Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 23

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مَالِكِ الْحَارِثِ بْنِ عَاصِمِ الْاَشْعَرِيِّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’اَلطُّهُوْرُ شَطْرُ الْاِيْمَانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ تَمْلَاُ الْمِيْزَانَ وَسُبْحٰنَ اللهِ والْحَمْدُ لِلّٰهِ تَمْلَاٰنِ اَوْ تَمْلَاُ مَا بَيْنَ السَّمٰوَاتِ والْاَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُوْرٌ وَّالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَّالصَّبْرُ ضِيَآءٌ وَّالْقُرْاٰنُ حُجَّةٌ لَّكَ اَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُوْ فَبَآئِعٌ نَفْسَهٗ فَمُعْتِقُهَا اَوْ مُوْبِقُهَا.‘‘ (رَوَاہُ مُسْلِم)

عن ابي مالك الحارث بن عاصم الاشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ’’الطهور شطر الايمان والحمد لله تملا الميزان وسبحن الله والحمد لله تملان او تملا ما بين السموات والارض والصلاة نور والصدقة برهان والصبر ضياء والقران حجة لك او عليك كل الناس يغدو فبائع نفسه فمعتقها او موبقها.‘‘ (رواہ مسلم)

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّدُنا ابومالک حارث بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’پاکیزگی (صفائی ستھرائی) آدھا ایمان ہے اور ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہ“ ترازو کو بھر دیتا ہے اور ’’سُبْحٰنَ اللہ“ اور ” اَلْحَمْدُلِلّٰہ“ آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دیتے ہیں، نماز نور ہے،صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف دلیل ہے۔ ہر شخص اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ خود کو بیچنے والاہوتا ہے، لہٰذا وہ اپنے آپ کوآزاد کرتایا ہلاک کرتا ہے۔‘‘ ( مسلم، كتاب الطهارة، باب فضل الوضوء، ص۱۱۵، حدیث:۵۳۴)

شرح حدیث

’’پاکیزگی آدھا ایمان ہے‘‘ کا معنیٰ ومفہوم:حضرت سیِّدُنا علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ طہارت کا اجر بڑھ کر نصف ایمان تک پہنچ جاتا ہے۔ دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ جس طرح ایمان لانے سے سابقہ تمام گناہ مٹ جاتے ہیں، اسی طرح وضو سے بھی مسلمان کے سابقہ گناہ مٹ جاتے ہیں۔ ‘‘
(شرح مسلم للنووی، کتاب الطھارة، باب فضل الوضوء، الجزء الثالث، ۳/ ۱۰۰)
ظاہری اور باطنی گناہوں سے پاکیزگی:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے اس جز ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: ’’طُہُوْر‘‘ سے ظاہری پاکی اورایمان سے عرفی ایمان مرادہے۔ چونکہ ایمان بھی گناہوں کو مٹاتا ہے اور وضوءبھی،لیکن ایمان چھوٹے بڑے سارے گناہ مٹا دیتا ہے اور وضوءصرف چھوٹے،اس لیے اسے آدھا ایمان فرمایا۔ ایمان باطن کو عیبوں سے پاک فرماتا ہے اور وضو ظاہر کو گندگیوں سےاور ظاہر باطن کا گویا نصف ہےیا ایمان دل کو برائیوں سے پاک اور خوبیوں سے آراستہ کرتا ہے اور طہارت جسم کو فقط گندگیوں سے پاک کرتی ہے،لہٰذا یہ نصف ہے اورممکن ہے کہ ایمان سے مراد نماز ہو،ربّ (تعالیٰ ارشاد) فرماتاہے: ’’لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْؕ(پ۲، البقرة:۱۴۳) ‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ نماز کی ساری شرطیں شرطِ طہارت کے برابر ہیں ۔غرضیکہ حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ایمان بسیط چیز ہے پھر اس کا آدھا اورتہائی کیسا؟ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 232)’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہ‘‘ اور ’’سُبْحٰنَاللہ‘‘ کی فضیلت:’’اَلْحَمْدُلِلّٰہ‘‘ میزان کو جبکہ ’’ سُبْحٰنَ اللہ ‘‘ اور ’’ اَلْحَمْدُلِلّٰہ ‘‘ زمین و آسمان کے درمیان کو بھر دیتے ہیں۔ قرآن و سنت سے ثابت ہے کہ اعمال کا وزن کیا جاتا ہے اور اعمال کم اور زیادہ ہوتے ہیں۔ اس حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ اگر ’’ سُبْحٰنَ اللہ ‘‘ اور ’’ اَلْحَمْدُلِلّٰہ ‘‘ کے ثواب کو مجسم کیا جائے (یعنی جسمانی صورت دی جائے) تو ان کی جسامت آسمان اور زمین کو بھردے گی اور ان کے ثواب کے زیادہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ’’ سُبْحٰنَ اللہ ‘‘ کا کلمہ ربِّ کریم کے پاک اور ہرنقص وعیب سے بَری ہونے کے معنیٰ پر اور ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہ‘‘ کا کلمہ اللہ پاک کی طرف محتاج ہونے کو بیان کرنے والا، اس کی حمد وثنا اور اس کا شکر بجا لانے پر مشتمل ہے۔(شرح مسلم للنووی، کتاب الطھارة، باب فضل الوضوء، الجزء الثالث، ۳/ ۱۰۱)تمام گناہوں پر بھاری:جو شخص ہر حال میں ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہ‘‘ کہا کرے تو قیامت میں میزانِ عمل کے نیکی کا پلہ اس سے بھر جائے گا اور ایک حمد تمام گناہوں پر بھاری ہوگی۔(مراٰۃ المناجیح، 1/ 232)’’نماز نور ہے‘‘ کا معنیٰ ومفہوم:حدیث پاک میں ہے: ’’نماز نورہے ‘‘ اس کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ جس طرح نور اندھیروں کو دور کر کے روشنی پھیلا دیتا ہے اسی طرح نماز گناہوں، بے حیائی اور بُرے کاموں کو دور کر کے نیک اعمال کی ہدایت دیتی ہے۔ دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ بروزِ قیامت نمازی کا چہرہ نماز کی وجہ سے روشن و منور ہوگا اور دنیا میں بھی نمازی کا چہرہ تروتازہ رہتا ہے۔
(شرح مسلم للنووی، کتاب الطھارة، باب فضل الوضوء، الجزء الثالث، ۳/ ۱۰۰)
سجدے کا نشان بیٹری کا کام دے گا:مشہور شارح حدیث، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے اس جز ’’نماز نور ہے‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی نماز مسلمان کے دل کی، چہرے کی، قبر کی، قیامت کی روشنی ہے۔پل صراط پرسجدہ کا نشان بیٹری کا کام دے گا، ربِّ (کریم ارشاد) فرماتاہے: ’’نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ(پ۲۸، التحریم:۸، ترجمہ کنزالایمان: ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے۔ ‘‘ اورممکن ہے کہ ’’صلوٰۃ‘‘ سے مراد درودشریف ہوکہ یہ بھی ہرطرح نورہے۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 232)چمکتے چہرے:منقول ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی تو نمازیوں کو گروہ در گروہ جنّت کی طرف جانے کا حکم ہوگا، جب پہلا گروہ جنّت میں داخلے کے لئے لایا جائے گا تو اُن کے چہرے ستاروں کی طرح چمکتے دمکتے ہوں گے، فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور ان سے پوچھیں گے: تم کون ہو؟ وہ کہیں گے: ہم اُمتِ محمدیہ کے نمازی ہیں۔ پھر پوچھا جائے گا: تمہارے اعمال کا کیا حال تھا؟ وہ کہیں گے : ہم اذان سنتے ہی وُضو کے لئے کھڑے ہوجاتے تھے اور دنیا کی کوئی چیز ہمیں اس سے روک نہیں سکتی تھی۔ فرشتے کہیں گے: تم اسی کے مستحق ہو کہ تمہیں جنّت میں داخل کیا جائے۔ پھر دوسرا گروہ جنّت میں داخلے کے لئے لایا جائے گا جن کا حُسن و جمال پہلے گروہ سے زیادہ ہوگا، ان کے چہرے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے، فرشتے ان سے پوچھیں گے: تم کون ہو؟ وہ کہیں گے : ہم نماز پڑھنے والے تھے۔ پھر پوچھیں گے: تمہاری نمازوں کا کیا حال تھا؟ وہ کہیں گے: ہم نماز کے وقت سے پہلے ہی نماز کے لئے وُضو کرلیتے تھےاور اذان سن کر فوراً مسجد میں حاضر ہوجاتے۔ فرشتے کہیں گے: تم اسی کے مستحق ہو۔ پھر تیسرا گروہ جنّت میں داخلے کے لئے لایا جائے گا جن کا مقام و مرتبہ اور حسن و جمال پہلے گروہوں سے کہیں زیادہ ہوگا، اُن کے چہرے آفتاب (سورج) کی طرح روشن ہوں گے، فرشتے ان سے پوچھیں گے: تم اتنے خوب صورت اور اتنے اعلیٰ مقام والے کیوں ہو؟ وہ کہیں گے: ہم پابندی سےنماز پڑھا کرتے تھے۔ فرشتے پوچھیں گے: تمہاری نمازوں کا کیا حال تھا؟ وہ کہیں گے: ہم اذان ہونے سے پہلے ہی مسجد میں موجود ہوتے تھے اور اذان مسجد میں ہی سنتے تھے ، فرشتے کہیں گے : تم اسی کے مستحق ہو۔
( قوت القلوب، الفصل الثالث والثلاثون فی ذکر دعائم الاسلام الخمس...الخ، ۲/ ۱۶۸)
’’صدقہ دلیل ہے‘‘ کا معنیٰ ومفہوم:حدیث پاک میں ہے:’’ صدقہ دلیل ہے‘‘ اس کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ قیامت کے دن جب انسان سے یہ سوال کیا جائے گا کہ مال کہاں خرچ کیا ؟ تو اس کے صَدَقات اس سوال کے جواب پر (دلیل) بن جائیں گے۔ دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ مال انسان کو فطرتاً عزیز ہوتا ہے اور جب وہ اللہ پاک کی راہ میں صَدَقہ دیتا ہے تو یہ صدقہ کرنا اس کے دعویٰ ایمان کی صداقت پر دلیل بن جاتا ہے۔(شرح مسلم للنووی، کتاب الطھارة، باب فضل الوضوء، الجزء الثالث، ۳/ ۱۰۱)محبت الٰہی کی دلیل اور بخشش کا کفیل:(صدقہ دلیل ہے) مومن کے ایمان کی کہ منافق اور کافر کو صحیح خیرات کی توفیق نہیں ملتی، یا کل قیامت میں صدقہ محبَّتِ پروردگار کی دلیل اور بخشش کا کفیل بنے گا، کیونکہ اسے ربِّ (کریم)نے قرض فرمایا ہے: ’’مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ(پ۲، البقرة: ۲۴۵)‘‘۔ خیال رہے کہ اس صدقہ میں زکوٰۃ،فطرہ وغیرہ تمام فرضی ونفلی خیراتیں داخل ہیں۔(مراٰۃ المناجیح، 1/ 232)صدقہ کی فضیلت پر مشتمل احادیث مبارکہ:حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے پیارے حبیب صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مَّالٍ یعنی صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا۔‘‘
(مسلم، کتاب البر والصلة والاداب، باب استحباب العفو والتواضع ، ص۱۰۷۱، حدیث:۶۵۹۲)
حضرت سیِّدُنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:
’’ اَلصَّدَقَۃُ تَسُدُّ سَبْعِیْنَ بَابًا مِّنَ السُّوْ ءِ یعنی صدقہ بُرائی کے 70 دروازے بند کردیتا ہے۔‘‘ (معجم کبیر، ۴/ ۲۷۴، حدیث:۴۴۰۲)
اللہ پاک کے پیارے رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک مسلمان کا صدقہ اس کی عمر بڑھاتا اور بری موت کو روکتا ہے۔‘‘ (معجم کبیر، ۱۷/ ۲۲، حدیث:۳۱)
حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک صدقہ کرنے والوں کو صدقہ قبر کی گرمی سے بچاتا ہے اور بلاشبہ مسلمان قیامت کے دن اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا۔‘‘
(شعب الایمان، باب الثانی والعشرین فی شعب الایمان وھو باب فی الزکاة، التحریض علی الصدقة التطوع، ۳/ ۲۱۲، حدیث:۳۳۴۷)
