- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 3
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: ’’بُنِيَ الْاِسْلَامُ عَلٰى خَمْسٍ: شَهَادَةِ اَنْ لَّااِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ وَ اِقَامِ الصَّلَاةِ وَاِيْتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَـيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ.‘‘ (رَوَاهُ الْبُخَارِي وَمُسْلِم)
عن ابي عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ’’بني الاسلام على خمس: شهادة ان لااله الا الله وان محمدا عبده ورسوله و اقام الصلاة وايتاء الزكاة وحج البـيت وصوم رمضان.‘‘ (رواه البخاري ومسلم)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابو عبد الرحمٰن عبد اللہ بن عُمَر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:میں نے رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ”اِسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ پاک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بےشک حضرت محمد صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، بیْتُ اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“( بخاری، كتاب الايمان، باب دعائكم ايمانكم، ۱/ ۱۴، حدیث:۸۔ مسلم، کتاب الایمان، باب ارکان الاسلام...الخ، ص ۳۷، حدیث:۱۱۳، بدون’’∞سمعت‘‘∞)
شرح حدیث
ایمان اور اسلام کے متعلق ابتدائی اہم گفتگو سابقہ روایت کی شرح میں بیان ہو چکی ہے یہاں مختصراً کلمہ شہادت کی وضاحت اور باقی ارکان کی شرح بیان کی جاتی ہے۔
پہلا رکن:کَلمۂ شہادتکلمہ شہادت کا مفہوم اور مطلب یہ ہے کہ صدقِ دل سے اللہ پاک کے ایک ہونے اور معبود ہونے اور حضرت محمد صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے رسول ہونے کی گواہی دینا اور دل سے مانتے ہوئے زبان سے: ’’اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ‘‘ کہنا۔ اس میں تمام ضروری عقائد ِاسلام داخل ہیں کیونکہ جس نے حضور اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو دل سے اللہ پاک کا رسول مان کر ان کی رسالت کی گواہی دے دی (اس نے)ہر اس چیز کی تصدیق کردی جس کو حضور علیہِ الصّلوٰۃُوالسّلام خدا کی طرف سے لائے۔(منتخب حدیثیں، ص65)
دوسرا رکن:نمازنمازکی فرضیت، اہمیت اور فضیلت:جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنیاد ہے ان میں سے دوسری چیز نماز ہے۔اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(43)(پ ۱، البقرة:۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
’’صَلوٰۃ‘‘ کا معنیٰ ومفہوم: یہ صَلْیٌ سے بنا بمعنی گوشت بھوننا، آگ پرپکانا، اللہ پاک ارشاد فرماتاہے: ’’سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ(3)(پ ۳۰، اللھب:۳ ، ترجمہ کنزالایمان:اب دھنستا ہے لپٹ مارتی آگ میں وہ)۔ ‘‘ نیز آگ سے لکڑی سیدھی کرنے کو ’’تصلیہ‘‘ کہا جاتا ہے، چونکہ نماز نمازی کے نفس کو مجاہدہ ومشقت کی آگ پر جلاتی ہے، نیزاسے سیدھے راستے پر رکھتی ہے اس لئے اسے ’’صلوٰۃ‘‘ کہتے ہیں۔اب ’’صلوٰۃ‘‘ کے معنیٰ دعا، رحمت، اِنزال رحمت، اِستغفار، ہیں۔ چونکہ یہ سب چیزیں نماز میں ہوتی ہیں اس لئے نماز کو ’’صلوٰۃ‘‘ کہتے ہیں۔
