہے۔)

شرح حدیث

حدیث پاک کی اہمیت:حضرت سیِّدُنا علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ حدیث شریف احکامِ شرع کے قواعد میں سے ایک بہت بڑے قاعدے پر مشتمل ہے کہ بندہ جو دعویٰ کر رہا محض اس کے دعوے کی وجہ سے اس کی بات کو قبول نہیں کیا جائے گا بلکہ گواہ یا مُدَّعٰی عَلَیْہ (جس پر دعویٰ کیا گیا ہے اس) کی تصدیق سے فیصلہ کیا جائے گا۔(گواہ نہ ہونے کی صورت میں) اگر مُدَّعٰی عَلَیْہ سے قسم طلب کی گئی تو اس پر قسم لازم ہوگی۔
(شرح النووی علی المسلم، کتاب الاقضیة، باب الیمین علی المدعی علیہ، الجزء الثانی عشر، ۱۲/ ۳)
فقط دعوے پر فیصلہ نہ کرنے کی حکمت:امام نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فقط مدعی کے دعوے پر فیصلہ نہ کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اگر صرف دعوے کی بنیاد پر ہی لوگوں کی بات قبول کر لی جائے تو پھر کچھ لوگ دوسروں کی جان ومال کا دعویٰ کرنے لگیں گے۔‘‘ تو یوں مُدَّعٰی عَلَیْہ کے لئے اپنے مال اور خون کی حفاظت ممکن نہیں رہے گی اور جہاں تک مُدَّعِی (دعویٰ کرنے والے)کی بات ہے تو اس کے لئے ممکن ہے کہ وہ گواہ کے ذریعے اپنی جان اور مال کو محفوظ کر لے۔
(شرح النووی علی المسلم، کتاب الاقضیة، باب الیمین علی المدعی علیہ، الجزء الثانی عشر، ۱۲/ ۳)
مدعی پر گواہی اور قسم مدعی علیہ پر ہے:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اگر لوگوں کو ان کے دعوے کے مطابق دے دیا جائے‘‘ (یعنی) اگر بفرضِ محال قانونِ اسلام یہ ہو جائے کہ ہرایک کے دعوے پر بغیر گواہی اور بغیر اقرار مدعی علیہ (یعنی گواہی اور جس پر دعویٰ کیا گیا ہے اس کے اقرار کے بغیر)فیصلہ ہو جائے ’’تو کچھ لوگ انسانوں کی جان و مال کا دعویٰ کرنے لگیں گے‘‘ یعنی ہر ایک کہہ دیا کرے کہ فلاں پر میرا اتنا قرض ہے اور فلاں نے میرے عزیز کو قتل کردیا ہے اس کاقصاص یا دیت دلوائی جائے اس پر ملک کا نظام ہی بگڑ جائے ’’لیکن دعویٰ کرنے والے کے ذمہ گواہ ہے اور قسم انکار کرنے والے پر ہے‘‘ مقصد یہ ہے کہ اگرمدعی کے پاس گواہی موجود نہ ہو اور مدعی علیہ اس کے دعویٰ کا اقراری نہ ہو انکاری ہو اور مدعی اس سے قسم کا مطالبہ کرے تو قسم مدعیٰ علیہ پر ہے،یہ تینوں قیدیں خیال میں رہنی چاہئیں۔خیال رہے کہ مدعی کے ذمہ گواہی اور مدعیٰ علیہ پر قسم ہونا عظیم الشان قاعدہ ہے اور یہ حدیث معنیً متواتر ہے جیسے حدیث ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات (یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)متواتر ہے،مدعی پر قسم نہیں مدعیٰ علیہ پر گواہی نہیں۔ (مراٰ ۃ المناجیح، 5/ 392، ملخصاً)’’بَیِّنَہ(گواہی)‘‘ کا معنیٰ ومفہوم:مراٰۃ المناجیح میں حدیث شریف کے جز ’’لیکن گواہ مدعی پر ہے اور قسم انکاری پر‘‘ کی شرح میں ہے: خیال رہے ’’بَیِّنَۃ‘‘ یا تو بنا ہے ’’بَیْنُوْنَۃ‘‘ بمعنیٰ جدائی سے یا ’’بیان‘‘ سے بمعنیٰ ظہور، گواہی شرعی، حق وباطل کو جدا جدا کر دیتی ہے یا اس سے چھپی چیز ظاہر ہو جاتی ہےاس لئے اسے ’’بَیِّنَۃ‘‘ کہتے ہیں۔