Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 31

حدیث مبارکہ

عَنْ عُقْبَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ یَوْمًا فَصَلّٰی عَلٰی اَھْلِ اُحُدٍ صَلَا تَہٗ عَلَی الْمَیِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ : اِنِّیْ فَرَطٌ لَکُمْ وَاَنَا شَہِیْدٌ عَلَیْکُمْ وَاِنِّیْ وَاللّٰہِ لَاَنْظُرُ اِلٰی حَوْضِیْ الْآنَ وَاِنِّیْ اُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ خَزَاءنِ الْاَرْضِ اَوْمَفَاتِیْحَ الْاَرْضِ وَاِنّیْ وَاللّٰہِ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِیْ وَلٰکِنْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ َتنَافَسُوْ فِیْھَا (بخاری، کتاب الحوض، ج۲، ص۹۷۵)

عن عقبۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم خرج یوما فصلی علی اھل احد صلا تہ علی المیت ثم انصرف علی المنبر فقال : انی فرط لکم وانا شہید علیکم وانی واللہ لانظر الی حوضی الان وانی اعطیت مفاتیح خزاءن الارض اومفاتیح الارض وانی واللہ ما اخاف علیکم ان تشرکوا بعدی ولکن اخاف علیکم ان تنافسو فیھا (بخاری، کتاب الحوض، ج۲، ص۹۷۵)

حدیث ترجمہ

حضرت عُقبہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک دن گھر سے باہر تشریف لے گئے اور’’شہداء ِاُحُد‘‘کی قبروں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر نماز پڑھی جاتی ہے پھر پلٹ کر منبر پر رونق اَفروز ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ میں تمہارا پیش رو اور تمہارا گواہ ہوں اور میں خدا کی قسم! اپنے حوض کو اس وقت دیکھ رہا ہوں اور بے شک مجھ کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں دے دی گئی ہیں اور میں بخدا یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ مجھ کو تم لوگوں کے بارے میں ذرا بھی یہ ڈر نہیں ہے کہ تم لوگ میرے بعد مشرک ہوجاؤ گے لیکن مجھے یہ خوف ہے کہ تم لوگ دنیا میں رغبت اور ایک دوسرے پر حسد کروگے۔

