Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 10

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’اِنَّ اللهَ تَعَالٰی طَيِّبٌ لَّا يَقْبَلُ اِلَّا طَيِّبًا وَّاِنَّ اللهَ اَمَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ بِمَا اَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِيْنَ فَقَالَ تَعَالٰی: ’’ یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-... الاٰیة (پ۱۸، المؤمنون:۵۱)‘‘ وَقَالَ تَعَالَى: ’’ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ... الاٰیة (پ۲، البقرة:۱۷۲)‘‘. ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُـطِيْلُ السَّفَرَ اَشْعَثَ اَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ اِلَى السَّمَآءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ! وَمَطْعَمُهٗ حَرَامٌ وَّمَشْرَ بُہٗ حَرَامٌ وَّغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَاَنّٰى يُسْتَجَابُ لِذٰلِكَ.‘‘ (رَوَاهُ مُسْلِم)

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ’’ان الله تعالی طيب لا يقبل الا طيبا وان الله امر المؤمنين بما امر به المرسلين فقال تعالی: ’’ یایها الرسل كلوا من الطیبت و اعملوا صالحا-... الایة (پ۱۸، المؤمنون:۵۱)‘‘ وقال تعالى: ’’ يأيها ٱلذين ءامنوا كلوا من طيبت ما رزقنكم... الایة (پ۲، البقرة:۱۷۲)‘‘. ثم ذكر الرجل يـطيل السفر اشعث اغبر يمد يديه الى السماء يا رب يا رب! ومطعمه حرام ومشر بہ حرام وغذي بالحرام فانى يستجاب لذلك.‘‘ (رواه مسلم)

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک اللہ پاک طیب ہے اور وہ پاک ہی کو قبول کرتا ہے اور بے شک اللہ پاک نے مؤمنوں کو بھی اسی چیز کا حکم دیا ہے جس چیز کا رسولوں علیہمُ السّلام کو حکم دیا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:يَٰٓأَيُّهَا ٱلرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ(پ ۱۸، المؤمنون:۵۱)
ترجمہ کنزالایمان: اے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ(پ ۲، البقرة:۱۷۲)
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں ۔
پھر آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک شخص کا تذکرہ کیا جو طویل سفر کرتا ہے، گرد آلود پراگندا بالوں والا ہے، وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر کہتا ہے:اے میرے رب ! اے میرے رب! حالانکہ اسکا کھانا حرام، پینا حرام اور اس کی غذا حرام سے ہے تو اس کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے۔‘‘(مسلم، كتاب الزکاة، باب قبول الصدقة من الکسب...الخ، ص۳۹۳، حدیث:۲۳۴۶)

