Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 8

حدیث مبارکہ

قَالَ حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ:سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ خَطِیْبًا یَقُوْلُ:سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:مَنْ یُّرِدِ اللّٰہ بِہٖ خَیْرًا یُّفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ وَاِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہ یُعْطِیْ وَلَنْ تَزَالَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃُ قَائِمَۃً عَلٰی اَمْرِاللّٰہ لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَالَفَھُمْ حَتّٰی یَأتِیَ اَمْرُ اللّٰہ ( صحیح البخاری،کتاب العلم،باب من یرد اللّٰہ بہ۔۔۔الخ،الحدیث:۷۱،ج۱،ص۴۲)

قال حمید بن عبد الرحمن:سمعت معاویۃ خطیبا یقول:سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول:من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین وانما انا قاسم واللہ یعطی ولن تزال ھذہ الامۃ قائمۃ علی امراللہ لا یضرھم من خالفھم حتی یأتی امر اللہ ( صحیح البخاری،کتاب العلم،باب من یرد اللہ بہ۔۔۔الخ،الحدیث:۷۱،ج۱،ص۴۲)

حدیث ترجمہ

حُمَیْد بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امیر مُعاوِیہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکو بحالت خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے تھے کہاللّٰہ تعالیٰجس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں اوراللّٰہ تعالیٰعطا فرماتا ہے اور اس امت کی ایک جماعت ہمیشہاللّٰہ تعالیٰکے دین پر قائم رہے گی،ان کے مخالفین ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکیں گے یہاں تک کہاللّٰہکا امر آجائے۔
حضرت امیر مُعاوِیہ:اس حدیث کے راویوں میں حضرت امیر معاویہ
رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی ہستی قابل ذکر ہے۔آپ سردارِ مکہ ابو سفیانرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے فرزند ہیں ۔آپ کی والدہ ماجدہ کا نام ’’ ہند ‘‘تھا ۔ ۸ھ ؁ فتح مکّہ کے سال آپ نے اسلام قبول کیا اور دربار رسالت میں اتنے مُعْتَمَد صحابی قرار پائے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ’’کاتِبِ وَحی‘‘ کا عہدہ ان کو عطا فرمایا ۔خلافتِ راشدہ کے دور میں شام کے گورنر رہے ۔پھر تمام عالم اسلام کے بادشاہ ہوگئے۔رجب ۶۰ھ؁میں اٹھتّر برس کی عمرپاکر وفات پائی ۔آپ سے ایک سو چھتِّیس حدیثیں مروی ہیں ۔ (1) (فیوض الباری،ج۱،ص۲۲۶)

