- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 42
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ تَعَالٰی: ’’يَا ابْنَ اٰدَمَ اِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِيْ وَرَجَوْتَنِيْ غَفَرْتُ لَكَ عَلٰى مَا كَانَ مِنْكَ وَلَا اُبَالِيْ. يَا ابْنَ اٰدَمَ لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوْبُكَ عَنَانَ السَّمَآءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِيْ غَفَرْتُ لَكَ. يَا ابْنَ اٰدَمَ اِنَّكَ لَوْ اَتَيْتَنِيْ بِقِرَابِ الْاَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيْتَنِيْ لَاتُشْرِكُ بِيْ شَيْئًا لَّاَتَيْتُكَ بِقِرَابِهَا مَغفِرَةً.‘‘
(رَوَاهُ التِّرْمَذِیُّ وَقَالَ: حَدِيْثٌ حَسَنٌ)
عن انس رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قال الله تعالی: ’’يا ابن ادم انك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك على ما كان منك ولا ابالي. يا ابن ادم لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك. يا ابن ادم انك لو اتيتني بقراب الارض خطايا ثم لقيتني لاتشرك بي شيئا لاتيتك بقرابها مغفرة.‘‘
(رواه الترمذی وقال: حديث حسن)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رَسُولُ الله صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم كو ارشاد فرماتے سنا کہ الله پاک ارشاد فرماتا ہے: ’’اے ابن آدم! تو مجھ سے جو بھی دعا مانگتا ہے اورمجھ سے امید بھی رکھتا ہے تو میں تیری نافرمانیوں کے باجود تجھے بخش دیتا ہوں اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو پہنچ جائیں پھرتو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا۔ اے ابن آدم! اگرتو میرے پاس زمین بھر خطائیں لے کرآئے مگر مجھ سے اس حال میں ملے کہ تو نے کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو تو میں تجھے زمین بھر بخشش عطا کروں گا۔‘‘
(ترمذی، كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليہ وسلم، باب فی فضل التوبة والاستغفار...الخ، ۵/ ۳۱۹، حدیث:۳۵۵۱)
(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔)
شرح حدیث
کفر وشرک کے سوا تمام گناہوں کی معافی ہے:مذکورہ حدیث شریف میں اللہ پاک نے اپنے بندوں کو اپنی ذات سے حددرجے کے حسن ظن کی تعلیم ارشاد فرمائی ہے کہ اے میرے بندو ! تمہارے گناہوں سے اگر زمین وآسمان بھی بھرجائیں اور تم مجھ سے ان گناہوں کی معافی طلب کرو تو میں ان تمام گناہوں کو معاف کردوں گا۔ واضح رہے کہ اللہ پاک ہر گناہ کو معاف فرمادے گا مگر کفر وشرک کی حالت میں مرنے والے کو ہرگز معاف نہ فرمائے گا۔ یہ حدیث پاک قرآنِ مجید کی اس آیت مبارکہ کی تفسیر ہے۔
چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ(پ۵، النسآء:۴۸)
ترجمہ کنزالایمان: بےشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے۔اللہ پاک کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے:حضرت سیِّدُنا علامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک بندے سے ارشاد فرماتاہے: تو کتنا ہی بڑا گناہ گار ہو تیرے گناہوں کو بخشنا میرے لئے کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ ابن آدم جنس ہے اور اس سے تمام اولاد آدم مراد ہے۔) مرقاة المفاتیح، کتاب الدعوات، باب الاستغفاروالتوبة، ۵/ ۱۶۹، تحت الحدیث:۲۳۳۶)اطاعت کی قبولیت اور گناہ کی معافی ایمان پر موقوف ہے:حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیث شریف کی شرح میں فرماتے ہیں: مراد یہ ہے کہ میں تیرے تمام گناہوں کومٹادوں گا جیسے کفر ہے تو اسے ایمان لانے کے ساتھ اورجو اس کے علاوہ گناہ ہیں انہیں توبہ واستغفار کے ذریعے مٹادوں گااورمجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تیرے گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے۔ اے ابن آدم ! اگر تیرے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں یعنی آسمان اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر دیں پھر تو مجھ سے مغفرت کاسوال کرے گا تو میں تجھے بخش دوں گاکیونکہ اللہ پاک کریم ہے، لغزشوں کومعاف فرماتا اورنیکیوں کوقبول کرتاہے۔ یہ مثال اللہ پاک کے کرم، فضل اور اس کی رحمت پر دلالت کرتی ہے جس کی کوئی انتہانہیں۔ (بڑے سے بڑے گناہ کی معافی ہے بشرطیکہ)تومجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ یعنی گناہوں کی معافی اس وقت ہوگی جب اللہ پاک پر ایمان لائے گاکیونکہ اطاعت کو قبول کرنا اورگناہوں کومعاف کرنا ایمان پرموقوف ہے۔
(دلیل الفالحین، باب فضل الرجاء، ۲/ ۳۵۵، تحت الحدیث:۴۴۲)گناہ کے مطابق بخشش :مشہور شارح حدیث، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’اے ابن آدم! تو مجھ سے جو بھی دعا مانگتا ہے اورمجھ سے امید بھی رکھتا ہے تو میں تیری نافرمانیوں کے باجود تجھے بخش دیتا ہوں‘‘کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی تیرے کیسے ہی گناہ ہوں میں بخش دوں گا ، میں آنے والے کونہیں دیکھتا بلکہ اپنے دروازے کو دیکھتا ہوں کہ کس دروازے پر آیا ہے اورصوفیائے کرام اس کے معنیٰ کرتے ہیں مطابق یعنی تجھے تیرے گناہ کے مطابق بخشوں گا، چھوٹے گناہ کی چھوٹی بخشش، بڑے گناہ کی بڑی بخشش، لاکھوں گناہو ں کی لاکھوں بخششیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے۔ شعر
گنہ رضا کا حساب کیا وہ اگرچہ لاکھوں سے ہیں سوا مگر اے کریم تیرے عفو کا نہ حساب ہے نہ شمار ہےہر طرف تیرے گناہ ہوں بیچ میں تو۔۔۔!اور حدیث پاک کے جز ’’اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو پہنچ جائیں‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ اگر تو گناہوں میں ایسا گھر جائے جیسے زمین آسمان سے گھری ہوئی ہے کہ ہر طرف تیرے گناہ ہوں، بیچ میں تُو ہو، پھر مجھ سے معافی مانگے، تو میں تیرے سارے گناہ بخش دوں گا، ۔(مراٰۃ المناجیح، 3/ 362)گناہ گار کی بخشش ہے غدار کی نہیں:اور حدیث شریف کے جز ’’میں تجھے زمین بھر بخشش عطا کروں گا‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جیسے رازق ہر مرزوق کو بقدرِ حاجت روٹی دیتا ہے، ہاتھی کو مَن اور چیونٹی کو کَن ( ذَرہ) دیتا ہے، ایسے ہی وہ غفار بقدرِ گناہ مغفرت عطا فرمائے گا مگر شرط یہ ہے کہ گنہگار ہو ، غدار نہ ہو ۔ اسی لیے شرط لگائی گئی کہ میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ خیال رہے کہ ایسے مقامات پر شرک بمعنیٰ کفر ہوتا ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:’’اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ(پ۵، النسآء:۴۸، ترجمہکنز الایمان: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے)اور نبی یا کتاب یا اسلامی احکام میں سے کسی کا انکار در حقیقت رب تعالیٰ کا ہی انکار ہے، لہٰذا حدیث بالکل واضح ہے، اور اس میں کفار کی مغفرت کا وعدہ نہیں، کفر ومغفرت میں تضاد ہے۔
(مراٰۃ المناجیح، 3/ 363)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 42