- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 38
حدیث مبارکہ
اَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: جَائَ تْنِیْ اِمْرَأَۃٌ وَمَعَھَا اِبْنَتَانِ لَھَا فَسَئَلَتْنِیْ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِیْ شَیْئًا غَیْرَ تَمْرَۃٍ وَاحِدَۃٍ فَاَعْطَیْتُھَا اِیَّاھَا فَاَخَذَتْھَا فَقَسَمَتْھَا بَیْنَ اِبْنَتَیْھَا وَلَمْ تَأْکُلْ مِنْہَا شَیْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاہَا فَدَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُہٗ حَدِیْثَھَا فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنِ ابْتُلِیَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَیْئٍ فَاَحْسَنَ اِلَیْھِنَّ کُنَّ لَہ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ ( صحیح مسلم،کتاب البر والصلۃ۔۔۔الخ،باب فضل الاحسان الی البنات، الحدیث:۲۶۲۹، ص۱۴۱۴)
ان عائشۃ زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالت: جائ تنی امراۃ ومعھا ابنتان لھا فسئلتنی فلم تجد عندی شیئا غیر تمرۃ واحدۃ فاعطیتھا ایاھا فاخذتھا فقسمتھا بین ابنتیھا ولم تاکل منہا شیئا ثم قامت فخرجت وابنتاہا فدخل علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فحدثتہ حدیثھا فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من ابتلی من البنات بشیئ فاحسن الیھن کن لہ سترا من النار ( صحیح مسلم،کتاب البر والصلۃ۔۔۔الخ،باب فضل الاحسان الی البنات، الحدیث:۲۶۲۹، ص۱۴۱۴)
حدیث ترجمہ
حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زو جہ مبارکہ حضرت بی بی عائشہ صدیقہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہانے فرمایا کہ میرے پاس ایک عورت اپنی دولڑکیوں کے ساتھ آئی اور مجھ سے کچھ مانگا تو میرے پاس اس نے ایک کھجور کے سوا کچھ نہیں پایا میں نے وہی کھجور اس کو دیدی تو اس نے اس کھجور کو اپنی دونوں لڑکیوں کے درمیان تقسیم کردیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں کھایاپھر وہ اُٹھی اور اپنی دونوں لڑکیوں کے ساتھ باہر چلی گئی۔ پھر جب میرے پاس نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے تو میں نے حضور سے اس عورت کی بات بیان کردی تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا جو شخص بیٹیوں کے ساتھ مبتلا کیا گیا اور انکے ساتھ اچھا سلوک کیا تو یہ بیٹیاں اسکے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔
شرح حدیث
فوائدو مسائل:{۱}اس حدیث کی بعض روایتوں میں یوں بھی آیا ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اِنَّ اللّٰہ قَدْ اَوْجَبَ لَھَا بِھَا الْجَنَّۃَ اَوْاَعَتَقَھَا بِھَا مِنَ النَّارِ(1) (مسلم ،جلد۲،ص۳۳۰) یعنیاللّٰہ تعالیٰنے اس عورت کے لئے جنت واجب فرمادی یا حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ فرمایا کہ اس عورت کواللّٰہ تعالیٰنے جہنم سے آزاد فرمادیا۔ اور حضرت انس بن مالکرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی روایت میں یوں آیاہے کہ جو مسلمان دو بیٹیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کرے گا تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر فرمایا کہ میں اور وہ دونوں اس طرح قیامت کے دن ساتھ رہیں گے۔{۲}اس حدیث میں ہے کہ جب بھیک مانگنے والی عورت اپنی دو لڑکیوں کے ساتھ حضرت بی بی عائشہ صدیقہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاکے پاس آئی تواس وقت حضرت بی بی عائشہ صدیقہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاکے پاس ایک ہی کھجور تھی وہی ایک کھجور انہوں نے سوال کرنے والی عورت کو دیدی ۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صدقہ کے لیے مال کثیر ہی ضروری نہیں ہے بلکہ کم سے کم چیز کو بھی صدقہ کرنے میں شرم و حیاء نہیں کرنی چاہئے ۔اللّٰہ تعالیٰنیتوں کو دیکھنے والا ہے وہ تھوڑے صدقہ پر بھی زیادہ ثواب عطا فرماتا ہے بشرطیکہ صدقہ دینے والے میں اخلاص نیت ہو۔{۳}اس حدیث میں بیٹی والے باپ کو حضور نے’’مَنِ ابْتُلِیَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَیْئٍ‘‘فرمایا یعنی خدا نے اس کو بیٹیاں دے کر امتحان اور آزمائش میں ڈالا ۔سوال یہ ہے کہ خدا نے بیٹیوں کو باپ کے لیے ذریعۂ اِ بْتِلا و آزمائش کیوں فرمایا؟تو اس کی و جہ یہ ہے کہ لوگ چونکہ عموماً بیٹیوں سے رغبت نہیں رکھتے بلکہ بعض تو نفرت کرتے ہیں ۔ چنانچہ قرآن کریم میں انسانی عادت کا بیان فرماتے ہوئے حضرت حق جل مجدہٗ نے ارشادفرمایا کہوَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْھُہٗ مُسْوَدًّا وَّھُوَکَظِیْمٌ(2)oیعنی جب کسی کو بیٹی ملنے کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا منہ کالا پڑجاتا ہے اور وہ گھٹنے لگتا ہے۔
غرض بیٹیاں عام طور پر ناپسندیدہ ہوا کرتی ہیں اور جب کسی کو کوئی ایسی چیز ملے جو اس کو پسند نہ ہو تو درحقیقت وہ چیز اس کے لیے ذریعۂ اِبْتِلا اور آزمائش ہی کا سامان ہوگی اسی لیے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بیٹیوں کو باپ کے لیے ذریعۂ اِبْتِلااور آزمائش اور امتحان کا سامان بتایا۔{۴}اس حدیث میں ان ماؤں اور باپوں کے لیے بہت بڑی’’بشارت عظمیٰ‘‘ اور عظیم الشان خوشخبری ہے جو چند بیٹیوں کے ماں باپ ہیں اور محبت و شفقت کے ساتھ ان بیٹیوں کو خدا کی نعمت سمجھ کر پالتے اور پرورش کرتے ہیں اور بالغ ہوجانے پر پورے اعزاز کے ساتھ اس کی شادی بیاہ کرکے ان کو اپنے گھر سے رخصت کرتے ہیں ۔ ان شاءاللّٰہ تعالیٰان ماؤں اور باپوں کو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقیامت کے دن اپنے ساتھ رکھیں گے اور یہ ایمان ہے کہ قیامت کے دن جس خوش نصیب کو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دامنِ رحمت مل گیا اس کا بیڑا پار ہوگیا ۔یقینااللّٰہ تعالیٰاس کو جہنم سے آزاد فرمادے گا اور ضرور اس کو جنت عطا فرمادے گا۔
حضوراقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اس حدیث کو پیش نظر رکھ کر اس پر ایمان کے ساتھ پورے پورے طور پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے اس کی سعادت دارین کی گارنٹی ہے۔اللّٰہ تعالیٰہر بیٹی والے باپ کو اس آزمائش اور امتحان میں کامیاب فرمائے اور اپنی امداد و نصرت سے ایسے والدین کی خاص طور پرمدد فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنِ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہِ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔∞ [1] صحیح مسلم،کتاب البر والصلۃ۔۔۔الخ،باب فضل الاحسان الی البنات، الحدیث:۲۶۳۰، ص۱۴۱۵[2] ترجمہء کنز الایمان:اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھا تا ہے۔ (پ۱۴،النحل:۵۸)
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 38