Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 1

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِامْرِیٍٔ مَّا نَویٰ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہٗ اِلَی اللّٰہ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی دُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوِامْرَأَۃٍ یَّتَزَوَّجُھَا فَھِجْرَتُہٗ اِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ۔ (صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم، الحدیث:۱، ج۱، ص۵, وصحیح مسلم،کتاب الامارۃ،باب قولہصلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم:انما الاعمال۔۔۔الخ، الحدیث:۱۹۰۷، ص۱۰۵۶)

عن عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ قال: قال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انما الاعمال بالنیات وانما لامری ما نوی فمن کانت ہجرتہ الی اللہ ورسولہ فھجرتہ الی اللہ ورسولہ ومن کانت ہجرتہ الی دنیا یصیبھا اوامراۃ یتزوجھا فھجرتہ الی ما ھاجر الیہ۔ (صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، الحدیث:۱، ج۱، ص۵, وصحیح مسلم،کتاب الامارۃ،باب قولہصلی اللہ تعالی علیہ وسلم:انما الاعمال۔۔۔الخ، الحدیث:۱۹۰۷، ص۱۰۵۶)

حدیث ترجمہ

حضرت عمر بن خطابرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تمام اعمال کا ثواب نیتوں سے ہے اور ہر آدمی کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی ۔ جس شخص کی ہجرتاللّٰہاور اس کے رسول کی طرف ہوتو اس کی ہجرتاللّٰہاور اس کے رسول کے لئے ہے اور جس شخص کی ہجر ت دنیا حاصل کرنے کے لئے یا کسی عورت سے نکاح کے واسطے ہوتو اس کی ہجرت اسی کے لئے ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے ۔

شرح حدیث

حضرت عمررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ:اس حدیث کو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرنے والے حضرت امیر المؤمنین عمر بن خطابرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہہیں آپ کی کُنِیت ابوحَفْص اورلقب ’’فاروق‘‘ ہے۔ آپ قدیم ُالاسلام ہیں ۔ آپ چالیس مردو ں اور گیارہ عورتوں یا انتالیس مردوں اور تیرہ عورتوں یا پینتالیس مردوں اور گیارہ عورتوں کے مسلمان ہونے کے بعد اسلام لائے ۔حضرت جِبْرائیلعَلَیْہِ السَّلَامنے بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوکر یہ خوش خبری سنائی کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآسمان والے حضرت عمررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے اسلام لانے پر خوشی منارہے ہیں ۔ خلیفہ اوّل امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیقرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے آپ کو اپنا ولی عہدمُنْتخَب فرمایا ۔ چنانچہ آپ کی وفات کے بعد ۲۲ جمادی الاخریٰ ۱۳ھ؁ کو آپ امیر المؤمنین منتخب ہوئے اور دس برس چندماہ مسندِ خلافت پر رونق افروز رہے اور فارس و روم کی سلطنتوں سے جہاد فرماکر ان ممالک کو خلافتِ اسلامیہ کے زِیرِنگین فرمایا ۔ پھر اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی اور ترقی کے بے شمار سامان مہیا فرما کر ۲۸ ذوالحجہ ۲۳ ھ ؁ بروز پنج شَنْبہ بمقام مدینہ منورہ تریسٹھ برس کی عمرمیں شہادت سے سرفراز ہوئے اور روضہ منورہ میں مدفون ہوئے ۔ پانچ سوانتالیس حدیثیں آپرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے مروی ہیں آپ کے فضائل ومَناقِب بہت زیادہ ہیں جن کا مُفصَّل بیان ہماری کتاب ’’حقانی تقریریں ‘‘ میں پڑھیئے۔
اس حدیث کی خُصوصیات: اس حدیث کی چند خصوصیات قابل ذکر ہیں :
{۱}یہ بخاری شریف کی سب سے پہلی حدیث ہے اور امام بخاریرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس حدیث کو متعدد سندوں اور مختلف لفظوں کے ساتھ اپنی اس کتاب میں دوسرے چھ مقامات پر بھی ذکر فرمایا ہے اور وہ چھ مقامات یہ ہیں :{۱}کتابُ الایمان{۲}کتابُ العِتق {۳} بابُ الہجرۃ {۴}کتابُ النِکاح {۵}کتابُ الاِیمان {۶} کتابُ الحِیَل{۲}امام مسلم ، امام ترمذی، امام نسائی، امام ابن ما جہ ،امام احمد ، امام دارقطنی ، امام ابن حبان ، امام بیہقی جیسے مُسلّم الثُّبوت اور بلند پایہ مُحدِّثین نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں اس حدیث کو پوری شان و شوکت کے ساتھ نقل فرمایا ہے ۔{۳}محدثین نے اس حدیث کو ان بنیادی حدیثوں میں سے شمار کیا ہے جن پر دین ِاسلام کا دارومدار ہے ۔ چنانچہ اس حدیث کے بارے میں ابو داود محدث کا قول ہے کہ لاکھوں احادیث کے خزانوں میں سے دین پرعمل کرنے کے لئے صرف چار حدیثیں کافی ہیں اور ان چار میں سے ایکاِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِہے ۔
حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِمانے فرمایا کہ اس حدیث میں علم ِدین کا ایک تہائی حصہ ہے۔ (1)کیونکہ دین کے اعمال تین ہی قسم کے ہیں : قَلْب کے اعمال، زبان کے اعمال ،باقی اعضاء کے اعمال اوراس حدیث میں اعمالِ قلب یعنی ’’نیت‘‘ کا ذکر ہے ۔(قسطلانی،ج۱، ص۱۶۴)
