Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَّ سِتُّوْنَ شُعْبَۃً وَّالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب امور الایمان، الحدیث:۹، ج۱،ص۱۵)

عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:الایمان بضع و ستون شعبۃ والحیائ شعبۃ من الایمان (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب امور الایمان، الحدیث:۹، ج۱،ص۱۵)

حدیث ترجمہ

حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ ایمان کی شاخیں ساٹھ سے کچھ زیادہ ہیں اور’’ حیا‘‘ ایمان کی ایک بہت بڑی شاخ ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری کے علاوہ مسلم ،نسائی ،ابودائود ،ابن ما جہ نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے۔
توضیح ِالفاظ: بِضْعٌ کا لفظ گنتی میں تین سے لے کر نو تک کے عدد پر بولا جاتا ہے۔
شُعْبَۃٌشاخ کو کہتے ہیں ۔حَیَائٌکا ترجمہ ’’شرم ‘‘ہے جس کو ہندی میں ’’لاج‘‘ بھی کہتے ہیں ۔
حضرت علامہ بیضاوی
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے لفظ ِحیاء کی تفسیر فرماتے ہوئے تحریر فرمایا کہاَلْحَیَائُ اِنْقِبَاضُ النَّفْسِ عَنِ الْقَبِیْحِ مُخَافَۃَ الذَّمِّ(بیضاوی شریف)یعنی مذمت کا خوف کرتے ہوئے برے کاموں سے نفس کا سکڑ جانا،اس کیفیت کا نام’’ حیا‘‘ہے۔
یہ در حقیقت ’’وَقاحَت ‘‘اور ’’خَجالت ‘‘کے درمیان کی ایک صفت ہے۔ ’’وقاحت‘‘ یہ ہے کہ انسان اس قدر بے شرم و بے غیرت بن جائے کہ اس کو کسی بُرے سے بُرے کام کرنے سے بھی کوئی جھجک ہی نہ ہو ۔اور ’’خجالت ‘‘یہ ہے کہ انسان اتنا شرمیلا ہوجائے کہ اچھے اور بُرے کام سے جھجکنے لگے اور ’’حیا‘‘یہ ہے کہ بُرے کاموں سے یہ خیال کرکے جھجک ہو کہ لوگ مذمت کریں گے اور اچھے کاموں سے کوئی جھجک نہ ہو۔ وقاحت اور خجالت یہ دونوں انسان کی مذموم اور بُری صفتیں ہیں اور حیاء انسان کی انتہائی محمود اور پسندیدہ صفت ہے۔

