Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 19

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي الْعَبَّاسِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ مَا قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: ’’يَا غُلاَمُ اِنِّيْ اُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ اِحْفَظِ اللهَ يَحْفَظْكَ، اِحْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، اِذَا سَاَلْتَ فَاسْاَلِ اللهَ وَاِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَاعْلَمْ اَنَّ الْاُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلٰى اَنْ يَّنْفَعُوْكَ بِشَيْءٍ لَّمْ يَنْفَعُوْكَ اِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَـبَهُ اللهُ لَكَ واِنِ اجْتَمَعُوْا عَلٰى اَنْ يَّضُرُّوْكَ بِشَيْءٍ لَّمْ يَضُرُّوْكَ اِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْاَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ.‘‘ (رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ: حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ) وَفِيْ رِوَايَةِ غَيْرِ التِّرْمِذِيِّ: ’’اِحْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ اَمَامَكَ، تَعَرَّفْ اِلَى اللهِ فِي الرَّخَآءِ يَعرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ وَاعْلَمْ اَنَّ مَا اَخْطَاَكَ لَمْ يَكُنْ لِّيُصِيْبَكَ وَمَا اَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِّيُخْطِئَكَ وَاعْلَمْ اَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ وَاَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ وَاَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا.‘‘

عن ابي العباس عبد الله بن عباس رضي الله عنه ما قال: كنت خلف النبی صلى الله عليه وسلم يوما فقال: ’’يا غلام اني اعلمك كلمات احفظ الله يحفظك، احفظ الله تجده تجاهك، اذا سالت فاسال الله واذا استعنت فاستعن بالله واعلم ان الامة لو اجتمعت على ان ينفعوك بشيء لم ينفعوك الا بشيء قد كتـبه الله لك وان اجتمعوا على ان يضروك بشيء لم يضروك الا بشيء قد كتبه الله عليك، رفعت الاقلام وجفت الصحف.‘‘ (رواہ الترمذی وقال: حدیث حسن صحیح) وفي رواية غير الترمذي: ’’احفظ الله تجده امامك، تعرف الى الله في الرخاء يعرفك في الشدة واعلم ان ما اخطاك لم يكن ليصيبك وما اصابك لم يكن ليخطئك واعلم ان النصر مع الصبر وان الفرج مع الكرب وان مع العسر يسرا.‘‘

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّد نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے پیچھے (سواری پر سوار) تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں ، اللہ پاک کے احکام کی پابندی کر، اللہ پاک تیری حفاظت فرمائے گا، اللہ پاک کے حق کی رعایت کرتو اُسے اپنے سامنے پائے گا، جب مانگے تو اللہ پاک سے ہی مانگ اور جب مدد طلب کرے تو اللہ پاک سے ہی مددطلب کر اور جان لے کہ اگر ساری امت بھی تجھے نفع پہنچانے پر جمع ہو جائے تو صرف اتنا ہی نفع دے گی جتنا اللہ پاک نے تیرے لئے لکھ دیا ہے اور اگر سب مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو صرف اتنا ہی پہنچا سکیں گے جتنا اللہ پاک نے تیرے لئے لکھ دیا ہے۔ قلم اُٹھا دئیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے۔‘‘(ترمذی، كتاب صفة القيامة والرقائق والورع، ۴/ ۲۳۱، حدیث:۲۵۲۴)