شرح حدیث

حضرت عقبہ:عُقبہ بن عامر جُہنی صحابی ہیں ۔یہ حضرت امیر معاویہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے دور ِ حکومت میں مصر کے گورنر تھے ۔پھر گورنری سے معزول کر دئیے گئے اور مصر ہی میں ۵۸ھ؁ کے سال ان کا وصال ہوا ۔صحابہ اورتابعین کی بہت بڑی جماعت نے ان سے حدیثوں کی روایت کی ہے۔ (1) (اکمال)
فوائد و مسائل:اس حدیث سے مندرجہ ذیل فوائد و مسائل پر روشنی پڑتی ہے۔
زیارتِ قبور:
{۱}حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشہداء ا حد کی شہادت کے آٹھ سال بعد ان کی قبروں کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خاص زیارت کے قصدسے قبروں پر جانا خصوصاً شہداء و صالحین کی قبروں کی زیارت کرنی یہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے۔
جو لوگ قبروں کی زیارت کے سفر کو شرک یا معصیت ٹھہراتے ہیں وہ صراحۃً اس حدیث کی مخالفت کرتے ہیں اور سراسر گمراہی و بد عقیدگی کے وبال میں گرفتار ہیں ۔ علامہ صاوی
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے آیت’’وَابْتَغُوْآ اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ‘‘(2)کی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے کہ اولیاءاللّٰہکے مقابر کی زیارت کرنے والے مسلمانوں کو اس خیال سے کافر کہنا کہ زیارت قبور غیراللّٰہکی عبادت ہے یہ بالکل کھلی ہوئی گمراہی ہے۔اولیاءاللّٰہکی قبروں کی زیارت ہرگز ہرگز غیرُاللّٰہکی عبادت نہیں ہے بلکہ یہاللّٰہکے بارے میں محبت رکھنے کی ایک نشانی ہے۔ (3) (صاوی،ج۱،ص۲۴۵){۲}اس حدیث میں ’’فَصَلّٰی عَلٰی اَھْلِ اُحُدٍ صَلَا تَہٗ عَلَی الْمَیِّتِ‘‘کے بارے میں دو قول ہیں علامہ کرمانی نے فرمایا کہ اس سے مُراد یہ ہے کہ نماز جنازہ میں جس طرح میت کے لیے دُعا پڑھی جاتی ہے اسی طرح حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلامنے شہداء اُحد کے لیے اُن کی قبروں کے پاس دعا مانگی۔
لیکن دوسرے شارحینِ حدیث نے فرمایا کہ آپ نے پورے آٹھ برس کے بعد شہدائے اُحد کی قبروں پر ٹھیک اسی طرح نمازِ جنازہ ادا فرمائی جس طرح آپ دوسری اموات کی نماز جنازہ پڑھتے تھے۔اس صورت میں یہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خصائص میں سے شمار کیا جائے گا کہ آٹھ برس کے بعد کسی میت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی جائے دوسرے لوگوں کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ۔{۳}حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے منبر پر یہ فرمایا کہ’’اِنِّیْ فَرَطٌ لَکُمْ‘‘ میں تم لوگوں کے لیے ’’پیش رو ‘‘ہوں ۔ ’’فَرَط‘‘ عربی زبان میں اس شخص کو کہتے ہیں جو کہیں جانے والی جماعت سے پہلے ہی پہنچ کراس جماعت کی تمام ضروریات کا انتظام مہیا کیا کرتا ہے۔ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے بارے میں فرمایا کہ میں تم تمام امتیوں کے لیے ’’فَرَط‘‘ ہوں یعنی تم سے پہلے عالمِ آخرت میں پہنچ کر تمہاری شفاعت اور تمہاری مغفرت کا تمہارے آنے سے پہلے ہی انتظام کروں گا۔{۴}اس حدیث میں ’’وَاَنَا شَہِیْدٌ عَلَیْکُمْ‘‘ فرماکر حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلامنے یہ اعلان فرمادیا کہ میں تم تمام امتیوں کا قیامت میں گواہ ہوں یعنی تم لوگوں کے ایمان اور اعمال و اَفعال کے متعلق میں خداوند ِعالَمجل جلالہکے حضور گواہی دوں گا۔
اس حدیث سے یہ مسئلہ صاف ہوگیا کہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقیامت تک آنے والے اپنے ایک ایک ’’اُمَّتی ‘‘اور ان کے اعمال و افعال سے باخبر ہیں اور سب کچھ ان کے علم میں ہے ورنہ ظاہر ہے کہ بغیر دیکھے اور بغیر جانے کسی بات کی گواہی دینا شرعًا حرام و ناجائز ہے اس لیے یہ کیونکر ممکن ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبے جانے قیامت میں اپنی امت کے لیے گواہی دیں گے۔{۵}اس حدیث میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بھی فرمایا کہ ’’وَاِنِّیْ وَاللّٰہ لَاَنْظُرُ اِلٰی حَوْضِیْ الْآنَ‘‘ یعنی خدا کی قسم! میں اس وقت اپنے حوض (کوثر)کو دیکھ رہا ہوں ۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نگاہ نبوت اتنی معجزانہ تھی کہ عالَم ِدنیا میں اپنے منبر پر رونق افروز ہوتے ہوئے عالَم ِآخرت میں جنت کے اندر اپنے حوض کوثر کو دیکھ لیا۔