- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 34
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ سَعِيْدِ الْخُدَرِيِّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: ’’مَنْ رَاٰى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهٖ فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ وَذٰلِكَ اَضْعَفُ الْاِيْمَانِ.‘‘ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ’’من راى منكم منكرا فليغيره بيده فان لم يستطع فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه وذلك اضعف الايمان.‘‘ (رواه مسلم)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’تم میں سے جو کوئی برا کام دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنےہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو دل سے (بُرا جانے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘
( مسلم، كتاب الايمان، باب بيان کون النھی عن المنكر من الايمان…الخ، ص۴۹، حدیث:۱۷۷)
شرح حدیث
بُرائی کسے کہتے ہیں؟بُرائی سے مراد ہروہ بات ہے جس کی شریعت نے مذمت بیان کی ہو، اسے حرام ٹھہرایا ہو اور اسے ناپسند کیا ہو۔ برائی سے کبھی قول کے ذریعے منع کیا جاتا ہے جیسے شراب نوشی سے منع کرنا۔ کبھی صرف فعل کے ذریعے جیسے شراب کو بہا دینا۔ جب بُرائی سے قول کے ذریعے منع کیاجائے تواسے نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر (یعنی بُرائی سے منع کرنا) کہتے ہیں اور جب فعل کے ذریعے منع کیا جائے تو اسے تَغْیِیْرٌ لِّلْمُنْکَر(یعنی بُرائی کو بدلنا) کہتے ہیں۔
(شعب الایمان للصاغرجی، الامر با لمعروف و النھی عن المنکر، ۴ /۱۹۲)بُرائی کو روکنا کس پر لازم ہے؟علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: تم میں سےجوبرائی دیکھےیعنی اسے کسی برائی کے بارے میں علم ہوجائے تو اُس برائی کو روکے، کیونکہ نہی عن المنکر کے واجب ہونے کےلئےآنکھوں سے دیکھنا شرط نہیں بلکہ بُرائی سے منع کرنے کا دارومدار علم پر ہے۔اب چاہے آنکھوں سےوہ برائی ہوتےہوئے دیکھے یانہ دیکھے۔ نیز حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ارشاد: ”تم میں سے جو برا کام دیکھے۔“سے مراد مکلَّف اور قدرت رکھنے والے مسلمان ہیں، لہٰذا یہ خطاب ساری اُمت کے لئے ہے، حاضرین کےلئے بالمشافہ اور غائبین کے لیے بالتبع۔
(دلیل الفالحین، باب فی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر، ۱/ ۴۶۶، تحت الحدیث:۱۸۵)بُرائی کو ہاتھ سے روکنے کا طریقہ:علامہ ملّاعلی قاری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو کوئی ایسا کام ہوتے ہوئے دیکھے جس سے شریعت نے منع کیا ہے تو اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے۔ اس طرح کہ اس شخص کو اس فعل سے منع کرے، اس گناہ کے آلات کو توڑ دے، شراب وغیرہ کو بہا کر ضائع کردے اور اگر وہ چھینی ہوئی چیز ہے تو اس کے مالک تک پہنچادے۔
(مرقاة، کتاب الاٰداب، باب الامر بالمعروف، ۸/ ۸۶۱، تحت الحدیث:۵۱۳۷)بُرائی کو زبان سےر وکنے کا طریقہ:علامہ محمد بن علان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر اپنی جان کو ضررپہنچنے یا مال چھن جانے کے خدشے کی وجہ سے بُرائی کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سےاُسے روکے جس کے رُک جانے کی امیدہو۔ روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے زور سے آواز دے، ڈانٹ ڈپٹ کرے، اللہ پاک کا خوف دلائے، اس کے عذاب سے ڈرائے، الغرض نرمی اورسختی میں سےجو مفید ہو اس پر عمل کرے۔(دلیل الفالحین، باب فی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر، ۱/ ۴۶۷، تحت الحدیث:۱۸۵)
علامہ ملّاعلی قاری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بُرائی کو زبان سے اس طرح روکے کہ اللہ پاک نے اس گناہ پر جو وعیدیں نازل فرمائی ہیں انہیں بیان کرے اور بُرائی کرنے والے کو اعمالِ بد کے نتائج سے باخبر کرے، گناہوں کے انجام سے ڈرائے اور نصیحت کرے۔(مرقاة، کتاب الاٰداب، باب الامر بالمعروف، ۸/ ۸۶۱، تحت الحدیث:۵۱۳۷)بُرائی کو دل میں بُرا جاننے کا طریقہ:علامہ محمد بن علان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: دل میں بُرا جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے ناپسند کرے اور اس بات کا پختہ عزم کرےکہ جب کبھی ہاتھ یازبان سے اس بُرائی کو ختم کرنے پر قدرت حاصل ہوگی تو ضروراس گناہ کو ختم کروں گا۔کیونکہ گناہ سے نفرت کرنا واجب ہے اور گناہ پر رضا مندرہنا ایسا ہے جیسے گناہ کرنے والے کے ساتھ گناہ میں شریک ہونا۔
