DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Taha Ayat 7 Translation Tafseer

رکوعاتہا 8
سورۃ ﰏ
اٰیاتہا 135

Tarteeb e Nuzool:(45) Tarteeb e Tilawat:(20) Mushtamil e Para:(16) Total Aayaat:(135)
Total Ruku:(8) Total Words:(1485) Total Letters:(5317)
7

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى(۷)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اگر تم بلند آواز سے بولو تو بیشک وہ آہستہ آواز کو جانتا ہے اور اسے (بھی) جو اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى: تو بیشک وہ آہستہ آواز کو جانتا ہے اور اسے (بھی)جو اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے۔} اس آیت کے دو الفاظ ’’اَلسِّرَّ‘‘ اور ’’ اَخْفٰى‘‘ کے بارے میں  مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں ، جیسے ایک قول یہ ہے کہ سِروہ ہے جسے آدمی چھپاتا ہے اور’’ اس سے زیادہ پوشیدہ ‘‘وہ ہے جسے انسان کرنے والا ہے مگر ابھی جانتا بھی نہیں  اور نہ اُس سے اِس کے ارادے کا کوئی تعلق ہوا ، نہ اس تک اس کاخیال پہنچا ۔ ایک قول یہ ہے کہ سِر سے مراد وہ ہے جسے بندہ انسانوں  سے چھپاتا ہے اور ’’اس سے زیادہ چھپی ہوئی‘‘ چیز وسوسہ ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ بندے کا راز وہ ہے جسے بندہ خود جانتا ہے اور  اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور’’ اس سے زیادہ پوشیدہ ‘‘ربّانی اَسرار ہیں  جنہیں   اللہ تعالیٰ جانتا ہے بندہ نہیں  جانتا۔( خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۷، ۳ / ۲۴۹، ملتقطًا)

 برے کاموں  سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی ترغیب:

            اس آیت میں  بیان ہوا کہ  اللہ تعالیٰ ہماری آہستہ آواز کو جانتا ہے اور جو اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے اسے بھی جانتاہے ۔اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ  اللہ تعالیٰ بندوں  کے ظاہری باطنی اَحوال ،آنکھوں  کی خیانت ، سینوں  میں  چھپی باتیں  اور ہمارے تمام کام جانتا ہے اور ہمارے تمام اَفعال کو دیکھ بھی رہا ہے،چنانچہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ‘‘(مائدہ:۹۹)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور  اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:

’’ یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ‘‘(مومن:۱۹)

ترجمۂکنزُالعِرفان:  اللہ آنکھوں  کی خیانت کوجانتا ہے اور اسےبھی جو سینے چھپاتے ہیں ۔

            اور ارشاد فرمایا

’’اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْۙ-اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ‘‘(حم السجدہ:۴۰)

ترجمۂکنزُالعِرفان: تم جو چاہو کرتے رہو ۔بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

ان آیات میں  ہر بندے کے لئے یہ تنبیہ ہے کہ وہ خفیہ اور اِعلانیہ، ظاہری اور باطنی تمام گناہوں  سے پرہیز کرے کیونکہ کوئی ہمارے گناہوں  کو جانے یا نہ جانے اور کوئی انہیں  دیکھے یا نہ دیکھے لیکن وہ  اللہ تعالیٰ تو دیکھ رہا ہے جو دنیا میں  کسی بھی وقت اس کی گرفت فرما سکتا ہے اور اگر اس نے دنیا میں  کوئی سزا نہ دی تو وہ آخرت میں  جہنم کی دردناک سزا دے سکتا ہے۔ نیز ان آیات میں  نیک اعمال کرنے کی ترغیب بھی ہے کہ لوگ  اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے کوئی نیکی چھپ کر کریں  یا سب کے سامنے ،  اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں  اس کی جزا عطا فرمائے گا۔

بلند آواز سے ذکر کرنے کا مقصد:

            ابو سعید عبد اللہ بن عمر رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے تفسیر ِبیضاوی میں  اس آیت میں  مذکور لفظ’’قول‘‘ سے  اللہ تعالیٰ کا ذکر اور دعا مراد لی ہے اور فرمایا ہے کہ اس آیت میں  اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ ذکر و دعا میں  جَہر  اللہ تعالیٰ کو سنانے کے لئے نہیں  ہے بلکہ ذکر کو نفس میں  راسخ کرنے اور نفس کو غیر کے ساتھ مشغول ہونے سے روکنے اور باز رکھنے کے لئے ہے۔( بیضاوی، طہ، تحت الآیۃ: ۷، ۴ / ۴۱)

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links