DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Taha Ayat 132 Translation Tafseer

رکوعاتہا 8
سورۃ ﰏ
اٰیاتہا 135

Tarteeb e Nuzool:(45) Tarteeb e Tilawat:(20) Mushtamil e Para:(16) Total Aayaat:(135)
Total Ruku:(8) Total Words:(1485) Total Letters:(5317)
132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًاؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكَؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى(۱۳۲)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی نماز پر ڈٹے رہو۔ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے (بلکہ) ہم تجھے روزی دیں گے اور اچھاانجام پرہیزگاری کے لیے ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ:اور اپنے گھر والوں  کو نماز کا حکم دو۔}  ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس طرح ہم نے آپ کو نماز ادا کرنے کا حکم دیا اسی طرح آپ بھی اپنے گھر والوں  کو نماز پڑھنے کا حکم دیں  اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہیں ۔( روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۲، ۵ / ۴۴۸)

            حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تونبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آٹھ ماہ تک حضرت علی کَرَّمَ  اللہ  تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے دروازے پرصبح کی نمازکے وقت تشریف لاتے رہے اور فرماتے: ’’اَلصَّلَاۃُ رَحِمَکُمُ اللّٰہُ،اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا‘‘(ابن عساکر، حرف الطاء فی آباء من اسمہ علی، علی بن ابی طالب۔۔۔ الخ، ۴۲ / ۱۳۶)

نماز اور مسلمانوں  کا حال:

            یاد رہے کہ اس خطاب میں  حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت بھی داخل ہے اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہر امتی کو بھی یہ حکم ہے کہ وہ اپنے گھروالوں  کو نماز ادا کرنے کا حکم دے اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہے ۔

ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ‘‘(التحریم:۶)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو!اپنی جانوں  اور اپنے گھر والوں  کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، اس  پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں  جو  اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں  کرتے اور وہی کرتے ہیں  جو انہیں  حکم دیا جاتا ہے۔

            افسوس! فی زمانہ نماز کے معاملے میں  مسلمانوں  کا حال یہ ہے کہ گھر والے نمازیں  چھوڑدیں  ، انہیں  ا س کی پرواہ نہیں ۔خود کی نمازیں  ضائع ہو جائیں  ،انہیں  اس کی فکر نہیں  اورکوئی شخص نماز چھوڑنے پرانہیں  اُخروی حساب اور عذاب سے ڈرائے ،انہیں  اس کا احساس نہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت عطا فرمائے اورنہ صرف خود نمازیں  ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے بلکہ اپنے گھر والوں  کو بھی نمازی بنانے کی ہمت و توفیق نصیب کرے،اٰمین۔

{لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًا: ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں  مانگتے۔} ارشاد فرمایا کہ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں  مانگتے اور اس بات کا پابند نہیں  کرتے کہ ہماری مخلوق کو روزی دے یا اپنے نفس اور اپنے اہل کی روزی کے ذمہ دار ہو بلکہ ہم تجھے روزی دیں  گے اور انہیں  بھی ، تو روزی کے غم میں  نہ پڑ ،بلکہ اپنے دل کو امر ِآخرت کے لئے فارغ رکھ کہ جو  اللہ تعالیٰ کے کام میں  ہوتا ہے  اللہ تعالیٰ اس کی کارسازی کرتا ہے اور آخرت کا اچھاانجام پرہیزگاری اختیار کرنے والوں  کے لیے ہے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۲، ص۷۰۷-۷۰۸)

 اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑنے کا انجام:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے کسی کو روزی دینا اس کے ذمے نہیں  بلکہ سب کو روزی دینے والی ذات  اللہ تعالیٰ کی ہے ۔

اسی طرح ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :

’’وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ(۵۷)اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ‘‘(الذاریات:۵۶۔۵۸)