مَخْدوم شیخ احمد کمشخانوی
قدس سرہٗنے جامع الاصول کے مُتِمَّات میں ذکر فرمایا ہے کہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے اپنے فرزند جناب ’’حماد‘‘ کو نصیحت فرماتے ہوئے یہ تحریر فرمایا کہ اے نورِ نظر ! میں نے پانچ لاکھ حدیثوں میں سے چن کر ایسی پانچ حدیثوں کو منتخب کیا ہے کہ اگر تم نے ان کو یادکرکے ان پر پورے اعتماد کے ساتھ عمل کیا تو تم دونوں جہان کی سعادتوں سے سرفراز ہوجاؤگے اور وہ پانچ حدیثیں یہ ہیں :
اول: حدیث
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِیعنی تمام اعمال کے ثواب کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
دوم: آدمی کے اسلام کی خوبی میں سے یہ ہے کہ وہ تمام
لایعنیاور بیکار چیزوں کو چھوڑ دے۔
سِوُم: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومنِ کامل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی (مومن) کے لئے اسی چیز کو پسند نہ کرے جس کو وہ اپنے لئے پسند کرتاہے ۔
چہارم: حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مُشْتَبہ چیزیں بھی ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے تو جو شخص ان مُشْتَبہ چیزوں سے بھی پرہیز کرتا رہا اس نے اپنے دین اور اپنی آبروکو بچا لیا اور جو شخص ان مُشْتَبہ چیزوں میں پڑ گیا وہ کبھی نہ کبھی حرام میں بھی واقع ہوجائے گا جیسے وہ چرواہا جو حِمیٰ (محفوظ شاہی چراگاہ) کے ارد گرد جانور کو چراتا ہے تو ہوسکتاہے کہ اس کا جانور کبھی نہ کبھی حِمیٰ میں بھی داخل ہوجائے۔ خبر دار ! ہر بادشاہ کے لئے حمیٰ ہوتی ہے اور بے شک
اللّٰہ تعالیٰکی حمیٰ اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں سن لو اور یقین رکھو کہ بدن میں گوشت کا ایساٹکڑا ہے کہ جب وہ درست ہوجائے گاتو پورا بدن درست ہوجائے گا اور جب وہ فاسد ہوجائے گا تو پورا بدن فاسد ہوجائے گا ۔ آگاہ ہوجاؤ کہ وہ ’’دل‘‘ ہے۔
پنجم:کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام مسلمان سلامت رہیں ۔ (2) (بشیر القاری، ص۶۵)
{۴}بعض محدثین نے اس حدیث کو ’’حدیث ِمتواتر ‘‘ کہا ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے حق یہ ہے کہ یہ حدیث سند کے آخری حصہ کے اعتبار سے ’’حدیث ِ مشہور‘‘ ہے اور سند کے ابتدائی حصہ کے اعتبار سے ’’غریب ‘‘ ہے ۔ (3) (قسطلانی،ج۱،ص۱۶۴)واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔{۵}اس حدیث کو حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے منبر پر اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایاچنانچہ اس کے راوی امیر المؤمنین حضرت عمررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے بھی مِنْبر پر دورانِ خطبہ میں اس حدیث کو بیان فرمایا ۔{۶}عام طور پر محدثین کرام اس حدیث کو اپنی اپنی کتابوں کے شروع میں لکھتے ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے نفس کو اس بات پر مُتَنَبِّہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے عملِ تَصْنِیف و تالِیف میں اپنی نیتوں کو درست کرلیں ، کیوں !اس لئے کہ؎∞
ہو اگر نیت بری اچھے عمل بیکار ہیں جاگتا ہے چور بھی مثل نگہباں رات بھر
توضیح الفاظ:حدیث مذکور میں تین الفاظ قابلِ وضاحت ہیں لہٰذا ان کی تشریح حسبِ ذیل ہے :
نیت: دل کے قصد وارادہ کو نیت کہتے ہیں اور اس حدیث میں نیت سے مراد خداوند تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کے دربار میں تقرب حاصل کرنے کا قصد وارادہ ہے۔
ہجرت : لغت میں ’’ہجرت‘‘ کے معنی ہیں ’’کسی چیز کو چھوڑ دینا۔‘‘چنانچہ بعض حدیثوں میں ہجرت کا لفظ ’’چھوڑ دینے ‘‘ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ
اَلْمُھَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ مَا نَھَی اللّٰہ عَنْہٗ(4) یعنی کامل درجے کا ’’مہاجر ‘‘ وہ ہے جواللّٰہ تعالیٰکی منع کی ہوئی تمام چیزوں کو چھوڑ دے لیکن شریعت کی اصطلاح میں ’’ہجرت‘‘ یہ ہے کہ مسلمان خداوند تعالیٰ کی خوشنودی کے پیش نظر اپنے دین و ایمان کی سلامتی کے لئے شہر یا ملک کو چھوڑ کر کسی دوسرے شہر یا ملک میں چلا جائے جہاں اس کا دین وایمان محفوظ رہ سکے ۔
ہجرت کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ دارُالکُفْر سے دارُا لاسلام ہی کی طرف ہجرت ہو کیونکہ زمانۂ نبوت میں دو قسم کی ہجرت ہوئی، ایک دارُ الخوف سے دارُالامان کی طرف جیسے کہ بعض صحابۂ کرام
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمنے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی اس وقت میں مکہ اور حبشہ دونوں ہی دارُالکُفْر تھے مگر مکہ میں مسلمانوں کو جان وایمان کا خوف وخطر تھا اور حبشہ میں ان کے لئے جان وایمان کے بارے میں امن وامان تھا ۔ دوسری ہجرت دارُالکُفْرسے دارُالاسلام کی طرف جیسے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مدینہ طیبہ میں ساکن ومتمکن ہوجانے کے بعد مکہ کے مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اس وقت مکہدارُالکُفْر تھا اور مدینہ دارُالاسلام بن چکا تھا۔