شرح حدیث

شرح حدیث: اس حدیث میں حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایمان کو ایک ایسے درخت سے تَشْبِیْہ دی ہے جس میں چھوٹی بڑی بہت سی ٹہنیاں اور شاخیں ہوں جنکی وجہ سے وہ درخت ہرا بھرا ،سایہ دار، انتہائی خوشنما اور نہایت ہی حسین و خوبصورت نظر آتا ہے یہی مثال ایمان کی ہے کہ ایمان کی چھوٹی بڑی بہت سی خصلتیں ہیں کہ جنکی و جہ سے ایمان کی رونق اور خوبی میں چار چاند لگ جاتا ہے اور اس کے اثرات و ثمرات کی بدولت صاحب ایمان کی زندگی دونوں جہاں میں حُسن و جمال کا ایک ایسا جاذب نظر مُرقَّع بن جاتی ہے کہ وہ تمام مخلوق کی نگاہوں میں صاحب ِ وقار اور قابل اعتبار ہوجاتا ہے اور دربارِ خداوندی میں عظمت دارین کا حقدار بن جاتا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ایمان کی کچھ اوپر ساٹھ شاخیں یعنی خصلتیں ہیں اور حیا ء ایمان کی ایک نہایت ہی اہم اور بہت بڑی شاخ یعنی خصلت ہے۔
اب غور فرمائیے کہ وہ خوشنما اور بارونق درخت جو اپنی بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں کی و جہ سے انتہائی خوبصورت نظر آتا ہے اگر اس کی تمام شاخوں کو کاٹ ڈالا جائے اور صرف اس درخت کے تنہ کا ’’ٹُھنْٹھ ‘‘باقی رہ جائے تو پھر ظاہر ہے کہ اب وہ درخت کہلانے کا مستحق نہیں رہے گا۔بھلا کون ہے جو صرف تنہ کے ’’ٹُھنْٹھ‘‘ کو درخت کہے گا جس میں نہ ڈالیاں ہوں نہ ٹہنیاں نہ شاخیں ہوں نہ پتیاں ! اسی طرح اگر درخت کی کچھ شاخوں کو کاٹ کر درخت کو ننگا کردیا جائے تو یقینا درخت کی حسین و خوبصورت چھتری کا حُسن و جمال تَہَس نَہَس ہوجائے گا اور اُس کا سا یہ بھی کم ہوجائے گا اور اسکے پھل پھول میں بھی نمایاں کمی ہوجائے گی اور اگر درخت کی کوئی اتنی بڑی ڈالی کاٹ ڈالی جائے جس میں بہت سی ٹہنیاں اور شاخیں ہوں اور وہ ڈال درخت کی نشوونما اور اس کی سرسبز ی و شادابی میں مُمِد و مُعاوِن رہی ہو توپھر اندیشہ ہے کہ شاید پورا درخت ہی خشک ہو کر آگ کا ایندھن بن جائے۔
اسی طرح سمجھ لیجئے کہ ایمان کی بھی چھوٹی بڑی بہت سی خصلتیں ہیں کہ اگر ان تمام خصلتوں کا وجود ختم ہوجائے تو گویا ایمان ہی کا خاتمہ ہوجائے گا اور اگر کچھ خصلتیں معدوم ہوگئیں تو جتنی خصلتیں اور جتنی جتنی اہم خصلتیں ناپید ہوتی چلی جائیں گی اسی قدر ایمان کا نور،اس کی رونق ،اس کا حسن وجمال کم سے کم تر ہوتا چلا جائے گا۔ اور اگر کوئی ایسی اہم سے اہم تر اور خاص الخاص خصلت برباد ہوگئی جو ایمان کا نشان بلکہ شانِ ایمان کہلانے کی مستحق تھی تو پھرتو انتہائی خطرہ ہے کہ کہیں ایمان ہی برباد نہ ہو جائے۔ چنانچہ ایسی ہی ایک نہایت ہی اہم خصلت ِ ایمان کو بیان فرماتے ہوئے حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ’’اَلْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِنَ الْاِیْمَانِ‘‘ یعنی حیاء ایمان کی ایک بہت ہی بڑی شاخ یعنی خصلت ہے۔
حیاء بڑی شاخ کیوں ہے: اب رہا یہ سوال کہ آخر ’’حیائ‘‘ ایمان کی بہت بڑی شاخ اوربہت اہم خصلت کیونکراور کس طرح ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ پورے خصائل ِایمان اور اعمالِ اسلام دو ہی قسموں میں مُنْحَصِر ہیں ’’اَوا مِر‘‘ا ور ’’نَواہی‘‘ یعنی اچھا کام کرو اور بُرا کام مت کرو اور ظاہر ہے کہ جس مسلمان میں حیاء کی صفت ہوگی وہ تمام بُرے کاموں سے فطری طور پر رک جائے گا اور تمام نواہی سے بازرہے گاتو ایک صفت حیاء کی وجہ سے مسلمان تمام شرعی ممنوعات سے بچ جائے گاتو گویا حیاء ایمان کی ایک ایسی خصلت ہوئی کہ اس کی و جہ سے بہت سی ایمانی خصلتیں پائی جائیں گی۔ اس لئے بِلاشبہ یہ درخت ِایمان کی شاخوں میں سے نہایت ہی اہم اور بہت ہی بڑی شاخ ہے۔