شرح حدیث

مذکورہ حدیث پاک کی اہمیت:حضرت سیِّدُنا امام ابن دقیق رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ حدیث شریف بھی ان احادیث کریمہ میں سے ایک ہے جنہیں اسلام کا مدار قرار دیا گیا ہے اور بے شمار اسلامی قواعد اور احکام پر مبنی ہے۔ (شرح اربعین لابن دقیق، ص۱۱۲، ملخصًا)شانِ باری تعالیٰ:حدیث شریف میں بیان ہوا کہ ’’اللہ طیب ہے“ اس سے مراد یہ ہے کہ ربِّ کریم بے عیب ہے اور بےعیب صدقات اور نقصانات سے خالی عبادات کو قبول فرماتاہے۔ ’’طیب‘‘ خبیث کی ضد ہے، حلال، پاک، لطیف، پسندیدہ،شرعی چیز ’’طیب‘‘ ہے۔اللہ پاک ’’طیب‘‘ ہے کہ خبیث چیزیں ناپسند کرتا ہے تمام صفات غیر کمالیہ سے بری و پاک ہے،مسلمانوں کو حکم دیا کہ ظاہری و باطنی نجاست سے دور رہیں نیک اعمال کریں،چیزیں انسان کے لیے ہیں اور انسان رحمٰن کے لیے۔(مراٰۃ المناجیح،4/227 ، 228 ، ملخصاً وملتقطاً)حلال وپاکیزہ چیز کھانے کا حکم:اللہ پاک نے مؤمنین کو بھی وہی حکم دیا جو رسولوں علیہمُ السّلام کو دیا کہ ”پاکیزہ اور ستھری چیزیں کھاؤ‘‘مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: ’’کسبِ حلال و طلبِ معاش ایسا مبارک مشغلہ ہے جس میں رب تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہمُ الصّلوٰۃ ُوالسّلام اور عوام کو جمع فرمادیا ہے لہٰذا یہ حُکمِ خداوندی بھی ہے سنتِ مصطفوی بھی اور سنتِ انبیاءبھی اس لیے کسب حلال سنت سمجھ کر کرنا چاہیے،اس میں دنیا کی عزت بھی ہے آخرت کی سرخروئی بھی۔‘‘ حدیث پاک کے جز” اے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں کھاؤ “ کے تحت فرماتے ہیں: ’’یا تو میثاق کے دن رب تعالیٰ نے نبیوں سے یہ خطاب بیک وقت فرمایا تھا یا ہر نبی سے ان کے زمانہ میں یہ خطاب ہوا جو قرآن کریم میں نقل فرمایا گیا اور حضور انور ( صلّی اللہ علیہ وسلّم ) کو سنایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ رہبانیت اور ترک دنیا نہ اسلام میں ہے نہ پہلے کسی نبی کے دین میں تھی۔‘‘(مراٰۃ المناجیح، 4/227)انبیائے کرامعلیہمُ السّلامکے مبارک پیشے:اسی حکم کے پیش نظر انبیائے کرام علیہمُ السّلام نے حلال وپاکیزگی کے لئے مختلف پیشے اختیار فرمائے، کسی نے چندوں یا سوال پر زندگی نہ گزاری۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا آدم علیہ السّلام اولًا کپڑا سازی پھر کھیتی باڑی کرتے تھے، حضرت سیِّدُنا نوح علیہ السّلام لکڑی کا پیشہ، حضرت سیِّدُنا ادریس علیہ السّلام درزی گری، حضرت سیِّدُنا ہود اور حضرت سیِّدُنا صالح علیہما السلام تجارت، حضرت سیِّدُنا ابراہیم اور حضرت لوط علیہما السّلام کھیتی باڑی کرتے تھے، حضرت سیِّدُنا شعیب علیہ السّلام جانور پالتے تھے، حضرت سیِّدُنا موسیٰ علیہ السّلام نے بکریاں چَرائیں، حضرت سیِّدُنا داؤد علیہ السّلام زرہ بناتے، حضرت سیِّدُنا سلیمان علیہ السّلام اتنے بڑے ملک کے مالک ہوکر پنکھے اور زنبیلیں بنا کرگزارہ کرتے تھے، حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیہ السّلام ہمیشہ سیاحی (سیر وسیاحت)کرتے تھے اور ہمارے حضور انور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اولًا تجارت کا پیشہ اختیار فرمایا اور پھر جہاد کئے۔(مراٰۃ المناجیح،4/227 ،ملخصاً)حرام کی نحوست:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ ’’مراٰۃ المناجیح، جلد4، صفحہ228‘‘ پر حدیث پاک کے جز”اس کی غذاحرام سے ہے تو اس کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے“ کے تحت فرماتے ہیں:یعنی بچپن سے ہی حرام میں پلا اور جوان ہوکر حرام کمائی ہی کی جس سے غذا لباس حرام کا رہا۔ یہاں روئے سخن یا حرام خور حاجی یا غازی کی طرف ہے یعنی حرام کمائی سے حج یا غزوہ کرنے گیا، پراگندا حال پریشان حال رہا،کعبہ معظمہ یا میدان جہاد میں دعائیں مانگیں مگر قبول نہ ہوئیں کہ روزی حرام تھی جب ایسے حاجی و غازی کی دعا بھی قبول نہیں تو دوسروں کا کیا کہنا۔قبولیتِ دعا کا نسخہ:صوفیائے کرام رحمۃُ اللہ علیہم فرماتے ہیں: دعا کے دو بازو یعنی پَر ہیں:اکل حلال (حلال کھانا)، صدق مقال (سچ بولنا)اگر ان سے دعا خالی ہو تو قبول نہیں ہوتی۔تقویٰ کی پہلی سیڑھی حلال روزی ہے،حرام سے بچنا عوام کا تقویٰ ہے،شبہات سے بچنا خواص کا تقویٰ،ذریعَۂ معصیت سے بچنا صدیقین کا تقویٰ، اللہ پاک نصیب کرے۔ (مراٰۃ المناجیح،4/228 )
حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم !اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کیجئے کہ وہ مجھے مستجاب الدعوات بنادے(یعنی ایسا بنادے کہ میری ہر دعا قبول ہو)۔ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے سعد! اپنا کھانا حلال وپاکیزہ کر لو مستجاب الدعوات ہو جاؤ گے۔‘‘ (معجم اوسط، ۵/ ۳۴، حدیث:۶۴۹۵)
پاک لوگوں کی پاکیزہ خوراک:چونکہ جسمانی غذاؤں سے جسم کی بقا ہے اور روح کا ارتقاء کہ حلال غذا سے دل میں جلا پیدا ہوتی ہے جیسے حرام غذا سے دل میں تاریکی پیدا ہوتی ہے اس لیے رب تعالیٰ نے نماز و روزہ کی طرح حلال غذا کا بھی حکم دیا کہ اے مسلمانو! خدا کی محبت اورایمان کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ تم لذیذ کھانوں اور اچھی نعمتوں سے ایک دم محروم ہو جاؤ بلکہ تقاضائے ایمان یہ ہے کہ ہر چیز کی حکمَتِ پیدا ئش سمجھو اور تقاضائے محبت یہ ہے کہ محبوب جو عطا کرے اسے بخوشی استعمال میں لاؤ معشوق کے ہاتھ کی کڑوی چیز بھی میٹھی (چیز) کی طرح کھائی جاتی ہے پس ہم تم سے کہتے ہیں کہ ہماری دی ہوئی حلال پاک اور لذیذ چیزیں شوق سے کھاؤ خواہ مہنگی ہی ہوں۔(تفسیر نعیمی،پارہ2،سورۂ بقرہ،تحت الآیۃ: 172، 2/ 146)حلال لقمہ کی فضیلت:حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص پاکیزہ (یعنی حلال) چیز کھائے اور سنت کے مطابق عمل کرے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘(ترمذی، کتاب صفة القیامة والرقائق والورع، ۴/ ۲۳۳، حدیث:۲۵۲۸)
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’کچھ گناہ ایسے ہیں جن کاکفّارہ نہ نمازہے،نہ روزہ ہے، نہ حج ہے اور نہ ہی عمرہ ہے۔‘‘ صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضواننے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم !پھر ان کا کفارہ کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’ان کاکفّارہ وہ پریشانیاں ہیں جوآدمی کو حلال روزی کی تلا ش میں پہنچتی ہیں۔‘‘
(معجم اوسط،باب الالف من اسمہ احمد، ۱/ ۴۲، حدیث:۱۰۲)
ایک برزگ فرماتے ہیں: ’’مسلمان جب حلال کھانے کا پہلا لقمہ کھاتا ہے تو اس کے پہلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں اور جو شخص طلب حلال کےلئے رسوائی کے مقام پر جاتا ہے تو اس کے گناہ درخت کے پتّوں کی طرح جھڑتے ہیں۔‘‘
(احیاء العلوم،کتاب الحلال والحرام، الباب الاول فی فضیلة الحلال ومذمة الحرام، ۲/ ۱۱۶)
حرام لقمہ کی نحوست:مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ہر وہ جسم جو حرام سے پلا بڑھا ہو آگ اس سے بہت قریب ہوگی۔‘‘
(شعب الایمان، التاسع والثلاثون من شعب الایمان...الخ، الفصل الثالث فی طیب المطعم والملبس، ۵/ ۵۶، حدیث:۵۷۵۹)
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے منہ میں مٹی ڈال لے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنے منہ میں ایسی چیز ڈالے جسے اللہ پاک نے حرام کر دیا ہے۔‘‘
(شعب الایمان، التاسع والثلاثون من شعب الایمان...الخ، الفصل الثالث فی طیب المطعم والملبس، ۵/ ۵۷، حدیث:۵۷۶۳)
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل روایت میں ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو بندہ حرام مال حاصل کرتا ہےاگر اس کو صدقہ کرے تو مقبول نہیں، خرچ کرے تو اس کے لئے اس میں برکت نہیں اور اپنے بعد چھوڑ کر مرے تو جہنم میں جانے کا سامان ہے، اللہ پاک برائی سے برائی کو نہیں مٹاتا ہاں نیکی سے برائی کو مٹاتا ہےبے شک خبیث کوخبیث نہیں مٹاتا۔‘‘
(مسند احمد، مسند عبداللّٰہ بن مسعود، ۲/ ۳۳، حدیث:۳۶۷۲)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 10