- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 32
حدیث مبارکہ
عَنْ زَارِعٍ وَکَانَ فِیْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَیْسِ قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَّوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ یَدَ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَہٗ۔ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب، باب المصافحۃ والمعانقۃ، الحدیث: ۴۶۸۸، ج۲،ص۱۷۱)
عن زارع وکان فی وفد عبد القیس قال: لما قدمنا المدینۃ فجعلنا نتبادر من رواحلنا فنقبل ید رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ورجلہ۔ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الاداب، باب المصافحۃ والمعانقۃ، الحدیث: ۴۶۸۸، ج۲،ص۱۷۱)
حدیث ترجمہ
حضرت زارِع جو قبیلہ عبد الْقَیْس کے نمائندوں میں شامل تھے فرماتے ہیں کہ جب ہم مدینہ میں آئے توہم لوگ جلدی جلدی اپنی سواریوں سے اتر پڑے اور ہم حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دینے لگے۔
شرح حدیث
حضرت زارِع:حضرت زارِع بن عامررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہصحابی ہیں اور قبیلہ عبد الْقَیْس کے جو نمائندے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے تھے یہ اس وفد میں شامل تھے ۔محدثین نے ان کو ’’بصری محدثین‘‘ کی فہرست میں داخل کیا ہے اور ان کی حدیثیں عام طور پر بصری محدثین ہی کے پاس رہیں ۔ (1) (اکمال)
فوائد و مسائل:{۱}اِس حدیث سے ثابت ہوا کہ علماء و مشائخ اور صُلحائِ امت کے ہاتھ پاؤں کو عقیدت و محبت سے چومنا جائز ہے ۔
چنانچہ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے تحریر فرمایا ہے کہ اگر علماء اور بادشاہ کے ہاتھ کو ان کے علم اور دینداری نیز دین کی تعظیم کی نیت سے کوئی چوم لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ہاں اگر کسی دُنیاوی غرض کے لالچ میں ایسا کرے تو یہ سخت مکروہ ہے۔ (2) (اشعۃ اللمعات،ج۴،ص۲۳){۲}علماء کاہاتھ چومنے پر طعنہ زنی کرنے والوں کے لیے اس حدیث اور شیخ محقق کی تصریح میں یقینا ہدایت کا بہت بڑا سامان ہے بشرطیکہ ان کے دلوں پر ِعناد و انکار کی مہر نہ لگ چکی ہو۔
مگر حقیقت تو یہ ہے کہ علماء کرام کے اعزاز و وقار اور ان کے اثر و اقتدار کو حاسدانہ نگاہوں سے دیکھنے والے کبھی بھی اور کہیں بھی اور کسی طرح بھی اپنی زبانوں کو اعتراض کی گندگی سے نہیں بچائیں گے کیونکہ’’ حسد‘‘ ایک ایسی آگ ہے کہ تمام سمندروں کا پانی بھی اس آگ کو نہیں بجھاسکتا اور اس آگ کے بجھنے کی اس کے سوا کوئی صورت ہی نہیں ہے کہ حاسد کی زندگی کا چراغ ہی بجھ جائے ۔حضرت شیخ سعدیعلیہ الرحمۃنے بڑے پتے کی بات لکھ دی ہے کہ؎∞
بمیر تا برہی اے حسود !کیں رنجے است
کہ ازمشقت آں جزبمرگ نتواں رست
یعنی اے حسد کرنے والے !تو مرجا ! کیونکہ تیرا یہ حسد ایک ایسا رنج ہے کہ تو اس کی مشقت سے بغیر مرے ہوئے چھٹکارا نہیں پاسکتا۔
∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال،حرف الزای، فصل فی الصحابۃ، ص۵۹۵[2] اشعۃ اللمعات،کتاب الآداب،باب المصافحۃ والمعانقۃ، ج۴، ص۲۳
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 32