نماز کی فرضیت:اِسلام میں سب اَعمال سے پہلے نماز فرض ہوئی،یعنی نبوت کے گیارہویں سال ہجرت سے دو سال کچھ ماہ پہلے،نیزساری عبادتیں اللہ پاک نے فرش پر بھیجیں مگر نماز اپنے محبوب کو عرش پربلاکردی، اس لئے کَلمۂ شہادت کے بعد سب سے بڑی عبادت نماز ہے۔ جونمازسیدھی کرکے پڑھے تونمازاسے بھی سیدھا کردیتی ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 1/ 360، ملخصاً)فرضیت نماز کا انکار کرنے کا حکم:∞ہر مکلف یعنی عاقل بالغ (مسلمان مرد وعورت) پر نماز فرضِ عین ہے، اس کی فرضیت کا منکر (انکار کرنے والا) کافر ہے اور جو قصداً ترک کرے اگرچہ ایک ہی وقت کی ہو وہ فاسق ہے اور جو نماز نہ پڑھتا ہو قید کیا جائے یہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے بلکہ ائمَّۂ ثلاثہ حضرت سیِّدُنا امام مالک، حضرت سیِّدُنا امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ علیہم کے نزدیک سلطانِ اسلام کو اس کے قتل کا حکم ہے۔(الدر المختار معہ رد المحتار، کتاب الصلاة، ۲/ ۶)
ایمان اور عقائد کی درستی کے بعد تمام فرائض میں نماز نہایت اہم واعظم عبادت ہے۔ قرآنِ مجید کی آیات بینات اور احادیث مبارکہ اس کی اہمیت سے مالا مال ہیں، جابجا اس کی تاکید آئی ہے اور چھوڑنے پر وعیدات مروی ہیں۔نماز کی فضیلت پر آیاتِ مبارکہ:چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ(2) الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(3)(پ ۱، البقرة:۲، ۳) ترجمہ کنزالایمان: اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو وہ جو بےدیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں۔
ایک مقام پر ارشاد ہوا:حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ-وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ(238)(پ ۲، البقرة: ۲۳۸) ترجمہ کنزالایمان: نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے۔نماز نہ پڑھنے پر قرآنی وعیدیں:نماز نہ پڑھنے پر قرآنِ مجید میں وعیدیں بھی بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ(4)الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ(5)(پ ۳۰، الماعون: ۴، ۵) ترجمہ کنزالایمان: تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں۔
ایک جگہ ارشاد ہوا:فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا(59)(پ ۱۶، مریم: ۵۹) ترجمہ کنزالایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنھوں نے نمازیں گنوائیں (ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غَیّ کا جنگل پائیں گے۔
اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی نماز پڑھنے کے فضائل اور نہ پڑھنے کی وعیدیں بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہنماز کی فضیلت پر احادیث مبارکہ:حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک ان تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں، جو ان کے درمیان ہوں جب کہ کبائر سے بچا جائے۔‘‘(مسلم، کتاب الطھارة، باب الصلاة الخمس، ص۱۱۸، حدیث:۵۵۲)
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بتاؤ تو کسی کے دروازہ پر نہر ہو وہ اس میں ہر روز پانچ بارغسل کرے کیا اس کے بدن پر میل رہ جائے گا؟‘‘ صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عرض کی: نہیں۔ ارشاد فرمایا: ’’یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے کہ اللہ پاک ان کے سبب خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘
(مسلم، کتاب المساجد، باب المشی الی الصلاة …الخ، ص۲۶۳، حدیث:۱۵۲۲)نماز نہ پڑھنے کی مذمت پر احادیث مبارکہ:حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا اگر یہ درست ہوئی تو باقی اعمال بھی ٹھیک رہیں گے اور یہ بگڑی تو سبھی بگڑے۔‘‘ (معجم اوسط، باب الالف، ۱/ ۵۰۴، حدیث: ۱۸۵۹)جبکہ ایک روایت میں ہے: ’’وہ خائب وخاسر ہوا۔‘‘
(معجم اوسط، باب العین، ۳/ ۳۲، حدیث: ۳۷۸۲)
اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے نماز پر محافظت (ہمیشگی اختیار) کی تو قیامت کے دن وہ نماز اس کے لئے نور، دلیل اور نجات ہو گی اور جس نے محافظت نہ کی اس کے لئے نہ نور ہے نہ دلیل اور نہ ہی نجات اور وہ قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور اُبی بن خلف کے ساتھ ہوگا ۔‘‘ (مسند احمد، مسند عبداللّٰہ بن عمرو، ۲/ ۵۷۴، حدیث: ۶۵۸۷)
(نوٹ:نماز کے تفصیلی احکام کی معلومات کے لئے ’’بہار شریعت، جلد1، حصہ 3 ، 4اور نماز کے احکام و نماز کا طریقہ‘‘ نامی کتابوں کا مطالعہ کیجئے۔ )
تیسرا رکن:زکوٰۃزکوٰۃ کی فرضیت، اہمیت اور فضیلت:جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنیاد ہے ان میں سے تیسری چیز زکوٰۃ ہے۔ قرآن وحدیث میں نماز کی طرح زکوٰۃ کی فضیلت واہمیت کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک کامیابی حاصل کرنے والے مؤمنین کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ(4)(پ ۱۸، المؤمنون: ۴) ترجمہ کنزالایمان: اور (مراد کو پہنچے) وہ کہ زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں۔
’’زکوٰۃ‘‘ کا معنیٰ ومفہوم:زکوٰۃ کے لغوی معنیٰ ہیں پاکی اور بڑھنا ربّ کریم ارشاد فرماتا ہے: ’’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴)(پ ۳۰، الاعلٰی:۱۴ ، ترجمہ کنزالایمان:بےشک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا)۔ ‘‘ چونکہ زکوٰۃ کی برکت سے نفْسِ انسانی بخل کے میل سے پاک و صاف ہوتا ہے، نیز اس کی وجہ سے مال میں برکت ہوتی ہے اس لئے اسے زکوٰۃ کہتے ہیں۔ زکوٰۃ کا سبب بڑھنے والا مال ہے۔ حق یہ ہے کہ زکوٰۃ کا اجمالی حکم ہجرت سے پہلے آیا اور اس کی تفصیل 11 ہجری میں بیان ہوئی ۔ (مراٰۃ المناجیح، 3/ 2 ، ملخصاً)
زکوٰۃ کا شرعی معنیٰ: اللہ پاک کے لئے مال کے ایک حصہ کا جو شرع نے مقرر کیا ہے، مسلمان فقیر کو مالک کر دینے کا نام زکوٰۃ ہے اور وہ فقیر نہ ہاشمی ہو، نہ ہاشمی کا آزاد کردہ غلام اور اپنا نفع اُس سے بالکل جدا کرلے۔(تنویر الابصار، کتاب الزکاة، ۳/ ۲۰۳، ۲۰۶)
زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کرنے کا حکم:زکوٰۃ فرض ہے، اُس کا منکر (انکار کرنے والا)کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق اور ادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار و مردودُ الشہادہ ہے۔(الفتاوی الھندیة، کتاب الزکاة، الباب الاول، ۱/ ۱۷۰)
زکوٰۃ واجب ہونے کی شرائط: مسلمان ہونا، بالغ ہونا، عاقل ہونا، آزاد ہونا، مال بقدر نصاب ملک میں ہونا، پورے طور پر اس کا مالک ہو، نصاب کا دین(قرض) سے فارغ ہونا، نصاب حاجت اصلیہ سے فارغ ہو، مال نامی ہو یعنی بڑھنے والا خواہ حقیقتاً بڑھے یا حکماً، سال گزرنا۔(ماخوذ از بہار شریعت، حصہ 5، 1/ 875 تا 884)
زکوٰۃ تین قسم کے مال پر ہے: ثمن یعنی سونا چاندی، مالِ تجارت اور سائمہ یعنی چرائی پر چھوٹے جانور۔
(بہار شریعت، حصہ 5، 1/ 882)زکوٰۃ کی فضیلت پر آیات مبارکہ:کئی آیاتِ مقدسہ میں زکوٰۃ دینے اور راہِ خدا میں مال خرچ کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(39)(پ ۲۲، سبا: ۳۹) ترجمہ کنزالایمان: اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گااور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ۔
ایک مقام پر ارشاد ہوا:خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا(پ ۱۱، التوبة: ۱۰۳) ترجمہ کنزالایمان: اے محبوب ان کے مال میں سے زکوٰۃ تحصیل (وصول) کروجس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کر دو۔زکوٰۃ نہ دینے پر قرآنی وعیدیں:قرآنِ مجید میں زکوٰۃنہ دینے کی وعیدیں بھی بیان فرمائی ہیں۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-(پ ۴، اٰل عمرٰن: ۱۸۰) ترجمہ کنزالایمان: اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہےعنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا۔