بہرکیف مختلف شارحینِ حدیث کی تقریروں سے یہی ظاہر ہوتاہے کہ دارالکفر سے دارالاسلام ہی کی طرف جانے میں ہجرت منحصر نہیں ہے بلکہ ایک اسلامی ملک میں بھی اگر حُکّام و عمّالِ حکومت کے عقائد ونظریات اس قدر بگڑ جائیں کہ ایک صحیح ُالْعَقِیْدہ مسلمان کی اسلامی زندگی وہاں تنگ ہوجائے اور دین پر قائم رہنا مشکل ہوجائے تو اپنے دین و ایمان کی حفاظت اور سلامتی کے لئے وہاں سے کسی بھی ایسے ملک میں چلا جانا جہاں اسلامی زندگی بسر کرنے میں کوئی مُزاحَمَت نہ ہو یہ بھی شرعی ہجرت ہی ہوگی ۔ اسی طرح اگر کسی دارالکفر میں مسلمان کو اپنے دین و ایمان پر قائم رہنا مشکل نظر آتا ہو اوراس کے قریب ہی میں کوئی ایسا دارالکفر ہو جواتنا ظالم و جابرنہ ہو بلکہ وہ کسی مسلمان کے اسلامی زندگی بسر کرنے میں کوئی مُزاحَمَت ہی نہ کرتا ہو تواس صورت میں اس دارُالکُفْر سے دوسرے دارُالکُفْر میں چلے جانا یہ بھی شرعی ہجرت ہی کہلائے گی اور ان سب صورتوں میں بشرطِ اخلاصِ نیت
اِنْ شاء اللّٰہ تعالیٰہجرت ہی کاثواب ملے گا ۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
دنیا:یہ اسم تفضیل ’’ادنیٰ‘‘ کا مؤنث ہے جس کے معنی ہیں ’’زیادہ قریب ہونے والی‘‘ اہل لغت کا قول ہے کہ اس عالَم کو ’’دنیا‘‘ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ زوال کے قریب ہے یا یوں سمجھ لیجئے کہ چونکہ یہ بہ نسبت آخرت کے ہم لوگوں سے زیادہ قریب ہے اس لئے اس کو ’’دنیا ‘‘ یعنی ’’زیادہ قریب ہونے والی‘‘کہنے لگے۔
علمائے متکلمین ہر اُس مخلوق کو ’’دنیا‘‘ کہتے ہیں جوآخرت سے پہلے وجود میں آئی اور صوفیائے کرام کے نزدیک ہر وہ چیز دنیا ہے جو انسان کو خدا سے غافل کردے۔ چنانچہ مولانا جلال الدین رومی
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ’’صوفِیَہ‘‘ کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی مَثْنَوِی شریف میں فرماتے ہیں؎∞
چیست دنیا از خدا غافل بدن نے قماش ونقرۂ و فرزند و زن
یعنی خدا سے غافل ہوجانے کا نام ’’دنیا‘‘ہے لباس ، چاندی اور بیوی بچے اگر انسان کو خدا سے غافل نہ کریں تو یہ چیزیں دنیا میں شمار نہیں کی جائیں گی۔
واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
ارشادِ حدیث کا باعث: اس حدیث کے ارشاد کا سبب کیا ہے اور کب کس موقع پر اور کیوں حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ حدیث صحابۂ کرامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمکو سنائی اس کا واقعہ بہت ہی عجیب اور نہایت ہی عبرت انگیز ہے ۔
حضرت عبد
اللّٰہبن مسعودرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہفرماتے ہیں کہ ایک مسلمان عورت جس کا نام ’’قیلہ‘‘ تھا مگر عام طور پر لوگ اس کو ’’اُمِّ قیس‘‘ کہہ کر پکارتے تھے ۔ اس عورت کو ایک شخص نے نکاح کا پیغام دیا، اُم قیس نے اس کو یہ جواب دیا کہ جب تک تو مکہ سے مدینہ ہجرت نہیں کرے گا میں تجھ سے نکاح نہیں کروں گی ۔آخر اس شخص نے نکاح کرنے کے لئے ہجرت کی، صحابۂ کرامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُممیں یہ بات مشہور ہوگئی چنانچہ صحابۂ کرام اس شخص کو ’’مہاجر ام قیس‘‘ کہنے لگے اور یہ شخص اس لقب سے اس قدر مشہور ہوگیا کہ اس کا اصلی نام کسی کو یاد نہیں رہا، چنانچہ اس شخص کا اصلی نام کیا تھا کسی کتاب میں مجھے نہیں ملا۔(5)
(قسطلانی،ج ۱، ص ۱۶۳)
جب اس واقعہ کی خبر رحمت ِ عالم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ہوئی تو آپ نے اس شخص کو تَنْبِیْہ و ہدایت کیلئے دورانِ خطبہ منبر پر یہ ارشاد فرمایا کہ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ‘‘ یعنی اعمال کا ثواب تو نیتوں پر موقوف ہے لہٰذا جو شخص جس نیت سے ہجرت کرتاہے وہی اس کو ملے گا۔
شرح ِحدیث: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اعمال دو قسم کے ہیں برے اعمال اور اچھے اعمال، برا عمل تو خواہ بری نیت سے کیا جائے خواہ اچھی نیت سے اس پر ثواب ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے اس لئے کہ برا عمل تو بہر صورت براہی ہے اور باعث عذاب ہے۔ رہ گیا اچھا عمل تو اس کے بارے میں ارشادِ نبوی ہے کہ تمام اچھے اعمال خواہ دل کے اعمال ہوں یا دوسرے اعضاء کے، اَوامر پر عمل ہو یا نواہی سے بچنا ہو، عبادت کے اعمال ہوں یا عادات کے، ان سب اعمال پر ثواب اسی وقت ملے گا جب ان اعمال کو