اس حدیث سے یہ مسئلہ آفتاب ِنیم روز کی طرح روشن ہوگیا کہ جس طرح حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات و صفات تما م مخلوق میں بے مثل و بے مثال ہے اسی طرح آپ کے ہر ہر عضو شریف کی طاقتیں اور توانائیاں بھی بے مثل و بے مثال ہیں ۔لہٰذا حضور کے اعضاء ِشریفہ کی معجزانہ طاقتوں کو اگر کوئی اپنے اعضاء کی طاقتوں پر قیاس کرے تو یہ بہت بڑی گمراہی اور جَہالت ہے۔کہاں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور کہاں ہم عیوب و نَقائص کے پُتلے؟؎∞ چہ نسبت خاک رابا عالم پاک۔{۶}اس حدیث میں حضورصلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وبارک وسلمنے ارشاد فرمایا کہ ’’وَاِنِّیْ اُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ خَزَائِنِ الْاَرْضِ‘‘ یعنی زمین کے خزانوں کی کنجیاں مجھے عطا کی گئیں ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہاللّٰہ تعالیٰنے زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں میرے ہاتھ میں دے دی ہیں ۔
خزانے کی کنجیوں کو کسی کے ہاتھ میں دے دینااس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ تمام دنیا جانتی ہے کہ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں نے تو ’’تالا کنجی‘‘فلاں کے ہاتھ میں دیدیا ہے تو اس کامطلب یہی ہوا کرتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو اپنے خزانوں میں تَصَرُّف کا مالک و مختار بنادیا ہے ۔اب قابل غور یہ بات ہے کہ ’’زمین کے خزانوں ‘‘ سے یہاں کیا مراد ہے تو بعض شارحین حدیث نے یہ فرمایا کہ اس سے مراد آپ کی وہ فتوحات ہیں جو آپ کو یا خلفاء راشدین یا ان کے بعد کے اُمراء و سلاطین کو حاصل ہوئیں کہ سلطنت روم و فارِس وغیرہ کے تمام خزانے مسلمانوں کے ہاتھ میں آئے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ
رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاس حدیث کو سنا کر فرمایا کرتے تھے کہ ’’اَنْتُمْ تَنْتَثِلُوْنَھَا‘‘ یعنی زمین کے خزانے جو حضورعلیہ الصلوۃ والسلامکو عطا کئے گئے تم اس کو نکال رہے ہواور حاصل کررہے ہو۔
اور بعض شارحین حدیث نے فرمایا کہ ان خزانوں کے علاوہ سونا، چاندی، ہیرے، جواہرات،لوہا،تانبا،پیتل وغیرہ قسم قسم کی دھاتیں اور تیل پٹرول وغیرہ کے خزانے بھی مُراد ہیں کہ سب خزانے حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بدولت حضور کی امت کو مل گئے۔{۷}فقیر راقم ُالحروف کا خیال ہے کہ شارحین حدیث نے زمین کے خزانوں کے بارے میں اسلامی فتوحات یا زمین کی قسم قسم کی کانوں کا جو تذکرہ کیا ہے یہ مثال کے طور پر ہے ورنہ ’’خزائن الارض‘‘صرف یہی سب اور اتنی ہی چیزیں نہیں ہیں بلکہ ’’خزائن الارض‘‘ میں وہ تمام چیزیں داخل ہیں جو زمین میں سے نکلتی ہیں ۔
اس بناء پر تمام جمادات ،نباتات اور حیوانات ،سبھی زمین کے خزانے ہیں ۔ظاہر ہے کہ ہرقسم کی سبزیاں ،غلے، پھل ،قسم قسم کے ذائقے اور غذائیں ،طرح طرح کی دوائیں ،یہ سب زمین ہی میں سے نکلتی ہیں ۔ جانداروں کے نُطْفے بھی زمین سے نکلی ہوئی غذاؤں ہی کی پیداوار ہیں کیونکہ اگر جاندار زمین سے نکلی ہوئی غذائیں نہ کھاتے تو ان کی زندگی کہاں ہوتی ؟ ان کے جسم میں خون کہاں سے پیدا ہوتا؟اور بِلا خون کے نُطْفہ اور مَنی کہاں سے پیدا ہوتی؟ غرض تمام جانور اور جاندار اور ان جانداروں کی زندگانی کا سارا سازوسامان زمین ہی سے نکلتا ہے۔ اس لحاظ سے ’’خزائن الارض‘‘میں تمام حیوانات، نباتات،جمادات داخل ہیں بلکہ زمین و آسمان کے درمیان کی کائنات بھی زمین کے خزانوں میں شامل ہے۔ کیونکہ بدلی، بارش، اولے، قوسِ قُزَح ،ہالہ ،رَعْد، بَرق، غرض تمام فضائی کائنات زمین ہی سے نکلے ہوئے ’’بخارات‘‘ کی پیداوار ہیں ۔
لہٰذا اب اس حدیث شریف کا یہ مطلب ہوا کہ زمین کی ساری کائنات اور تمام مخلوقات جو سب زمین کے خزانے ہیں
اللّٰہ تعالیٰنے مجھے ان سب میں تصرف کا مالک و مختا ر بنادیا ہے۔
