- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 9
حدیث مبارکہ
سَمِعْتُ رِبْعِیَّ بْنَ حِرَاشٍ یَقُوْلُ:سَمِعْتُ عَلِیًّا یَّقُوْلُ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لاَ تَکْذِبُوْا عَلَیَّ فَاِنَّہٗ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَلِجِ النَّارَ (صحیح البخاری،کتاب العلم،باب اثم من کذب علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، الحدیث:۱۰۶،ج۱،ص۵۶)
سمعت ربعی بن حراش یقول:سمعت علیا یقول: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لا تکذبوا علی فانہ من کذب علی فلیلج النار (صحیح البخاری،کتاب العلم،باب اثم من کذب علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث:۱۰۶،ج۱،ص۵۶)
حدیث ترجمہ
رِبْعِی بن حراش کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اﷲ∞ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر جھوٹ مت باندھو کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے گا وہ ضرور جہنم میں داخل ہوگا۔
شرح حدیث
اس حدیث کے راویوں میں ’’ ربعی بن حراش ‘‘ا ور ’’حضرت علی‘‘رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماخاص طور پر قابل ِذکر ہیں لہٰذ ا حدیث کی شرح پڑھنے سے پہلے ان دونوں مقدس بزرگوں کے احوال کے مطالعہ سے اپنی بَصارَ ت کو پُر نور کرلیجئے۔
رِ ْبعی بن حراش:کوفہ کے رہنے والے بہت ہی جلیل القدر تابعی محدث ہیں ۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداللّٰہبن مسعود وغیرہ صحابہ کرامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمکے شاگردِ رشید ہیں ۔بہت ہی متقی ،عبادت و رِیاـ∞ ضت میں ممتاز ،زندگی بھر میں کوئی جھوٹ آپ کی زبان پر نہیں آیا ۔آپ کی اور آپ کے بھائی ’’ر بیع بن حراش‘‘ کی ایک مشہور کرامت یہ ہے کہ دونوں بھائیوں نے قسم کھالی تھی کہ ہم اس وقت تک نہیں ہنسیں گے جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہوجائے کہ ہم جنتی ہیں ۔چنانچہ تمام عمرمیں یہ دونوں کبھی نہیں ہنسے مگر انتقال کے بعد غسل دینے والوں اور دوسرے حاضرین کا بیان ہے کہ جب تک ان دونوں کو غسل دیا جاتا رہا یہ دونوں برابر لگاتار مسکرا مسکراکر ہنستے رہے ۔ربعی بن حراشرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی وفات ۱۰۱ھ یا ۱۰۴ھ میں ہوئی۔(1) (نووی وتہذیب التہذیب)
حضرت علی:حضرت امیر المؤمنین علی بن ابی طالبرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہجلیل الشان صحابی اورحضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خلیفہ چہارم ہیں ۔بچوں میں سے سب سے پہلے آپ ایمان لائے ۔مدینہ ہجرت کی ۔جنگ ِتَبوک کے سوا تمام غَزَوات میں حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شریک ِجہاد رہے ۔جنگ ِخیبر کے دن آپ ہی کے ہاتھ میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جھنڈا عطا فرمایا اور آپ ہی نے خیبر کو فتح فرمایا ۔
امیر المؤمنین حضرت عثمان غنیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی شہادت کے بعد آپ خلیفہ ہوئے۔ تقریبًا پانچ برس تک خلافت کے فرائض انجام دیتے رہے ۔تریسٹھ سال کی عمر پاکر کوفہ میں ۱۹ رمضان ۴۰ھ کو اِبن ِمُلْجِم خارجی کی زہر آلود تلوار سے آپ کی شہادت ہوئی۔ آپ نے پانچ سو چھیاسی حدیثیں حضور اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کی ہیں ۔ آپ کے فضائل و مناقب بہت زیادہ ہیں ۔مُفَصَّل تَذکرہ ہماری کتاب حقانی تقریریں میں پڑھئے۔