تَقَرُّب الیٰاللّٰہاور رضائے الٰہی طلب کرنے کی نیت سے کیا جائے اور اگر معاذا للہ کوئی عمل خواہ وہ کتنا ہی اچھا سے اچھا عمل کیوں نہ ہو خدا کی خوشنودی کی نیت سے نہ کیا جائے بلکہ ریا کاری یا شُہْرت یا لذتِ نفس یا اور کسی غرضِ فاسد کی نیت سے کیا جائے تو اگرچہ وہ عمل فرض و واجب یا سنت و مستحب ہی کیوں نہ ہو مگر ہرگز ہرگز اس پر کوئی اجر و ثواب نہیں ملے گا بلکہ الٹا نقصان ایمان اور عذابِ جان کا باعث اور دونوں جہاں میں خسران وحِرمان کا سامان بن جائے گا ۔ مثلاً کون نہیں جانتا کہ ’’نماز‘‘ ایک ایسا بہترین اور اچھا عمل خیرہے کہ اَہَمُّ الفرائض اور افضل العبادات ہے۔ اگر خدا کی رِضاوخوشنودی اور اس کے قربِ رحمت کو طلب کرنے اور ادائے فرض خداوندی کی نیت سے نماز پڑھی جائے توسبحان اللّٰہ! اس کے اجرو ثواب کا کیاکہنا نورہی نور بلکہ نور علی نورہے ۔لیکن یہی نماز اگر کوئی اس نیت سے پڑھے کہ لوگ مجھے نمازی سمجھ کر میری خوب خوب عزت اور آئو بھگت کریں گے اور میری بزرگی کا خوب خوب شہرہ ہوگا تو ظاہر ہے کہ یہ نماز جو افضل العبادات ہے اس بری نیت سے بد ترین معصیت اور گناہ کا باعث بن گئی اور ایسے نمازی کو لعنتوں کی پھٹکار اور عذابِ نار کے سوا قَہَّار و جَبَّار کے دربارسے اور کیا ملے گا
غرض ایک ہی اچھا عمل اچھی نیت سے لائق ثواب اور بری نیت سے باعثِ عذاب بن جاتاہے ۔اسی لئے حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا کہ تمام اعمال کے ثواب کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو اس کی نیت ہی پر ثواب ملتاہے ۔
پھر حضور انور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس قاعدہ کلیہ کو بیان فرمانے کے بعد اس کی ایک خاص مثال کے طور پریہ ارشاد فرمایا کہ’’جواللّٰہاور رسول کی رِضا جوئی کی نیت سے ہجرت کرتاہے تواس کی ہجرتاللّٰہورسول کے دربار میں مقبول ہوتی ہے۔ ‘‘ اور خداوند ِقُدُّوس اس کو اپنے فضل ِلاجواب سے بے حساب اجروثواب عطافرماتاہے اور جو شخص کسی دنیاوی مَنْفَعَت اٹھانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی نیت سے ہجرت کرتا ہے تو اس کی ہجرت کا حاصل اور ترک وطن کا ماحَصَل وہی دنیاوی مَنْفَعَت اور وہی عورت ہے۔ باقی اجروثواب جس دولت کانام ہے اس کے ایک ذرہ کا کروڑواں حصہ بھی اس کو نہیں ملے گا بلکہ یہ سراسر خسارہ اور محرومی کی نحوست میں گرفتار ہوکر خائب و خاسر اور محروم ونامراد ہوکر رہ جائے گا۔
بہرحال اس حدیث کا خلاصہ کلام اور حاصلِ مطلب یہی ہے کہ جو عملِ خیر نیک نیتی کے ساتھ کیا جائے گا اگرچہ وہ کتناہی چھوٹا عمل ہو اس پر ضرور اجروثواب ملے گا اور جو عملِ خیر بدنیتی کے ساتھ کیا جائے گا اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا عمل کیوں نہ ہو مگر ہرگز ہرگز اس پر کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
حکایت:اس سلسلے میں ایک بزرگ کی حکایت بڑی سبق آموز اور عبرت خیز ہے۔ مشہور ہے کہ ایک بزرگ کے دو مرید تھے ایک مرید نے مسجد کے دروازے پرایک کھونٹا گاڑ دیا اور دوسرے مرید نے اس کھونٹے کو اکھاڑ کر پھینک دیا جب ان بزرگ کو لوگوں نے ان دونوں مریدوں کی حرکتوں سے آگاہ کیا تو وہ صاحب ِ کشف بزرگ تھے انہوں نے مُراقَبَہ کیا اور اپنے دونوں مریدوں کی قلبی نیتوں کو دیکھ کر فرمایا کہ
سبحان اللّٰہ! دونوں کو ثواب ملا۔ حاضرین نے حیرت سے کہا کہ حضرت! ایک نے کھونٹا گاڑا اور دوسرے نے اکھاڑا اور دونوں کو برابر ثواب ملا یہ کیسے! بزرگ نے زور دے کر فرمایاکہ ہاں ! ہاں ! دونوں کو ثواب ملا اور دونوں کو بالکل برابرثواب ملا ۔ جب لوگوں کو بہت زیادہ حیرانی ہوئی توآپ نے دونوں مریدوں کو بلا کر لوگوں کے سامنے پوچھا کہ کیوں جی! تم نے مسجد کے دروازے پر کھونٹاکیوں گاڑا تھا اس نے کہا کہ حضور ! میری نیت تو یہ تھی کہ مسجد لب ِسڑک تھی، اونٹ والے ، گھوڑے والے ، بیل والے نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں آتے ہیں تو ان لوگوں کا دھیان اپنے جانوروں میں لگا رہتا ہے کہ نہ معلوم جانور کھڑے ہیں یا بھاگ گئے ہیں اور وہ خوب دل لگا کر نماز نہیں پڑھ سکتے تھے اس لئے میں نے وہاں ایک کھونٹا گاڑدیا تھا تاکہ لوگ اس میں اپنے جانوروں کو باندھ کر حضورِ قلب اور اطمینان کے ساتھ نماز پڑھیں گے ۔بزرگ نے حاضرین سے فرمایا کہ اب بولو! تم لوگ کیا کہتے ہو ؟بتاؤ اس شخص کو ثواب ملنا چاہیے یا نہیں تو سب لوگوں نے ایک زبان ہوکر کہا کہ بے شک ضرور اس کو ثواب ملنا چاہیے۔ پھر بزرگ نے دوسرے مرید سے دریافت کیا کہ کیوں جی ! تم نے کھونٹے کو اکھاڑا کیوں ؟ اس نے عرض کیاکہ حضور اس مسجد کے کئی نمازی نابینا ہیں اور اندھیری راتوں میں بھی لوگ نماز پڑھنے آتے ہیں تو میں نے اس نیت سے کھونٹے کو اکھاڑدیا کہ کسی نمازی کو ٹھوکر نہ لگ جائے ۔ بزرگ نے حاضرین سے دریافت فرمایا کہ کہیئے اب آپ لوگ کیا کہتے ہیں اس نے ثواب کا کام کیا ہے یا نہیں ،تو سب نے کہاکہ یقینا اس نے ثواب کا کام کیا ہے لہٰذا اس کو ضرور ثواب ملنا چاہیے۔
غور فرمائیے کہ دونوں مریدوں کا عمل ایک دوسرے کے بالکل خلاف ہے مگر چونکہ دونوں کی نیتیں اچھی تھیں اس لئے دونوں کو برابر ثواب ملا۔
حکایت:اسی طرح حضرت مولانا روم
علیہ الرحمۃنے بھی مثنوی شریف میں ایک بہت ہی مؤثر حکایت اس عنوان پر تحریر فرمائی ہے ! وہ لکھتے ہیں کہ؎∞
خانۂ نوساخت روزے نو مرید پیر آمد، خانۂ او را بدید!!