(دلیل الفالحین، باب فی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر، ۱/ ۴۶۸، تحت الحدیث:۱۸۵، ملتقطًا)ہر شخص اپنے منصب کے مطابق برائی سے روکے:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بُرائی کو بدلنے کے لیے ہر طبقے کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری سونپی گئی کیونکہ اسلام میں کسی بھی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی۔ اربابِ اِقتدار،اَساتذہ،والدین وغیرہ جو اپنے ماتحتوں کو کنٹرول کرسکتے ہیں وہ قانون پر سختی سے عمل کرا کے اور مخالفت کی صورت میں سزا دے کر بُرائی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ مبلغیْنِ اسلام، علماء و مشائخ، اَدیب و صحافی اور دیگر ذرائع اَبلاغ مثلًا ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ سے سبھی لوگ اپنی تقریروں تحریروں بلکہ شعراء اپنی نظموں کے ذریعے بُرائی کا قلع قمع کریں اور نیکی کوفروغ دیں۔ بِلِسَانِہٖ (زبان سے روکنے) کے تحت یہ تمام صورتیں آتی ہیں اور عام مسلمان جسے اِقتدار کی کوئی صورت بھی حاصل نہیں اور نہ ہی وہ تحریر و تقریر کے ذریعے بُرائی کا خاتمہ کرسکتا ہے وہ دل سے اس بُرائی کو برا سمجھے، اگرچہ یہ ایمان کا کمزور ترین مرتبہ ہے۔ کیونکہ کوشش کرکے زبان سے روکنا چاہیے لیکن دل سے جب برا سمجھے گا تو یقیناً خود بُرائی کے قریب نہیں جائے گا اور اس طرح معاشرے کے بے شمار افراد خودبخود راہِ راست پرآجائیں گے۔ حدیث شریف سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جو آدمی برائی کو دل سے بھی برا نہ جانے اسے اپنے آپ کو مؤمنین میں شمارکرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ دل سے بُرا سمجھنے میں تو کسی کا ڈر نہیں، پھر بھی بُرا نہیں سمجھتا تو معلوم ہوا وہ اس پر راضی ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، 6 /503، مکتبہ اسلامیہ)نیکی کی دعوت ترک کرنے کی صورت:علامہ ابوبکر بن علی رازی جَصَّاص رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب کوئی بُرائی کو ہاتھ اور زبان سے مِٹا نہ سکے تو اُس وقت اُس پر لازم ہے کہ اُس بُرائی کو دل میں بُراجانےاور اب اُس کے لئے خاموشی اختیار کرنا جائز ہے۔ اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ(پ ۷، المآئدة:۱۰۵)
ترجمہ کنزالایمان: تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو۔
اس آیتِ مبارکہ کی تفسیرمیں حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جب تک تمہاری بات کو قبول کیاجائےتم نیکی کا حکم دو اور بُرائی سے منع کرو اور جب تمہاری بات کو قبول نہ کیا جائے تو تم اپنی جان کی فکر کرو۔‘‘ اسی طرح حضرت سیِّدُناابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہےکہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشادفرمایا: ’’نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے رہوحتّٰی کہ جب تم دیکھوکہ بخل کی اطاعت کی جارہی ہے، خواہش کی پیروی کی جارہی ہے ، دنیا کو ترجیح دی جارہی ہےاور ہرشخص اپنی رائے پر اترا رہا ہےتو پھر تم اپنی جان کی فکر کرواور لوگوں کی فکر کرناچھوڑ دو۔‘‘ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ امربالمعروف ونہی عن المنکر کو قبول نہ کریں اور اپنی خواہشات وآراء کی اتباع کریں تو پھر تمہارےلیے اُن کو چھوڑ نے کی گنجائش ہےاور تم اپنی فکر کرواور لوگوں کو اُن کے حال پر چھوڑ دواور اس صورت میں تمہارے لئے بالقول نہی عن المنکر کو تر ک کرنامباح ہے۔
(احکام القران للجصاص، سورة اٰل عمران، باب فرض الامربالمعروف والنھی عن المنکر، ۲/ ۴۱)بُرائی سے روکنے کی مختلف صورتیں:صدرُالشریعہ، بدرُ الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجدعلی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امر بالمعروف کی کئی صورتیں ہیں: (1)...اگر غالب گمان یہ ہے کہ یہ ان سے کہے گا تو وہ اس کی بات مان لیں گے اور بُری بات سے باز آجائیں گے، تو امر بالمعروف واجب ہے اس کا باز رہنا (یعنی بُرائی سے منع نہ کرنا)جائز نہیں۔ (2)... اگرگمان غالب یہ ہے کہ وہ طرح طرح کی تہمت باندھیں گے اور گالیاں دیں گے تو ترک کرنا (یعنی بُرائی سے منع نہ کرنا) افضل ہے۔ (3)...اگر یہ معلوم ہے کہ وہ اسے ماریں گے اور یہ صبر نہ کرسکے گا یا اس کی وجہ سے فتنہ وفساد پیدا ہوگا، آپس میں لڑائی ٹھن جائے گی جب بھی چھوڑنا (یعنی بُرائی سے منع نہ کرنا)افضل ہے۔ (4)...اگرمعلوم ہے کہ وہ اگر اسے ماریں گے تو صبر کرلے گا تو ان لوگوں کو بُرے کام سے منع کرے اور یہ شخص مجاہد ہے اور (5)...اگر معلوم ہے کہ وہ مانیں گے نہیں مگر نہ ماریں گے اور نہ گالیاں دیں گے تو اسے (بُرائی سے منع کرنے یا نہ کرنے کا)اختیار ہے اور افضل یہ ہے کہ امر کرے (یعنی بُرائی سے روکے)۔ (بہارشریعت،حصہ16، 3/ 615)برائی سے منع کرنے کی فضیلت:اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۴)(پ ۴، اٰل عمران:۱۰۴)