شرحِ حدیث:اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یوں تو خود جھوٹ بولنا یا کسی دوسرے کی طرف جھوٹ کی نسبت کردینا کہ اس نے وہ بات نہیں کہی ہے مگر خواہ مخواہ اس بات کو اس کے سر تھوپ دیناہر جگہ ،ہر حال میں ہر شخص کے لئے حرام و ناجائزاور گناہ کبیرہ ہے لیکن حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرنا یعنی حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جس بات کو نہیں فرمایا اس بات کے بارے میں جھوٹ موٹ کا کہنا کہ حضور نے فرمایا ہے یہ تمام بڑے بڑے کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہِ کبیرہ ہے اور بلا شبہ اس گناہ کا مُرتَکِب قَہْرِ قَہَّار و غضب ِجَبَّار کا سزاوار، جہنمی اور عذابِ نار کا حقدار ہے۔
اس کی و جہ یہ ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف جس بات کی نسبت ہوجائے گی وہ شریعت اور خدا کے دین کا جزو قرار پائے گی۔اس طرح حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جھوٹ باندھنا خدا پر بھی جھوٹی تہمت لگانا ہوجائے گااور ظاہر ہے کہاللّٰہو رسول پر اِفتراء کرنا اور جھوٹی تہمت لگانا کتنا بڑا اور کس قدر خوفناک گناہ ہے اسی لئے ایسے مردود اور خبیث شخص کا ٹھکانہ جہنم کے سوا اور کہاں ہوگا ۔اسی لئے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر کوئی جھوٹ بولے یعنی میری نہ کہی ہوئی بات کو خواہ مخواہ میری طرف مَنْسوب کرے اور کہے کہ اس بات کو حضور نے فرمایا ہے تو وہ جہنم میں جائے گا ۔
فوائد و مسائل:{۱}اس حدیث کو مسلم نے اپنے مقدمۂ کتاب میں ، ترمذی نے کتاب العلم اور مناقب میں اور ابن ما جہ نے نیت میں ذکر کیا ہے ۔{۲}اس حدیث کی بعض روایتوں میںمُتَعَّمِدًاکا لفظ بھی آیا ہے یعنی قصداً اور جان بوجھ کر جو حضور پر جھوٹ بولے گا وہ جہنمی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر بھول چوک میں غلطی سے کسی نے ایسا کیا تو وہ اس وعید کا مستحق نہیں ہوگا۔{۳}حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جھوٹ باندھنے کا گناہ کسی دوسرے آدمی پر جھوٹ باندھنے سے بدَرْجہا بڑھ کربڑا گناہ ہے ۔اسی لئے حضرات صحابہ کرام اس گناہ سے اس قدر ڈرتے تھے کہ جب تک ان کو کسی حدیث کے بارے میں بالکل قطعی اور یقینی علم نہیں ہوجاتا تھا ہرگز ہرگز اس حدیث کو کبھی بھی اپنی زبان پر نہیں لاتے تھے۔ چنانچہ بخاری شریف میں اسی حدیث کے نیچے ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللّٰہبن زبیررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے اپنے والد ماجدحضرت زُبَیْر بن اَلْعَوَّامرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے عرض کیا کہ ابا جان ! میں آپ کواس طرح کثرت سے حدیثیں سناتے ہوئے نہیں دیکھتاجس طرح فلاں فلاں صحابہ حدیثیں سنایاکرتے ہیں تو حضرت زبیر بن العوامرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے فرمایا کہ میں کبھی کسی موقع پر بھی حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے جُداتو نہیں ہوا مگر میں نے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مجھ پر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ (2)