ایک اور مقام پر فرمایا:وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(34)یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ(35)(پ ۱۰، التوبة: ۳۴، ۳۵) ترجمہ کنزالایمان: اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انھیں خوش خبری سناؤ درد ناک عذاب کی جس دن وہ تپایا جائے گاجہنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جوڑ کر رکھا تھااب چکھو مزہ اس جوڑنے کا۔
اس طرح احادیث طیبہ میں بھی زکوٰۃ دینے کی فضیلت اور نہ دینے پر وعیدیں بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہزکوٰۃ دینے کی فضیلت پر اَحادیث مبارکہ:حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے مال کی زکوٰۃ نکال کہ وہ پاک کرنے والی ہے تجھے پاک کر دے گی۔‘‘ (مسند احمد، مسند انس بن مالک، ۴/ ۲۷۳، حدیث: ۱۲۳۹۷)حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا۔‘‘ (مسلم، کتاب البر والصلة والادب، باب استحباب العفو والتواضع، ص۱۰۷۱، حدیث: ۶۵۹۲)حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’زکوٰۃ دے کر اپنے مالوں کو مضبوط قلعوں میں کر لو اور بیماروں کا علاج صدقہ سے کرو۔‘‘ (کتاب المراسیل لابی داود، باب فی الزکاة، ص۲۰۹)زکوٰۃ نہ دینے کی مذمت پر اَحادیث مبارکہ:امُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’زکوٰۃ کسی مال میں نہ ملے گی مگر اسے ہلاک کر دے گی۔‘‘ (شعب الایمان، باب فی الزکاة، فصل فی الاستعفاف عن المسالة ، ۳/ ۲۷۳، حدیث: ۳۵۲۲) بعض ائمہ نے اس حدیث کےیہ معنیٰ بیان کئے ہیں کہ زکوٰۃ واجب ہوئی اور ادا نہ کی اور اپنے مال میں ملائے رہا تو یہ حرام اُس حلال کو ہلاک کر دے گا اور حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا : اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ مال دار شخص مالِ زکوٰۃ لے تویہ مالِ زکوٰۃ اس کے مال کو ہلاک کر دے گا کہ زکوٰۃ تو فقیروں کے لئے ہے۔ یہ دونوں معنیٰ صحیح ہیں۔(الترغیب والترھیب، کتاب الصدقات، الترھیب من منع الزکاة، ۱/ ۳۰۹، حدیث: ۱۸)
مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’خشکی وتری میں جو مال تلف ہوتا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے سے تلف ہوتا ہے۔‘‘
(الترغیب والترھیب، کتاب الصدقات، الترھیب من منع الزکاة، ۱/ ۳۰۸، حدیث: ۱۶)
حضرت سیِّدُنا بُریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو قوم زکوٰۃ نہ دے گی اللہ پاک اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا۔‘‘(معجم اوسط، ۳/ ۲۷۵، حدیث: ۴۵۷۷)
(نوٹ: زکوٰۃ کے تفصیلی احکام کی معلومات کے لئے ’’بہار شریعت، جلد1، حصہ 5 اور فتاوی اہلسنت احکامِ زکوٰۃ‘‘کا مطالعہ کیجئے۔ )
چوتھا رکن:حجحج کی فرضیت، اہمیت اور فضیلت:جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنیاد ہے ان میں سے چوتھی چیز حج ہے۔نماز اور زکوٰۃ کی طرح حج کی فضیلت واہمیت بھی قرآن وحدیث میں بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَ(96) فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ ﳛ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًاؕ-وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًاؕ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(97)(پ ۴، اٰل عمرٰن: ۹۶، ۹۷) ترجمہ کنزالایمان: بےشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما اس میں کھلی نشانیاں ہیں ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو اس میں آئے امان میں ہو اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بےپرواہ ہے۔