یعنی ایک مرید نے جو بالکل نیا نیا مرید ہواتھا، اس نے ایک نیا مکان بنایا اور اپنے پیر کو اس کے افتتاح کے لئے بلایا ۔ چنانچہ پیر صاحب تشریف لائے اور پورے مکان کا معائنہ فرماکر مرید سے دریافت کیا کہ
؎∞
روزن از بہر چہ کردی اے رفیق گفت تا نور اندر آید از طریق
یعنی پیر نے مرید سے پوچھا کہ تم نے مکان میں روشندان کس نیت سے بنایا ہے ؟مرید نے جواب دیا کہ میری نیت تو یہی تھی کہ روشندان کے ذریعے میرے گھر میں روشنی آئے گی ۔ مرید کی زبان سے یہ سن کر پیر صاحب کو بڑا رنج وملال ہوا اور تڑپ کر فرمایاکہ
گفت آں فرع است ایں باید نیاز تا ازیں رہ بشنوی بانگ نماز
نور خود اندر تبع می آیدت نیت آں کن کہ آں می بایدت
یعنی پیر کامل نے فرمایاکہ اگر تونے روشندان بناتے وقت یہ نیت کرلی ہوتی کہ اس کے ذریعے اذان کی آواز تیرے گھر میں آئے گی تور وشنی بھی آجاتی اور تجھ کو تیری اس نیک نیتی پر ثواب بھی ملتا۔ آئندہ سے یاد رکھ کہ نیت ایسی کیا کر جو تجھ جیسے مؤمن کے شایانِ شان ہے یعنی ہر چھوٹے بڑے عمل ِخیر کو اچھی نیت سے کر کیونکہ تمام اعمال کے ثواب کا دارومدار اچھی نیتوں پر ہے۔(6)
ایک عمل چند نیتیں : جب اس حدیث سے ثابت ہوگیاکہ عمل کے ثواب کا دارومدار نیت پر ہے تو اس سے صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر ایک عمل پر ایک ہی اچھی نیت ہوگی تو ایک ہی ثواب ملے گا اور اگر ایک عمل کرتے وقت چند اچھی اچھی نیتیں کرلی جائیں تو جتنی تعداد میں نیتیں ہوں گی اتنی ہی تعداد میں ثواب ملے گا ۔ مثلاً تمہارا کوئی بھائی مفلس و محتاج ہے اب اگر اس نیت سے تم نے اس کی مالی امداد کی کہ تم اپنے بھائی کی مدد کررہے ہو توتمہیں اپنے رشتہ دار کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا ایک ثواب ملے گا اور اگر تم نے اس نیت سے اس کی مالی امداد کی ہے کہ وہ ایک مفلس اورغریب آدمی ہے تو تم کو صرف ایک مفلس کی مدد کرنے کا ثواب ملے گا اور اگر تم نے اس کی امداد کےوقت دو نیت کرلی کہ تم اپنے ایک رشتہ دار کی بھی مدد کررہے ہو اور امّتِ رسول کے ایک محتاج کی مالی امداد بھی کررہے ہو تو چونکہ تمہاری اچھی اچھی نیتیں دو ہیں اس لئے تم کو دو ثواب ملے گا ایک ثواب اپنے رشتہ دار کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا اور ایک امّتِ رسول کے ایک مفلس کی امداد کرنے کا ۔
اسی طرح مسجد میں داخل ہونا ایک عمل ہے لیکن اگر کوئی شخص دخول مسجد کے وقت صرف ادائے نماز کی ایک ہی نیت کرے تو اس کو ایک ہی ثواب ملے گا اور اگر اس نے دُخولِ مسجد کے وقت ادائے نماز کے ساتھ یہ نیت بھی کرلی کہ میں مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعائیں بھی پڑھوں گا مسجد میں چند منٹ کا اعتکاف کروں گا، جماعت کا انتظارکروں گا، جتنی دیرمسجدمیں بیٹھارہوں گا دنیاوی خرافات سے بچا رہوں گا، مسجد کے نمازیوں میں سے جو صالحین ہیں ان سے ملاقات کروں گا، ان لوگوں کو سلام کروں گا، مسجد میں بیٹھ کر تلاوت کروں گا یا وظیفہ پڑھوں گا یا نمازیوں کو کوئی مسئلہ بتائوں گا یا ان سے کوئی مسئلہ سیکھوں گا۔دیکھ لیجئے مسجد میں داخل ہونا ایک ہی عمل ہے مگر چونکہ یہ عمل چند نیتوں سے کیا گیا ہے اس لئے جتنی تعداد میں اچھی اچھی نیتیں ہوں گی اتنی ہی تعداد میں اس ایک عمل کا ثواب ملے گا۔ غرض ایک عمل پر اگر کوئی شخص پچاس نیتیں یا پانچ سو نیتیں یا پچاس ہزار نیتیں کرلے تو صرف ایک عمل پر خداوند کریم اپنے کرم بے حساب سے پچاس ہزار ثواب مرحمت فرمائے گا ۔ اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے ، اس کی رحمت کا اعلان ہے کہ
وَاللّٰہ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِo (7) یعنیاللّٰہ تعالیٰکا فضل بہت ہی بڑا ہے۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
بری نیت کا انجام: بہرحال اس حدیث کا حاصل یہی ہے کہ ایک ہی عمل اچھی نیت سے باعث ِ ثواب اور بری نیت سے لائقِ عذاب ہوجایا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نیت کی خرابی کی وجہ سے بہتر سے بہتر کام اور افضل سے افضل اعمالِ صالحہ کرنے والے قیامت کے دن منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے چنانچہ مسلم شریف کی ایک حدیث ہے جس کے تصور سے بدن کا ایک ایک رونگٹا کانپنے لگتا ہے ۔
رسول