جب حدیث کے اندر لفظ ’’خَزائن الارض‘‘میں کوئی تَقْیِیْد یا تَخْصِیْص موجود نہیں ہے بلکہ جمع کی اضافت اِستغراق کا اِفادہ کررہی ہے تو پھر اس صورت میں ظاہر ہے کہ یقینا اس لفظ کو اس کے عموم ہی پر رکھا جائے گا اور اس کے عام ہونے ہی کی صورت میں یہ حدیث مقامِ مدح میں حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے شایان شان رہے گی کہاللّٰہ تعالیٰنے اپنے محبوب کوکل کائناتِ زمین کا مختاربنادیا ہے۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔{۸}حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس حدیث میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ’’وَاِنّیْ وَاللّٰہ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِیْ‘‘ یعنی خدا کی قسم! میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ مجھے اپنے بعد میں تمہارے مشرک ہوجانے کا کوئی خوف نہیں ہے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس حدیث میں غیب کی خبر دے رہے ہیں کہ میری امت قیامت تک مشرک نہیں ہوگی اور اس امت میں شرک نہیں پھیلے گا۔
اگرچہ بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ اس وقت تک قیامت نہیں قائم ہوگی جب تک کہ’’ قبیلہ دوس ‘‘کی عورتیں بتوں کا طواف نہ کریں گی۔ان دونوں حدیثوں میں تَطْبِیْق اس طرح دی جائے گی کہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ارشاد کا یہ مطلب ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ساری امت ایک دم مشرک ہوجائے ایسا تو قیامت تک نہیں ہوگالیکن کہیں کہیں کچھ بستیوں والے یا کچھ افراد شرک میں مبتلا ہوجائیں ایسا ہوسکتا ہے۔ چنانچہ ’’قبیلہ دوس‘‘کی عورتوں میں شرک پھیل جائے گاجیسا کہ بعض حدیثوں میں آیاہے۔{۹}حدیث کا آخری ٹکڑا ’’وَلٰکِنْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ َتنَافَسُوْ فِیْھَا‘‘کا یہ مطلب ہے کہ مجھے یہ خوف اور ڈر ہے کہ میری امت والے دُنیا کی محبت میں گرفتار ہو کر اس طرح دُنیا کی رغبت میں پھنس جائیں گے کہ ایک دوسرے سے بغض و حسد کریں گے اور جنگ و جِدال، کُشت و قِتال کا بازار گرم کریں گے چنانچہ بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ جیسے اگلی امتیں دنیا کی رغبتوں میں پھنس کر ہلاک ہوگئیں اسی طرح میری امت بھی دُنیاوی رغبتوں کا شکار ہوکر ہلاکت کے غار میں گرپڑے گی۔
چنانچہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سینکڑوں برس پہلے جو غیب کی خبر دی تھی آپ کی یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی کہ صحابہ اور تابعین و تبع تابعینرضی اللّٰہ عنہمکے بعد دُنیاوی رغبتوں کے باعث اُمتِ رسول میں تَحاسُد و تَباغُض کا دور دورہ اس شدت اور تیزی کے ساتھ رونما ہو گیا کہ مسلمانوں کے درمیان جنگ و جِدال اور ُکشت و قتال کا بازار گرم ہوگیا اور روز بروز مسلمانوں کا یہ مرض اس تیزی کے ساتھ بڑھتا چلا جارہا ہے کہ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ آئندہ قومِ مسلم کا کیا حال ہوگا؟مسلمانوں کے ہر طبقے میں حرص و ہوس اور بغض و حسد کی بیماری اس طرح پھیل گئی ہے کہ ’’مسلم معاشرہ‘‘اقوام عالم کی نگاہوں میں اسقدر ذلیل و خوار ہوچکا ہے کہ غیر مسلموں کا بچہ بچہ مسلمانوں کے کرتوت اور کردار سے متنفرو بیزار نظر آرہا ہے۔گھر گھر میں سامانوں اور جائدادوں کے جھگڑوں کی کش مکش اور دنیاوی اقتدار کی جنگ سے’’مسلم معاشرہ ‘‘جنگ و جِدال کی آماجگاہ اور ُکشت و قتال کا میدان کارزار بنا ہوا ہے جس کا نتیجہ نظروں کے سامنے ہے کہ مسلم قوم ہلاکت و تبا ہی کے ایسے عمیق غار میں گرتی چلی جارہی ہے کہ اب نصرت خداوندی کے سوا اس قوم کی صلاح و فلاح کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔فیااسفاہ ویاحسرتاہ∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال،حرف العین،فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۶[2] ترجمہء کنز الایمان:اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ (پ۶،الماءدۃ:۳۵)[3] حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین،سورۃ الماءدۃ،تحت الآیۃ: ۳۵،ج۲، ص۴۹۷

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 31