’’صبر روشنی ہے‘‘ کا معنیٰ ومفہوم:’’صبر ضیاء (روشنی) ہے‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ صبر ایک پسندیدہ عمل ہے اور صبر کرنے والا ہمیشہ ترو تازہ اور ہدایت پر مستقیم رہتا ہے۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم خواص رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کتاب اور سنت پر ثابت قدم رہنا صبر ہے۔ حضرت سیِّدُنا اِبنِ عطاء رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حوصلہ اور برداشت کے ساتھ مصائب کا سامنا کرنا صبر ہے۔ حضرت سیِّدُنا ابو علی دقاق رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صبر کی حقیقت یہ ہے کہ تقدیر پر اعتراض نہ کیا جائے، البتہ مصائب کا اظہار کرنا صبر کے منافی نہیں بشرطیکہ یہ اظہار بطورِ شکایت نہ ہو۔ (شرح مسلم للنووی، کتاب الطھارة، باب فضل الوضوء، الجزء الثالث، ۳/ ۱۰۱)دل اور چہرے کا نور:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے اس جز ’’صبر ضیاء (روشنی) ہے‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: صبر کے لغوی معنیٰ ہیں روکنا، یعنی نفس کو گناہوں سے روکنا، یا عبادت پر قائم رکھنا، یا مصیبتوں پر گھبراہٹ سے روکنا۔ (صبر) دل کا یا چہرے کا نور ہے۔ خیال رہے کہ نور ہر روشنی کو کہا جاسکتا ہے ہلکی ہو یا تیز، مگر ضیاءصرف تیز روشنی کو کہتے ہیں۔ربِّ (کریم ارشاد) فرماتاہے: ’’جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا(پ۱۱، یونس:۵، ترجمہ کنزالایمان: سورج کو جگمگاتا بنایا اور چاند چمکتا۔ ‘‘ چونکہ صبرہر عبادت میں ضروری ہے اس لیے نماز کو نور اور اسے ضیاءفرمایا گیا، ہو سکتا ہے کہ صبر سے مراد روزہ ہوچونکہ روزہ صرف اللہ کا ہے اس لئے ضیاء یعنی جگمگاہٹ فرمایا گیا۔(مراٰۃ المناجیح، 1/ 232)قبر کا اجالا:علامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک قول کے مطابق نفس کواس کی خواہشوں سے روکنا، گِراں گزرنے والی عبادات کی طرف اسے مائل کرکے اس راہ میں آنے والی تکالیف کو برداشت کرنا صبر کہلاتا ہے۔ جب بندہ اپنے صبر کے عہد کو پورا کرے تو یہ اس کے لئے ضیاء ( روشنی) ہے کیونکہ اگر صبر کو ترک کیا تو گناہوں کے اندھیرے میں جا گرے گا۔ ضیاء سے مراد قبر کا اُجالا ہے، کیونکہ جب مومن دنیا کی زندگی میں اللہ پاک کی اطاعت، بلاؤں اور گناہوں سے بچنے پر صبر کرتا ہے تو اللہ پاک اس کی تنگ وتاریک قبر کو کشادہ ومنورفرما دیتا ہے۔(مرقاة المفاتیح، کتاب الطھارت، الفصل الاول، ۲/ ۸، تحت الحدیث:۲۸۱)حکم کے اعتبار سے صبر کی اقسام:حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حکم کے اعتبار سے صبر کی چار قسمیں ہیں: (1)…فرض، (2)…نفل، (3)…مکروہ اور (4)…حرام۔ ممنوعہ کاموں سے صبر کرنا ’’فرض‘‘ ہے (جیساکہ گناہوں سے صبر کرنا)۔ ناپسندیدہ امور پر صبر کرنا ’’نفل‘‘ ہے (یعنی نفس کی ناپسندیدہ باتوں مثلاً: نفلی عبادات صدقہ و خیرات وغیرہ پر صبر کرنا کیو نکہ نیک اعمال نفس پر بہت گراں گزرتے ہیں )۔ شرعی طور پر ممنوع اذیت پر صبر کرنا ممنوع ہے جیسے بلا وجہ کسی شخص یا اس کے بیٹے کا ہاتھ کاٹا جائے اور وہ اس پر صبر کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرے۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی شہوت کے ساتھ اس کی بیوی کا قَصْد کرے تو اس سے اس کی غیرت جاگ اٹھے لیکن غیرت کے اظہار سے صبر کرے اور اس کی بیوی سے جو سلوک کیا جائے اس پر خاموشی اختیار کرے تو یہ صبر ’’حرام‘‘ ہے اور جو صبر ایسی اذیت پر ہو جو شرعی طور پر مکروہ طریقے سے پہنچے اس پر صبر کرنا مکروہ ہے۔ گویا صبر کی کسوٹی شریعت کا معیار ہے، لہٰذا صبر کے ’’نصف ایمان‘‘ ہونے سے یہ مراد نہیں لینی چاہئے کہ ہر قسم کا صبر محمود (یعنی قابل تعریف)ہے بلکہ اس سے صبر کی مخصوص انواع مراد ہیں۔
(احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان اقسام الصبر بحسب اختلاف القوة والضعف، ۴/ ۸۵)
مومن کے ایمان کی علامت:حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے انصار صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان کے پاس تشریف لاکر ارشاد فرمایا: ’’کیا تم مومن ہو؟‘‘ وہ خاموش رہے تو حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جی ہاں، یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ۔ ارشاد فرمایا: ’’تمہارے ایمان کی علامت کیا ہے؟‘‘ صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عرض کی: ہم فراخی کی حالت میں شکر کرتے، آزمائش کے وقت صبر کرتے اور اللہ پاک کے فیصلے پر راضی رہتے ہیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:’’ربِّ کعبہ کی قسم! تم مومن ہو۔‘‘ (معجم اوسط، ۶/ ۴۶۷، حدیث:۹۴۲۷۔ معجم کبیر، ۱۱/ ۱۲۳، حدیث:۱۱۳۳۶)تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف:امام یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے اس جز ’’قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف دلیل ہے‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی اگر تم قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے احکامات پر عمل کرو گے تو یہ تمہارے حق میں دلیل ہوگا ورنہ تمہارے خلاف دلیل ہوگا۔ (شرح مسلم للنووی، کتاب الطھارة، باب فضل الوضوء، الجزء الثالث، ۳/ ۱۰۲)جہنم سے آزادی یا ہلاکت:متن میں موجود حدیث شریف کے آخری میں فرمایا گیا: ’’ہر شخص جب صبح کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو فروخت کرنے والا ہوتا، پھر یا تو اپنے آپ کو آزاد کروانے والا ہوتا ہے یا ہلاک کرنے والا ہوتا ہے ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان عمل کرتا ہے ، بعض انسان اللہ پاک کے احکام مان کر اپنے نفس کواللہ پاک کے حوالے کر دیتے اور اپنے نفس کو جہنم سے آزاد کرالیتے ہیں جبکہ بعض انسان شیطان اور خواہش نفس کی اتباع کر کے خود کو شیطان کے ہاتھوں فروخت کردیتے ہیں اور شیطان انہیں جہنم میں پہنچا کر ہلاک کر دیتا ہے۔ (شرح مسلم للنووی، کتاب الطھارة، باب فضل الوضوء، الجزء الثالث، ۳/ ۱۰۲)زندگی کی دکان:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے مذکورہ جز کے تحت فرماتے ہیں: یعنی روزانہ صبح کے وقت ہرشخص اپنی زندگی کی دُکان کھولتا ہے، سانسیں صَرف کرکے اعمال کماتا ہے، اگراچھے اعمال میں سانسیں گزریں تو سودانفع کارہا، نفس جہنم سے بچ گیا اور اگر برے کام کئے تو سودا گھاٹے کا رہا، نفس کو ہلاک کر دیا۔ نفس سے مراد ذات دل اور سانسیں سب کچھ ہوسکتے ہیں۔ سُبْحٰنَ اللہ! اس اَفْصَحُ الْفُصَحَآءعرب (سب سے بڑے فصیح) کے قربان جاؤں کیسے جامع کلمات ارشاد فرمائے۔ خیال رہے کہ ہم جیسے گنہگاروں کی دکانِ زندگی صبح کھل کرسوتے وقت بند ہوجاتی ہے، بعض وہ خوش نصیب بھی ہیں جن کی دکان کبھی بند ہی نہیں ہوتی اور ان کا بازارکبھی سُونا ہی نہیں ہوتا، سوتے میں بھی دکانداری کرتے ہیں،کیونکہ ان کا دل جاگتا ہے بلکہ بعد وفات بھی ان کے میلے لگے ہوئے ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 232)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 23