ایک جگہ ارشاد ہوا:وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِؕ-(پ ۲، البقرة: ۱۹۶) ترجمہ کنزالایمان: اور حج اور عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو۔
حج کا معنیٰ ومفہوم: حج کے معنیٰ ہیں قصد اور اِرادہ،عبادت کی نیت سے کعبہ شریف کا ارادہ کرنا حج ہے۔حج کا سبب کعبہ معظمہ ہے،کعبہ شریف سب سے پہلے فرشتوں نے بنایا بیْتُ المعمور کے مقابل، اسی کا نام فرشتوں کے ہاں ضراح تھا، آدم علیہِ السّلام کی پیدائش سے دو ہزار برس پہلے سے فر شتے اس کا حج کرتے تھے،پھر آدم علیہِ السّلام سے لے کر ہمارے حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم تک صرف انبیائے کرام علیہمُ السّلام نے حج کعبہ کیا،کسی امت پر حج فرض نہ تھا۔(مراٰۃ المناجیح، 4/ 85 ، ملخصاً)
حج کا شرعی معنیٰ: حج نام ہے احرام باندھ کر نویں ذی الحجہ کو عرفات میں ٹھہرنے اور کعبہ معظمہ کے طواف کا۔اس کے لئےخاص وقت مقرر ہے جس میں یہ افعال کئے جائیں تو حج ہے۔(بہار شریعت، حصہ6، 1/ 1035، 1036)
حج کی فرضیت: حج 9 ہجری میں فرض ہوا اس کی فرضیت قطعی ہے، جو اس کی فرضیت کا انکار کرے کافر ہے۔
(بہار شریعت، حصہ6، 1/ 1035، 1036)
حج کتنی بار فرض ہے:صاحِبِ استطاعت پر عُمْر بھر میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے نماز اور روزہ و زکوٰۃ کی طرح حج کی فرضیت بھی قطعی و یقینی ہے لہٰذا جو حج کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے اور باوجود طاقت کے اس کا تارک فاسق ہے اور بِلاعُذْر حج میں تاخیر کرنے والا گناہگار اور مَردودُ ا لشَّہادۃ ہے۔ (منتخب حدیثیں، ص66)حج کی فضیلت پر احادیث مبارکہ:حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو حج کے لئے نکلا اور مر گیا تو قیامت تک اس کے لئے حج کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو عمرہ کے لئے نکلا اور مر گیا تواس کے لئے قیامت تک عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو جہاد میں گیا اور مر گیا تو اس کے لئے قیامت تک غازی کا ثواب لکھا جائے گا۔‘‘(مسند ابی یعلی، مسند ابی ھریرة، ۵/ ۴۴۱، حدیث: ۶۳۲۷)حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’حج و عمرہ محتاجی اور گناہوں کو ایسے دور کرتے ہیں، جیسے بھٹّی لوہے، چاندی اور سونے کے میل کو دور کرتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت ہی ہے۔‘‘(ترمذی، ابواب الحج، باب ماجاء فی ثواب الحج والعمرة، ۲/ ۲۱۸، حدیث: ۸۱۰)حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’حاجی اپنے گھر والوں میں سے 400 کی شفاعت کرے گا اور گناہوں سے ایسا نکل جائے گا جیسے اس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔‘ ‘(مسند بزار، مسند ابی موسی اشعری، ۸/ ۱۶۹، حدیث: ۳۱۹۶)حج نہ کرنے پر وعید:حضرت سیِّدُنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ جسے حج کرنے سے نہ تو حاجَتِ ظاہرہ مانع ہوئی، نہ ظالم بادشاہ اور نہ ہی کوئی ایسا مرض جو روک دے، پھر وہ بغیر حج کئے مرگیا تو چاہے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر ۔‘ ‘(دارمی، کتاب المناسک، باب من مات ولم یحج، ۲/ ۴۵، حدیث: ۱۷۸۵)
(نوٹ: حج و عمرہ دونوں کے ہر ہر مسئلے میں بہت تفصیل ہے۔ اس کے لئے ’’بہار شریعت، جلد1، حصہ 6 اور رفیق الحرمین ومعتمرین‘‘ کا مطالعہ کیجئے ۔ )
پانچواں رکن:روزہروزے کی فرضیت، اہمیت اور فضیلت:جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنیاد ہے ان میں سے پانچویں اور آخری چیز روزہ ہے۔نماز اور زکوٰۃ کی طرح روزوں کی فضیلت واہمیت بھی قرآن وحدیث میں بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(183)(پ ۲، البقرة: ۱۸۳) ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھےکہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔
اور ارشاد فرماتا ہے:شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ-فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ-(پ ۲، البقرة: ۱۸۵) ترجمہ کنزالایمان: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے۔
روزے کا معنیٰ ومفہوم:’’صوم‘‘ کے لغوی معنیٰ ہیں باز رہنا ، رکے رہنا ، اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا(پ ۱۶، مریم:۲۶ ، ترجمہ کنزالایمان:میں نے آج رحمٰن کا روزہ مانا ہے)۔ ‘‘ یعنی میں نے بات چیت سے باز رہنے کی نذر مانی ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، 3/ 133 ، ملخصاً)روزے کا شرعی معنیٰ:روزہ عرفِ شرع میں مسلمان کا بہ نیَّتِ عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصداً کھانے پینے جماع (ہم بستری) سے باز رکھناہے۔(الفتاوی الھندیة، کتاب الصوم، الباب الاول، ۱/ ۱۹۴)
روزے کا منشا ہے: نفس کا زور توڑنا،دل میں صفائی پیدا کرنا فقرا اور مساکین کی موافقت کرنا،مساکین پر اپنے دل کو نرم بنانا۔مرقات میں ہے کہ حضرت یوسف علیہِ السّلام قحط کے زمانے میں پیٹ بھر کھانا نہ کھاتے تھے تاکہ بھوکوں، فاقہ مستوں کا حق نہ بھول جائیں۔(مراٰۃ المناجیح، 3/ 182 ملخصاً)
روزے کی فرضیت:لمعات،مرقات اور درمختار وغیرہ میں ہے کہ 2 ہجری میں تبدیلی قبلہ کے ایک مہینے بعد ہجرت سے اٹھارھویں مہینے 10 شعبان کو روزے فرض ہوئے۔(مراٰۃ المناجیح، 3/ 182 ملخصاً) نماز وزکوٰۃ کی طرح روزے کی فرضیت کا انکار کرنے والا بھی کافر ہے۔ (ماخوذ از منتخب حدیثیں، ص66)روزہ بہت عمدہ عبادت ہے، اس کی فضیلت میں بہت حدیثیں مروی ہیں۔ چنانچہروزوں کی فضیلت پر احادیث مبارکہ:حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔‘‘
(بخاری، کتاب الصوم،باب ھل یقال رمضان او شھررمضان… الخ، ۱/ ۶۲۶، حدیث: ۱۸۹۹)
حضرت سیِّدُنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں ایک دروازے کا نام ریّان ہے، اس سے (جنت میں)وہی جائیں گے جو روزے رکھتے ہیں۔‘‘(بخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفة ابواب الجنة، ۲/ ۳۹۴، حدیث: ۳۲۵۷)
حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’روزہ سِپر (ڈھال) اور دوزخ سے حفاظت کا مضبوط قلعہ ہے۔‘‘
(مسند احمد، مسند ابی ھریرہ، ۳/ ۳۶۷، حدیث: ۹۲۳۶)روزہ نہ رکھنے کی مذمت پر احادیث مبارکہ:حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے رَمضان کے ایک دن کا روزہ بغیر رُخصت وبغیر مرض اِفطار کیا (یعنی نہ رکھا)توزمانے بھر کا روزہ بھی اُس کی قضا نہیں ہوسکتا اگرچہ بعد میں رکھ بھی لے۔‘‘ (ترمذی، ابواب الصوم، باب ماجاء فی الافطار متعمدا، ۲/ ۱۷۵، حدیث: ۷۲۳)یعنی وہ فضیلت جو رمضان میں روزہ رکھنے کی تھی اب کسی طرح نہیں پاسکتا۔ (بہارِ شریعت، حصہ5، 1/ 985 ،ملخصاً)
حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللّٰہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے ماہِ رَمضان کو پایا اورا س کے روزے نہ رکھے وہ شخص شقی (یعنی بد بخت) ہے، جس نے اپنے والدین یا کسی ایک کو پایا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا وہ بھی بدبخت ہے اور جس کے پاس میرا ذِکر ہوا اور اُس نے مجھ پر دُرُود نہ پڑھا وہ بھی بدبخت ہے۔‘‘ (معجم اوسط، ۳/ ۶۲، حدیث: ۳۸۷۱)
(نوٹ: روزے کے تفصیلی احکام کی معلومات کے لئے ’’بہار شریعت، جلد1، حصہ 5 اور فیضان رمضان ‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔ )دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 3