ترمذی شریف کے علاوہ دیگر کتب میں یوں ہے: ’’اللہ پاک کے حقوق کی حفاظت کر! تو اُسے اپنے قریب پائے گا، خوشحالی میں اللہ پاک کو یاد رکھ وہ تنگدستی میں تجھ پر خاص توجہ فرمائے گا اور جان لے کہ جو تجھے نہیں ملا وہ ملنے والا ہی نہ تھا اور جو مل گیا وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا۔جان لے!مدد صبر کے ساتھ اور کُشادگی رَنج وغم کے ساتھ ہے اور تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘
(مستدرك، كتاب معرفة الصحابة، باب تعليم النبی ابن عباس، ۴/ ۶۹۹، حدیث: ۶۳۵۸، بتقدم وتاخر)

شرح حدیث

حقوقُ اللہ کی حفاظت کرو:حضرت سیِّدُنا علامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’اِحْفَظِ اللہ یَحْفَظْکَ (اللہ پاک کے حقوق واحکام کی پابندی کر)‘‘کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جس چیز کا اس نے حکم دیا ہے اس پر عمل کر اور جس سے منع فرمایا اس سے باز رہ تو وہ دنیا میں مصیبتوں اور پریشانیوں سے اور آخرت میں اُن عذابات سے تیری حفاظت فرمائے گا جو تیرے اعمال کا بدلہ ہونگے کہ جو اللہپاک کاہو جاتا ہے اللہ پاک اس کا ہو جاتا ہے۔ نیز اللہ پاک کا حق یہ ہے کہ ہمیشہ اس کے ذکر و فکر اور شکر میں مشغول رہو اگر ایسا کرو گے تو اسے اپنے قریب پاؤ گے۔(مرقاة المفاتیح، کتاب الرقاق، الفصل الثانی، ۹/ ۱۶۲، تحت الحدیث: ۵۳۰۲، ملخصًا)رضائے الٰہی والے کام کرو:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے مذکورہ جز کی شرح میں فرماتے ہیں: تم دنیا میں اپنے ہر کام، ہر چیز میں احکامِ الٰہیہ کا لحاظ رکھو،جائز کام کرو، ناجائز سے بچو،الله پاک کی رضا کے کام کرو، ناراضی کے کاموں سے بچو تو الله تعالیٰ تم کو دینی و دنیاوی آفتوں سے بچائے گااورہر مصیبت میں رب تعالیٰ کی رحمت تمہارے دل پر وارد ہوگی جس کے اثر سے تمہارے دل پر غم طاری نہ ہوگا۔(مراٰۃ المناجیح، 7/117)ہر وقت اللہ پاک کی فرمانبرداری میں رہو:حضرت سیِّدُنا امام شرف الدین حسین بن محمد بن عبداللہ طیبی رحمۃُ اللہ علیہ مذکورہ جز کے تحت فرماتے ہیں: ’’تم اللہ پاک کے حق کی رعایت کرو اور اس کی رضا طلب کرو اگر ایسا کرو گے تو اسے اپنے قریب پاؤ گے اور اللہ پا ک کے حق کی حفاظت کرو اللہ پاک دنیا کے مصائب وآلام سے تمہاری حفاظت فرمائے گا۔ لہٰذا ایسے ہوجاؤ کہ اللہ پاک ہر وقت تمہیں اپنی فرمانبرداری میں اور ایسے عمل میں دیکھے جو تمہیں اس کی نعمتوں سے قریب کردے، پھر وہ دنیا و آخرت میں تمہاری شدید حاجت کے وقت تمہیں اس کی جزا عطافرمائے گا۔‘‘ (شرح الطیبی، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر، ۹/ ۴۱۲، حدیث:۵۳۰۲)اللہ پاک ہی سے مانگو:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’ جب مانگو تو اللہ پاک سے ہی مانگو اور مدد طلب کرو تو اللہ پاک سے ہی مددطلب کرو‘‘ یعنی ہر چھوٹی بڑی چیز اعلیٰ ادنیٰ مدد اللہ پاک سے مانگو، یہ نہ خیال کرو کہ اتنے بڑے دربار میں ایسی ادنیٰ چیز کیوں مانگو ،دوسرے کریم مانگنے سے ناراض ہوتے ہیں اللہ پاک نہ مانگنے سے ناراض ہوتا ہے، خیال رہے کہ مجازی طور پر بادشاہ ،حاکم ،اولیائے کرام ،حضرت محمد مصطفٰے صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے