- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 12
حدیث مبارکہ
عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَکَانَ شَہِدَ بَدْرًا وَّھُوَاَحَدُ النُّقَبَاءِ لَیْلَۃَ الْعَقَبَۃِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَوْلَہٗ عِصَابَۃٌ مِنْ اَصْحَابِہٖ:بَایِعُوْنِیْ عَلٰی اَنْ لَّاتُشْرِکُوْا بِاللّٰہ شَیْئًا وَّلَاتَسْرِقُوْا وَلَاتَزْنُوْا وَلَاتَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ وَلَاتَأْتُوْا بِبُھْتَانٍ تَفْتَرُوْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَاَرْجُلِکُمْ وَلَا تَعْصُوْا فیِْ مَعْرُوْفٍ فَمَنْ وَّفیٰ مِنْکُمْ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہ وَمَنْ اَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَعُوْقِبَ فیِ الدُّنْیَا فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ وَ مَنْ اَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا ثُمَّ سَتَرَہٗ اللّٰہ فَھُوَ اِلَی اللّٰہ اِنْ شَائَ عَفَا عَنْہُ وَاِنْشَائَ عَاقَبَہٗ فَبَایَعْنَاہٗ عَلٰی ذٰلِکَ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان، ۱۱۔باب، الحدیث:۱۸، ج۱، ص۱۷)
عن عبادۃ بن الصامت وکان شہد بدرا وھواحد النقباء لیلۃ العقبۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال وحولہ عصابۃ من اصحابہ:بایعونی علی ان لاتشرکوا باللہ شیئا ولاتسرقوا ولاتزنوا ولاتقتلوا اولادکم ولاتاتوا ببھتان تفترونہ بین ایدیکم وارجلکم ولا تعصوا فی معروف فمن وفی منکم فاجرہ علی اللہ ومن اصاب من ذلک شیئا فعوقب فی الدنیا فھو کفارۃ لہ و من اصاب من ذلک شیئا ثم سترہ اللہ فھو الی اللہ ان شائ عفا عنہ وانشائ عاقبہ فبایعناہ علی ذلک ( صحیح البخاری،کتاب الایمان، ۱۱۔باب، الحدیث:۱۸، ج۱، ص۱۷)
حدیث ترجمہ
حضرت عبادہ بن صامترضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ(جو بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے اور لیلۃُ الْعَقَبہ کے نقیبوں میں سے ایک ہیں ) سے روایت ہے کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس حال میں جبکہ آپ کے گرد صحابہ کی ایک جماعت تھی،یہ فرمایا کہ تم لوگ مجھ سے بیعت کرو (ان باتوں پر){۱}اللّٰہ تعالیٰکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا ؤ گے{۲}چوری نہیں کروگے{۳}زنا نہیں کروگے{۴}اپنی اولاد کو قتل نہیں کروگے{۵}اپنے ہاتھ پائوں کے درمیان گھڑ کر کسی پر بہتان نہ باندھوگے{۶}کسی شرعی حکم میں نافرمانی نہیں کروگے۔ تو جو اس عَہْد و پَیمان کو پورا کرے گااس کا اجراللّٰہ تعالیٰکے ذمے ہے اور جو ان گناہوں میں سے کچھ کر بیٹھے اور اس کو دنیا میں اس کی سزا مل جائے تو یہ اس کے لئے کفارہ ہے اور جس نے ان گناہوں میں سے کسی گناہ کو کرلیا اوراللّٰہ تعالیٰنے اس کے گناہ کو چھپائے رکھا تو اس کا معاملہاللّٰہکے حوالے ہے، وہ چاہے گا تو اس کو معاف فرمادے گا یا آخرت میں اس کو سزا دے گا، تو ہم سب لوگوں نے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس بات پر بیعت کی۔
شرح حدیث
عُبادَہ بن صامِت:حدیث مذکور کے راوی حضرت عُبادَہ بن صامِترضی اللّٰہ تعالیٰ عنہبہت نامی گرامی اَنصاری اور صحابی رسول ہیں ۔بہت ہی حسین و خوبصورت اور نہایت ہی قد آور ،قَوی ہیکل اور مضبوط بدن کے آدمی تھے۔عقبۂ اولیٰ ،عقبۂ ثانیہ،جنگ ِبدر، جنگ ِاُحُد، بیعۃُ الرضوان وغیرہ تمام مشاہد اور لڑائیوں میں شریک ہوئے ۔سب سے پہلے فلسطین کے حاکم یہی بنائے گئے۔امیر المؤمنین حضرت عمررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے ان کو شام کا قاضی بھی بنادیا تھا۔یہ شہر حمص میں مقیم ہوگئے تھے پھر فلسطین چلے آئے اور ۳۴ھمیں بمقام ’’رملہ ‘‘ بہتّر برس کی عمر پاکر وصال فرمایا ۔آپ نے ایک سو اکیاسی حدیثیں روایت فرمائی ہیں ۔’’عبادہ‘‘نام کے بارہ صحابی ہیں مگر’’عبادہ بن صامت‘‘ آپ کے سوا کسی صحابی کا نام نہیں ہے ۔بخاری شریف میں آپ کی روایت کی ہوئی حدیثوں کی تعداد کل نو ہیں ۔ (1) (فیوض الباری،ج۱،ص۱۳۳ وقسطلانی،ج۱،ص۲۲۳)
