DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Taha Ayat 76 Translation Tafseer

رکوعاتہا 8
سورۃ ﰏ
اٰیاتہا 135

Tarteeb e Nuzool:(45) Tarteeb e Tilawat:(20) Mushtamil e Para:(16) Total Aayaat:(135)
Total Ruku:(8) Total Words:(1485) Total Letters:(5317)
74-76

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَؕ-لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى(۷۴)وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ(۷۵)جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠(۷۶)
ترجمہ: کنزالعرفان
بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے گاتو ضرور اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ مرے گا اور نہ (ہی چین سے)زندہ رہے گا۔ اور جو اس کے حضور ایمان والا ہوکر آئے گاکہ اس نے نیک اعمال کئے ہوں تو ان کیلئے بلند درجات ہیں ۔ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ،ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ اس کی جزا ہے جو پاک ہوا۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا:بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے گا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کے بارے میں  ایک قول یہ ہے کہ یہ جادو گروں  کے کلام کا حصہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہاں  سے  اللہ تعالیٰ کا کلام شروع ہو رہا ہے، اور ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور فرعون کی طرح کافر ہوکر آئے گا تو ضرور اس کے لیے جہنم ہے جس میں  نہ مرے گا کہ مرکر ہی اس سے چھوٹ سکے اور نہ ہی اس طرح زندہ رہے گا جس سے کچھ نفع اٹھا سکے اور جن کا ایمان پر خاتمہ ہوا ہو اور انہوں  نے اپنی زندگی میں  نیک عمل کئے ہوں  ، فرائض اور نوافل بجا لائے ہوں  تو ان کیلئے بلند درجات ہیں  اور وہ درجات ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں  جن کے نیچے نہریں  جاری ہیں ، ہمیشہ ان میں  رہیں  گے اور یہ اس کی جزا ہے جو کفر کی نجاست اور گناہوں  کی گندگی سے پاک ہوا۔( خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۷۴، ۳ / ۲۵۹)

{فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰى:تو ان کیلئے بلند درجات ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں  نے نیک اعمال کئے ان کے لئے بلند درجات ہیں ۔ بلند درجات والوں  کے مقام کے بارے میں  سننِ ترمذی اورا بنِ ماجہ میں  حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ، رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’بلند درجات والوں  کو نچلے درجات والے ایسے دیکھیں  گے جیسے تم اُفق میں  طلوع ہونے والے ستاروں  کو دیکھتے ہو۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا ان میں  سے ہیں  اوریہ اسی کے اہل ہیں ۔( ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی  اللہ عنہ۔۔۔ الخ، ۵ / ۳۷۲، الحدیث: ۳۶۷۸)

{وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى:اور یہ اس کی جزا ہے جو پاک ہوا۔} اس آیتِ مبارکہ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہر عقلمند کو چاہئے کہ اگر وہ کفر و شرک کی نجاست سے آلودہ ہے تو وہ  اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کا اقرار کر کے اور اسلام کے بیان کردہ عقائد اختیار کر کے کفر و شرک کی نجاست سے فوری طور پر پاک ہو جائے اور اس کے بعد خود کوگناہوں  کی گندگی سے پاک صاف رکھے، یونہی ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ تمام گناہوں ، مذموم نَفسانی اَخلاق اور برے شیطانی اَوصاف سے خود کو پاک کرے تاکہ قیامت کے دن اسے  اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ ملے اور اس کے فضل وکرم کے صدقے جنت میں  بلند درجات نصیب ہوں ۔

             اے  اللہ !عَزَّوَجَلَّ، ہمارے تمام گناہوں  اور ساری خطاؤں  کو معاف فرما، ہمیں  گناہوں  سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق مَرحمت فرما، ہماری زندگی اور موت دونوں  کو بہتر فرما، دینِ اسلام پر ہمیں  ثابت قدمی نصیب فرما، حشر کے دن ہمیں  اپنے حبیبصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شفاعت اور ان کے صدقے میزانِ عمل اور پل صراط پر آسانی عطا فرما اور ہم تیرے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے صدقے تجھ سے جنت ،اس میں  بلند درجات اور تیرے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پڑوس مانگتے ہیں ،اے  اللہ !عَزَّوَجَلَّ، اپنی رحمت اور فضل و کرم کے صدقے ہمیں  یہ عطا فرما۔اٰمین۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links