- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 30
حدیث مبارکہ
عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِی الْحَسَنِ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ اِذْ جَائَ ہٗ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا اِبْنَ عَبَّاسٍ اِنِّیْ رَجُلٌ اِنَّمَا مَعِیْشَتِیْ مِنْ صَنْعَۃِ یَدِیْ وَاِنِّیْ اَصْنَعُ ھٰذِہِ التَّصَاوِیْرَ فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ لَا اُحَدِّثُکَ اِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: مَنْ صَوَّرَ صُوْرَۃً فَاِنَّ اللّٰہ مُعَذِّبُہٗ حَتّٰی یَنْفُخَ فِیْہِ الرُّوْحَ وَلَیْسَ بِنَافِخٍ فِیْھَا اَبَدًا فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَۃً شَدِیْدَۃً وَاصْفَرَّ وَجَھُہٗ فَقَالَ: وَیْحَکَ اِنْ اَبَیْتَ اِلَّا اَنْ تَصْنَعَ فَعَلَیْکَ بِھٰذا الشَّجَرِ وَکُلِّ شَیْیٍٔ لَیْسَ فَیْہِ رُوْحٌ (مشکاۃ المصابیح،کتاب اللباس،باب التصاویر، الحدیث:۴۵۰۷، ج۲،ص ۱۴۰)
عن سعید بن ابی الحسن قال: کنت عند ابن عباس اذ جائ ہ رجل فقال: یا ابن عباس انی رجل انما معیشتی من صنعۃ یدی وانی اصنع ھذہ التصاویر فقال: ابن عباس لا احدثک الا ما سمعت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمعتہ یقول: من صور صورۃ فان اللہ معذبہ حتی ینفخ فیہ الروح ولیس بنافخ فیھا ابدا فربا الرجل ربوۃ شدیدۃ واصفر وجھہ فقال: ویحک ان ابیت الا ان تصنع فعلیک بھذا الشجر وکل شیی لیس فیہ روح (مشکاۃ المصابیح،کتاب اللباس،باب التصاویر، الحدیث:۴۵۰۷، ج۲،ص ۱۴۰)
حدیث ترجمہ
سعید بن ابی الحسن راوی ہیں انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماکے پاس تھا کہ ناگہاں ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ اے ابن عباس! میں ایسا آدمی ہوں کہ میری روزی میرے ہاتھ کی کاریگری سے چلتی ہے اور میں ان تصویروں کو بناتا ہوں ، تو ابن عباس نے فرمایا کہ تم سے وہی حدیث بیان کرتا ہوں جس کو میں نے خود رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سُنا ہے ۔میں نے حضور کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ جو شخص تصویر بنائے گااللّٰہ تعالیٰاس کو اس وقت تک عذاب دے گا جب تک کہ وہ اس تصویر میں روح نہ پھونک دے اور وہ اس تصویر میں کبھی بھی روح نہیں پھونک سکے گا تو اس آدمی نے لمبا سانس کھینچا اور (خوف سے )پیلا پڑگیا۔ پھر ابن عباس نے فرمایا کہ تیرا ناس ہو اگر تو اس کے بنانے سے بازنہیں رہ سکتا تو ان درختوں اور بے جان والی چیزوں کی تصویر بنایا کر۔
شرح حدیث
حضرت سعید بن ابی الحسن: اس حدیث کے راوی سعید بن ابی الحسن بصری تابعی محدث ہیں اور علم حدیث میں حضرت عبداللّٰہبن عباس اور حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمکے شاگرد ِرشید ہیں اور ان کے شاگردوں کی فہرست میں قتادہ اور عون جیسے حدیثوں کے پہاڑ ہیں ۔۱۰۹ھ میں ان کاوصال ہوا۔ (1) (اکمال)
شرحِ حدیث:یہ بخاری شریف کی حدیث ہے، اس حدیث کا مطلب بالکل ہی واضح ہے کہ جاندار چیزوں کی تصویر بنانے والے کو خداوند قہّار و جبّار یہ فرما کر عذاب دے گا کہ تم اپنی بنائی ہوئی تصویروں میں روح پھونک کر ان کو زندہ کرو جب تک تم ان تصویروں میں روح نہیں پھونکوگے عذاب میں گرفتار رہوگے اور ظاہرہے کہ وہ ان تصویروں میں کبھی بھی روح نہیں پھونک سکے گااس لیے وہ اس وقت تک عذاب میں مبتلا رہے گا جب تکاللّٰہ تعالیٰاس کے گناہ کو معاف فرما کر اس کو نہ بخش دے۔
فوائد و مسائل:{۱}اس دور پُر فتن کی دینی مصیبتوں میں سے ایک بہت بڑی مصیبت یہ بھی ہے کہ ہر قسم کے سامانوں پر جاندار مخلوقات کی تصویریں عموماً نظر پڑتی ہیں ۔ایک طرف تو مسلم نوجوانوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایکٹروں اور ایکٹرسوں یا لیڈروں کی تصویروں سے اپنے مکانوں کو سجا کر ہر ہر کمرے کو بت خانہ بنائے ہوئے ہیں دوسری طرف جاہل صوفی کہلانے والوں کی یہ حرکت ہے کہ وہ بزرگوں کی کچھ اصلی کچھ فرضی تصویریں اپنے گھروں میں رکھے ہوئے ہیں روزانہ ان پر ہار پھول چڑھاتے ہیں اور بعض ان تصویروں کے سامنے مراقبہ کرتے ہیں جو سراسر گمراہی ہے۔واضح رہے کہ ان تصویروں کا رکھنا سخت حرام و ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے۔لہٰذا علماء ِکرام اور پابند شرع مشائخ کا فرض ہے کہ ان جاہل اور بدعتی صوفی بننے والے باباؤں کو ہمیشہ جھاڑتے،پھٹکارتے اورلتاڑتے رہیں اور عوام کو ان بے شرع لوگوں سے دُور رہنے کی تلقین کرتے رہیں اور جن گھروں میں بھی تصویریں ہوں علماء کرام کو چاہئے کہ ہرگز ہرگز نہ اُن گھروں میں قیام کریں نہ اُن گھروں میں کھانا کھائیں تاکہ لوگوں کو عبرت ہو۔{۲}کیمرہ یا قلم یا پنسل سے کسی جاندار مخلوق کی تصویر بنانا یا بنوانا یا خریدنا بیچنا یا گھر میں رکھنا یہ سب حرام اور گناہ ہے۔{۳}غیر جاندار چیزوں کی تصویریں بنانے میں شرعًا کوئی حرج نہیں ہے۔{۴}حج فرض یا تبلیغ اسلام یا حقوق العباد کی ادائیگی یا دوسرے ضروری دینی مقاصد کے لیے سفر کے پاسپورٹ پر تصویر لگانا بو جہ ضرورت اور مجبوری اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیا جائے گابشرطیکہ تصویر لگانے والا اس سے راضی نہ ہو اور بادِلِ نخواستہ مجبوری کی بناء پر تصویر بنواتا اور لگاتاہو۔
∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال، حرف السین،فصل فی التابعین، ص۵۹۸
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 30