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا فیصلہ کیا جائے گا ان میں سے ایک شہید ہوگا، یہ لایا جائے گا اوراللّٰہ تعالیٰاس سے فرمائے گا کہ یہ یہ نعمتیں میں نے تجھے دی تھیں ؟ شہید اقرار کرے گا کہ بے شک تونے دی تھیں ۔ پھراللّٰہ تعالیٰفرمائے گا کہ تونے میری ان نعمتوں کے شکریہ میں کون کون سے اعمال کیے ہیں ؟ وہ کہے گا کہ میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ میں شہید کردیا گیا ۔اللّٰہ تعالیٰفرمائے گا تو جھوٹا ہے تونے میری رضا کے لئے جہاد نہیں کیا بلکہ تو اس نیت سے لڑا تھا کہ لوگ تجھ کو بہادرکہیں گے تو لوگوں نے (دنیا میں ) بہادر کہہ دیا (اورتجھے تیری نیت کا پھل مل گیا ) پھراللّٰہ تعالیٰاس کے بارے میں اپنا حکم صادِر فرمائے گا اور اس کو منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔
دوسرا شخص ایک عالم ہوگا جس نے علم سیکھا اور سکھایا اور قرآن پڑھا ہوگا، یہ لایا جائے گا اور
اللّٰہ تعالیٰفرمائے گا کہ فُلاں فُلاں نعمتیں میں نے تجھ کو دی تھیں ؟ وہ کہے گا کہ بے شک تونے عطا فرمائی تھیں ۔ پھراللّٰہ تعالیٰفرمائے گا کہ تونے میری ان نعمتوں کی شکرگزاری میں کیا کیا؟ وہ کہے گا کہ میں نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لئے قرآن پڑھا ۔اللّٰہ تعالیٰفرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے تونے تو علم اس لئے پڑھا پڑھایا تھا کہ لوگ تجھ کو عالم کہیں گے اورقرآن اس لئے پڑھا تھا کہ لوگ تجھ کو قاری کہیں گے، تو لوگوں نے تجھ کو (دنیا میں )عالم، قاری کہہ دیا (اور دنیا میں تیرا اجر تجھ کو مل گیا)پھراللّٰہ تعالیٰکے حکم سے اس کو بھی منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے آگ میں جھونک دیا جائے گا۔
تیسرا شخص وہ ہوگا جس کو
اللّٰہ تعالیٰنے بہت وسیع روزی دی اورہر قسم کا مال و مَتاع عطا کیا، یہ لایا جائے گااللّٰہ تعالیٰاس سے فرمائے گا کہ میں نے یہ یہ نعمتیں تجھ کو دیں تھیں ؟ وہ ان نعمتوں کے ملنے کا اقرار کرے گا ۔ پھراللّٰہ تعالیٰاس سے فرمائے گا کہ تونے میری ان نعمتوں کا کون کو ن سے اعمال کرکے شکر یہ ادا کیا ؟ وہ کہے گا کہ میں نے تیرے لئے ہر اُ س راہ میں مال خرچ کیا جس کو تو پسند فرماتا ہے ۔اللّٰہ تعالیٰفرمائے گا کہ تو جھوٹ بول رہا ہے تونے میری رِضا کے لئے مال نہیں خرچ کیا بلکہ تونے اس لئے مال خرچ کیا تھا کہ لوگ تجھے سخی کہیں گے تو لوگوں نے تجھ کوسخی کہہ دیا (اور دنیا ہی میں تیری نیت کا ثواب تجھ کو مل گیا) پھر وہ بھی خدا کے حکم سے منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے آگ میں داخل کردیا جائے گا۔(8) (مشکوٰۃ ،کتاب العلم و مسلم ،ج۲،ص۱۴۰)
اچھی نیت کا ثمرہ: اب ایک حدیث اورمُلاحَظَہ فرمالیجئے اور اس حدیث کی روشنی میں دیکھئے کہ اچھی نیت سے عمل کرنے والے کے اعمال کے ثمرات وبرکات کیا ہیں اور
اللّٰہ تعالیٰان کو کیسے کیسے درجات عطافرماتاہے مشکوٰۃ شریف کی حدیث ہے کہ
ایک شخص نے عہد کیا کہ میں چھپ کر صدقہ کروں گا۔ چنانچہ یہ شخص رات کو صدقہ کا مال لے کر نکلا اور ایک چور کو مسکین سمجھ کر صدقہ کی رقم اس کے ہاتھ میں رکھ دی۔ صبح کواس کا چرچا ہوگیااور لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ کسی نے رات میں ایک چور کوصدقہ دے دیا ۔ جب اس شخص کو خبر ہوئی تو اس نے کہا کہ یا
اللّٰہ!تیرے ہی لئے حمد ہے (افسوس!) میرا صدقہ ایک چور کے ہاتھ میں چلا گیا ۔پھر دوسری رات کو صدقہ لے کر چلا تو ایک زناکار عورت کو محتاج سمجھ کر اس کے ہاتھ میں صدقہ کا مال رکھ دیا صبح کو پھر لوگوں میں اس کا چرچا ہونے لگا کہ رات میں کسی نے ایک زنا کار عورت کو صدقہ دے دیا ۔ جب اس شخص کو پتہ چلا تو پھر اس نے یہی کہا کہاللّٰہ تعالیٰ! تیرے ہی لئے حمد ہے (افسوس!) میں نے ایک زنا کار عورت کو صدقہ دے دیا ۔ پھر تیسری رات یہ صدقہ لے کر نکلا تو ایک مالدار آدمی کو فقیر سمجھ کر اس کو صدقہ دے دیا ۔صبح کو پھر لوگوں نے اس کا تذکرہ اور اس پر تنقید و تبصرہ کرنا شروع کردیا تو اس نے یہی کہا کہ یااللّٰہ! تیرے ہی لئے حمد ہے (افسوس!) کہ میرا صدقہ چور، زانیہ اور مالدار کے ہاتھ میں پہنچا۔ یہ شخص اسی افسوس وتَفکُّر میں سوگیا تو خواب میں ایک فرشتہ نے خدا کی طرف سے اس کو یہ خوشخبری سنائی کہ تیرا ہرا ک صدقہ مقبول ہوا تونے چور کو صدقہ دیا تو امید ہے کہ وہ اس رات کو چوری سے بچے گا اور زانیہ کو صدقہ دیا تو امید ہے کہ وہ اس رات کو زناکاری سے بچے گی اور مالدار کو صدقہ دیا تو امید ہے کہ اس کو عبرت ہو اور وہ بھی صدقہ دینے لگے ۔(9) (مشکوٰۃ باب الانفاق)