(مراٰ ۃ المناجیح، 5/ 392)گواہی کی اقسام، شرائط، رکن، حکم اور نصاب:شہادت کی تعریف:کسی حق کے ثابت کرنے کے لیے مجلِسِ قاضی میں لفْظِ شہادت کے ساتھ سچی خبر دینے کو شہادت یا گواہی کہتے ہیں۔(بہارشریعت، حصہ12، 2/ 930) شہادت کی اقسام:شہادت فرضِ کفایہ ہے بعض نے کر لیا تو باقی لوگوں سے ساقط اور دو ہی شخص ہوں تو فرضِ عین ہے۔ خواہ تحمل ہو یا ادا یعنی گواہ بنانے کے لیے بلائے گئے یا گواہی دینے کے لیے دونوں صورتوں میں جانا ضروری ہے۔ شہادت کی شرائط:شہادت کے لیے دو قسم کی شرطیں ہیں: شرائط تحمل و شرائط ادا۔ تحمل یعنی معاملہ کے گواہ بننے کے لیے تین شرطیں ہیں: (1)...بوقْتِ تحمل عاقل ہونا، (2)...انکھیارا ہونا(یعنی دیکھ سکتا ہو)۔ (3)...جس چیز کا گواہ بنے اُس کا مشاہدہ کرنا۔ لہٰذا مجنوں یا لا یعقل بچہ(یعنی نا سمجھ بچے) یا اندھے کی گواہی درست نہیں۔ یوہیں جس چیز کا مشاہدہ نہ کیا ہو محض سنی سنائی بات کی گواہی دینا جائز نہیں۔ تحمل کے لیے بلوغ، حریت، اسلام، عدالت شرط نہیں یعنی اگر وقت تحمل(یعنی جس وقت گواہ بن رہا تھا)بچہ یا غلام یا کافر یا فاسق تھا مگر ادا کے وقت بچہ بالغ ہو گیا ہے غلام آزاد ہو چکا ہے کافر مسلمان ہو چکا ہے فاسق تائب ہو چکا ہے تو گواہی مقبول ہے۔(بہارشریعت، حصہ12، 2/ 931)شہادت کا رکن: یہ ہے کہ بوقْتِ ادا گواہ یہ لفظ کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں اس لفظ کا یہ مطلب ہے کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس بات پر مطلع ہوا اور اب اس کی خبر دیتا ہوں۔ اگر گواہی میں یہ لفظ کہہ دیا کہ میرے علم میں یہ ہے یامیرا گمان یہ ہے تو گواہی مقبول نہیں۔ شہادت کا حکم: یہ ہے کہ گواہوں کا جب تزکیہ ہو جائے (یعنی جب قاضی گواہوں کے متعلق یہ تحقیق کرلے کہ وہ عادل اور معتبر ہیں یا نہیں) اُس کے موافق حکم کر نا واجب ہے اور جب تمام شرائط پائے گئے اور قاضی نے گواہی کے موافق فیصلہ نہ کیا گنہگار ہوا اورمستحق عزل وتعزیرہے (یعنی وہ قاضی اس بات کا مستحق ہے کہ اسے معزول کر کے تادیباً سزا دی جائے)۔ (بہارشریعت، حصہ12، 2/ 932)
(نوٹ: گواہی سے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے ’’بہارشریعت، حصہ12، جلد2 ‘‘ سے گواہی کے بیان کا مطالعہ کیجئے۔)
قسم کی تعریف، اقسام اور احکام:قسم کی تعریف:قسم اس عقد (معاہدے) کو کہتے ہیں جس کے ذریعے قسم کھانے والا کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرتا ہے۔ (فتاوی ھندیة، کتاب الایمان، الباب الاول فی تفسیرھا شرعا...الخ ،۲/ ۵۱) قسم کی اقسام: قسم کی تین قسمیں ہیں: (1)غموس، (2)لغو اور (3)منعقدہ۔