Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 15

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ رَجُلًا رَاٰی کَلْبًا یَأْکُلُ الثَّریٰ مِنَ العَطَشِ فَاَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّہٗ فَجَعَلَ یَغْرِفُ لَہٗ بِہٖ حَتّٰی اَرْوَاہُ فَشَکَرَ اللّٰہ لَہٗ فَاَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ (صحیح البخاری،کتاب الوضوء،باب اذا شرب الکلب فی اناء احدکم۔۔۔ الخ، الحدیث:۱۷۳، ج۱،ص۸۳)

عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان رجلا رای کلبا یأکل الثری من العطش فاخذ الرجل خفہ فجعل یغرف لہ بہ حتی ارواہ فشکر اللہ لہ فادخلہ الجنۃ (صحیح البخاری،کتاب الوضوء،باب اذا شرب الکلب فی اناء احدکم۔۔۔ الخ، الحدیث:۱۷۳، ج۱،ص۸۳)

حدیث ترجمہ

حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ ایک آدمی نے ایک کتے کو دیکھا جو پیاس کی و جہ سے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس میں چلو سے پانی بھر کر اس کتے کو پلایا یہاں تک کہ وہ سیراب ہوگیا تواللّٰہ تعالیٰکو اس کا یہ کام پسند آیا اور اس کو جنت میں داخل کردیا۔