توضیح الفاظ:حدیث مذکور کے چند الفاظ کی تشریح حسب ذیل ہے۔
بدر:مدینہ منورہ سے اَسی میل دور ایک گائوں کا نام ہے ۔زمانہ جاہلیت میں یہاں سالانہ ایک میلہ لگتا تھا ۔یہاں ایک کنواں تھا جس کو’’بدر‘‘ نام کے ایک شخص نے بنوایا تھا۔ چنانچہ اسی شخص کے نام پر اس گاؤں کا نام ’’بدر ‘‘رکھ دیا گیا۔ (2)یہی وہ تاریخی مقام ہے جہاں ۱۷ رمضان ۲ھ میں کفر و اسلام کا پہلا معرکہ ہو ا جو جنگ بدر کے نام سے مشہور ہے ۔اس جنگ میں شریک ہونے والے صحابہ کا درجہ بہت ہی بلند ہے۔ اسی اِعزاز کو ظاہر کرنے کے لئے راوی نے حضرت عبادہ بن صامترضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے تعارف میں یہ کہا کہ ’’وَکَانَ شَہِدَ بَدْ راً‘‘ کہ یہ جنگ بدر میں شریک تھے ۔
نُقَباء:’’نقیب‘‘کی جمع ہے ۔اس کے معنی ہیں سردارِ قوم یا قوم کا ذمہ دار جس کو مُکھیَہ بھی کہتے ہیں ۔ (3)
لیلۃ ا لعَقَبہ: ا س لفظ کا ترجمہ ہے ’’گھاٹی کی رات‘‘مگر تاریخ ِاسلام میں یہ ایک تاریخی جگہ اور تاریخی رات کا نام ہے ۔
حضور اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ طریقہ تھا کہ ہر سال حج کے موقع پر آپ قبائل عرب کے سامنے دعوتِ اسلام پیش فرمایا کرتے تھے۔پہلے سال ’’منٰی‘‘ کی گھاٹی میں جہاں ’’مسجد ا لعقبہ‘‘بنی ہوئی ہے مدینہ کے چھ شخصوں نے رات کی تاریکی میں چھپ کر اسلام قبول کیا ۔ان خوش نصیبوں کے نام یہ ہیں :{۱}ابو الہیثم بن تیہان{۲}اسد بن زُرارہ، جو ۱ ھ میں وفات پاگئے{۳}عوف بن حارث{۴}رافع بن مالک یہ جنگ احد ۳ھ میں شہادت سے سرفراز ہوئے{۵}قطبہ بن عامر یہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے{۶}جابر بن عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُم اجمعین۔
یہ صاحبان منٰی کی گھاٹی میں اِسلام قبول کرنے کے بعد اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے اور وہاں اِسلام کی تبلیغ کرنے لگے ۔دوسرے سال حج کے موسم میں بارہ آدمی مدینہ منورہ سے آئے اور اُن لوگوں نے بھی منٰی کی اِسی گھاٹی میں رات کے وقت حضورِاقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دست ِحق پرست پر بیعت کی اور اِسلام پر قائم رہنے کا عَہْد وپَیْمان کیا یہی وہ بیعت ہے جو سیرۃُالنبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تاریخوں میں ’’بیعت ِعقبۂ اُولیٰ‘‘کے نام سے مشہور ہے ۔اُن بارہ اشخاص نے بیعت کرلینے کے بعد یہ خواہش ظاہر کی کہ احکام ِاسلام کی تعلیم کے لئے کوئی معلم اُن کے ساتھ مدینہ بھیج دیا جائے ۔چنانچہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت مُصْعَب بن عُمَیْررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکو اُن لوگوں کے ساتھ ہی مدینہ بھیج دیا۔
پھر اِس سے اَگلے برس ستَّر یا بہتّر حضرات مدینہ سے حج کے لئے آئے اور اُن سب لوگوں نے بھی منٰی کی اِسی گھاٹی میں مشرف بہ اِسلام ہوکر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بیعت کی،یہ بیعت تاریخ اسلام میں ’’بیعت ِعقبہ ثانیہ ‘‘کہلاتی ہے۔حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس گروہ میں سے بارہ شخصوں کو نقیب (سردارِ قوم) منتخب فرمایا، نو اَشخاص قبیلہء َخز ْرج کے اور تین صاحبان قبیلہئاَوس کے۔اُنہی میں سے ایک نَقِیْب حضرت عُبادَہ بن صامِترضی اللّٰہ تعالیٰ عنہبھی تھے۔(4)اسی لئے راوی نے ان کے تعارف میں یہ کہا کہ ’’وَھُوَ اَحَدُ النُّقَبَائِ لَیْلَۃَ الْعَقَبَۃِ‘‘ یعنی حضرت عبادہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہگھاٹی کی رات میں مُنْتَخب ہونے والے نَقِیبوں میں سے ایک نَقِیْب ہیں اور اسی رات کا نام تاریخ ِاِسلام میں ’’ لیلۃ الْعَقَبہ ‘‘ ہے ۔
