Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 12

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهٗ مَا لَا يَعْنِيْهِ.‘‘
( حَدِيْثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهٗ ھٰکَذَا)

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ’’من حسن اسلام المرء تركه ما لا يعنيه.‘‘
( حديث حسن، رواه الترمذي وغيره ھکذا)

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ آدمی کے اسلام کی خوبی میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بے فائدہ کاموں کو چھوڑ دے ۔‘‘
(ترمذی، كتاب الزھد، باب ماجاء من تکلم بالکلمة لیضحک الناس، ۴/ ۱۴۲، حدیث:۲۳۲۴)
(یہ حدیث حسن ہے اسے حضرت سیِّدُنا امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین نے اسی طرح روایت کیا ہے۔)

شرح حدیث

مذکورہ حدیث پاک کی اہمیت:یہ حدیْثِ پاک بھی اُن اَحادیْثِ کریمہ میں سے ایک ہے جنہیں اِسلام کا مَدار قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا امام ابو داود رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنے دین کے لئے چار حدیثیں کافی ہیں۔ پھر آپ نے وہ چاروں حدیثیں بیان فرمائیں۔ مذکورہ حدیث شریف بھی ان میں سے ایک ہے۔
(ارشاد الساری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی، ۱/ ۹۵، تحت الحدیث:۱۔ تاریخ بغداد، ۹/ ۵۸،رقم:۴۶۳۸)
مومن کو چاہئے کہ بےفائدہ باتوں کو چھوڑ دے:حضرت سیِّدُنا مُلّا علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیْثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: بندے کے اسلام کی خوبیوں اور کمال میں سے ہے کہ وہ ایسے کلام اور ایسی حرکات و سکنات سے بچے جو اس کے لئے دین و دنیا میں فا ئدہ مند نہ ہوں۔ ہمیشہ وہ کلام یا کام کرے جو دنیا یا آخرت کے لئے فائدہ مند ہو کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جنتیوں کو جنت میں ان لمحات پر افسوس ہوگا جنہیں اللہ پاک کے ذکر کے بغیرگزار دیا تھا۔‘‘
(مرقاة المفاتیح، کتاب الاداب، باب حفظ اللسان والغیبة والشتم، الفصل الثانی، ۸/ ۵۸۵، ۵۸۶، تحت الحدیث:۴۸۴۰، ملخصًا)
لہٰذا بولنے سے پہلے خوب غور کر لینا چاہئے کہ یہ کام یا گفتگو میرے لئے دنیا وآخرت میں مفید ہے یا نہیں کسی نے سچ کہا ہے کہ ’’پہلے تولو پھر بولو۔‘‘یاد رکھیں زبان کی بےاحتیاطی انسان کو ہلاکت وبربادی میں مبتلا کر سکتی ہے۔پس ایسا کام یا ایسی بات جو بےفائدہ ہو اسے چھوڑ دینا چاہئے کہ مذکورہ حدیث شریف میں اسے بندے کے اسلام کی خوبی کہا گیا ہے اور سوچ سمجھ کر کلام کرنا چاہئے۔ چنانچہ
گفتگو کی اقسام:حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کلام و گفتگو کی چار قسمیں ہیں: (1) مکمّل نقصان دہ،اس سے ہمیشہ پرہیز ضروری ہے، (2) مکمَّل فائدےمند بات، (3) ایسی بات جو نقصان دہ بھی ہو اور فائدے مند بھی، اس سے بھی بچنا لازم ہے اور (4) ایسی بات جس میں نہ فائدہ ہو نہ نقصان، یہ فضولیات میں شامل ہے کہ اس کا نہ تو کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی کوئی نقصان، لہٰذا ایسی بات میں وقت ضائع کرنا بھی ایک طرح کا نقصان ہی ہے۔ رہی دوسری قسم جو مکمل فائدے مند ہے ، اس میں بھی باریک قسم کی رِیاکاری، بناوٹ، غیبت، جھوٹے مبالغے اور میں میں کرنے کی آفت یعنی اپنی فضیلت وپاکیزگی بیان کر بیٹھنے وغیرہ جیسے بےشمار اندیشے ہیں۔ نیز فائدہ مندگفتگو کرتے کرتے فُضُول باتوں میں جا پڑنے پھر اس کے ذَرِیعے مزید آگے بڑھتے ہوئے گناہ کا ارتِکاب ہو جانے جیسے خدشات شامل ہیں اوریہ شمولیت ایسی باریک ہے جس کاعِلْم نہیں ہوتا، لہٰذا اس قابلِ استِعمال بات کے ذَرِیعے بھی ا نسان خطرات میں گِھرا رہتا ہے۔