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور میں  نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔میں  ان سے کچھ رزق نہیں  مانگتا اور نہ  یہ چاہتا ہوں  کہ وہ مجھے کھلائیں ۔بیشک  اللہ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا، قدرت والا ہے۔

            یاد رہے کہ ان آیتوں  کا مَنشاء یہ نہیں  کہ انسان کمانا چھوڑ دے،کیونکہ کمائی کرنے کا حکم قرآن و حدیث میں  بہت جگہ آیا ہے،بلکہ منشاء یہ ہے کہ بندہ کمائی کی فکر میں  آخرت سے غافل نہ ہو اوردنیاکمانے میں  اتنامگن نہ ہوجائے کہ حلال وحرام کی تمیزنہ کرے اور نماز،روزے ،حج ،زکوٰۃ سے غافل ہوجائے ۔

            افسوس! فی زمانہ مسلمان مال کمانے میں  اس قدر مگن ہو چکے ہیں  کہ صبح شام ،دن رات اسی میں  سرگرداں  ہیں  اور ان کے پاس اتنی فرصت نہیں  کہ  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  سجدہ ریز ہوسکیں  اوراس خالق ومالک کویاد کرسکیں  جوحقیقی روزی دینے والاہے ،اور اتنی محنت و کوشش کے باوجود ان کا جو معاشی حال ہے وہ سب کے سامنے ہے کہ آج ہر کوئی رزق کی کمی، مہنگائی، بیماری اور پوری نہیں  پڑتی کا رونا رو رہا ہے۔ اے کاش! مسلمان رزق حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اس ذمہ داری کو بھی پورا کرتے جو  اللہ تعالیٰ نے ان پر لازم کی ہے تو آج ان کا حال اس سے بہت مختلف ہوتا۔ عبرت کے لئے یہاں  3اَحادیث ملاحظہ فرمائیں :

(1)…حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدار رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جسے آخر ت کی فکر ہو اللہ تعالیٰ اس کا دل غنی کر دیتا ہے اور اس کے بکھرے ہوئے کاموں  کو جمع کر دیتا ہے اور دنیاا س کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے  اور جسے دنیا کی فکر ہو، اللہ تعالیٰ محتاجی اس کی دونوں  آنکھوں  کے سامنے اور اس کے جمع شدہ کاموں  کو مُنْتَشر کر دیتا ہے اور دنیا (کامال ) بھی اسے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لئے مقدر ہے۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۳۰-باب، ۴ / ۲۱۱، الحدیث: ۲۴۷۳)

(2)…حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’جو شخص تمام فکروں  کو چھوڑ کر ایک چیز(یعنی) آخرت کی فکر سے تعلق رکھے گا،  اللہ تعالیٰ اس کے تمام دُنْیَوی کام اپنے ذمے لے لے گااور جو دنیوی فکروں  میں  مبتلا رہے گاتو  اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں  ،خواہ وہ کہیں  بھی مرے۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الہمّ بالدنیا، ۴ / ۴۲۵، الحدیث: ۴۱۰۶)

(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اے انسان! تو میری عبادت کے لئے فارغ ہو جا ،میں  تیرا سینہ غنا سے بھر دوں  گااور تیری محتاجی کا دروازہ بند کر دوں  گااور اگر تو ایسا نہ کرے گا تو تیرے دونوں  ہاتھ مَشاغل سے بھر دوں  گااور تیری محتاجی کا دروازہ بند نہ کروں  گا۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۳۰-باب، ۴ / ۲۱۱، الحدیث: ۲۴۷۴)

روزی کے دروازے کھلنے کا ذریعہ:

            اس آیت سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیک اعمال سے روزی کے دروازے کھلتے ہیں ۔ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:

’’ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ‘‘(سورۂ طلاق:۲،۳)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو  اللہ سے ڈرے  اللہ اس کے لیےنکلنے کا راستہ بنادے گا۔ اور اسے وہاں  سے روزی دے گا جہاں  اس کا گمان (بھی)نہ ہو۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links