حضرت زُبَیْر بن اَلْعَوَّامرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکا مطلب یہ تھا کہ میں اس وعید کے خوف سے حدیثوں کو بیان کرنے میں بہت احتیاط کرتا ہوں اور صرف ان ہی حدیثوں کو سنا تا ہوں جو مجھے اچھی طرح یاد ہیں اور جن کے بارے میں پورے وُثوق اور یقین کے ساتھ میں جانتا ہوں کہ یہ فرمانِ رسول ہیں ۔باقی دوسرے صحابہ جو مجھ سے زیادہ حدیثیں بیان کرتے ہیں چونکہ وہ مجھ سے زیادہ حدیثوں کو یاد کئے ہوئے ہیں اس لیے وہ مجھ سے زیادہ تعداد میں حدیثیں سنایا کرتے ہیں ۔
اسی طرح مشہور صحابی حضرت اَنس بن مالِکرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے بھی فرمایا کہ مجھ کو زیادہ تعداد میں حدیثیں بیان کرنے سے یہ بات روکتی ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ہے کہ جو مجھ پر جھوٹ بولے وہ جہنم میں اپنا ٹھکانابنالے۔ (3) (بخاری)اسی طرح امیر المؤمنین حضرت عمررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکا تو یہ طریقہ تھا کہ اگر کوئی شخص ان کو کوئی حدیث سناتا اور وہ حدیث ان کے علم میں نہ ہوتی تو آپ اُس شخص سے اُس حدیث پر گواہ طلب فرماتے تھے اور حکم دیتے تھے کہ تم گواہوں سے ثابت کرو کہ یہ رسول کی حدیث ہے۔ (4)
اسی طرح بعض صحابہ حدیث سنانے والوں سے قسم کھانے کا مطالبہ کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ تم قسم کھا کر کہو کہ یہ رسولاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حدیث ہے۔
یہ سب کچھ اسی احتیاط کے لیے تھا کہ کوئی شخص اپنی طرف سے گھڑ کر جھوٹی حدیث نہ سنائے اسی طرح حضرات تابعین اور تبع تابعین بلکہ تمام مُعْتَمَد محدثین کا یہی طریقہ تھا کہ حدیثوں کے بیان کرنے میں بے حد احتیاط سے کام لیتے تھے ۔ایک لفظ کے اَدَل بدل کو بھی گوارا نہیں کرسکتے تھے کیونکہ حدیث گھڑ لینے کا کتنا گناہ اورعذاب ہے ۔ اس خوف سے ہر وقت یہ لوگ لَرزَہ بَراَندام رہتے تھے۔
اس لئے زمانہ حال کے علماء و واعِظِین کو بھی لاز م ہے کہ وہ حدیثوں کے بیان کرنے میں پوری پوری احتیاط سے کا م لیں اور جو اصل مضمونِ حدیث ہے اسی کو وعظوں میں بیان کریں اور ہرگز ہرگز اپنی طرف سے حدیث میں کسی لفظ کی کمی بیشی نہ کریں ۔ ہاں البتہ حدیث پیش کرنے کے بعد اس کی توضیح و تشریح کرنا اور الفاظِ حدیث سے استدلال کرتے ہوئے مسائل و معارف اور نِکات کو بیان کرنا جائز ہے۔ بلکہ یہ نہایت ہی پسندیدہ طرز اور سلفِ صالحین کا مقدس طریقہ ہے۔{۴}جھوٹی اور من گھڑت حدیثوں کو محدثین کی اصطلاح میں ’’حدیثِ موضوع ‘‘ کہا جاتاہے اور جھوٹی حدیث گھڑلینے والے کو ’’واضِع الحدیث ‘‘یا’’وَضَّاع الحدیث‘‘ کہتے ہیں ۔
جھوٹی حدیثیں گھڑنے والوں کو سلطانِ اسلام بطور تعزیر کوڑوں کی مار یا قید یا قتل کی سزا دے گا۔فقط۔واﷲ تعالیٰ اعلم∞ [1] تھذیب التھذیب،حرف الراء، من اسمہ:ربعی،ج۳،ص۶۲،۶۳[2] صحیح البخاری،کتاب العلم،باب اثم من کذب علی النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم، الحدیث:۱۰۷،ج۱،ص۵۷[3] صحیح البخاری،کتاب العلم،باب اثم من کذب علی النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم، الحدیث:۱۰۸،ج۱،ص۵۷[4] کتاب تذکرۃ الحفاظ ، الطبقۃ الاولی ، امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضیاللّٰہعنہ ۔۔۔الخ، الجزء الاول، ج۱، ص۱۱
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 9