شرحِ حدیث: اِس حدیث شریف کا مطلب ترجمہ ہی سے ظاہر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حاضرین ِمجلس سے چھ چیزوں پر بیعت لی۔ اور صحابۂ کرام نے بیعت کرکے ان گناہوں کے ترک کردینے کا سچا وعدہ اور ُمصَمَّم عَہْدکیا{۱}شرک نہیں کریں گے{۲}چوری نہیں کریں گے{۳}زنا نہیں کریں گے{۴}اپنی اَوْلاد کو مفلسی کی و جہ سے یا لڑکیوں کو عار سمجھ کر قتل نہ کریں گے{۵}کسی پر تہمت نہ لگائیں گے{۶}کسی شرعی حکم کی نافرمانی نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ یہ سب وہ گناہِ کبیرہ ہیں جو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نگاہ نبوت میں اتنے خوفناک اور بھیانک گناہ ہیں کہ خاص طور پراِن گناہوں سے بچنے پر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرام سے بذریعہ بیعت عہد لیا۔اس لئے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اِن سب گناہوں کو جہنم کا دہکتا ہوا اَنگارہ سمجھ کر اِن سے دور بھاگتا رہے۔
پیری مُریدی: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ گناہوں کو چھوڑنے اور اعمالِ صالحہ کے کرنے پر بیعت لینی حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سُنَّت ہے اور مشائخِ کرامرحمہم اللّٰہ تعالیٰکی ’’بیعت ِ طریقت‘‘ در حقیقت اسی مقدس سنت پر عمل ہے۔ یہ حدیث در حقیقت ان منکرین تصوف کے لئے زبر دست تازیانہ عبرت ہے جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ ’’مشائخ کی پیری مُریدی بدعت ہے ‘‘للہ! کوئی ان صاحبوں سے پوچھے کہ آخر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمسے جو گناہوں کے ترک کرنے پر بیعت لی اس میں اور پیرانِ کِبار کی بیعت میں کیا فرق ہے دونوں بیعتیں گناہوں کے چھوڑنے ہی پر ہیں ۔ پھر کیا و جہ ہے کہ پیرانِ کِبار کی بیعت بدعت قرار دی جائے گی؟ مگر بڑی مشکل تو یہ ہے کہ سمجھنا اور سمجھانا تو اس شخص کے لئے ہوتا ہے جو سمجھنے کے لئے تیار بھی ہو یہ لوگ تو سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی نہ کچھ سمجھنے کو تیار ہیں نہ کچھ ماننے کو۔
مثل مشہور ہے کہ ’’سوتے کو جگانا بہت آسان ہے مگر جاگتے کو جگانا بہت مشکل ہے۔‘‘جاہل جو سادہ وَرْق کی طرح خالی ُالذہن ہوتا ہے اس کے سامنے اگر کوئی حقیقت اجاگر کردی جائے تو اس کا دل و دماغ بہت آسانی کے ساتھ اس حقیقت کی تصدیق اور اِعتراف کرلیتا ہے اور سچے دل سے اس کو مان لیتا ہے مگر وہ پڑھے لکھے لوگ جنہوں نے اپنی آنکھوں پر تَعَصُّب کی عینک لگا رکھی ہے اور عِناد و اِنکار اور بحث و تکرار کی آگ نے جن کے دل و دماغ میں فہم وبَصِیْرت کے آشیانوں کو جلا کر بھسم کردیا ہے ان کے سامنے لاکھ مرتبہ کسی حقیقت کے چہرے سے نِقاب کُشائی کردیجئے مگر نہ وہ حق کو دیکھتے ہیں نہ حق کو سنتے ہیں نہ حق کا اعتراف کرتے ہیں ۔ایسے ہی لوگوں کے بارے میں قرآن مجید نے ارشاد فرمایا کہصُمٌّمبُکْمٌ عُمْیٌ(5)کہ وہ بہرے ،گونگے اور اندھے ہیں ۔ اور کہیں یہ فرمایا کہلَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰـکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ(6)o
یعنی سر کی آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن ان کے سینوں میں چھپے ہوئے دل اندھے ہو جاتے ہیں ۔
یعنی آنکھوں کی بَصارت تو رہتی ہے مگر دلوں کی بَصِیرت ختم ہوجاتی ہے۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
∞ [1] فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان، ج۱، ص۲۰۰
وارشاد الساری،کتاب الایمان،باب علامۃ الایمان حب الانصار، تحت الحدیث:۱۸، ج۱،ص۱۶۹[2] فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،ج۱، ص۱۹۴[3] فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،ج۱، ص۱۹۴
وارشاد الساری،کتاب الایمان، باب علامۃ الایمان حب الانصار،تحت الحدیث:۱۸، ج۱،ص۱۶۹[4] فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،ج۱، ص۱۹۴[5] ترجمہء کنز الایمان:بہرے گونگے اندھے۔ (پ۱،البقرۃ:۱۸)[6] ترجمہء کنز الایمان:آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینو ں میں ہیں ۔ (پ۱۷،الحج:۴۶)
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 12