کچھ مانگنا خداتعالیٰ سے ہی مانگنا ہے کہ یہ حضرات اللہ تعالیٰ کے خُدَّام، اللہ تعالیٰ کے حکم سے اللہ تعالیٰ کی نعمت دیتے ہیں ان سے مانگنا بِالواسطہ رَبّ (کریم) سے ہی مانگنا ہے، لہٰذا یہ حدیث ان قرآنی آیات اور احادیث کے خلاف نہیں، جن میں بندوں سے مانگنے کا ذکر یا حکم ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 7/117)اللہ پاک ہی سے مدد چاہو:حضرت سیِّدُنا علامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’ جب تم مدد طلب کرو تو اللہ پاک سے ہی مددطلب کرو‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: جب تم دنیا وآخرت کے معاملات میں مدد مانگنا چاہو تو اللہ پاک ہی سے مانگو کیونکہ اُسی سے مدد مانگی جاتی ہے اور ہر زمان اور مکان میں اسی پر بھروسا کیا جاتا ہے اور جان لو کہ اگر تمام لوگ کسی دینی یا دُنیاوی معاملے میں تجھے کسی چیز سے نفع پہنچانے کے لئے جمع ہو جائیں تو وہ اس پر قادر نہیں کہ وہ تجھے نفع پہنچائیں، سوائے اس کے کہ جو تیرے مقدر میں اللہ پاک نے لکھ دیا ہے ۔(مرقاة المفاتیح، کتاب الرقاق، الفصل الثانی، ۹/ ۱۶۳، تحت الحدیث: ۵۳۰۲، ملخصًا)وہی ہوگا جو مقدر میں ہے:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’ساری امت بھی تجھے نفع پہنچانے پر جمع ہو جائے ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: یعنی ساری دنیا مل کر تم کو نفع نہیں پہنچاسکتی، اگر کچھ پہنچائے گی تو وہ ہی جو تمہارے مقدر میں لکھا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کا لکھا ہوا نفع دنیا پہنچاسکتی ہے۔طبیب کی دوا شفا دے سکتی ہے، سانپ کازہر جان لے سکتا ہے مگر یہ اللہ پاک کا طے شدہ اور اس کی طرف سے ہے، حضرت سیِّدُنا یوسف علیہِ السّلام کی قمیص نے حضرت سیِّدُنا یعقوب علیہِ السّلام کی آنکھوں کو روشنی بخشی، حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیہِ السّلام مردے زندہ اور بیمار اچھے کرتے تھے مگر اللہ پاک کے حکم اور اجازت سے۔(مراٰۃ المناجیح، 7/117، ملخصاً)نفع ونقصان کا مالک اللہ پاک ہے:’’اللہ پاک لکھ چکا‘‘( یہاں ) لکھنے سے مراد لوحِ محفوظ میں لکھنا ہے اگرچہ وہ تحریر قلم نے کی مگر چونکہ اللہ (پاک) کے حکم سے کی تھی اس لیے کہا گیا کہ ’’ اللہ (پاک) نے لکھا‘‘ مطلب ظاہر ہے کہ اگر سارا جہاں مل کر تمہیں کوئی نقصان دے تو وہ بھی طے شدہ پروگرام کے ماتحت ہوگا کہ لو حِ محفوظ میں یوں ہی لکھا جاچکا تھا ۔(مراٰۃ المناجیح، 7/118)قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے:علامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کے جز ’’قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: یعنی تقدیر لکھ دی گئی ہے کاتب نے جو لکھنا تھا وہ لکھاجا چکا اب اس میں کچھ تغیر وتبدل نہ ہوگا، لوحِ محفوظ میں سب کچھ لکھ دیا گیا اب اس میں کچھ نہیں لکھا جائے گا۔حدیث پاک میں ہے: ’’اللہ پاک نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا۔ پھر اس سے ارشاد فرمایا: لکھ! قلم نے عرض کی: کیالکھوں؟ ارشاد فرمایا: تقدیر لکھ۔ پھر اس نے قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا وہ لکھ دیا۔‘‘ ایک اور حدیث مبارک میں ہے کہ ’’اللہ پاک کے علم کے مطابق قلم خشک ہو گئے۔