(احیاء العلوم، ۳/ ۱۳۸، ملخصًا)بےفائدہ کلام:حضرت سیِّدُنا امام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں: بےفائدہ کلام وہ ہے کہ اگر تم اسے نہ کرو تو نہ تمہیں کوئی گناہ ہو اورنہ ہی کسی قسم کا کوئی نقصان۔ اسے یوں سمجھئے کہ جیسے آپ اپنے کسی سفر کا حال لوگوں کے سامنے بیان کریں، دورانِ سفر لوگوں سے ملاقات کے واقعات، پسندیدہ کھانوں، کپڑوں پہاڑوں اور نہروں وغیرہ کا بیان کریں تو یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان کے بیان نہ کرنے پر نہ تو کوئی گناہ ہے نہ فی الحال یا آئندہ کسی قسم کا کوئی نقصان اور یہ بھی اسی صورت میں ہے جبکہ واقعات میں اپنی طرف سے نہ تو جھوٹی مبالغہ آرائی ہو، نہ اپنا تزکیہ نفس بیان کیا گیا ہو اور نہ ہی کسی کی غیبت یا بُرائی بیان کی ہو۔ ان تمام باتوں کا خیال رکھنے کے باوجود ان واقعات کو بیان کرنے میں بہت ساقیمتی وقت ضائع ہو گیا ۔(احیاء العلوم، ۳/ ۱۴۰)فضول باتوں کا نقصان:حضرت سیِّدُنا امام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ چار وجوہات کی بنا پر فضول باتوں کی مذمت بیان فرماتے ہیں: (1)…فُضُول باتیں (اعمال لکھنے والے بُزُرگ فِرِشتوں)کو لکھنی پڑتی ہیں، لہٰذا آدمی کو چاہئے کہ ان سے شرم کرے اور انہیں فضول باتیں لکھنے کی زحمت نہ دے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(۱۸)(پ ۲۶، ق: ۱۸)
ترجمہ کنزالایمان: کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔
(2)…یہ بات اچھّی نہیں کہ فضول باتوں سے بھرپور اعمال نامہ بارگاہِ الٰہی میں پیش ہو۔ (3)…اللہ پاک کے دربار میں تمام مخلو ق کے سامنے بندے کو حکم ہو گا کہ اپنا اعمال نامہ پڑھ کر سناؤ! اب قِیامت کی خوفناک سختیاں اس کے سامنے ہوں گی ،انسان بےلباس ہوگا، سخت پیاس اور بھوک سے کمر ٹوٹ رہی ہو گی، جنَّت میں جانے سے روک دیا گیا ہوگااورہر قسم کی راحت اُس پر بند کردی گئی ہوگی ( غور کیجئے ایسے تکلیف دِہ حالات میں فضول باتوں سے بھرپور اعمال نامہ پڑھ کر سنانا کس قدر پریشان کُن ہوگا)۔ (4)…بروزِقیامت بندے کوفُضول باتوں پر ملامت کی جائے گی اور اُسے شرمندہ کیا جائے گا۔ بندے کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوگا اور وہ اللہ پاک کے سامنے شرم ونَدامت سے پانی پانی ہوجائے گا۔ (منھاج العابدین، ص۶۷)
فضولیات سے بچنے کے فوائد:مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فضولیات سے بچنے کے فوائد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فُضُول گوئی سے بچنے والے کو حکمت و دانائی عطا کی جاتی ہے۔فُضُول نگاہی یعنی بِلاضَرورت اِدھر اُدھر دیکھنے سے بچنے والے کو دِلی سکون ملتا ہے۔ فُضُول طَعام چھوڑنے والے کو عِبادت میں لذّت دی جاتی ہے۔ فضول ہنسنے سے بچنے والے کو رُعب و دبدبہ عنایت ہوتا ہے۔مذاق مسخری سے بچنے والے کو نورِ ایمان نصیب ہوتا ہے۔ دُنیا کی محبت سے بچنے والے کو آخِرت کی محبت دی جاتی ہے اوردوسروں کے عیب ڈھونڈنے سے بچنے والے کو اپنے عیبوں کی اصلاح کی توفیق ملتی ہے۔ (ماخوذ از المنبھات، ص۸۹)
(نوٹ: گفتگو کے آداب، فضول باتوں سے بچنے اور زبان کی حفاظت کے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے شیخ طریقت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کی مایہ ناز تصنیف ’’گفتگو کے آداب اور فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔)
دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 12