شرح حدیث

شرحِ حدیث:اس حدیث کے تین جزو ہیں ۔پہلے جزوکا مطلب یہ ہے کہاللّٰہ تعالیٰجس شخص کو دین میں ’’فَقِیْہ ‘‘بناتا ہے یعنی اس کو اتنا علم عطا فرماتا ہے کہ وہ اپنی علمی بصیرت سے دین کو ایمانی مَعْرِفت کے ساتھ سمجھنے لگتا ہے تو پھر یہ سمجھ لینا چاہئے بلکہ یقین کرلینا چاہئے کہاللّٰہ تعالیٰنے اس شخص کے ساتھ بھلائی فرمانے کا ارادہ فرمالیا ہے کیونکہاللّٰہ تعالیٰجس کے ساتھ بھلائی کرنے اور خیر عطا فرمانے کا ارادہ فرماتا ہے اس کو دین کا علم اور دین کو سمجھنے کافہم عطا فرماتاہے۔اس حدیث کا دوسرا جُزْوْ یہ ہے کہ میں خدا کی نعمتوں کو تقسیم کرنے والا ہوں اوراللّٰہ تعالیٰنعمتوں کا عطا فرمانے والا ہے ۔مطلب یہ ہے کہاللّٰہ تعالیٰنے اپنی تمام نعمتوں کی تقسیم میرے سپرد فرمائی ہے اس لئے میرے وسیلہ اور واسطے کے بغیر کسی کو خدا کی کوئی نعمت نہیں مل سکتی۔
اس حدیث کا تیسراجُزْوْیہ ہے کہ حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک غیب کی خبر دے رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی امت میں ہر دور کے اندر ایک جماعت ایسی ضرور رہے گی جو ہمیشہ اور ہر حال میں دین پر پوری اِسْتِقامت کے ساتھ قائم رہے گی اور اس کے مخالفین لاکھ اس کو نقصان پہنچانا چاہیں مگر ان لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور ہزاروں ظلم وجَور کے باوجود بال برابر بھی اس جماعت کو صراط مستقیم سے نہ ہٹاسکیں گے۔
فوائد و مسائل:
{۱}’’فِقہ‘‘کے دو معنی آتے ہیں ،ایک لغوی ،دوسرے اصطلاحی، فقہ کے لغوی معنی ’’فہم ،علم،سمجھ‘‘ہیں اور اصطلاحی معنی کی تفصیل یہ ہے کہ احکام ِشریعت کی دو قسمیں ہیں ، اول اَحکام ِ شَرْعِیَّہ اِعْتِقادِیَّہ یعنی وہ مسائل جن کا تعلق صرف عقائد سے ہے جیسے توحید و رسالت اور قیامت وغیر ہ پر ایمان لانا۔ دوم اَحکام ِشَرْعِیَّہ عَمَلِیَّہ یعنی وہ مسائل جن کا تعلق اعتقاد کے بعد عمل سے بھی ہے جیسے نماز و روزہ اور حج وزکوۃ وغیرہ۔ پہلی قسم یعنی اَحکام ِ شَرْعِیَّہ اِعْتِقادِیَّہ کے جاننے کو ’’علم ِکلام‘‘کہتے ہیں اور دوسری قسم یعنی اَحکام ِشَرْعِیَّہ عَمَلِیَّہ کے جاننے کا نام ’’علم ِفقہ‘‘ہے ۔اس حدیث میں فقہ کے لغوی معنی مراد ہیں ۔ ’’یُفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہاللّٰہ تعالیٰاس کو دین کا فہم یعنی دین کو سمجھنے کا علم عطا فرماتا ہے۔{۲} اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہ یُعْطِیْکے دونوں جملوں میں اہل علم کو غور کرنا چاہئے کہ ’’قَاسِمٌاوریُعْطِیْ‘‘ دونوں کا مَفْعول مَحْذوف کیا ہے یعنی رسول کن کن چیزوں کو بانٹتے ہیں اوراللّٰہکون کون سی چیزیں عطا فرماتا ہے۔اس حدیث میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ مَفْعول مَحْذوف کیا ہے؟اس سوال کو حل کرنا ہے تو اس میں تو کوئی شک و شبہ نہیں کہ ’’یُعْطِیْ‘‘ کا مفعول یقینا ’’کُلَّ شَیْیٍٔ‘‘ہے یعنیاللّٰہتعالیٰ ہر ہر چیز کا دینے والا ہے ۔تو ظاہر ہے کہ جو ’’یُعْطِیْ‘‘ کا مَفْعول ہوگا وہی ’’قَاسِمٌ‘‘ کا مَفْعول ہوگا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ اس حدیث کا صاف صاف حاصل مطلب یہی ہے کہاللّٰہ تعالیٰہر ہر چیز کا دینے والا ہے اور میںاللّٰہکی دی ہوئی ہر ہر چیز کا تقسیم کرنے والا ہوں ۔
اس لئے معلوم ہوا کہ
اللّٰہکی عطا کی ہوئی نعمتوں اور دولتوں میں سے کوئی نعمت اور کوئی دولت کسی کو بغیر حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وسیلہ کے نہیں مل سکتی۔سبحان اللّٰہ؎∞
بے ان کے واسطے کے خدا کچھ عطا کرے حاشا! غلط، غلط، یہ ہَوَس بے بَصَر کی ہے
{۳}اس حدیث میںمَنْ یُّرِدِ اللّٰہ بِہٖ خَیْرًاکے جملہ میں لفظ ’’خَیْرًا‘‘ نکرہ ہے اور اس کی ِتنکِیر یا تونوع کے لئے ہے یا تعظیم کے لئے ۔ اگر اس ِتنکِیرکو نوع کے لئے مانا جائے تو حدیث شریف کا یہ مطلب ہوگا کہ’’جس شخص کے ساتھ ایک خاص قسم کے خیر اور بھلائی کا خداوندتعالیٰ اراد ہ فرماتاہے اس کو علم دین عطا فرماتا ہے۔‘‘اور اگر یہ تَنْکِیر تعظیم کیلئے مانی جائے تو اس حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہاللّٰہ تعالیٰجس شخص کے ساتھ خیر ِعظیم اور بہت بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اُس کو علم ِدین عنایت فرماتا ہے۔