فقط نیت پر ثواب : حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی
رحمۃ اللّٰہ علیہنے اس حدیث کی شرح میں تحریر فرمایا ہے کہ بعض احادیث میں آیا ہے کہ جب فرشتے بندوں کے نامہ اعمال کو آسمانوں پر لے کرجاتے ہیں اور دربارِ الٰہی میں پیش کرتے ہیں تواللّٰہ تعالیٰفرماتا ہے کہاَلْقِ تِلْکَ الصَّحِیْفَۃَ اَلْقِ تِلْکَ الصَّحِیْفَۃَدو مرتبہ فرماتا ہے کہ اس نامۂ اعمال کو پھینک دو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ الٰہی !تیرے اس بندے نے نیک اعمال کیے ہیں جن کو ہم نے دیکھ کر اور سن کر لکھا ہے ہم اس کو کیونکر پھینک دیں ،تو خداوند ِ عالَم ارشاد فرماتا ہے کہلَمْ یُرِدْ وَجْھِیْاس بندے نے اس عمل میں میری رِضا کی نیت نہیں کی تھی اس لئے یہ میرے دربار میں مقبول نہیں ۔
پھر دوسرے فرشتہ کو
اللّٰہ تعالیٰیہ حکم فرماتاہے کہاُکْتُبْ لِفُلَانٍ کَذَا وَکَذَایعنی فلاں بندے کے نامۂ اعمال میں فلاں فلاں عمل لکھ دے ۔ فرشتہ عرض کرتا ہے کہ خداوند! یہ عمل تو اس بندے نے نہیں کیا ہے تواللّٰہ تعالیٰارشاد فرماتاہے کہ گو اس نے یہ عمل نہیں کیا مگر اس کی نیت تو اس عمل کے کرنے کی تھی اس لئے میں اس کی نیت پر اس کو اس عمل کا اجر دوں گا۔
اسی لئے بعض حدیثوں میں یہ بھی آیا ہے کہ
نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہیعنی مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے ظاہر ہے کہ نیک عمل پر تو ثواب اسی وقت ملے گا جب نیت اچھی ہواور اگر نیت بری ہوتو نیک عمل پر کوئی ثواب ہی نہیں ۔ مگر اچھی نیت پر تو بہرحال ثواب ملے گا خواہ عمل کرے یا نہ کرے اس لئے مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے اسی لئے بعض صوفیاء کرامرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِمنے فرمایا ہے کہ؎∞
ہر کرا اندر عمل اخلاص نیست درجہاں از بندگانِ خاص نیست
یعنی جس شخص کے عمل میں اخلاص نہیں ہے وہ دنیا میں خدا کے خاص بندوں میں سے نہیں ہے
؎∞
ہر کرا کار از برائے حق بود کارِ او پیوستہ بارونق بود
جس شخص کا عمل خدا کی رِضا کیلئے ہوتاہے ہمیشہ اس کا عمل بارونق رہا کرتاہے۔ (10)(اشعۃ اللمعات، ج ۱، ص ۳۶)
علامہ عینی
رحمۃ اللّٰہ علیہنے اس حدیث کی شرح میں فرمایا کہفِیْہِ الْحَثُّ عَلٰی نِیَّۃِ الْخَیْرِ مُطْلَقًا وَاِنَّہُ یُثَابُ عَلَی النِّیَّۃِیعنی اس حدیث میں اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ ہر حالت میں نیت اچھی ہونی چاہیے اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیت پر ثواب دیا جاتاہے ۔ (11) (عینی، ج۱،ص۳۲۸)
فوائد ومسائل: اس حدیث سے مندرجہ ذیل فوائد و مسائل پر بھی روشنی پڑتی ہے جن کو ہم نمبر وار تحریر کرتے ہیں :
{۱}آپ یہ پڑھ چکے کہ حضوراقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ’’مہاجرام قیس‘‘ کی تَنْبِیْہ اور ہدایت کے لئے یہ حدیث ارشادفرمائی جنہوں نے ایک عورت سے نکاح کرنے کی نیت سے ہجرت کی تھی ۔ بلاشبہ وہ تَنْبِیْہ وہدایت کے قابل تھے ۔ اب اس تنبیہ و ہدایت کی ایک صورت تو یہ تھی کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کو سامنے بلا کر مجمع عام میں ان کو ان کی غلطی پر ٹوکتے اورڈانتے ۔ دوسری صورت یہ تھی کہ ان کو تنہائی میں بلا کر ان کی غلطی پر ان کو تَنْبِیْہ فرمادیتے ۔ تیسری صورت یہ تھی کہ مجمع عام میں تمام مسلمانوں کو وعظ و نصیحت سنانے کے ضمن میں ان کومُتَنَبِّہ فرمادیتے تاکہ ان کی پردہ پوشی کے ساتھ ان کو تَنْبِیْہ وہدایت ہوجاتی ۔ چنانچہ حضور رحمت عالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسی آخری صورت کو اختیار فرمایا کہ خطبہ پڑھتے پڑھتے عام الفاظ میں اور عام مسلمانوں کو خطاب فرماتے ہوئے ان کو تنبیہ فرمادی اور’’مہاجرام قیس‘‘ جو اس خطبہ کو سن رہے تھے انہوں نے خوب اچھی طرح سمجھ لیا کہ کسی عورت سے نکاح کرنے کی نیت سے ہجرت کرنے میں کوئی اجر و ثواب نہیں ہے، اس جملہ سے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ کو تنبیہ فرمائی ہے ۔