Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 21

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا ظَھَرَ الْغُلُوْلُ فِیْ قَوْمٍ اِلَّا اَلْقَی اللّٰہ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ وَلَا فَشَا الزِّنَا فِیْ قَوْمٍ اِلَّا کَثُرَ فِیْھِمُ الْمُوْتُ وَلَا نَقَصَ قَوْمٌ الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ اِلَّا قُطِعَ عَنْھُمُ الرِّزْقُ وَلَا حَکَمَ قَوْمٌ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّا فَشَا فِیْھِمُ الدَّمُ وَلَا خَتَرَ قَوْمٌ بِالْعَھْدِ اِلَّاسُلِّطَ عَلَیْھِِمُ العَدُوُّ (مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب تغیرالناس، الحدیث:۵۳۷۰، ج۲، ص۲۷۶)

عن ابن عباس قال: ما ظھر الغلول فی قوم الا القی اللہ فی قلوبھم الرعب ولا فشا الزنا فی قوم الا کثر فیھم الموت ولا نقص قوم المکیال والمیزان الا قطع عنھم الرزق ولا حکم قوم بغیر حق الا فشا فیھم الدم ولا ختر قوم بالعھد الاسلط علیھم العدو (مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب تغیرالناس، الحدیث:۵۳۷۰، ج۲، ص۲۷۶)

حدیث ترجمہ

حضرت عبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب کسی قوم میں خیانت ظاہر اور کھلم کھلا ہونے لگتی ہے تواللّٰہ تعالیٰاس قوم کے دل میں اس کے دشمنوں کا خوف اور ڈر ڈال دیتا ہے اور جب کسی قوم میں زِنا کاری پھیل جاتی ہے تو اس قوم میں بکثرت موتیں ہونے لگتیں ہیں اور جو قوم ناپ تو ل میں کمی کرنے لگتی ہے اُس قوم کی روزی کاٹ دی جاتی ہے اور جوقوم ناحق فیصلہ کرنے لگتی ہے اس قوم میں خون ریزی پھیل جاتی ہے اور جو قوم عہد شکنی اور بد عہدی کرنے لگتی ہے اس قوم پر اس کے دشمن کو غالب و مسلط کردیا جاتا ہے۔

شرح حدیث

شرحِ حدیث: جس طرح دوائوں اور غذاؤں میں خداوند قدوسعَزَّوَجَلَّنے قسم قسم کی تاثیرات پیدا فرمائی ہیں کہ زہر مار ڈالتا ہے، تریاق زہر کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے، بعض غذائیں صحت کو برباد کردیتی ہیں اور بعض غذائیں تندرستی کو بڑھادیتی ہیں اسی طرح انسان کے قول و افعال میں بھی قدرت نے قسم قسم کی تاثیرات رکھ دی ہیں مثلًا آپ کی ’’گالی‘‘دُنیا بھر کے انسانوں کو آپ کا دشمن بنادیتی ہے اور آپ کی ’’دُعاء‘‘ دنیا بھر کو آپ کا دوست بنادیتی ہے ۔اسی طرح اگر آپ کسی کو ’’مُکہ‘‘دکھائیں تو وہ آپ پر غضبناک ہوجاتاہے اور اگر آپ کسی کے آگے ہاتھ جوڑیں تو وہ آپ پر رحم دل ہوجاتا ہے۔
اسی طرح سمجھ لیجئے کہ انسان کے ہر قول و عمل میں قدرت نے قسم قسم کی تاثیریں اور طرح طرح کے اَثرات پیدا فرمائے ہیں ۔نیک اعمال اور اچھے اچھے اقوال کی تاثیرات و اَثرات بھی اچھے ہوا کرتے ہیں اور بُرے اَعمال اور بُرے اَقوال کی تاثیرات و اَثرات بھی بُرے ہوا کرتے ہیں ۔حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس حدیث میں پانچ بُرے اعمال اور ان کی بُری تاثیروں کا بیان فرمایا ہے۔{۱}خیانت کی تاثیر یہ ہے کہ جو قوم امانت میں خیانت کرنے لگے گی تو وہ قوم اپنے دشمنوں سے خائف ،ڈرپوک اور بزدل ہوجائے گی۔{۲}اور جو قوم زناکاری کی لعنت میں گرفتار ہوجائے گی تو اس قوم پر طرح طرح کی بلائیں بیماریاں اور وبائیں آئیں گی اور بکثرت لوگ مرنے لگیں گے۔بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ ’’جہا ں زنا وہاں فنا۔‘‘{۳}اور جو قوم نا پ تول میں کمی کرے گی تو اس کا یہ اثر ہوگاکہ ان کی روزیوں کی برکت کٹ جائے گی۔وہ عمر بھر روزی کمانے کے لیے دربدر کی ٹھوکر کھاتے پھریں گے اور ہزاروں لاکھوں کمائیں گے بھی مگر ان کے دل کو چین اور روح کو سکون اور دولت کو قرار نہیں حاصل ہوگا اور کچھ پتہ نہیں چلے گا کہ دولت کہاں سے آئی اور کدھر چلی گئی۔{۴}اور جو قوم ناحق فیصلہ کرنے کی خوگر ہوجائے گی تو اس گناہ کا یہ اثر ہوگا کہ اس قوم میں قتل و خون ریزی کی بلا پھیل جائے گی اور روزانہ دن رات ہر طرف قتل ہی ہوتے رہیں گے۔{۵}اسی طرح جو قوم بدعہدی کی راہ پر چل پڑے گی اس قوم کی عزت و اقبال اور اس کی سلطنت کے جاہ و جلال کا خاتمہ ہوجائے گااور اس قوم پر اس کے دشمنوں کا غلبہ و اقتدار ہوجائے گا۔
چونکہ ان گناہوں کی یہی تاثیر ات ہیں اور کوئی چیز بھی اپنا خلقی اثر دکھائے بغیر نہیں رہ سکتی لہٰذا ان گناہوں کے وہی اثرات ہوں گے جو اوپر بیان کئے گئے۔ آگ پر انگلی رکھ کر لاکھ چلائیے مگر انگلی ضرور جل جائے گی کیونکہ آگ کی تاثیر ہی جلا دینا ہے۔
واضح رہے کہ ان گناہوں کا یہ عذاب صرف دنیاوی عذاب ہے جو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے باقی آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہے اور وہ عذاب جہنم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 21