بہر حال اس حدیث سے علمائِ حق کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اور رحمت ِعالم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان میں علمائِ حق کے لئے بہت بڑی بشارت اور تسکین ِقلب کا سامان بھی ہے اور وہ یہ کہ جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے علماء دین کے ساتھ ایک خاص قسم کی بھلائی یا بہت بڑی بھلائی کا ارادہ فرمالیا ہے تو پھر کسی انسان یا شیطان کا شر خداکے خیر پر کبھی بھی اور کہیں بھی غالب نہیں ہوسکتاہے۔اس لئے ثابت ہوگیا کہ علماء دین کے ساتھ شر اور برائی کا برتائو کرنے والا کبھی ہرگز ہرگز فلاح نہیں پاسکتا۔؎∞
علم دیں ہے شمع حق اس کو بجھا سکتا ہے کون
جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹاسکتا ہے کون
لہٰذا علما ء کرام کو لاز م ہے کہ وہ کبھی بھی احسا س کمتری میں نہ مبتلا ہوں اور گریجویٹوں اور دولت مندوں کے سامنے کبھی ہرگز ہرگز مرعوب نہ ہوں اور حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس ارشاد پر نظر رکھیں اور ایک دوسری حدیث بھی ہمیشہ پیش نظر رکھیں ۔خدا کے محبوبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہے کہ
رشک کے قابل فَقَط دو ہی آدمیوں کی زندگی ہے ایک تو وہ مالدار جو خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتا ہے ۔دوسرا وہ عالِم جس کو
اللّٰہ تعالیٰنے حکمت (علم ِدین ) عطا فرمایا اور وہ اس سے فیصلہ کرتا ہے اور دوسروں کو علم سکھاتاہے۔(1) (مشکوٰۃ،کتاب العلم)
دیکھ لیجئے کہ مالدار سخی اور عالم دین کی زندگی کے سواکسی امیر ، وزیر یابادشاہ کی زندگی کو بھی حضور ِاکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قابل ِرشک نہیں فرمایا ہے۔
لہٰذا پتہ چلا کہ علماء ِدین کی مقدس زندگی ساری دنیا کے لئے قابل ِرشک ہے اور جب علماء ِکرام کی زندگی قابل رشک زندگی ہے تو پھر علماء کرام کے لئے احساسِ کمتری کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔علماء ِحق بلاشبہ خدا کی زمین پر چمکتے ہوئے چراغ ہدایت ہیں ۔ خداوند ِکریم نے ان کو اپنے ’’خیرِعظیم‘‘ کے ساتھ نوازا ہے اسی لئے زمین پر درندے، چرندے ، پرندے ،چیونٹیاں اپنے بلوں میں ،مچھلیاں دریائوں میں ان کیلئے دعائے رحمت کو اپنا وظیفہ بنائے ہوئے ہیں ۔فرشتوں کی مقدس جماعت ان طالبان علم دین کی رضا جوئی کے لئے اپنے پَر بچھا دیتی ہے۔
سبحان اللّٰہ،سبحان اللّٰہ! جب خالق ِکائنات کا فضل و کرم اور کائناتِ عالم کی دعائیں ،ملائکہ کے بچھے ہوئے پَر، علماء ِدین کا اعزاز بڑھا رہے ہیں تو اگر چند مردار قسم کے دنیا دارعلماء ِرَبَّانِیِّیْن کو حَقارَت کی نظر سے دیکھیں تو اس کا کیا غم ہے جو لوگ آج علماء کرام کو حَقارَت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نےاللّٰہکے مقدس رسولوں کے فرمانوں سے منہ موڑ لیا ہے اور دنیا کی دولت پر مغرور ہوکر اوراللّٰہکے نیک بندوں کی تَحْقِیر وتَذْلِیْل کرکے اپنی آخرت کو خراب کر رہے ہیں ۔
علماء ِحق کو لاز م ہے کہ ان مغرور و بد خصال جہال کی اِیذا رَسانِیوں پر صبر کریں اور ہرگز ہرگز دل شکستہ ہو کر اِعْلاء ِکَلِمۃُ الْحَق کے مَنْصَب ِجَلِیل سے الگ نہ ہوں ۔ خداوند ِ قدوس نے اپنے حبیب
علیہ الصلوۃ والسلامکو یہ حکم دیا ہے کہخُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَo (2) یعنی اے محبوب! آپ لوگوں کی خطائوں کو معاف فرما دیں اور نیکی کا حکم دیتے رہیں اور جاہلوں سے اعراض کرتے رہیں ۔

∞ [1] مشکاۃ المصابیح،کتاب العلم،الفصل الاوّل، الحدیث:۲۰۲، ج۱، ص۵۹
[2] ترجمہء کنز الایمان :اے محبوب معاف کرنااختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیرلو۔ (پ۹،الاعراف:۱۹۹)

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 8