‘‘ یعنی ازل میں اللہ پاک نے جو کچھ اسے سکھایا اور حکم دیا (اس نے وہ لکھ دیا) اب اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ یہاں یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ یہ حدیث شریف درج ذیل فرمانِ باری تعالیٰ’’یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ(پ۱۳، الرعد:۳۹)ترجمہ کنزالایمان: اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے‘‘ کے خلاف ہے (ایسا نہیں ہے) حدیث مبارک اور آیت طیبہ میں کوئی تضاد نہیں اس لئے کہ مِٹنا اور ثابت ہونا بھی تقدیر میں سے ہے، کیونکہ تقدیر کی قسمیں ہیں:مبرم اورمعلق اور یہ تقسیم لوحِ محفوظ کے اعتبار سے ہے۔ بہرحال وہ تقدیر جو اللہ پاک کے علم میں ہے اس میں تبدیلی اور تغیُّر ممکن نہیں اسی لئے اللہ پاک نے اسی کے ساتھ متصل آگے ارشاد فرمایا: ’’وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ(۳۹)(پ۱۳، الرعد:۳۹)
ترجمہ کنزالایمان: اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔‘‘
(مرقاة المفاتیح، کتاب الرقاق، الفصل الثانی، ۹/ ۱۶۴، تحت الحدیث: ۵۳۰۲)
تقدیر کی اقسام اور کچھ تفصیل:تقدیر کی تین قسمیں ہیں: (1)…مُبرمِ حقیقی کہ علْمِ الٰہی میں کسی شے پر معلَّق نہیں۔ (2)…معلَّقِ محض کہ ملائکہ کے صحیفوں میں کسی شے پر اُس کا معلَّق ہونا ظاہر فرما دیا گیا ہے۔(3)…معلَّقِ شبیہ بہ مُبرم کہ ملائکہ کے صحیفوں میں اُس کی تعلیق مذکور نہیں اور علْمِ الٰہی میں تعلیق ہے۔ وہ جو مُبرمِ حقیقی ہے اس کی تبدیلی ناممکن ہے، اللہ پاک کے محبوب وبزرگ بندے اگر اتفاقاً اس بارے میں کچھ عرض کرتے ہیں تو انہیں اس خیال سے روک دیا جاتا ہے۔ جیسے ملائکہ قومِ لوط پر عذاب لے کر آئے تو حضرت سیِّدُنا ابراہیم علیہِ السّلام جو سراپا رحمت تھے کہ ان کا نام پاک ہی ’’ابراہیم‘‘ ہے یعنی ابِ رحیم مہربان باپ، ان کافروں کے بارے میں اپنے ربِّ کریم سے جھگڑنے لگے۔ چنانچہ ان کا ربِّ کریم ارشاد فرماتا ہے: ’’یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ(۷۴)(پ۱۲، ھود:۷۴)ترجمہ: ہم سے جھگڑنے لگا قومِ لوط کے بارے میں۔‘‘ قومِ لوط پر عذاب قضائے مُبرمِ حقیقی تھا، خلیلُ اللہ علیہِ السّلام اس میں جھگڑے تو انہیں ارشاد ہوا:یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاۚ-اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَۚ-وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ(۷۶)(پ ۱۲، ھود:۷۶)
ترجمہ کنزالایمان: اے ابراہیم اس خیال میں نہ پڑ بےشک تیرے رب کا حکم آ چکا اور بےشک ان پر عذاب آنے والا ہے کہ پھیرا نہ جائے گا۔
اور وہ جو ظاہر قضائے معلّق ہے، اس تک اکثر اولیاء کی رسائی ہوتی ہے، اُن کی دُعا سے، اُن کی ہمّت سے ٹل جاتی ہے اور وہ جو متوسّط حالت میں ہے، جسے ملائکہ کے صحیفوں کے اعتبا ر سے مُبرَم بھی کہہ سکتے ہیں، اُس تک خواص اکابر کی رسائی ہوتی ہے۔ حضور سیّدنا غوثِ اعظم رحمۃُ اللہ علیہ اسی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’میں قضائے مُبرَم کو رد کر (یعنی ٹال) دیتا ہوں۔‘‘ اور اسی کی نسبت حدیث شریف میں ارشاد ہوا: ’’اِنَّ الدُّعَاءَ یَرُدُّ الْقَضَآءَ بَعْدَ مَا اُبْرِمَ‘‘ (یعنی بےشک دُعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے)۔‘‘ (بہارِ شریعت، حصہ1، 1/ 12 تا 16، ملخصاً)
دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 19