ترجمہ کنزالایمان: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مراد کو پہنچے۔
حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم رحمۃُ اللہ علیہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی جسے قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا۔ چنانچہ ارشاد ہوا:یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَؕ-اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ(۱۷)(پ ۲۱، لقمٰن:۱۷)
ترجمہ کنزالایمان: اے میرے بیٹے نماز برپا رکھ اور چھی بات کا حکم دے اور بُری بات سے منع کر اور جو افتاد (مصیبت) تجھ پر پڑے اس پر صبر کر بےشک یہ ہمت کے کام ہیں۔
حضرت سیِّدَتُنا درہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ایک مرتبہ منبر اقدس پر جلوہ فرما تھے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! لوگوں میں سے سب سے اچھا کون ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’لوگوں میں وہ شخص سب سے اچھا ہے جو کثرت سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرے، زیادہ متقی ہو، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے والا ہو اور سب سے زیادہ صلَہ رحمی کرنے والا ہو۔‘‘
(مسند احمد، مسند القبائل، حدیث درة بنت ابی لھب، ۱۰/ ۴۰۲، حدیث:۲۷۵۰۴)
حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رحمۃُ اللہ علیہ سے مروی طویل روایت میں ہے کہ اللہ پاک نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ علیہِ السّلام کی طرف وَحی فرمائی کہ ’’جس نے بھلائی کا حکم دیاور بُرائی سے منع کیا اور لوگوں کو میری اِطاعت کی طرف بلایا تو دنیا اور قبر میں میری رحمت اس کے شامل حال ہوگی اور قیامت کے دن وہ میرے عرش کے سائے میں ہو گا۔‘‘
(حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیاء، ۶/ ۳۶، رقم:۷۷۱۶)
حضرت سیِّدُنا اامام محمد بن محمد بن محمد غزالی رحمۃُ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ علیہِ السّلام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: اے اللہ پاک! جو اپنے بھائی کو بلائے، اسے نیکی کا حکم دے اور بُرائی سے منع کرے تو اس کی جزا کیا ہے؟ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ’’میں اس کی ہر بات پر ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتاہوں اور اسے جہنم کی سزا دینے میں مجھے حیا آتی ہے۔‘‘ (مکاشفة القلوب، ص۴۸)بُرائی سے منع نہ کرنے پر وعید:اللہ پاک نے بنی اسرائیل کے کافروں کے مستحق لعنت ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(۷۸)كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۷۹)(پ۶، المآئدة:۷۸، ۷۹)
ترجمہ کنزالایمان: لعنت کئے گئے وہ جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان پر یہ بدلہ ان کی نافرمانی اور سرکشی کا جو بُری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی بُرے کام کرتے تھے۔
حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ اللہ پاک کے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اس ذات کی قسم!جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے! تم ضرورنیکی کی دعوت دیتے اوربرائی سے منع کرتے رہنا (اگرتم نے ایسا نہ کیا تو)قریب ہے کہ اللہ پاک تم پر اپنا عذاب نازل فرمائے،پھرتم اس سے دعامانگتے رہو گے لیکن قبول نہ ہوگی۔‘‘ (ترمذی، کتاب الفتن، باب ماجآء فی الامر بالمعروف...الخ، ۴/ ۶۹، حدیث:۲۱۷۶)
حضرت سیِّدُنا جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضورنبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’جس قوم میں گناہ ہوتے ہوں اور وہاں ایسے لوگ موجودہوں جو انہیں بدلنے پر قادر ہوں اورپھربھی نہ بدلیں تواُن کی موت سے پہلے اللہ پاک اُن پراپنا عذاب نازل فرمائے گا۔‘‘(ابو داود، کتاب الفتن والملاحم، باب الامر والنھی، ۴/ ۱۶۴، حدیث:۴۳۳۹)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 34