Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 14

حدیث مبارکہ

عَنْ جَرِیْرٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ لَہٗ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: اِسْتَنْصِتِ النَّاسَ فَقَالَ:لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ( صحیح البخاری،کتاب العلم،باب الانصات للعلماء، الحدیث:۱۲۱، ج۱، ص۶۳)

عن جریر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لہ فی حجۃ الوداع: استنصت الناس فقال:لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض ( صحیح البخاری،کتاب العلم،باب الانصات للعلماء، الحدیث:۱۲۱، ج۱، ص۶۳)

حدیث ترجمہ

حضرت جریررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ ان سے حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ’’حجۃ الوداع‘‘ میں فرمایا کہ’’تم لوگوں کو خاموش کرو‘‘ پھر حضور نے فرمایا کہ تم لوگ میرے بعد پلٹ کر کُفَّار مت ہوجانا کہ تمہارا بعض بعض کی گردن مارے۔

شرح حدیث

حضرت جریر: اِس حدیث کے راوی حضرت جریر بن عبداللّٰہبَجَلی صحابیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہہیں ۔ یہ مشہور باکرامت محدث اَبو زُرْعہ کے دادا ہیں حضرت جریر بہت ہی خوبصورت اور دراز قد تھے ،اتنے لمبے تھے کہ اونٹ کی کوہان تک ان کا سر پہنچتا تھا اور ان کا جوتا ایک ہاتھ لمبا ہوتا تھا۔ (1) (قسطلانی،ج۱،ص۳۸۱) ۱۰ھ؁ میں حجۃ الوداع سے پہلے مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپ سے ایک سو حدیثیں مروی ہیں اور آپ کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔آپ کوفہ سے ’’قَرْقیس ‘‘چلے گئے تھے وہیں ۵۱ھ؁ میں آپ کی رحلت ہوگئی۔ (2) (فیوض الباری،ج۱،ص۲۱۰و اکمال وغیرہ)
حجۃ الوداع: اِس حدیث میں ’’حجۃ الوداع‘‘ کا ذکر آیا ہے اس کی توضیح و تشریح یہ ہے کہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ۱۰ھ؁ میں آخری حج فرمایا ،اس حج کو’’حجۃ الوداع‘‘ اس لیے کہتے ہیں کہ’’وَداع ‘‘کے معنی رُخصت کرنے کے ہیں چونکہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس حج میں تمام قبائل عرب کو اس طرح رخصت فرمایاجیسے کہ دنیا سے سفر کرنے والا اپنے پسماندگان کو رخصت کیا کرتا ہے اس حج کا نام’’حجۃ الوداع‘ ہوگیا۔
شرحِ حدیث: یہ حدیث حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ایک طویل خطبہ کا ایک ٹکڑا ہے۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے آخری حج ’’حجۃ الوداع ‘‘ کے موقع پر جبکہ لوگ منٰی میں جمروں کو کنکری مارنے کے لیے جمع تھے اس وقت یہ خطبہ ارشاد فرمایاتھا۔
حاشیہ بخاری شریف میں ہے کہ اس حدیث میں صرف دو ہی جملے ہیں ایک
’’
لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا‘‘دوسرا ’’یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ‘‘ اب دو حال سے خالی نہیں یا تو دوسرا جملہ پہلے جملے کا بیان ہے یا دو، الگ الگ مستقل جملے ہیں ۔ اگر دوسرا جملہ پہلے جملے کا بیان ہو تو حدیث کا مطلب یہ ہوگاکہ تم لوگ میرے بعد کافروں جیسا کام یعنی ایک دوسرے کی گردن مارنا،یہ دھندا کبھی ہرگز مت کرنا اور اگر دوسرا جملہ پہلے جملہ کابیان نہ قرار دیا جائے تو حدیث کا حاصل مفہوم یہ ہوگا کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس حدیث میں اپنی امت کو دو باتوں سے منع فرمایا ایک بات تو یہ کہ تم لوگ میرے بعدکافر مت ہوجانا بلکہ آخری دم تک اسلام پر قائم رہنا اور دوسری بات یہ کہ تم ایک دوسرے کو ناحق قتل مت کرنا۔ (3)
فوائد و مسائل:
{۱}اس حدیث کو امام بخاری نے ’’مَغازی ‘‘اور’’دِیَات ‘‘میں بھی ذکر فرمایا ہے اور امام مسلم نے کتاب الا یمان میں اور نسائی نے کتاب العلم میں اور ابن ما جہ نے کتاب الفِتَن میں تحریر فرمایا ہے۔ (4){۲}مسلمان کے قتل کو حلال سمجھ کر کسی مسلمان کا خون کردینا کفر ہے اور مسلمان کے قتل کو حرام جانتے اور مانتے ہوئے کسی مسلمان کو ناحق قتل کردینا گناہ کبیرہ ہے جس پر قرآن مجید میں عذاب شدید کی وعید آئی ہے۔{۳}عالِموں کی تقریر کے لیے بات چیت کرنے والے مجمع کو خاموش کرانا جائز ہے۔{۴}وعظ و تقریر کے وقت حاضرین مجلس کو خاموش ہو کر سکون و اطمینان کے ساتھ وَعْظ اور خطبہ سننا لازم ہے ۔فقطواﷲ تعالیٰ اعلم۔
∞ [1] ارشادالساری،کتاب العلم،باب الانصات للعلماء، تحت الحدیث: ۱۲۱،ج۱،ص۳۷۵
[2] اکمال فی اسماء الرجال ، فصل فی الصحابۃ ، ص۵۸۹ (وفیہ ’’ قرقیسیا ‘‘ )
وفیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب العلم،باب الانصات للعلماء، ج۱، ص۳۶۷
[3] حاشیۃ بخاری،کتاب العلم،باب الانصات للعلماء،ج۱،ص۲۳[4] عمدۃ القاری،کتاب العلم،باب الانصات للعلماء، الحدیث:۱۲۱، ج۲، ص۲۶۲۔۲۶۳

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 14