ساٹھ یا ستَّر: واضح رہے کہ بخاری شریف کی اس روایت میں تو ایمان کی شاخوں کو ساٹھ سے کچھ زائد بتایا گیا ہے مگردوسری روایتوں میں ’’بضع و سبعون‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی ایمان کی شاخیں ستَّر سے کچھ زیادہ ہیں ۔بظاہر ان دونوں حدیثوں میں تعارُض نظر آتا ہے مگر درحقیقت کوئی تعارُض نہیں ہے کیونکہ قلیل کثیرمیں داخل ہوتا ہے اس لئے جب ایمان کی شاخیں ستَّر سے اوپر ہوئیں تو پھر ساٹھ سے اوپر بھی ہوئیں ۔ اس لئے کسی روایت میں ساٹھ سے زائد کہہ دیا گیا اور کسی روایت میں ستَّر سے اوپر کہہ دیا گیا۔
اور بعض شارِحین ِحدیث نے دونوں حدیثوں میں تعارُض دفع کرنے کیلئے یہ فرمایا کہ ساٹھ سے اوپر یا ستَّرسے زائد جو فرمایا گیا تو ان دونوں گنتیوں سے تَعْیِیْن و تَحْدِید مُراد نہیں ہے بلکہ تکثیرمراد ہے یعنی حضور
علیہ الصلوۃ والسلامکا یہ مطلب نہیں ہے کہ خصائل ایمان گنتی میں ساٹھ سے کچھ زیادہ ہی ہیں یا ستر سے اوپر ہی ہیں بلکہ ان دونوں گنتیوں سے مُراد یہ ہے کہ ایمان کی خصلتیں بہت زیادہ ہیں ۔جیسے ہمارے اردو کے محاورہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ ’’میں نے پچاس مرتبہ تم کو حکم دیا‘‘ اور’’ستر مرتبہ تم کو منع کیا ‘‘ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں نے گن کر پچاس مرتبہ تم کو حکم دیا اور گن کر ستر مرتبہ تم کو منع کیا بلکہ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ میں نے بہت مرتبہ تم کو حکم دیا اور بہت مرتبہ تم کو منع کیا۔اس صورت میں ظاہر ہے کہ تعارض کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔
اب رہا یہ سوال کہ ایمان کی شاخیں یعنی خصلتیں کون کون ہیں ؟ تو علامہ عینی وغیرہ نے ان کی تعدادسَتَتَّر (77)تحریر کی ہے جن کا تذکرہ طوالت سے خالی نہیں مگر خلاصہ یہ ہے کہ تمام احکام اسلام خواہ وہ اعتقادی ہوں یا قولی و فعلی ،مثلًا کلمۂ شہادت،نماز وروزہ اور حج و زکوۃ ،حقوق
اللّٰہ،حقوق العباد،یہ سب کے سب درخت ِایمان کی شاخیں اور ایمانی خصلتیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک ایمان کے اثرات و ثمرات ہیں جس سے درخت ایمان کا حُسن و جمال بڑھتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کو ترک کردینے سے ایمان کا درخت اپنی خوشنما اور بارونق خوبصورتی اور شادابی سے محروم ہوجاتا ہے۔
فوائد و مسائل:
{۱}اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان درجات و مراتب میں برابر نہیں ہے بلکہ جس مسلمان میں ایمانی خصلتیں زیادہ سے زیادہ ہوں گی وہ یقینااُس مسلمان سے مراتب و درجات میں افضل و اعلی ہوگاجس میں ایمان کی خصلتیں کم ہوں گی۔{۲}ایمان اصل ہے اوراعمال اس کی فرع ہیں ۔اس لئے کہ اس حدیث میں یا دوسری حدیثوں میں جہاں جہاں بھی اعمال کو ایمان کہا گیا ہے مجاز کے طور پر کہا گیا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اعمال ایمان کا جُزْو نہیں ہیں کیونکہ قرآن و حدیث میں بے شمار جگہوں پراٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِکا لفظ آیا ہے اور عمل کا ایمان پر عطف کیا گیا ہے اور عطف کا تقاضا یہی ہے کہ مَعْطوف اور معطوف عَلَیْہ میں تَغایُر ہو لہٰذا ثابت ہواکہ عمل اور چیز ہے اور ایمان اور چیزہے۔ایمان اصل ہے اور اعمال ایمان کی خصلتیں اور علامتیں ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ اعمال ایمان کے اثرات و ثمرات ہیں ۔{۳}اس حدیث نے اس حقیقت کی تصریح کردی کہ ’’حیائ‘‘ مومن کی بڑی ہی انمول اور نہایت ہی گراں قدر صفت ہے اس لئے جس مومن میں حیاء نہ ہو تو سمجھ لو کہ اس کے درخت ایمان کی بہت ہی بڑی شاخ کٹ گئی ہے اسی لئے عرب کی ایک بہت پرانی مثل ہے جس پر تصدیق ِنبوت کی بھی مہر لگی ہوئی ہے کہ’’اِذَا لَمْ تَسْتَحِیْ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ‘‘ جس کا فارسی میں ترجمہ ہے کہ ’’بے حیاباش ہرچہ خواہی کن ‘‘یعنی جب تمہارے اندر حیا ہی نہیں رہی تو پھر جو چاہو کرو۔ (1)

∞ [1] صحیح البخاری،کتاب احادیث الانبیاء،۵۶۔باب،الحدیث:۳۴۸۴،ج۲،ص۴۷۰

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 3