اگر کسی ایسی چیز کے متعلق قسم کھائی جو ہوچکی ہے یا اب ہے یا نہیں ہوئی ہے یا اب نہیں ہے مگروہ قسم جھوٹی ہے مثلاً قسم کھائی فلاں شخص آیا اور وہ اب تک نہیں آیا ہے یا قسم کھائی کہ نہیں آیا اور وہ آگیا ہے یا قسم کھائی کہ فلاں شخص یہ کام کر رہا ہے اور حقیقۃً وہ اس وقت نہیں کر رہا ہے یا قسم کھائی کہ یہ پتھر ہے اور واقع میں وہ پتھر نہیں، غرض یہ کہ اس طرح جھوٹی قسم کی دوصورتیں ہیں جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی یعنی مثلاً جس کے آنے کی نسبت جھوٹی قسم کھائی تھی یہ خود بھی جانتا ہے کہ نہیں آیاہے تو ایسی قسم کو غموس کہتے ہیں اور اگر اپنے خیال سے تو اوس نے سچی قسم کھائی تھی مگر حقیقت میں وہ جھوٹی ہے مثلاً جانتاتھا کہ نہیں آیا اور قسم کھائی کہ نہیں آیا اور حقیقت میں وہ آگیا ہے تو ایسی قسم کو لغو کہتے ہیں اور اگر آئندہ کے لیے قسم کھائی مثلاً خداکی قسم میں یہ کام کروں گا یا نہ کروں گا تو اس کو منعقدہ کہتے ہیں۔ قسم کا حکم: غموس میں سخت گنہگار ہوا استغفار و توبہ فرض ہے مگر کفارہ لازم نہیں اور لغو میں گناہ بھی نہیں اور منعقدہ میں اگر قسم توڑے گا کفارہ دینا پڑے گا اور بعض صورتوں میں گنہگار بھی ہوگا۔ (بہارشریعت، حصہ9، 2/ 298 تا 299)خلاصہ:غموس کی تعریف:گزرے ہوئے زمانے یا موجودہ زمانے کے بارےمیں جانتے ہوئے جھوٹی قسم کھانا۔ اس کا حکم: قسم کھانے والا سخت گنہگار ہے اس پر توبہ و استغفار فرض ہے اور کفارہ لازم نہیں۔ لغو کی تعریف: گزرے ہوئے زمانے یا موجودہ زمانے کے بارےمیں اپنے خیال میں سچی قسم کھانا لیکن حقیقت میں وہ جھوٹی ہو۔ اس کا حکم: قسم کھانے والا گناہ گار نہیں۔منعقدہ کی تعریف: اگر آئندہ (یعنی مستقبل) کے لئے قسم کھائی تو اسے منعقدہ کہتے ہیں۔ اس کا حکم:قسم کھانے والا اگر قسم توڑے گا تو کفارہ دینا پڑے گااور بعض صورتوں میں گناہ گار بھی ہوگا۔قسم توڑ نے کا کفارہ:قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا اون کو کپڑے پہنانا ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔(بہارشریعت، حصہ9، 2/ 305)کفارہ ادا ہونے کے لئے نیت شرط ہے بغیر نیت ادا نہ ہوگا۔(بہارشریعت، حصہ9، 2/ 307) اگر غلام آزاد کرنے یا دس مسکین کو کھانا دینے یا ان کو کپڑے دینے پر قادر نہ ہو تو پے در پے (لگاتار) تین روزے رکھے۔ ایک ساتھ تین روزے نہ رکھے یعنی درمیان میں فاصلہ کر دیا تو کفارہ ادا نہ ہوا اگرچہ کسی مجبوری کے سب ناغہ ہوا ہو۔ (بہارشریعت، حصہ9، 2/ 308، ملتقطاً)روزوں سے کفارہ ادا ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ ختم (یعنی تین روزے پورے ہونے) تک مال پر قدرت نہ ہو۔ (بہارشریعت، حصہ9، 2/ 309)
(نوٹ: قسم سے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے ’’بہارشریعت، حصہ9، جلد2 ‘‘ سے قسم کا بیان اور مکتبۃ المدینہ کا 44 صفحات پر مشتمل مطبوعہ رسالہ ’’قسم کے بارے میں مدنی پھول‘‘کا مطالعہ کیجئے۔)
دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 33