نصیحت کی پہلی دونوں صورتوں کو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس لئے اختیار نہیں فرمایا کہ پہلی صورت میں ان کی بڑی بے آبروئی اور رسوائی ہوتی اور دوسری صورت میں بھی ان کو انتہائی نَدامت و شرمندگی ہوتی اس لئے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی نصیحت و اصلاح کے لئے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ان کو تنبیہ فرمادی اور اس انداز میں کہ ان کو ذلت و رسوائی سے بچاتے ہوئے اور ان کی پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان کی اصلاح وہدایت فرمائی۔سبحان اللّٰہ! یہ ہے:اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ(12) کا جلوہ۔اللّٰہ تعالیٰنے اپنے حبیبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو قرآن میں یہ حکم دیا کہ اے محبوب آپ لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دیجئے۔ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہی طریقۂ دعوت ’’حکمت‘‘ و ’’مَوعِظۂ حسنہ‘‘ ہے۔{۲}حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس اسوۂ حسنہ سے پتہ چلا کہ کسی گناہگار مسلمان کو نصیحت کرنے میں اس بات کا خاص طور پر لحاظ و خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس گناہگار مسلمان کی تَذلِیل وتَحْقِیر اور اس کی بے آبروئی و رسوائی نہ کی جائے نہ اس کو ایسے تلخ ودُرُشْت لہجے میں ڈانٹ پھٹکار کر نصیحت کی جائے کہ اس غریب کو ندامت و شرمندگی سے عرق عرق ہوجانا پڑے ۔
جو علمائے کرام وعظ و تقریر میں سخت کلامی یا تلخ وترش لہجہ یا دلخراش الفاظ استعمال کرنے کے عادی ہیں ان کو حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس طریقۂ تبلیغ سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اسوۂ حسنہ کو نمونۂ عمل بنانا چاہیے ۔{۳}اب رہا یہ سوال کہ وہ مخلوط عمل جس میں دین و دنیا کی دونوں غرضیں ملی جلی ہوں مثلاً ایک شخص حج کے لئے جاتا ہے اور کچھ تجارتی مَنْفَعَت کا پہلو بھی اس کے پیش نظر ہے تو اس صورت میں اس کو ثواب ملے گا یا نہیں ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ مخلوط عمل کی چند صورتیں ہیں :
اگر عمل کا باعث ومحرک صرف مَنْفَعَتِدنیا ہے عبادت کرتا تو ہے مگر اس کو مقصود نہیں بناتا مثلا ً اس کے سفرِ مکہ ومدینہ کا اصل مقصد تجارت ہی ہے اور اس نے تجارت ہی کی نیت سے یہ سفر کیا ہے اس سفر کا باعث و محرک حج نہیں ہے مگر چونکہ حج کا موسم تھا اس لئے حج بھی کرلیا اوروہ بھی اس نیت سے کہ اگر حج نہیں کیا تو لوگ برا بھلا کہیں گے تو ظاہر ہے کہ اس حج پر کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا۔
اور اگر عمل کا محرک اور باعث عبادت اور نفعِ آخرت ہے مگر اسکے ساتھ تجارت وغیرہ دنیاوی مَنْفَعَتکا مقصد بھی ملاہوا ہے ۔ مثلاً سفر حرمین شریفین کا اصل مقصد توحج ہی کرنا ہے مگر یہ بھی خیال ہے کہ اگر کوئی حلال تجارت کا موقع مل گیا تو کچھ کاروبار اور بیوپار بھی کرلوں گا تو اس صورت میں جس قدر دنیاوی مَنْفَعَتکی نیت شامل ہوگی اسی نسبت سے ثواب میں کمی ہوجائے گی اور اگر عمل کا مقصد صرف رضائے الٰہی کی طلب اور خالص عبادت ہی کا جذبہ ہے اور بال برابر بھی دنیاوی مَنْفَعَتکا خیال نہیں ۔ مثلاً سفر مکہ و مدینہ میں صرف خالص حج و زیارت ہی کی نیت ہے ۔ تجارت یا دنیاوی مَنْفَعَت کا خیال تک نہیں آیاہے تو یقینا یہ اعلیٰ درجے کی عبادت اور اس حج و زیارت پر کامل درجے کا ثواب ملے گا۔

∞ [1] ارشاد الساری،کتاب بدء الوحی،باب کیف کان بدء الوحی۔۔۔الخ، تحت الحدیث۱، ج۱،ص۹۵
[2] بشیر القاری ،ج۱،ص۶۵،ماخوذاً[3] ارشاد الساری،کتاب بدء الوحی،باب کیف کان بدء الوحی۔۔۔الخ، تحت الحدیث:۱،ج۱،ص۹۵۔۹۶ملتقطاً[4] سنن ابی داود،کتاب الجھاد،باب الھجرۃ ھل انقطعت؟،الحدیث: ۲۴۸۱،ج۳،ص۷[5] ارشاد الساری،کتاب بدء الوحی،باب کیف کان بدء الوحی۔۔۔الخ،تحت الحدیث:۱، ج۱،ص۹۴ملخصاً[6] مثنوی مولانا روم (مترجم)،دفتر دوم ، ص۴۱[7] ترجمۂ کنز الایمان:اوراللّٰہبڑے فضل والا ہے۔ (پ۱،البقرۃ:۱۰۵)[8] صحیح مسلم،کتاب الامارۃ،باب من قاتل للریاء والسمعۃ۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۹۰۵، ص۱۰۵۵[9] مشکاۃالمصابیح،کتاب الزکاۃ،باب الانفاق وکراھیۃ الامساک،الحدیث: ۱۸۷۶، ج۱،ص۳۵۶[10] اشعۃ اللمعات، خطبۂ کتاب، ج۱،ص۳۹[11] عمدۃ القاری،کتاب الایمان،باب ماجاء ان الاعمال۔۔۔الخ، ج۱، ص۴۶۱[12] ترجمۂ کنز الایمان:اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے۔(پ۱۴،النحل:۱۲۵)

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 1