شرح حدیث

فوائد و مسائل:{۱}یہ حدیث بخاری شریف میں ’’ شُرب‘‘ ’’مَظالِم‘‘ ’’اَدَب‘‘ ’’ذِکر ِبنی اِسرائیل‘‘ کے بابوں میں بھی مذکور ہے اور مسلم نے ’’باب الحیوان‘‘اور ابو داود نے ’’کتاب الجہاد‘‘ میں بھی نقل کیا ہے۔ (1){۲}یہ حدیث بخاری شریف کی ایک روایت میں یوں بھی آئی ہے کہ اس حدیث کو سُن کر صحابہ کرامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کیاکہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیا چوپایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں بھی ہم کو ثواب ملے گا؟تو ارشاد فرمایا کہ ہاں ’’فِیْ کُلِّ کَبِدٍ رَطْبَۃٍ اَجْرٌ‘‘(2)ہر گیلے جگر میں یعنی ہر جاندار کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں ثواب ہے۔(قسطلانی ،ج۱،ص۴۴۲) اور یہی حدیث انہی حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی روایت سے اسی بخاری شریف میں اس طرح بھی آئی ہے کہ
ایک شخص پر راستہ چلتے ہوئے پیاس کا غلبہ ہوا تو اس کو ایک کنواں ملا اُس نے کنویں میں اُتر کر پانی پی لیا پھر جب وہ کنویں میں سے نکلا تو ناگہاں یہ دیکھا کہ ایک کتا زبان نکالے ہوئے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے تو اس آدمی نے دل میں یہ سوچا کہ جیسی پیاس مجھ کو لگی تھی ایسی ہی پیاس اس کتے کو بھی لگی ہے تو وہ کنویں میں اتر کر اپنے موزہ میں پانی بھرکر لایا پھر کتے کو پلایاتو اس کا یہ عمل خدا کو پسند آگیا اور اس کو بخش دیا۔یہ سن کر صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول
اللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیا ہمارے لیے چوپایوں کے ساتھ احسان کرنے میں ثواب ہے ؟تو ارشاد فرمایا کہ ہاں ! ہر گیلے جگر میں یعنی ہر جاندار کے ساتھ احسان کرنے میں ثواب ہے۔(3){۳}اس روایت میں تو یہ واقعہ بنی اسرائیل کے ایک مرد کا ہے مگر بخاری شریف کی ایک دوسری روایت میں اسی قسم کا ایک واقعہ زنا کار عورت کا بھی بیان ہوا ہے چنانچہ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہغُفِرَ لِامْرَأَۃٍ مُوْمِسَۃٍ مَرَّتْ بِکَلْبٍ عَلٰی رَأْسِ رَکِیٍّ یَلْھَثُ قَالَ:کَادَ یَقْتُلُہُ الْعَطَشُ فَنَزَعَتْ خُفَّھَا فَاَوْثَقَتْہُ بِخَمَارِھَا فَنَزَعَتْ لَہٗ مِنَ الْمَائِ فَغُفِرَ لَھَا بِذَالِکَ(4) (بخاری،باب اذا وقع الذباب،ج۱،ص۴۶۷)
یعنی ایک زنا کار عورت کی مغفرت اس طرح ہوگئی کہ وہ ایک کتے کے پاس سے گزری جو ایک کنویں کے پاس زبان نکالے ہوئے تھا اور قریب تھا کہ پیاس کی شدت اس کو مارڈالے تو اس عورت نے اپنا موزہ نکالا اور اس کواپنے دوپٹے میں باندھ کر کنویں میں سے پانی بھر کر اس کو پلایا تو
اللّٰہ تعالیٰنے اس عمل کے اجر میں اس کو بخش دیا۔{۴}اس حدیث میں تمام مخلوق پر رحم و کرم کرنے کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے اور یہ کہاللّٰہ تعالیٰفاعل ِمختار ہے وہ چاہے تو ایک بہت ہی ادنیٰ سے نیک عمل کرنے والے کو اپنے فضل و کرم سے بخش دے ۔اس کے دربار میں عمل کے وزن اور مقدار کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کی بارگاہ میں خلوصِ نیت اور اخلاصِ عمل کی قدر ہے،بہت ہی معمولی عمل اگر بندہ اِخلاص و نیک نیتی کے ساتھ کرے تو وہ ربّ ِکریم اس عمل کے ثواب میں بندے کو اپنے رضوان وغفران کی نعمتوں سے سرفراز فرماکر اس کو جنت الفردوس کا مکین بنادیتا ہے۔
رحمتِ حق بہانہ می جوید
رحمت حق بہا، نمی جوید
خدا کی رحمت بندوں کو بخشنے کا بہانہ ڈھونڈتی ہے ۔خدا کی رحمت بندوں سے مغفرت کی قیمت نہیں طلب کرتی ہے۔
{۵}امام نَوَوِیعلیہ رحمۃاللّٰہ القوینے حدیث مذکور کے تحت میں فرمایا کہاَلْمُحْتَرَمُ یَحْصُلُ الثَّوَابُ بِالْاِحْسَانِ اِلَیْہِ لَا غَیْرُ الْمُحْتَرَمِ کَالْحَرْبِیِّ وَاْلکَلْبِ الْعَقُوْرِ(5) (قسطلانی ،ج۱،ص۴۴۱)یعنی اس حدیث میں ہرمخلوق کے ساتھ احسان کرنے کی جو ترغیب دلائی گئی ہے اس سے وہی مخلوق مُراد ہے جواللّٰہ تعالیٰکے نزدیک محترم اور قابل ِاِعزاز ہے، ورنہ وہ مخلوق جواللّٰہ تعالیٰکے نزدیک محترم اور قابل ِعزت نہیں ہے جیسے کافر حربی اور لوگوں کو کاٹنے والا کتا،ان کے ساتھ احسان کرنے میں کوئی اجر و ثواب نہیں ہے۔{۶}جب جانوروں کے ساتھ احسان اور نیک سلوک کا یہ درجہ ہے کہ ایک پیاسے کتے کو پانی پلادینے والا جنت میں داخل ہوگیا تو بھوکے پیاسے مومنوں کو کھانا پانی سے سیراب کرنے والا کتنے بڑے بڑے اجر عظیم کا مستحق ہوگا اوراللّٰہ تعالیٰاس کو بہشت میں کیسے کیسے مَدارِج و مَنازِل عطا فرمائے گا اس کی کیفیت و کَمِیَّت کو بھلا ’’ عَلاَّمُ ا لغُیوب‘‘ کے سوا اور کون جان سکتا ہےوَاللّٰہ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ اللّٰہکا فضل و کرم بہت ہی بڑاہے۔
∞ [1] عمدۃ القاری،کتاب الوضوء،باب اذا شرب الکلب فی اناء احدکم۔۔۔الخ،تحت الحدیث:۱۷۳،ج۲،ص۴۹۱
[2] ارشادالساری،کتاب الوضوء،باب اذا شرب الکلب فی اناء احدکم ۔۔۔الخ،تحت الحدیث:۱۷۳،ج۱،ص۴۵۷[3] صحیح البخاری،کتاب المظالم والغصب،باب الآبارعلی الطرق۔۔۔الخ، الحدیث:۲۴۶۶، ج۲،ص۱۳۳[4] صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق، باب اذا وقع الذباب فی شراب احدکم ۔۔۔الخ، الحدیث:۳۳۲۱،ج۲،ص۴۰۹[5] ا رشادا لساری،کتاب المساقاۃ،باب فضل سقی الماء،تحت الحدیث:۲۳۶۳،ج۵،ص۳۹۸
وشرح صحیح مسلم للنووی،کتاب قتل الحیات وغیرہا، باب سقی البہائم المحترمۃ واطعامہا،ج۲،ص۲۳۷ ملخصاً

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 15