DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Taha Ayat 131 Translation Tafseer

رکوعاتہا 8
سورۃ ﰏ
اٰیاتہا 135

Tarteeb e Nuzool:(45) Tarteeb e Tilawat:(20) Mushtamil e Para:(16) Total Aayaat:(135)
Total Ruku:(8) Total Words:(1485) Total Letters:(5317)
131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ-وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى(۱۳۱)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اے سننے والے! ہم نے مخلوق کے مختلف گروہوں کو دنیا کی زندگی کی جوتروتازگی فائدہ اٹھانے کیلئے دی ہے تاکہ ہم انہیں اس بارے میں آزمائیں تو اس کی طرف تو اپنی آنکھیں نہ پھیلا اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والاہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى:اوراس کی طرف تو اپنی آنکھیں  نہ پھیلا۔} اس آیت میں  بظاہر خطاب نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ہے اور اس سے مراد آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے سننے والے! ہم نے کافروں  کے مختلف گروہوں  جیسے یہودیوں ، عیسائیوں  اور مشرکوں  وغیرہ کودنیا کا جو ساز و سامان فائدہ اٹھانے کیلئے دیا ہے وہ اس وجہ سے دیا ہے تاکہ ہم انہیں  اس کے سبب اس طرح آزمائش میں  ڈالیں  کہ ان پر جتنی نعمت زیادہ ہو اتنی ہی ان کی سرکشی اور ان کا طُغیان بڑھے اور وہ سزائے آخرت کے سزاوار ہوں  ،لہٰذا تو تعجب اور اچھائی کے طور پر اس کی طرف اپنی آنکھیں  نہ پھیلا اور آخرت میں  تیرے ربعَزَّوَجَلَّ کا رزق جنت اور ا س کی نعمتیں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا رزق ہے۔( البحر المحیط، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱، ۶ / ۲۶۹، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱،ص۷۰۷، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱، ۳ / ۲۶۹-۲۷۰، ملتقطاً)

کفار کی ترقی ان کے لئے آزمائش ہے:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ کافروں  کے دُنْیَوی سازو سامان،مال و دولت اور عیش و عشرت کافروں  کے لئے  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہیں  اس لئے مومن کو چاہئے کہ وہ کفار کی ان چیزوں  کو تعجب اور اچھائی کی نظر سے نہ دیکھے۔ حضرت حسن بصری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ نافرمانوں  کی شان و شوکت اور رعب داب نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ گناہ اور معصیت کی ذلت کس طرح ان کی گردنوں  سے نمودار ہے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱،ص۷۰۷)

                 اس میں  ان لوگوں  کے لئے بڑی نصیحت ہے جو فی زمانہ کفار کی دنیوی ٹیکنالوجی میں  ترقی، مال و دولت اور عیش عشرت کی فراوانی دیکھ کرتو ان سے انتہائی مرعوب اور دین ِاسلام سے ناراض دکھائی دیتے ہیں  جبکہ انہیں  یہ دکھائی نہیں  دیتا کہ اس ترقی اور دولت مندی کی وجہ سے وہ  اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور ا س کے احکام سے سرکشی کرنے میں  کتنا آگے بڑھ چکے ہیں ، کیا انہوں  نے دیکھا نہیں  کہ اسی ترقی کے سبب آج کونسا گناہ ایسا ہے جو وہ نہیں  کر رہے …؟ فحاشی ، عُریانی ، بے حیائی اور بے شرمی کی کونسی ایسی حد ہے جو وہ پار نہیں  کر چکے…؟ ظلم و ستم ، سفاکی اور بے رحمی کی کونسی ایسی لکیر ہے جسے وہ مٹا نہیں  چکے…؟ مسلمانوں  کو ذلت و رسوائی میں  ڈبونے کے لئے کون سا ایسا دریا ہے جس کے بند وہ توڑ نہیں  چکے…؟ افسوس! ان سب چیزوں  کو اپنی جیتی جاگتی آنکھوں  سے دیکھنے ،سماعت سے بھر پور کانوں  سے سننے کے باوجود بھی لوگ عبرت نہیں  پکڑتے اور کفار کے عیش و عشرت اور ترقی و دولت کی داستانیں  سن سنا کر اور مسلمانوں  کی ذلت و غربت کا رونا رو کر نہ صرف خود اسلام سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں  بلکہ دوسرے مسلمانوں  کو بھی دین ِاسلام سے دور کرنے کی کوششوں  میں  مصروف ہیں ۔  اللہ تعالیٰ انہیں  عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے۔

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links